Connect with us

Bihar

پاٹلی پتر یونیورسٹی اور ٹی سی ایس کے درمیان یوتھ ایمپلائمنٹ پروگرام کے سلسلے میں اہم میٹنگ

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:پاٹلی پترا یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اپیندر پرساد سنگھ کی پہل پر طلبہ کی مہارتوں کی ترقی اور روزگار پر مبنی تربیت کو فروغ دینے کے مقصد سے بدھ کے روز ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (TCS) اور یونیورسٹی انتظامیہ کے درمیان ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی۔
میٹنگ میں یونیورسٹی اور ٹی سی ایس کے درمیان یوتھ ایمپلائمنٹ پروگرام (YEP) کے نفاذ اور اس سلسلے میں مفاہمتی یادداشت (MoU) طے کرنے کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے رجسٹرار ڈاکٹر ابو بکر رضوی نے نے کہا کہ اس نوعیت کے تربیتی اور پلیسمنٹ پر مبنی پروگرام طلبہ کو معیاری تعلیم، عملی مہارتوں اور روزگار کے مواقع سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام قومی تعلیمی پالیسی (NEP-2020) کے مقاصد کو مؤثر انداز میں عملی جامہ پہنانے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔میٹنگ میں یونیورسٹی اور ٹی سی ایس کے درمیان جلد ہی باضابطہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے اور پاٹلی پترا یونیورسٹی کے تمام جزوی اور الحاق شدہ کالجوں میں مرحلہ وار یوتھ ایمپلائمنٹ پروگرام نافذ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
میٹنگ میں ٹی سی ایس کی جانب سے یوتھ ایمپلائمنٹ پروگرام کے گلوبل ہیڈ مسٹر چندرشیکھر، بہار میں پروگرام کے نگران مسٹر گورو مشرا اور لکھنؤ و دہلی سے آئے ہوئے ٹی سی ایس کے دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔ جبکہ یونیورسٹی کی جانب سے ڈین اسٹوڈنٹ ویلفیئر ڈاکٹر راجیو رنجن، سی سی ڈی سی پروفیسر شیو کمار یادو، شعبۂ تاریخ کے ڈاکٹر مکیش کمار، ٹی۔پی۔ایس کالج کے ڈاکٹر ہنس کمار اور کالج آف کامرس کے ڈاکٹر رجنیش کمار سمیت مختلف کالجوں کے نمائندگان موجود تھے۔میٹنگ کی نظامت اور موضوعی پیشکش یونیورسٹی کے ٹریننگ و پلیسمنٹ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد علی نے کی۔
میٹنگ میں ٹی سی ایس کی جانب سے چلائے جا رہے مختلف پروگراموں کی معلومات دی گئیں اور خاص طور پر یوتھ ایمپلائمنٹ پروگرام (YEP) پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔ اس پروگرام کے تحت یونیورسٹی کے آخری سال کے طلبہ کو روزگار سے متعلق مہارتیں فروغ دینے کے لیے 100 گھنٹے کی آف لائن تربیت فراہم کی جائے گی۔ ہر کالج سے تقریباً 100 طلبہ کا انتخاب کرکے انہیں یہ تربیت دی جائے گی۔ٹی سی ایس کے نمائندوں نے بتایا کہ پروگرام کا بنیادی مقصد طلبہ کو صنعتوں کی موجودہ ضروریات کے مطابق تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مہارتوں کی ترقی پروگرام کا اولین مقصد ہے، جبکہ روزگار اس کا فطری نتیجہ ہوگا۔ تربیت مکمل ہونے کے بعد طلبہ کو ٹی سی ایس، ٹاٹا گروپ کی مختلف کمپنیوں اور دیگر ممتاز اداروں میں روزگار اور پلیسمنٹ کے مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Bihar

حکومت کی کوچنگ سینٹروںپرشکنجہ کسنے کی تیاری،کوچنگ کے تمام طلبہ کا ڈیٹا حاصل کرے گی سرکار، سمراٹ چودھری نے نئی ضابطہ بندی تیار کرنے کی جاری کیں ہدایت

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں کوچنگ سینٹروں کے لیے نئی ضابطہ بندی جلد نافذ کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کوچنگ سینٹروںکے نظم و نسق پر سختی برتنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب ریاست کے تمام اضلاع میں کوچنگ مراکز میں زیرِ تعلیم طلبہ و طالبات کا مکمل ڈیٹا حکومت حاصل کرے گی۔نئی ہدایات کے مطابق کوچنگ سینٹروںکے لیے یہ لازمی ہوگا کہ وہ اپنے یہاں تعلیم حاصل کرنے والے تمام طلبہ کی تفصیلات ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) یا ضلعی انتظامیہ کو فراہم کریں۔
وزیر اعلیٰ نے محکمۂ تعلیم کو اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوچنگ سینٹروںکے لیے نئے قواعد و ضوابط پر مشتمل ضابطہ بندی بھی متعارف کرائی جائے گی۔وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے اس کی معلومات دی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اسکولوں اور کالجوں کے لیے مقررہ تدریسی اوقات کے دوران کسی بھی کوچنگ ادارے کو چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تاہم یہ ضابطہ اُن طلبہ پر لاگو نہیں ہوگا، جو اپنی باقاعدہ اسکولی یا کالجی تعلیم مکمل کر چکے ہوں۔سمراٹ چودھری نے کہا کہ تعلیمی نظام میں نظم و ضبط، شفافیت اور معیاری تعلیم کو یقینی بنانا ہماری پختہ وابستگی ہے۔
وزیر اعلیٰ کی یہ ہدایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پٹنہ کے دو معروف کوچنگ اداروں کے درمیان سخت مسابقت جاری ہے۔ خان سر کے خان گلوبل اسٹڈیز سینٹر اور روشن آنند سر کی گیان بِندو اکیڈمی کے درمیان حال ہی میں بہار پولیس سپاہی بھرتی امتحان کے نتائج کا کریڈٹ لینے کے معاملے پر تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔2 جون کی رات خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر کچھ افراد نے ہنگامہ آرائی کی۔ اس دوران کوچنگ سینٹرمیں توڑ پھوڑ اور پتھراؤ کیا گیا، جبکہ ایک سکیورٹی گارڈ کی بھی پٹائی کر دی گئی۔ واقعے کے دوران خان سر کے 2 گارڈوں نے ہوائی فائرنگ بھی کی، جس کی ویڈیو2 دن بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
اس معاملے میں پولیس نے دونوں فریقوں کے خلاف الگ الگ ایف آئی آر درج کی ہیں۔ پہلی ایف آئی آر میں گیان بِندو اکیڈمی کے ڈائریکٹر روشن آنند سمیت دیگر افراد کو نامزد ملزم بنایا گیا ہے۔ ان پر خان سر کے کوچنگ ادارے میں توڑ پھوڑ اور پتھراؤ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ پولیس نے 3 جون کو روشن سر سمیت تین افراد کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا تھا۔ منگل کے روز عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواست بھی مسترد کر دی، جس کے بعد وہ فی الحال جیل میں ہیں۔

Continue Reading

Bihar

عمر حجازین اور آفاق اطہرکی گورنر سید عطا حسنین سے ملاقات،تعلیم، صحت اور ریاستی مفاد کے امور پرکیاگیا مثبت تبادلۂ خیال

Published

on

(پی این این)
دربھنگہ:بہار کے موجودہ گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عطا حسنین سے مدینہ ایجوکیشن ویلفیئر کے ٹرسٹی آفاق اطہر اور بہار فاؤنڈیشن یو اے ای چیپٹر کے چیئرمین عمر حجازین نے ملاقات کی۔ اس دوران ریاستی مفاد، تعلیم، صحت، سماجی بہبود اور مختلف عصری موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ملاقات کے دوران بہار کی مجموعی ترقی، تعلیمی نظام کو مزید بہتر بنانے، صحت کے شعبے میں بہتری اور عوامی فلاح سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ ریاست کی ترقی کے لیے باہمی تعاون، رابطے اور مثبت سوچ کے ساتھ کام کرنا ضروری ہے۔آفاق اطہر نے ملاقات کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبے میں مسلسل کوششیں بہار کے روشن مستقبل کے لیے اہم ہیں۔ ایسے رابطے ریاست کی ترقی کے سفر کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔
عمر حجازین نے بھی بہار کی ترقی کے لیے تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم بہاری برادری بھی ریاست کی فلاح اور ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ملاقات کو بہار کی ہمہ جہت ترقی کے لیے مثبت رابطے اور مشترکہ کوششوں کی ایک اہم کڑی قرار دیا گیا۔

Continue Reading

Bihar

وفاق المدارس امارت شرعیہ کا اختتامی و انتخابی اجلاس آج، ملک بھر کے اکابر علماء کی شرکت متوقع ،جامعہ رحمانی کے زیر انتظام تربیتی ورکشاپ کا دوسرا دن کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر

Published

on

(پی این این)
مونگیر: امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم سجادہ نشین جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کی صدارت میں وفاق المدارس الاسلامیہ امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے زیرِ اہتمام منعقد سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا دوسرا دن علمی، فکری اور تربیتی سرگرمیوں کے ساتھ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ 9 تا 11 جون 2026ء جاری اس تربیتی ورکشاپ میں وفاق المدارس سے ملحق مدارس کے ذمہ داران، اساتذۂ کرام اور ماہرینِ تعلیم شریک ہیں، جہاں تعلیمی نظام کے استحکام، نصابی ارتقاء اور تدریسی مہارتوں کے فروغ سے متعلق اہم موضوعات پر گفتگو کی جا رہی ہے۔
حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانیہ مالیگاؤں و خلیفہ و مجاز حضرت مولانا محمد ولی رحمانیؒ نے تربیت اور اخلاق سازی کے موضوع پر اپنے محاضرہ میں فرمایا کہ مدارس کے اساتذہ صرف علم منتقل کرنے والے نہیں بلکہ نسلوں کی فکری و اخلاقی تعمیر کرنے والے معمار ہیں۔ آپ نے زور دیتے ہوئے فرمایا کہ طلبہ کے دلوں میں اخلاص، ذمہ داری، حسنِ اخلاق اور خدمتِ دین کا جذبہ پیدا کرنا ہی کامیاب تربیت کی اصل علامت ہے۔ابتدائی درجات میں طلباء میں قرآن فہمی کی ضرورت” کے عنوان پر محاضرہ پیش کرتے ہوئے نائب امیرِ شریعت حضرت مولانا محمد شمشاد صاحب رحمانی استاذ دارالعلوم وقف دیوبند نے فرمایا کہ بچوں میں ابتدائی مرحلے ہی سے قرآن فہمی کا ذوق پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اساتذۂ کرام پر زور دیا کہ وہ طلبہ کو محض ناظرہ اور حفظ تک محدود نہ رکھیں بلکہ قرآن کے معانی، پیغام اور عملی تعلیمات سے بھی جوڑیں، تاکہ نئی نسل فکری استحکام اور دینی شعور سے آراستہ ہو سکے۔
ناظم وفاق المدارس الاسلامیہ امارت شرعیہ نے فرمایا کہ پڑے پرسکون علمی ماحول میں یہ تربیتی ورکشاپ جاری ہے جس کا اختتام آج اگلی سہ سالہ میقات کے لیے ذمہ داروں کے انتخاب کے بعد ہوگا۔اس انتخابی اجلاس میں وفاق کی مجلس عمومی کے نمائندگان، مجلس عاملہ کے ارکان اور ذمہ داران کو شریک ہونا ہے۔ یہ اجلاس صبح 8:30 سے شروع ہوگا اس لیے ارکان کی بروقت حاضری انتخابی اجلاس کو کامیاب کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
پروگرام کا آغاز جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے شعبۂ حفظ کے استاذ جناب مولانا قاری جوہر نیازی صاحب رحمانی کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ جامعہ رحمانی کے فاضل ور معروف نعت خواں مولانا منظر قاسمی رحمانی نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کرکے محفل کو روحانی رنگ عطا کیا۔ پروگرام کی پہلی نشست میں نظامت کے فرائض جامعہ رحمانی کے استاذِ حدیث اور طلبہ امور کے ناظم تعلیمات جناب مولانا خالد صاحب رحمانی نے جبکہ دوسری نشست میں جامعہ رحمانی کے استاذ جناب مونا انظر حسین قاسمی صاحب نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے اور اپنے مختصر مگر مؤثر کلمات میں اساتذۂ کرام کو نصاب کی تکمیل کے ساتھ طلبہ میں خود مطالعہ اور خود اعتمادی پیدا کرنے کی تلقین کی۔
واضح رہے کہ اس سہ روزہ ورک شاپ میں مختلف علمی، فکری اور تربیتی موضوعات پر ماہرینِ تعلیم کے خطابات اور مذاکرے منعقد ہوئے، جبکہ شرکائے ورکشاپ نے اس تربیتی اجتماع کو مدارس کے تعلیمی نظام میں بہتری، اساتذۂ کرام کی علمی و تدریسی صلاحیتوں کے فروغ اور دینی تعلیم کے معیار کو مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک اہم اور مؤثر پیش رفت قرار دیا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network