دیش
کمال مولا مسجد – بھوج شالہ تنازعہ: ہائی کورٹ کے جج متنازعہ مقام کاکریں گے دورہ
(پی این این)
اندور:ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے پیر کو مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں بھوج شالا کیس کی سماعت کی۔ جسٹس وجے کمار شکلا اور آلوک اوستھی پر مشتمل بنچ نے اعلان کیا کہ اگلی سماعت 2 اپریل کو ہوگی۔ اندور بنچ نے یہ بھی کہا کہ 2 اپریل کی سماعت سے پہلے ہائی کورٹ کے جج بھوج شالہ کا معائنہ کریں گے۔ درخواست گزاروں کو پہلے سنا جائے گا، اس کے بعد فریقین۔ تاہم سماعت کے دوران مسلم فریق نے سروے رپورٹ پر اعتراض کیا۔
ہائی کورٹ نے کہا کہ سماعت کے دوران یہ بھی اٹھایا گیا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کیس کی جلد سے جلد سماعت کی جائے، لیکن مداخلت کاروں کی مداخلت سے سماعت میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ اس لیے فریقین کے بعد ان کی آخری سماعت کی جائے گی۔ سماعت کے دوران اے ایس آئی کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل سنیل جین عدالت میں موجود تھے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے ایڈوکیٹ جنرل پرشانت سنگھ پیش ہوئے۔ ایڈوکیٹ وشنو شنکر جین نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کارروائی میں حصہ لیا۔
سماعت کے دوران سینئر وکیل شوبھا مینن بھی عدالت میں موجود تھیں۔ اس کے علاوہ ہندو مورچہ کی طرف سے عرضی گزار آشیش گوئل اور ایڈوکیٹ ونے جوشی موجود تھے۔ بھوج شالا معاملے میں کئی لوگوں نے عرضیاں دائر کی ہیں۔ ان میں قاضی جاک اللہ، انتر سنگھ اور دیگر، مولانا کمال الدین ویلفیئر سوسائٹی (دھر) کے عبدالصمد خان، کلدیپ تیواری، اور ہندو فرنٹ فار جسٹس کی صدر رنجنا اگنی ہوتری شامل ہیں۔
23 فروری کو سماعت کے دوران، ہائی کورٹ نے تمام عرضی گزاروں اور جواب دہندگان کو ہدایت دی کہ وہ اپنے اعتراضات اور تجاویز کو آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی سروے رپورٹ کو دو ہفتوں کے اندر پیش کریں۔ جمع کرائے گئے جوابات کی بنیاد پر مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد، اے ایس آئی نے 22 مارچ 2024 سے شروع ہونے والے تقریباً 100 دنوں تک کمپلیکس اور 50 میٹر کے دائرے کے اندر تحقیقات، سروے، اور محدود کھدائی کی۔
گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے نوٹ کیا کہ اے ایس آئی کی رپورٹ پہلے ہی کھولی جا چکی ہے۔ درخواست گزاروں کو کاپیاں فراہم کر دی گئی ہیں۔ اس لیے عدالت کے سامنے دوبارہ رپورٹ کو سیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہائی کورٹ نے تمام فریقین کو ہدایت کی کہ وہ اگلی سماعت سے قبل اے ایس آئی کی 98 روزہ سائنسی تحقیقاتی رپورٹ پر اپنے تحریری اعتراضات اور تجاویز پیش کریں۔
ہندو فرنٹ فار جسٹس کی نمائندگی کرنے والے ایڈوکیٹ ونے جوشی نے کہا، “عدالت کی ہدایت کے مطابق، ہم اے ایس آئی کی رپورٹ پر دو ہفتوں کے اندر اپنے اعتراضات اور تجاویز پیش کریں گے۔ کیس کی اگلی سماعت 16 مارچ کو ہوگی۔” 22 جنوری کو سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ کو تین ہفتوں کے اندر سماعت آگے بڑھانے کی ہدایت دی۔ اس سے قبل، سروے کے بعد قانونی عمل کو عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔ اس سٹے کو اب ختم کر دیا گیا ہے، جس سے رپورٹ پر سماعت کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ بھوج شالا تنازعہ کیس کو پہلے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ سے جبل پور کی پرنسپل بنچ کو منتقل کر دیا گیا تھا۔ اس کیس میں عبادت کے حق اور نماز پڑھنے کی اجازت سے متعلق آئینی سوالات شامل ہیں۔ چیف جسٹس سنجیو سچدیوا اور جسٹس ونے صراف کی ڈویژن بنچ نے 18 فروری کو اس معاملے کی سماعت کی۔ سماعت کے بعد عدالت نے کیس کو اندور ڈویژن بنچ کو واپس منتقل کرنے کا حکم دیا۔
دیش
معروف صحافی ’گل بوٹے‘ ممبئی کے مدیر فاروق سید نہیں رہے،ادبی وسماجی حلقہ سوگوار
(پی این این)
ممبئی۔معروف صحافی، ادیب اور بچوں کے مقبول رسالہ “گل بوٹے” کے مدیر فاروق سید کا آج سانتا کروز کے بینز اسپتال میں انتقال ہوگیا ۔ فاروق سید کی موت سے ادبی وصحافتی حلقوں میں غم کا ماحول ہے۔
فاروق سید گزشتہ دو ماہ سے مسلسل علالت کا شکار تھے، رمضان المبارک میں وہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لئے مکہ مکرمہ گئےتھے۔ لیکن اسی دوران انھیں برین ہیمرج ہوگیا۔ وہ مکہ کے ایک اسپتال میں داخل کئے گئے جب ان کی طبیعت میں کچھ بہتر ہوئی تو وہ ممبئی واپس آگئے۔ ممبئی واپسی کے بعد انھیں ہارٹ اٹیک ہوا ، ان کے دل کا آپریشن بالا جی اسپتال میں کیا گیا۔ لیکن وہ سنبھل نہیں سکے۔ پھر انھیں سانتا کروز کے بینز اسپتال میں داخل کیا گیا۔ جہاں ان کی حالت مزید تشویشناک ہوگئی ، وہ وینٹی لیٹر پر منتقل کیے گئے اور بالآخر اس دنیائے فانی کو لبیک کہا۔
فاروق سید اردو صحافت اور بچوں کے ادب کی دنیا میں ایک معتبر اور محترم نام ہے۔ ان کے رسالہ گل بوٹے نے برسوں تک نئی نسل کی ادبی اخلاقی ، تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی شگفتہ تحریریں نرم مزاجی ، ملن ساری اور علمی خدمات نے انھیں ادبی حلقوں میں بھی خاص مقام عطا کیا۔ ان کی رحلت سے صحافیوں، ادیبوں ، شاعروں اور ان کے چاہنے والوں میں غم کا ماحول ہے۔
اس موقع پر ادارہ روزنامہ سچ کی آواز فاروق سید کے اہل خانہ کے غم میں برابر کا شریک ہے۔ گروپ ایڈیٹر ڈاکٹر سید اصدر علی ، ریزینڈینٹ ایڈیٹر جمشید عادل علیگ نے فاروق سید کی رحلت پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے اور اسے ذاتی خسارہ بتایا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند کرے۔ آمین
دیش
ملک میں آنے والا ہے سب سے بڑا اقتصادی طوفان،اڈانی،امبانی اور نریندر پر نہیں پڑے گا اثر، عام آدمی ہوگا شکار، راہل گاندھی کا اندیشہ
(پی این این)
رائے بریلی۔ملک کے جوحالات بن رہے ہیں۔ مہنگائی جس طرح بڑھ رہی ہے اور مزید بڑھنے والی ہے۔ وہ ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ٹکرائو کی وجہ سے جو حالات پیدا ہوئے ہیں۔ حکومت اس سمت سنجیدگی سے دھیان نہیں دے رہی ہے۔
ملک میں ایک بڑا اقتصادی طوفان آنے والا ہے۔جس کا اڈانی، امبانی اور نریندر مودی پر اثر نہیں پڑے گا بلکہ عام آدمی اس کا شکار ہوگا۔مذکورہ اندیشہ راہل گاندھی نے اپنے حلقہ انتخاب رائے بریلی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’نریندر مودی نے جس طرح سے ملک کی معیشت کا ڈھانچہ بدلا ہے، وہ آنے والے معاشی طوفان میں ٹک نہیں پائے گا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس معاشی طوفان کا خمیازہ ملک کے نوجوانوں، کسانوں، چھوٹے تاجروں کو بھگتنا پڑے گا۔‘‘
یہ بیان لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے آج رائے بریلی میں نامہ نگاروں کے کچھ سوالوں کے جواب میں دیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’معاشی طوفان کا اثر اڈانی-امبانی اور نریندر پر نہیں پڑے گا، کیونکہ وہ اپنے محلوں میں بیٹھے رہیں گے۔ یہ جھٹکا بہت برا ہوگا، آنے والا وقت بہت مشکل ہوگا۔‘‘
کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ پی ایم مودی کوئی ٹھوس قدم اٹھانے کی جگہ ملک کی عوام سے کہہ رہے ہیں، کوئی بھی بیرون ملک سفر نہ کرے، جبکہ وہ خود دنیا بھر کا دورہ کر رہے ہیں۔ موجودہ مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’وزیر اعظم مودی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اصل مسئلہ بے روزگاری اور مہنگائی ہے۔ آنے والے وقت میں کھاد کا مسئلہ پیدا ہونے والا ہے۔ لیکن پتہ نہیں نریندر مودی کس دنیا میں جی رہے ہیں، مذاق بنا رکھا ہے۔‘‘
کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر راہل گاندھی کے ذریعہ نامہ نگاروں کے سامنے دیے گئے بیانات کی 2 ویڈیوز شیئر کی ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کانگریس رکن پارلیمنٹ کار میں بیٹھے ہیں اور ملک کے حالات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ملک کے مزدوروں، کسانوں، نوجوانوں، غریبوں اور چھوٹے کاروباریوں کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری نریندر مودی کی ہے۔ ہم لگاتار نریندر مودی سے کہہ رہے ہیں کہ طوفان آنے والا ہے۔ آپ ٹھوس قدم اٹھائیے اور ملک کو محفوظ کیجیے، لیکن وہ کچھ الگ ہی کر رہے ہیں۔‘‘
دیش
ائماکرائم ومؤذنین کی اجرت یکم جون سے بند،بنگال کے وزیر اعلیٰ سوبھیندو کا اعلان
(پی این این)
کولکاتہ۔بنگال میں بی جے پی اقتدار میں آنے کے بعد نئے نئے فیصلے اور اعلانات کررہی ہے۔ بیف بند کرنے کے بعد اب سوبھیندو سرکار نے کئی اہم فیصلے کئے ہیں۔ انھوں نے اعلان کیا ہے کہ اب ائما کرام اور مؤذنین کی اجرت بند کی جائے گی۔ جو بنگال سرکار کے ذریعہ دی جارہی تھی۔ انھوں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ممتا حکومت کی بدعنوانیوں کی وہ گہرائی سے جانچ کرائیں گے۔ اور ہائی کورٹ کے جج کی قیادت میں یہ جانچ ہوگی۔انھوں نے کہا کہ امام ،موذن اور پوجاریوں کو دی جانے والی اجرت یکم جون سے بند کردی جائے گی۔ ساتھ ہی ساتھ خواتین کو انّا پورنا منصوبہ کے تحت 3000 روپیہ ماہانا، مفت بس سروس کا آغاز ہوگا۔ انھوں نے ساتویں پے کمیشن تشکیل کرنے اور او بی سی فہرست میں تبدیلی لانے کےلئے کئی فیصلے کئے۔
غورطلب ہے کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنے دور میں امام ، موذن اور پوجاریوں کی اجرت پانچ سو روپیہ بڑھانے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت مسجدوں کے امام کو تین ہزار روپے، موذن اور پوجاریوں کو دو ہزار روپے دیئے جارہے تھے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار6 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار12 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
دلی این سی آر9 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
