Connect with us

بہار

جامعہ رحمانی میں 40 روزہ انگلش لرننگ ورکشاپ کا کامیاب انعقاد

Published

on

(پی این این)
مونگیر :جامعہ رحمانی میں طلبہ و اساتذہ کی انگریزی زبان پر گرفت مضبوط کرنے کے مقصد سے 40 روزہ خصوصی انگلش لرننگ ورکشاپ کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔ اس تعلیمی و تربیتی ورکشاپ کا انعقاد امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی، سجادہ نشین خانقاہ رحمانی مونگیر کی سرپرستی و رہنمائی میں کیا گیا، جن کی بصیرت افروز قیادت نے مدارس میں دینی تقاضوں کے مطابق زبان سیکھنے کی ایک مضبوط مثال قائم کی۔
اس ورکشاپ کے لیے جنوبی ہند کے شہر حیدرآباد سے معروف انگلش ماسٹر ٹرینر مولانا محمد عاقب صفی کو مدعو کیا گیا، جنہوں نے جدید، عملی طرز کے مؤثر تربیتی اسلوب کے ذریعے طلبہ کو انگریزی بول چال، اسٹیج کانفیڈنس، تقریری مہارت، مؤثر اظہارِ خیال اور پبلک اسپیکنگ کی عملی تربیت فراہم کی۔ چالیس دنوں پر محیط اس پروگرام میں طلبہ کی نمایاں پیش رفت دیکھنے کو ملی۔ورکشاپ کے اختتام پر طلبہ کی عملی کارکردگی کو جانچنے اور ان کی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے ’’رحمانی ٹاکس‘‘ کے عنوان سے ایک خصوصی پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں طلبہ نے انگریزی زبان میں تقاریر،قرآنی آیات کی تفسیر،اسلامی واقعات کی پیش کش، محاورات کے استعمال اور اظہارِ خیال کے مقابلوں میں بھرپور شرکت کی اور اپنے اعتماد و مہارت کا شاندار مظاہرہ کیا۔
پروگرام کے صدارتی خطاب میں جامعہ رحمانی کے استاذِ حدیث مولانا مفتی ریاض احمد قاسمی نے فرمایا کہ مثالی قیادت کی مثالی سوچ، مثالی مدرس کی مثالی تدریس، مثالی طلبہ کی مثالی محنت اور مثالی انتظامیہ کے مثالی نظم و نسق کے امتزاج سے ہی وہ نظام وجود میں آتا ہے جس کی جھلک اس چار گھنٹے پر محیط پروگرام میں واضح طور پر نظر آئی۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس بنیاد پر اخلاص کے ساتھ مسلسل محنت کی جائے تاکہ یہ خواب ایک مضبوط اور پائیدار حقیقت بن سکے۔
اس کے بعد جامعہ رحمانی کے ناظمِ تعلیمات برائے امور طلبہ مولانا محمد خالد رحمانی نے اپنے تاثرات میں کہا کہ مدارسِ اسلامیہ میں زبان کی اہمیت کو جس گہرائی کے ساتھ امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے محسوس کیا اور اس کا عملی حل پیش کیا، اس کی مثالیں کم ملتی ہیں۔ ’’رحمانی ٹاکس‘‘ اسی وژن کا عملی مظہر ہے۔مولانا صالحین ندوی سکریٹری، رحمانی فاؤنڈیشن مونگیر نے کہا کہ اس نوعیت کے ورکشاپس آئندہ بھی جاری رہیں گے تاکہ طلبہ کی دلچسپی برقرار رہے، یہی جامعہ کے سرپرست امیرِ شریعت دامت برکاتہم اور تمام ذمہ داران کی مشترکہ خواہش ہے۔
جامعہ رحمانی کے شعبۂ صحافت کے ایچ او ڈی فضل رحماں رحمانی نے 40 روزہ انگلش لرننگ پروگرام کے انعقاد پر امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی بصیرت اور سرپرستی کو خراجِ تحسین پیش کیا اور پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے پر ماسٹر ٹرینر مولانا عاقب صفی کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے جامعہ رحمانی سے فارغ ہونے والے سالِ ہشتم عربی کے طلبہ کو دعوت دی کہ وہ آئندہ برس جامعہ رحمانی آئیں، جہاں ان کے لیے خصوصی طور پر 40 روزہ انگلش لرننگ ورکشاپ منعقد کی جائے گی۔ اس موقع پر انہوں نے انگریزی زبان کے 45 حروف پر مشتمل طویل ترین لفظ کا تذکرہ کر کے طلبہ کو علمی ذوق بھی فراہم کیا۔
’’رحمانی ٹاکس‘‘ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو ایوارڈز اور اسناد سے نوازا گیا۔ اس موقع پر اول پوزیشن جامعہ رحمانی کے شعبہ معہد الریادۃ کے طالب علم مولانا محمد ابرار الحق قاسمی نے حاصل کی، دوم پوزیشن دارالحکمت کے متعلم محمد عامر کے حصے میں آئی، جبکہ سوم پوزیشن ابو عبیدہ (متعلم دارالحکمت) نے حاصل کی۔ اسی طرح چوتھی پوزیشن محمد مختار رحمانی (متعلم دارالحکمت) نے حاصل کی اور پانچویں پوزیشن محمد شہنواز (متعلم دارالحکمت) کے نام رہی۔ اجلاس کی صدارت جامعہ رحمانی کے ناظم الحاج حضرت مولانا محمد عارف صاحب رحمانی اور حضرت مولانا مفتی ریاض احمد صاحب قاسمی نے فرمائی۔اجلاس کا مجموعی انتظام و انصرام مولانا صالحین ندوی اور ماسٹر ٹرینر مولانا عاقب صفی کے زیرِ اہتمام انجام پایا، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا عاقب سفی قاسمی، مولانا صبا حیدر ندوی اور حافظ عبد الرحمان (معاون مولانا عاقب صفی) نے بحسن و خوبی انجام دیے۔یہ پروگرام محض جامعہ رحمانی میں انگریزی زبان کے فروغ تک محدود نہ رہا، بلکہ اس نے دینی تقاضوں کی تکمیل کے لیے بین الاقوامی زبانوں کے ساتھ ہم آہنگ، بامقصد اور دور رس تعلیمی وژن کی ایک مضبوط، مؤثر اور قابلِ تقلید عملی تصویر پیش کی۔

بہار

بہار میں قانون کی بالادستی کو بنایاجائے یقینی:امیر شریعت

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:شہر پٹنہ کے علاقہ پیر بہور تھانہ کے تحت لال باغ محلے میں ایک نہایت افسوسناک اور لرزہ خیز واقعہ پیش آیا، جس میں نواز عالم نامی شخص کو ایک نامعلوم حملہ آور نے اس کی رہائش گاہ پر نہایت بے دردی کے ساتھ گلا ریت کر قتل کر دیا۔ اس اندوہناک واقعہ میں مقتول کی اہلیہ بھی شدید زخمی ہو گئی ہیں، جو اس وقت پی ایم سی ایچ میں زیر علاج ہیں اور زندگی و موت کی جنگ لڑ رہی ہیں۔واقعہ کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق علاقے کے عوام اور مقتول کے لواحقین قاتل کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے پرامن طریقے سے گزشتہ 12 گھنٹوں سے لاش کے ساتھ سڑک پر احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری انتظامیہ نے اب تک کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھتی جا رہی ہے۔
اس واقعہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مولانا احمد ولی فیصل رحمانی امیر شریعت بہار اڈیشہ ،جھارکھنڈ نے کہا کہ ریاست میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا نہایت ضروری ہے،اس واقعے میں سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ دارالحکومت پٹنہ میں اس طرح کا افسوسناک واقعہ پیش آیا،انہوں نے کہا کہ ریاست میں اسی طرح سے آئے دن انسانی خون کے دردناک واقعات پیش آتے رہے توعوام کا امن و اطمینان خطرے میں پڑ سکتا ہےاوریہ سانحہ ریاست میں لا اینڈ آرڈر پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
امیر شریعت کی ہدایت پر مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی ناظم امارتِ شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ پھلواری شریف، پٹنہ نے اس افسوسناک واقعہ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی وفد جائے وقوع پر بھیجاچناںچہ مولانا احمد حسین قاسمی مدنی کی قیادت میں امارت شرعیہ کے وفد نے مقتول کے اہل خانہ سے ملاقات کی، اور انہیں تعزیت پیش کی نیز موجود لوگوں سے حالات کا جائزہ لیا۔ وفد میں مولانا رضوان احمد ندوی،مولانا ابوالکلام شمسی اور مولانا ممتاز شامل تھے۔وفد نے موقع پر موجود عوام کو جو کئی گھنٹوں سے اشوک راج پتھ روڈ پرانصاف کی گہار لگا رہے ہیں،انہیں صبر و تحمل کی تلقین کی اور یقین دلایا کہ وہ انتظامیہ تک عوام کے مطالبات مؤثر انداز میں پہنچائیں گے۔
اس موقع پرناظم امارتِ شرعیہ نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قاتل کو فوری گرفتار کر کے قرار واقعی سزاکو یقینی بنایاجائے اورمقتول کے وارثین کو معقول معاوضہ دیاجائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ہو۔واضح رہے کہ پٹنہ جیسے بڑے شہر میں اس نوعیت کا سنگین واقعہ قانون و انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جس پر فوری اور سخت کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Continue Reading

بہار

بہاراقلیتی رہائشی اسکولوں میں داخلہ کیلئے درخواستیں مطلوب

Published

on

(پی این این)
ارریہ: بہار کے ریاستی اقلیتی رہائشی اسکولوں میں تعلیمی سیشن 2026-27 کے لیے کلاس 9 اور 11 میں داخلے کے لیے آن لائن درخواستیں طلب کی جا رہی ہیں، نیز مسلم، سکھ، عیسائی، بدھ، جین، اور پارسی برادریوں کے طلباء کے ساتھ ساتھ اقلیتی رہائشی اسکول، جمہار پور، کاہار لینڈ، مائیناریٹی ریذیڈنٹ اسکول میں اور کیمور اضلاع، اور کیمپ ایٹ اضلاع سیوان، پورنیہ، سہرسہ، مونگیر اور سپول میں۔ آخری تاریخ، 01.05.2026 کو بڑھا دیا گیا ہے اور اہل طلباء 20.05.2026 تک درخواست دے سکتے ہیں۔ درخواست کا عمل محکمہ کی ویب سائٹ https://state.bihar.gov.in/minoritywelfare/CitizenHome.html پر آن لائن دستیاب ہے۔
آن لائن فارم کے ساتھ منسلک ہونے والی دستاویزات (خود تصدیق شدہ) ضمیمہ: سرکل آفیسر کے ذریعہ جاری کردہ رہائشی آمدنی کا سرٹیفکیٹ (امیدواروں کی زیادہ سے زیادہ سالانہ خاندانی آمدنی چھ لاکھ روپے ہونی چاہئے)، تعلیمی قابلیت کے سرٹیفکیٹ/نمبر سرٹیفکیٹ کی خود تصدیق شدہ کاپیاں، تین تصاویر، اور عمر کی حد کا ثبوت۔

Continue Reading

بہار

پسماندہ مسلمانوں کیلئے سیاسی ،معاشی اور سماجی میدان میں حصہ داری کا مطالبہ

Published

on

(پی این این)
چھپرہ :شہر کے آڈیٹوریم میں اتوار کو سائیں-شاہ سماج کی جانب سے ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔جس میں برادری کے معاشی،سماجی اور سیاسی فروغ کے موضوع پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔کانفرنس میں مقررین نے کہا کہ برسوں سے مختلف سیاسی جماعتوں نے اس سماج سے صرف ووٹ لینے کا کام کیا ہے۔مگر اس کی ترقی اور حقوق کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سماج کے ضلع صدر انجینئر دانش ہشام نے کہا کہ یہ برادری آج بھی نظر انداز اور پسماندہ حالت میں زندگی گزار رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد موجودہ مسائل کا حل تلاش کرنا اور آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کرنا ہے۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر آگے بڑھیں اور تعلیم،روزگار اور سماجی بیداری پر خاص توجہ دیں۔
بھاگلپور سے آئے سماجی کارکن و سابق مکھیا محمد کلام الدین نے کہا کہ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد حکومت کی توجہ اس برادری کی ہمہ جہت ترقی کی طرف مبذول کرانا ہے۔انہوں نے کہا کہ سائیں-شاہ سماج آج بھی سماجی اور معاشی طور پر کافی پسماندہ ہے اور زیادہ تر لوگ محنت مزدوری اور چھوٹے کاروبار پر انحصار کرتے ہیں۔انہوں نے مرکز اور ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس سماج کی ترقی کے لیے خصوصی اسکیمیں بنائی جائیں اور سرکاری فوائد آخری فرد تک پہنچائے جائیں۔
اس موقع پر کلام میموریل ٹرسٹ کے قومی سکریٹری محمد مِٹّھو شاہ نے کہا کہ آزادی کے 77 برس بعد بھی اس برادری کے حقوق کے لیے سنجیدگی سے آواز نہیں اٹھائی گئی۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس کمیونٹی کو بھی سیاسی نمائندگی میں مناسب مقام دیا جائے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس سماج کے نمائندوں کو اسمبلی، قانون ساز کونسل اور راجیہ سبھا جیسے اہم ایوانوں میں شامل کیا جائے تاکہ ان کی آواز بلند ہو سکے۔
کانفرنس کے نائب صدر شمیم احمد نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدہ قدم اٹھائے تو نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور باعزت زندگی کے مواقع حاصل ہو سکتے ہیں۔کانفرنس میں جنرل سیکرٹری محمد شہاب الدین،ضلع صدر محمد شمیم،چھپرہ صدر محمد اصغر علی،انجینئر شمشیر عالم،مظہر حسین،صفدر حسین،حاجی ہشام الدین،نظام شاہ سمیت بڑی تعداد میں برادری کے افراد موجود تھے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network