Connect with us

بہار

نتیش کمار نے کچّی درگاہ–بدوپور 6 لین گنگا پل کو تیزی سے مکمل کرنے کی دی ہدایت

Published

on

(پی این این)
حاجی پور‌:وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کچّی درگاہ–بدوپور 6 لین گنگا پل منصوبہ کے تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر افسران نے معزز وزیرِ اعلیٰ کو آگاہ کیا کہ اس منصوبہ پر تعمیراتی کام تیز رفتاری سے جاری ہے اور باقی ماندہ کام کو اپریل ماہ تک مکمل کر لیا جائے گا۔معائنہ کے دوران معزز وزیرِ اعلیٰ نے افسران کو ہدایت دی کہ منصوبہ کے باقی ماندہ تعمیراتی کاموں کو جلد از جلد مکمل کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ رسائی راستہ (اپروچ روڈ) کا تعمیراتی کام بھی مکمل کرنے کی ہدایت دی تاکہ آمد و رفت بلا رکاوٹ اور ہموار طریقے سے ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ کچّی درگاہ–بدوپور 6 لین گنگا پل منصوبہ کی تکمیل سے اس علاقے کے لوگوں کو راجدھانی پٹنہ سے بلا تعطل سڑک رابطہ حاصل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبہ کے مکمل ہونے سے اس علاقے میں زراعت، صنعت اور دیگر کاروباری سرگرمیوں کو مزید فروغ ملے گا۔ ہنگامی طبی حالات میں مریضوں کو علاج کے لیے پٹنہ پہنچنے میں بھی بڑی سہولت حاصل ہوگی۔ معزز وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ کچّی درگاہ–بدوپور 6 لین گنگا پل منصوبہ کے پہلے مرحلے کے افتتاح کے بعد پٹنہ سے راگھوپور تک رابطہ بحال ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس منصوبہ کے تعمیراتی کام کا باقاعدہ معائنہ کرتے رہے ہیں اور اسے جلد مکمل کرنے کے لیے افسران کو مسلسل ہدایات دیتے رہے ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ اس منصوبہ کی تکمیل سے مہاتما گاندھی پل پر ٹریفک کا بوجھ کم ہوگا اور شمالی بہار و جنوبی بہار کے درمیان رابطہ کے لیے لوگوں کو ایک متبادل راستہ دستیاب ہوگا، جس سے آمد و رفت مزید آسان ہو جائے گی۔ اس پل کی تعمیر سے پٹنہ شہر کے باہر سے ہی لوگ شمالی بہار کے مختلف مقامات تک آسانی سے سفر کر سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آمس–دربھنگہ ایکسپریس وے کو کچّی درگاہ–بدوپور 6 لین گنگا پل منصوبہ سے جوڑا جائے گا، جس سے سمستی پور، دربھنگہ اور مدھوبنی جانے والے لوگوں کو خاصی سہولت حاصل ہوگی اور وقت کی بچت بھی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں معیاری سڑکوں اور پلوں کی مسلسل تعمیر کے ذریعے آمد و رفت کو مزید سہل بنایا جا رہا ہے۔قابلِ ذکر ہے کہ وزیرِ اعلیٰ نے 23 جون 2025 کو کچّی درگاہ (پٹنہ) سے راگھوپور دیارا (ویشالی) تک نو تعمیر سڑک حصے کا افتتاح کیا تھا۔ پٹنہ ضلع میں واقع قومی شاہراہ نمبر 30 پر واقع کچّی درگاہ اور ویشالی ضلع میں واقع قومی شاہراہ نمبر 103 پر واقع بدوپور کے درمیان دریائے گنگا پر کل 19.76 کلومیٹر طویل 6 لین گرین فیلڈ پل منصوبہ تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت 9.76 کلومیٹر طویل پل اور 10 کلومیٹر طویل رسائی راستوں کی تعمیر شامل ہے۔ پہلے مرحلے میں کچّی درگاہ، پٹنہ سے راغھوپور دیارا، ویشالی (کل لمبائی 4.57 کلومیٹر) کا افتتاح ہو چکا ہے۔ دوسرے مرحلے میں حاجی پور–مہنار سڑک (این ایچ-122 بی) سے چک سکندر (این ایچ-322) تک، جبکہ تیسرے مرحلے میں راگھوپور دیارا سے حاجی پور–مہنار سڑک (این ایچ-122 بی) تک تعمیراتی کام جاری ہے۔
معائنہ کے دوران جنتا دل یونائیٹڈ کے قومی کارگزار صدر و رکنِ پارلیمنٹ سنجے کمار جھا، محکمۂ تعمیرِ سڑک کے سکریٹری پنکج کمار پال، وزیرِ اعلیٰ کے سکریٹری کمار روی، وزیرِ اعلیٰ کے سکریٹری ڈاکٹر چندر شیکھر سنگھ، بہار اسٹیٹ روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر ترشت کپِل اشوک، پٹنہ ضلع کے ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر تیاگ راجن ایس ایم، ویشالی ضلع کی ضلع مجسٹریٹ ورشا سنگھ، پٹنہ کے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ کارتکیہ کے شرما، ویشالی ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ وکرم سہاگ سمیت دیگر اعلیٰ افسران موجود تھے۔

بہار

دربھنگہ میں گیس لیک سے بھیانک آتشزدگی،3ماہ کا بچہ سمیت 3ہلاک ،8سے زائد زخمی

Published

on

(پی این این)
دربھنگہ :بہار کے دربھنگہ ضلع کے سندرپور علاقے میں ایک دردناک سانحہ پیش آیا جہاں گھریلو گیس کے رساؤ کے باعث اچانک آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے سلنڈر دھماکے کے ساتھ پورا گھر شعلوں کی لپیٹ میں آ گیا۔ اس ہولناک حادثے میں ایک ہی خاندان کے 3 افراد، میاں بیوی اور ان کا 3 ماہ کا معصوم بچہ جاں بحق ہو گئے، جب کہ 8 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے، جن میں ایک فائر بریگیڈ اہلکار بھی شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق مہلوکین کی شناخت گوبند داس (30)، ان کی اہلیہ نشو کماری (26) اور ان کے 3 ماہ کے بیٹے یوراج کمار کے طور پر ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نشو کماری اپنے بچے کو گود میں لے کر کچن میں کھانا تیار کر رہی تھیں کہ اسی دوران گیس لیک ہونے کی وجہ سے جیسے ہی ماچس جلائی گئی، اچانک آگ بھڑک اٹھی اور پورا کچن لپیٹ میں آ گیا۔ بچے کو بچانے کی کوشش میں گوبند داس بھی آگ میں کود پڑے، تاہم وہ بھی شدید جھلس گئے اور بعد میں جانبر نہ ہو سکے۔
عینی شاہدین کے مطابق آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ چند ہی منٹوں میں گھر کا بڑا حصہ شعلوں کی زد میں آ گیا، جب کہ کھڑکیوں اور وینٹی لیٹر سے دھواں اور آگ کے شعلے باہر نکلنے لگے۔ اطلاع ملتے ہی مقامی لوگ موقع پر جمع ہو گئے اور اپنی مدد آپ کے تحت بچاؤ کی کوششیں شروع کیں، تاہم آگ کی شدت کے باعث فوری قابو پانا ممکن نہ ہو سکا۔
ادھر اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی 4 گاڑیاں موقع پر پہنچیں اور کافی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا گیا۔ ریسکیو کارروائی کے دوران ایک فائر بریگیڈ اہلکار بھی جھلس کر زخمی ہو گیا۔ زخمیوں میں بیچن داس، گوتم داس اور پڑوسی آدتیہ ٹھاکر سمیت دیگر افراد شامل ہیں، جنہیں علاج کے لیے قریبی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
یونیورسٹی تھانہ کے انچارج سدھیر کمار نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کچن حال ہی میں نچلی منزل سے تیسری منزل پر منتقل کیا گیا تھا اور کھانا بنانے کے دوران گیس کے رساؤ کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کی ہر پہلو سے جانچ کی جا رہی ہے۔
وہیں فائر بریگیڈ کے ڈی ایس پی محمد فیض نے کہا کہ اطلاع ملتے ہی ٹیمیں فوری طور پر روانہ کی گئیں اور بروقت کارروائی کے نتیجے میں آگ پر قابو پا لیا گیا، ورنہ نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔ انہوں نے گھریلو گیس کے استعمال میں احتیاط برتنے کی اپیل بھی کی۔

Continue Reading

بہار

سی۔ایم کالج، دربھنگہ میں انٹر کالج کوئز مقابلہ کا اہتمام

Published

on

(پی این این )
دربھنگہ:ہمارا ملک ہندوستان ایک کثیر اللسانی ملک ہے جہاں مختلف جغرافیائی خطے میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں اور ہماری قومی زبان ہندی ہے لیکن اس تلخ سچائی سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس دورِ عا لمیت میں انگریزی زبان کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوگئی ہے ۔ بالخصوص غیر ملکی کمپنیوں میں ملازمت حاصل کرنے کے لئے انگریزی زبان پر عبور حاصل کرنا لازمی ہے ۔ اس لئے ہمارے طلبا وطالبات کو جو انگریزی زبان کے ساتھ گریجویٹ اور ماسٹر ڈگری حاصل کر رہے ہیں انہیں انگریزی زبان پر دسترس حاصل کرنی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر مشتاق احمد، پرنسپل کالج ہذا نے کیا۔
پروفیسر احمد کالج کے شعبۂ انگریزی کے زیر اہتمام منعقد انٹر کالج کوئز مقابلہ کے اختتامیہ و جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کر رہے تھے۔پروفیسر احمد نے کہا کہ انگریزی شعبہ قابلِ مبارکباد ہے کہ انہوں نے انٹر کالج کوئز مقابلہ کا اہتمام کیا اور جس میں ایل این متھلا یونیورسٹی کے مختلف کالجوں کے تقریباً 150؍ طلبا وطالبات نے حصہ لیا اور نہ صرف انگریزی زبان پڑھنے والے بلکہ دوسرے موضوعات کے طلبا نے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ۔ پروفیسر احمد نے کہا کہ ہمارے بچوں کے اندر انگریزی زبان کی صلاحیت لکھنے تک تو ہوتی ہے لیکن وہ بات چیت کرنے میں ناکام رہتے ہیں اس لئے انگریزی زبان میں مکالمہ ضروری ہے تاکہ وہ کالج میں ہی اپنی کمیوں کو دور کر سکیں ۔
اس جلسہ کے مہمانِ خصوصی پروفیسرسنجیو کمار مشرا ، پرنسپل سی ایک سائنس کالج، دربھنگہ نے کہا کہ آج کے مقابلہ جاتی دور میں صرف نصابی کتابوںتک خود کو محدود نہ کریںبلکہ طلبا وطالبات اپنے اندر زبان کو لکھنے ، پڑھنے کی صلاحیت بھی پیدا کریں۔ کیوں کہ انگریزی زبان کا سیکھنا اور بولنا شخصیت میں نکھار کے ساتھ اعتماد بھی پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئز مقابلہ طلبا کے اندر تجسس پیدا کرتا ہے اور تجسس کی بنیاد پر سیکھنے کا عمل آسان ہو جاتا ہے۔
صدر شعبۂ انگریزی ڈاکٹر سبرتو کمار داس نے اس کوئز مقابلہ کی علمی اہمیت وافادیت پرروشنی ڈالی اور اس بات پر خوشی ظاہر کی کہ ہماری یونیورسٹی کے مختلف کالجوں کے طلبا نے اس میں حصہ لیا ۔ لٹریری سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر کمار گورو نے کہا کہ شعبۂ انگریزی کا یہ لٹریری سوسائٹی طلبا وطالبات کی صلاحیت کونکھارنے کا مسلسل کام کرتی رہتی ہے جس کا یہ کوئز مقابلہ ایک نمونہ ہے۔اس کوئز مقابلہ کو کامیاب بنانے میں شعبۂ انگریزی کے تمام اساتذہ ڈاکٹر رادھا نرائن، ڈاکٹر نریش کمار، ڈاکٹر بشریٰ تازین، ڈاکٹر امِ سلمہ نے اہم کردار ادا کیا ۔ اس موقع پر تمام شرکائے کوئز کو اسناد اور میڈل سے نوازا گیا ۔ آغاز میں صدر شعبہ انگریزی نے مہمانوں کاپاگ ، چادر اور گلدستہ سے استقبال کیا ۔

Continue Reading

بہار

زیرِ زمین پانی کے پائیدار اور بہتر انتظام پر ریاستی سطح کی ورکشاپ کا وزیر سنجے سنگھ کے ہاتھوں افتتاح

Published

on

(پی این این )
حاجی پور: محکمۂ صحتِ عامہ انجینئرنگ حکومتِ بہار کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زیرِ زمین پانی کے انتظام کے موضوع پر منعقد ریاستی سطح کی ورکشاپ کا افتتاح وزیر سنجے کمار سنگھ نے کیا۔ یہ ورکشاپ ریاست میں محفوظ اور پائیدار پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
اپنے افتتاحی خطاب میں وزیر سنجے کمار سنگھ نے کہا کہ “ہر گھر نل کا جل” اسکیم کے تحت ریاست کے کروڑوں دیہی خاندانوں تک صاف پینے کا پانی پہنچایا گیا ہے۔ جو حکومتِ بہار کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے موسمی حالات اور غیر متوازن بارش کی وجہ سے زیرِ زمین پانی پر بڑھتا ہوا دباؤ مستقبل کے لیے ایک سنگین چیلنج بن سکتا ہے، اس لیے پانی کے تحفظ اور اس کے بہتر انتظام کو اولین ترجیح دینا ضروری ہے۔
وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پینے کے پانی کی فراہمی کی اسکیموں کے ساتھ ساتھ زیرِ زمین پانی کے تحفظ، سطحی پانی پر مبنی منصوبوں، بین محکمہ جاتی تال میل اور عوامی شراکت داری کو بھی فروغ دینا ہوگا، تاکہ آنے والی نسلوں کیلئے آبی وسائل کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔ اس ورکشاپ میں مختلف محکموں کے سینئر افسران، انجینئرز، سائنسدانوں اور ترقیاتی شراکت دار اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس دوران زیرِ زمین پانی کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، آبی وسائل کے استحکام اور طویل مدتی آبی تحفظ سے متعلق مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے تبادلۂ خیال کیا گیا۔
پروگرام کے دوران ماہرین نے تکنیکی سیشنز کے ذریعے زیرِ زمین پانی کے سائنسی اور عملی پہلوؤں پر غور و خوض کیا اور ریاست میں آبی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔اس ورکشاپ کا مقصد ریاست میں موسمی حالات سے ہم آہنگ، مضبوط اور پائیدار پینے کے پانی کے انتظام کا نظام تیار کرنا ہے، تاکہ عوام کو مسلسل اور محفوظ پینے کا پانی فراہم کیا جا سکے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network