Connect with us

Bihar

ارریہ: قومی اور ریاستی شاہراہوں پرتجارتی سرگرمیوں پر روک

Published

on

(پی این این)
ارریہ:ڈسٹرکٹ ہائی وے سیفٹی ٹاسک فورس کی ایک میٹنگ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ارریہ مسٹر ونود دوہان کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ میٹنگ کا بنیادی مقصد سڑک کی حفاظت کو مضبوط بنانا، حادثات کو کم کرنا اور قومی شاہراہوں اور ریاستی شاہراہوں پر معزز سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل میں ٹریفک کے انتظام کو ہموار کرنا تھا۔ پولس سپرنٹنڈنٹ ارریہ مسٹر جتیندر کمار بھی موجود تھے۔
ضلع مجسٹریٹ نے ہدایت دی کہ قومی اور ریاستی شاہراہوں پر کوئی بھی غیر مجاز کھانے پینے کی دکانیں، ڈھابے یا دیگر تجارتی ادارے کام نہ کریں۔ مزید برآں، مستقبل میں سڑک کے کنارے ایسے اداروں کو کوئی لائسنس یا اجازت نہیں دی جائے گی۔ تمام متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں قومی شاہراہوں، ریاستی شاہراہوں اور سروس روڈز پر تجاوزات کی نشاندہی کریں اور 10 جون تک ان کو مکمل طور پر ہٹانے کو یقینی بنائیں۔
خاص طور پر حادثات کے شکار اور انتہائی حساس علاقوں میں تجاوزات کے خاتمے کو ترجیح دی جائے گی۔اجلاس میں سڑکوں پر گاڑیوں کی غیر ضروری پارکنگ پر مکمل پابندی عائد کرنے کی ہدایات دی گئیں۔ سڑک کے کنارے کھڑی یا ٹریفک میں رکاوٹ پیدا کرنے والی گاڑیوں کو پٹرولنگ ٹیم فوری طور پر ہٹا دے گی۔ ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے گاڑیوں کے مالکان کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ پیٹرول پمپس پر گاڑیوں کی قطاروں کے حوالے سے واضح ہدایات دی گئیں کہ کسی بھی صورت میں گاڑیوں کی لائن مین روڈ تک نہیں پہنچنی چاہیے۔ پٹرول پمپ آپریٹرز اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ گاڑیوں کی قطاریں ان کے احاطے میں کھڑی ہوں۔
میٹنگ میں گڈ سمیریٹن (رہویر) اسکیم کے موثر نفاذ پر زور دیا گیا تاکہ حادثے کے متاثرین کو فوری مدد فراہم کی جاسکے۔ اس میں کہا گیا تھا کہ وہ شہری جو سڑک کے حادثے میں زخمی ہونے والوں کو ہسپتال پہنچاتے ہیں یا طبی امداد فراہم کرتے ہیں انہیں سرکاری سکیم کے تحت اعزاز اور ترغیب دی جائے گی۔
روڈ سیفٹی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے تمام حساس اور حادثات کے شکار مقامات پر ضروری اشارے، انتباہی بورڈز اور دیگر روڈ سیفٹی انڈیکیٹرز لگانے کی ہدایات دی گئیں۔ پولس سپرنٹنڈنٹ نے ہدایت کی کہ سڑکوں پر معیاری اور منظم طریقے سے روڈ ریفلیکٹر لگائے جائیں۔ ویبرج آپریٹرز کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنی صلاحیت کے مطابق گاڑیاں پارک کریں اور کسی بھی حالت میں سڑکوں پر بھیڑ سے گریز کریں۔ مزید یہ کہ تمام فلائی اوورز اور اسٹریٹجک مقامات پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کو تیز کرنے کی ہدایات دی گئیں۔ اجلاس میں حادثات کا شکار ہونے والی یا سڑک پر کھڑی گاڑیوں کو فوری ہٹانے کی بھی ہدایت کی گئی۔

اس مقصد کے لئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ کرینوں اور ریکوری وین کی دستیابی کو برقرار رکھیں اور ٹریفک میں خلل سے بچنے اور ثانوی حادثات کے امکان کو روکنے کے لئے سڑک سے حادثے کا شکار گاڑیوں کو جلد از جلد ہٹا دیں۔ اجلاس میں تمام متعلقہ محکموں، عمل درآمد کرنے والے اداروں اور عام شہریوں سے اپیل کی گئی کہ وہ روڈ سیفٹی رولز پر عمل کریں اور ٹریفک کے محفوظ نظام کو برقرار رکھنے میں تعاؤن کریں۔

Bihar

ترقیاتی کاموں کو تیز کرنا حکومت کی اولین ترجیح

Published

on

(پی این این)
موتیہاری:بہار کے دیہی ترقی اور محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے وزیر اور مشرقی چمپارن کے انچارج وزیر شرون کمار نے پیر کے روز ایک اہم اجلاس کے دوران کہا ہے کہ ضلع میں ترقیاتی کاموں کی رفتار کو تیز کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے یہ بات ضلع کی سطح پر پروگرام امپلی منٹیشن کمیٹی (20 نکاتی کمیٹی) کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ انچارج وزیر شرون کمار نے اجلاس میں موجود افسران کو گاندھی جی سے جڑی تاریخی و ثقافتی وراثت کو محفوظ کرنے کے حوالے سے ہدایات دیں ہین جن میں کہا گیا ہے کہ ضلع میں مہاتما گاندھی کی زندگی اور تحریک سے وابستہ تمام تاریخی مقامات کی نشان دہی کی جائے۔ ان مقامات کی مجموعی ترقی کے لیے ایک تفصیلی اور جامع تجویز تیار کی جائے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ چمپارن گاندھی جی کی’کرم بھومی‘ (کام کرنے کی جگہ) رہی ہے، اس لیے ان تاریخی مقامات کا تحفظ سیاحت اور ثقافتی نقطہ نظر سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
عوامی سہولیات کو نچلی سطح تک پہنچانے کے لیے وزیر موصوف نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ہدایت دی کہ”ضلع میں تعمیر شدہ تمام’پنچایت سرکار بھونوں‘ کو فوری طور پر محکمے کے سپرد کیا جائے اور ایک ہفتے کے اندر ان عمارتوں میں عوام کی سہولت سے جڑے تمام سرکاری کام کاج باقاعدہ طور پر شروع کیے جائیں۔

Continue Reading

Bihar

نتیش کمار کو بھی خالی کر دینا چاہیےسرکاری بنگلہ،رابڑی دیوی کے سرکاری بنگلہ خالی کرنے کے معاملے پر تنازع کے درمیان تیج پرتاپ یادو کاسخت رد عمل

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں ان دنوں سابق وزیر اعلیٰ اور بہار قانون ساز کونسل میں قائدِ حزبِ اختلاف رابڑی دیوی کے سرکاری بنگلے کو لے کر سیاسی ہنگامہ برپا ہے۔ سمراٹ چودھری کی قیادت والی حکومت نے رابڑی دیوی کو 15 دن کی مہلت دیتے ہوئے واضح ہدایت دی ہے کہ وہ 10 سرکولر روڈ واقع اپنی رہائش گاہ خالی کر دیں۔تاہم سابق وزیر اعلیٰ نے اپنا سرکاری مکان خالی کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ اس کے بعد سے اس معاملے پر مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے ردِ عمل سامنے آ رہے ہیں۔ اب رابڑی دیوی کے بڑے بیٹے اور جے جے پی کے سربراہ تیج پرتاپ یادو نے بھی اس معاملے پر اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔
تیج پرتاپ یادو نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو بھی اپنی سرکاری رہائش گاہ خالی کر دینی چاہیے، کیونکہ اب وہ بھی سابق وزیر اعلیٰ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے نتیش کمار اپنا سرکاری مکان خالی کریں، جب وہ رہائش گاہ خالی کر دیں گے تو رابڑی دیوی بھی اپنا مکان خالی کر دیں گی۔جب تیج پرتاپ یادو سے پوچھا گیا کہ حکومت نے رابڑی دیوی کو رہائش گاہ خالی کرنے کیلئے 15 دن کا نوٹس دیا ہے، تو اس پر سابق رکنِ اسمبلی نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو حکومت نتیش کمار کو بھی 15 دن کا نوٹس جاری کرے۔
واضح ہو کہ اس سے قبل اس معاملے پر رابڑی دیوی کی بیٹی روہنی آچاریہ کا بھی ردِ عمل سامنے آ چکا ہے۔ روہنی آچاریہ نے اتوار کے روز بہار کی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت پر’’انتقامی سیاست‘‘کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔سنگاپور میں اپنے شوہر کے ساتھ مقیم روہنی آچاریہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم’’ایکس‘‘ پر لکھا:’’اگر ہمت ہے تو حکومت زبردستی بنگلہ خالی کروا کر دکھائے۔ سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی جی کو سرکاری رہائش گاہ سے بے دخل کرنے کا یہ تغلقی فرمان اور مکان پر پولیس بھیجنا جمہوریت نہیں بلکہ اقتدار کے غرور اور بے جا دبنگئی کی علامت ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا:’’افسوس کی بات ہے کہ بے روزگاری، مہنگائی، بدعنوانی اور بڑھتے ہوئے جرائم جیسے اہم مسائل پر مکمل طور پر ناکام ثابت ہونے والی سمراٹ چودھری حکومت اب اپوزیشن رہنماؤں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ آخر یہ طرزِ حکمرانی کا کون سا ماڈل ہے؟ درحقیقت یہ حکومت کے’انتقامی ماڈل‘ کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘

Continue Reading

Bihar

بہار میں عوام کو مہنگائی کا ایک اور جھٹکا،سرکاری بسوں کے بعد پرائیویٹ بسوں کے کرایوں میں بھی 10 سے 15 فیصد اضافہ کا امکان، مال برداری بھی ہوگی مزید مہنگی

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں سفر کرنے والے عام مسافروں پر مہنگائی کا ایک اور بڑا بوجھ پڑنے والا ہے۔ ریاست میں سرکاری بسوں کے کرایوں میں اضافے کے بعد اب نجی بسوں کے کرایوں میں بھی 10 سے 15 فیصد تک اضافہ کرنے کی مکمل تیاری کر لی گئی ہے۔بہار موٹر ٹرانسپورٹ فیڈریشن نے پیر کے روز اس سلسلے میں ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔
فیڈریشن کے اس اقدام کے بعد طویل اور مختصر فاصلے کا سفر کرنے والے مسافروں کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ کرایہ ادا کرنا پڑے گا، جس سے ان کے سفری اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔اس کے ساتھ ہی مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں اضافے کی راہ بھی ہموار ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ اور دیگر سامان کی نقل و حمل مہنگی ہونے کا امکان ہے اور اس کا اثر عام لوگوں پر مزید مہنگائی کی صورت میں پڑ سکتا ہے۔
بہار موٹر ٹرانسپورٹ فیڈریشن کے صدر اُدے شنکر پرساد سنگھ کی صدارت میں کل بیریا بس اسٹینڈ پر ایک اہم ریاستی سطح کی میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں کئی سخت اور اہم فیصلے کیے گئے۔ میٹنگ کے بعد فیڈریشن نے اعلان کیا کہ آئندہ 10 جون تک تمام ضلعی کمیٹیاں اپنی اپنی عاملہ کی میٹنگیں مکمل کر لیں گی۔ ان اجلاسوں میں حکومت کے سابقہ فیصلے کو بنیاد بنا کر فاصلے کے لحاظ سے نجی بسوں کے کرایوں میں اضافے کی حتمی شرح طے کی جائے گی۔
قابلِ ذکرہے کہ بہار اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (بی ایس آر ٹی سی) کی سرکاری بسوں کے بڑھائے گئے کرایے یکم جون سے ہی پوری ریاست میں نافذ ہو چکے ہیں۔ بہار موٹر ٹرانسپورٹ فیڈریشن نے پٹرول، ڈیزل اور سی این جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے ریاستی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں کے کرایوں میں 15 فیصد تک اضافے کے حکومتی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
فیڈریشن کا کہنا ہے کہ حکومت کے اسی فیصلے کے مطابق مال بردار گاڑیوں، آٹو رکشہ، ای- رکشہ اور موٹر کیب یونینوں کی ضلعی کمیٹیوں کو بھی ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ان تمام کمیٹیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں اجلاس منعقد کر کے کرایوں میں مجوزہ اضافے کے بارے میں تفصیلی رپورٹ تیار کریں اور اسے مرکزی فیڈریشن کے حوالے کریں، تاکہ آئندہ کرایوں میں اضافے کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔
کیرایہ بڑھانے کے ساتھ ہی فیڈریشن نے بہار حکومت کے سامنے ایک اہم مطالبہ بھی رکھا ہے۔ فیڈریشن کے صدر نے مطالبہ کیا ہے کہ جن تجارتی گاڑیوں کا روڈ ٹیکس، فٹنس یا پرمٹ کسی بھی نجی یا دیگر وجوہات کی بنا پر فیل ہو گیا ہے، ان پر عائد تاخیر جرمانہ (لیٹ فائن) مکمل طور پر معاف کر دیا جائے۔فیڈریشن کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے غریب گاڑی مالکان اور ڈرائیوروں کو دوبارہ مین اسٹریم میں آنے اور باعزت روزگار حاصل کرنے کا ایک اور سنہری موقع مل سکے گا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network