Bihar
دربھنگہ:وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے سیلاب متاثرہ علاقوں کا کیا دورہ
بھاگلپور:بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے ہفتہ کے روز نوگچھیا علاقے کے راگھوپور میں واقع کوجی کورئیا بانڈھ کا دورہ کر کے سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے لیے جاری راحت اور بچاؤ کے کاموں کا زمینی معائنہ بھی کیا۔
وزیر اعلیٰ کے بھاگلپور ہوائی اڈے پہنچنے پر جنتا دل (یونائیٹڈ) کے ضلعی صدر وویکانند گپتا کی قیادت میں پارٹی کے عہدیداران اور کارکنان نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر ریاست کے توانائی وزیر شیلیش کمار عرف بولو منڈل، رکن پارلیمنٹ اجے منڈل اور رکن اسمبلی پروفیسر للت نارائن منڈل بھی موجود تھے۔ جے ڈی یو کارکنان کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو انگ وسترا اور گلدستہ پیش کر کے اعزاز سے نوازا گیا۔
اس موقع پر جے ڈی یو ضلعی صدر وویکانند گپتا نے کہا کہ ریاستی حکومت سیلاب متاثرین کی حفاظت، راحت اور بچاؤ کے لیے پوری سنجیدگی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں تک بروقت ضروری امداد اور سہولیات پہنچائی جائیں۔
جے ڈی یو کے سینئر لیڈر سڈو سائیں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں تک ترجیحی بنیاد پر راحت پہنچانے کا کام جاری ہے۔ مشکل کی اس گھڑی میں حکومت اور انتظامیہ متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہے۔
وزیر اعلیٰ کے استقبال کے موقع پر کہکشاں پروین، سینئر لیڈر سڈو سائیں، سینئر لیڈر اشوک کمار آلوک، شبانہ داؤد، سنجیو چندرونشی، وبھوتی گوسوامی، شیکھر پانڈے، پردیپ کشواہا، شیلیندر تومر، انوج سنگھ، شعبان خان اور اوچت لال سنگھ سمیت جے ڈی یو کے بڑی تعداد میں عہدیداران، کارکنان اور حامی موجود رہے۔
Bihar
بہار میںتیزی سے پاؤں پھیلا رہا ہے ٹائیفائڈ ،ریاست بھر میں ایک ماہ کے دوران 4 ہزارسے زائد مریض سامنے آنے سے محکمۂ صحت میں ہلچل
(پی این این)
پٹنہ:بہار میں ٹائیفائڈ کا قہر بڑھتا جا رہا ہے۔ اگست کے مہینے میں سرکاری اسپتالوں میں جانچ کے دوران 4,102 مریضوں میں اس بیماری کی تصدیق ہوئی ہے۔ وہیں ستمبر کے ابتدائی چار دنوں کے دوران مزید 250 افراد میں ٹائیفائڈ کی تشخیص ہوئی ہے۔
مظفرپور میں اگست کے دوران ٹائیفائڈ کے 161 مریض سامنے آئے، جبکہ یکم سے 3 ستمبر کے درمیان مزید 36 افراد میں اس بیماری کی تصدیق ہوئی۔ ٹائیفائڈ کے شبہے کے پیش نظر اگست میں ریاست کے سرکاری اسپتالوں میں تقریباً 15 ہزار مریضوں کی جانچ کرائی گئی تھی۔ اس دوران صرف مظفرپور میں بھی 353 افراد کا ٹائیفائڈ ٹیسٹ کیا گیا۔
مظفرپور واقع ایس کے ایم سی ایچ کے شعبۂ طب کے سربراہ ڈاکٹر امت کمار نے بتایا کہ ٹائیفائڈ کے مریض مسلسل اسپتال پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر روز ٹائیفائڈ کی علامات کے حامل 20 سے 30 مریض ایس کے ایم سی ایچ آ رہے ہیں، جن کا جانچ رپورٹ کی بنیاد پر علاج کیا جا رہا ہے۔سرکاری اسپتالوں کے ساتھ ساتھ نجی اسپتالوں کی او پی ڈی میں بھی ٹائیفائڈ کی علامات والے مریض بڑی تعداد میں پہنچ رہے ہیں۔
سرکاری اسپتالوں کے علاوہ نجی لیبارٹریوں میں بھی روزانہ اوسطاً تقریباً 100 مریضوں میں ٹائیفائڈ کی تصدیق ہو رہی ہے۔ بیماری کے علاج کے اخراجات کے باعث غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے مریضوں کی مالی حالت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
جورن چھپرا واقع ایک نجی لیبارٹری کے منتظم نے بتایا کہ ہر روز بڑی تعداد میں مریض وائیڈل ٹیسٹ کرانے کے لیے پہنچ رہے ہیں اور ان میں سے بیشتر میں ٹائیفائڈ کی تصدیق ہو رہی ہے۔ شہر کے ہر علاقے سے مریض وائیڈل جانچ کے لیے نمونے دینے آ رہے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ٹائیفائڈ کس تیزی کے ساتھ اپنے پاؤں پھیلا رہا ہے۔
ٹائیفائڈ کے علاج کے لیے مریضوں کو ہائی ڈوز اینٹی بایوٹک اور دیگر ادویات دینی پڑ رہی ہیں۔ ہائی ڈوز ادویات دینے کے باوجود ٹائیفائڈ کو ٹھیک ہونے میں 20 دن تک کا وقت لگ رہا ہے۔ اس کے بعد بھی مریضوں میں کافی کمزوری برقرار رہ رہی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق وائرل بخار اور ٹائیفائڈ میں مبتلا ہونے کے بعد کئی مریضوں میں پلیٹ لیٹس کی تعداد بھی کم ہو رہی ہے۔
بہار میں صحت کی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔ وزیرِ صحت نشانت کمار نے دو روز قبل مظفرپور کے ایس کے ایم سی ایچ کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے 30 بستروں پر مشتمل آئی سی یو کا افتتاح کیا۔
انہوں نے ایس کے ایم سی ایچ احاطے میں واقع ہومی بھابھا کینسر ہاسپٹل اینڈ ریسرچ سینٹر میں علاج کے انتظامات اور دستیاب سہولیات کا بھی جائزہ لیا۔ریاست میں گھر گھر جا کر لوگوں کی صحت کی جانچ کے لیے مہم بھی چلائی گئی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری نے دو روز قبل بیداری رتھ کو روانہ کیا۔
Bihar
مولانا امین احمد خان چترویدی اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، امیرشریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے مولانا امین احمد خان کے انتقال پرکیادلی صدمے کا اظہار
(پی این این)
پھلواری شریف:بہار کے مشہور و معروف عالمِ دین اور مایہ ناز شیریں خطیب و مقرر حضرت مولانا امین احمد خان چترویدی طویل علالت کے بعد3/ستمبر 2026ءکو اپنے رفیقِ اعلیٰ سے جا ملے، إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَيْہِ رَاجِعُونَ۔
ان کے وصال پر امارتِ شرعیہ ،بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مد ظلہ نے دلی صدمے کا اظہار کرتے ہوئے اپنے تعزیتی پیغام میں فرمایا کہ مولانا اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، ان کا دینی اداروں، ملی جماعتوں اور خانقاہوں سے بڑا گہرا قلبی تعلق تھا، وہ ایک بلند پایہ خطیب بھی تھے، ان کی تقریریں شگفتگی اور چاشنی سے لبریز ہوتیں، اس کے ذریعے وہ اصلاحِ باطن بھی فرمایا کرتے تھے، آپ کا امارتِ شرعیہ اور خانقاہ رحمانی مونگیر سے عقیدت مندانہ تعلق بھی تھا، جس کو انہوں نے زندگی بھر سنبھال کر رکھا،ان کی وفات سے ایک بڑا خلا پیدا ہوا ہے، اللہ تعالیٰ مولانا کی نیکیوں کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے۔
مولانا کے سانحۂ ارتحال پر نائب امیرشریعت امارتِ شرعیہ ،بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ مولانا محمدشمشاد رحمانی قاسمی نے کہا کہ مولانا کی زندگی تکلف و تصنع اور ظاہرداری سے پاک تھی، سادگی، زہدداری اور قناعت ان کی زندگی کا امتیازی وصف تھا، ان سے میری متعدد ملاقاتیں رہی ہیں، ان کے لہجے میں شائستگی اور مسکراہٹ میں دلکشی اور معنویت تھی، جس سے اپنائیت کا احساس ابھرتا تھا، اللہ انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عنایت فرمائے۔
ناظم اعلی امارتِ شرعیہ ،بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی نے کہا کہ مولانا کا امارتِ شرعیہ اور یہاں کے اکابر سے بڑا گہرا تعلق تھا،یہی وجہ ہے کہ دورۂ وفد امارتِ شرعیہ میںآپ شریک ہوکر امارت شرعیہ کےپیغام کو لوگوں تک پہونچاتے ،یہ ان کے اخلاص و للہیت کا ثمرہ تھا، امارتِ شرعیہ کے سبھی اصحاب اس سانحے پر سوگوار ہیں اور اس غمناک حادثے پر اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہیں،حضرت مولانا کی پیدائش 1938ءمیں بیگوسرائے میں ہوئی، ابتدائی تعلیم مدرسہ بدر الاسلام میں پائی اور مظاہر العلوم سہارنپور سے فضیلت حاصل کی، پھر اصلاحی تحریکات سے وابستہ ہو گئے، عرصہ تک حاجی پور میں دعوتی کام انجام دیتے رہے اور اصلاح وتنظیم سے جڑے رہے، ایسی شخصیت کا اٹھ جاناایک علمی خسارہ ہے۔
قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ جناب مولانا محمدانظار عالم قاسمی نےکہاکہ مولانا مرحوم علاقہ اور بہار کے اکثر اصلاحِ معاشرہ کے جلسوں میں شرکت فرماتے، مدرسوں کی تعلیمی کانفرنسوں کو زینت بخشتے اور اردو میں تقریریں کرتے، سنسکرت زبان میں بھی اللہ کی وحدانیت اور رسول کی رسالت کے دلائل پیش کرتے، جس سے لوگ بے حد متاثر ہوتے،ایسی جامع شخصیت کا اٹھ جانا ایک علمی خسارہ ہے،اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کو شرفِ قبولیت بخشے۔
، قارئینِ کرام سے دعائے مغفرت کی درخواست ہے۔
Bihar
دینی مدارس کو مٹانے کیلئے پھیلائی جارہی ہیں غلط فہمیاں،امارتِ شرعیہ کی مجلسِ عاملہ کا اہم فیصلہ،موجودہ وقت میںمرکزی اور ریاستی حکومتوں کے نشانے پر ہیں ملک کے بیشتر مدارس و مکاتب ،ان کی قانونی دشواریوں کو حل کرنے کے لیے مرتب کیا جائے گا لائحہ عمل: حضرت امیرشریعت
(پی این این)
پھلواری شریف:اس وقت ملک کے بیشتر دینی مدارس و مکاتب مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے نشانے پر ہیں، ان کی تہذیبی اقدار اور ملی شناخت کو مٹانے کے لیے ان کے خلاف ملک میں غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں اور اس کے لیے نت نئے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، جو کہ زمینی حقیقت سے بالکل پرے ہیں، یہ تمام ملی ادارے آئین و دستور کے مطابق قائم ہیں،ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم سب اس کی حفاظت و بقا کے لیے ہر ممکن جدوجہد کریں اور ملکی قانون کی شرائط کے مطابق اس کے معیارِ تعلیم کو بلند کرنے کی کوشش کریں۔
ان خیالات کا اظہار امیرِ شریعت بہار، اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال مفکرِ ملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی (مدظلہ) نے امارتِ شرعیہ کی مجلسِ عاملہ میں کیا۔ یہ مجلس 3/ستمبر 2026ء کو حضرت امیرِ شریعت کی صدارت میں زوم ایپ ،،(ZOOM) پر منعقد ہوئی، جس میں آن لائن اور آف لائن اراکینِ عاملہ نے شرکت کی اور فیصلہ کیا کہ مدارس و مکاتب کی قانونی دشواریوں کو حل کرنے کے لیے لائحہ عمل مرتب کیا جائے اور وہ تمام مدارس کو فراہم کر دیا جائے،حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی (نائب امیرِ شریعت بہار، اڈیشہ ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال)نے کہاکہ مدارس کے تعلق سے پورے ملک میں تشویش و بے چینی پھیلی ہوئی ہے،امارتِ شرعیہ ہر مشکل وقت میں امت کی رہنمائی کرتی رہی ہے، اگر اس موضوع پر مدارس کے ذمہ داروں کا اجتماع طلب کر کے ان کی رہنمائی کی جائے تو بہتر رہے گا۔
مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی (ناظم امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال ) نے اراکین کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ حضرات نے اپنی مصروفیات سے وقت فارغ کر کے میٹنگ میں شرکت کو ترجیح دی، اس سے آپ کی ملی ہمدردی کا اندازہ ہوتا ہے،ان شاء اللہ، آپ کی قیمتی آراء سے روشنی ملے گی، انہوں نےمدارس کے نظام تعلیم وتربیت بہتر بنانے پرزور دیا اور حساب وکتاب آڈٹ کرانے کی بات کہی ،مولانا مفتی محمد انظار عالم قاسمی (صدر قاضی شریعت مرکزی دارالقضا امارت شرعیہ ) نے کہاکہ اگر مدارس کا تعلیمی معیار بلند ہو اور اس کے کاغذات درست ہوں تو نقطہ چینیوں کی زبانیں خود بخود بند ہو جائیں گی، مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی (نائب ناظم امارت شرعیہ )نے کہا کہ مدارس کے ساتھ دو طرح کی دشواریاں ہیں: ایک داخلی اور دوسری خارجی۔ ہم سب کو ان دونوں محاذوں پر کام کرنا ہوگا،مولانا مفتی محمد سہراب ندوی (نائب ناظم امارت شرعیہ ) نے کہامدارس کا رجسٹریشن کرانے اور قانونی چارہ جوئی کے لیے لیگل کمیٹی تشکیل دینے پر زور دیا۔
مولانا جمیل احمد رحمانی (استاذِ حدیث و فقہ، جامعہ رحمانی مونگیر) نے کہا سیمانچل کے علاقوں میں جو مدارس قائم ہیں، وہاں کے ذمہ دارانِ مدارس زیادہ پریشان ہیں۔ اس علاقے کے اہل ترین لوگوں سے ملاقات کر کے انہیں صحیح رہنمائی فراہم کرنے کی سخت ضرورت ہے ۔
حاجی محمد عارف رحمانی (ناظم جامعہ رحمانی مونگیر)نے کہاسرحدی علاقوں میں قائم مدارس کے منتظمین کی خصوصی میٹنگ طلب کی جائے اوران کے مسائل کو حل کرنے کے لیے حکمتِ عملی بنائی جائے،جناب ذاکر بلیغ ایڈوکیٹ نےکہا چمپارن کے علاقوں کے مدارس میں پیش آنے والی دشواریوں کا تذکرہ کیا کہ سرکاری جانچ کمیٹی مدرسوں کے ذمہ داروں سے لین دین کا معاملہ کرتی ہے، تاہم ہم لوگوں کی جدوجہد سے اس پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے،مولانا ظفر عالم (اڈیشہ)نے کہاکہ ہر مسلم آبادی کے چھوٹے مدارس کو کسی بڑے معیاری مدرسے سے جوڑا جائے اور اس کو مرکزیت کا درجہ دے کر دونوں کو قوت بخشی جائے۔
،اور مولانا مفتی احتکام الحق قاسمی (قائم مقام مفتی دارالافتاء، امارتِ شرعیہ)مولانا مفتی انور قاسمی (قاضی شریعت دارالقضا، رانچی)، جناب عطا اللہ صدیقی (جھارکھنڈ)، جناب ایس ایم شرف، جناب جاوید اقبال ایڈوکیٹ، مولانا صبغت اللہ رحمانی (کٹک)نے مدارس کے معیارِ تعلیم کو بلند کرنے اور سرکاری شرائط کے مطابق کاغذات کو درست رکھنے پر توجہ دلائی۔
مجلسِ عاملہ کی نشست میں امیرشریعت اور ناظم امارتِ شرعیہ کی ہدایت پر جھارکھنڈ میں چلائی گئی ووٹر بیداری تحریک کی ستائش کی گئی،مولانا قیام الدین قاسمی نے تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا کہ جھارکھنڈ کے ۲۴ اضلاع کے ۵۶ مقامات پر اجتماعات ہوئے، اور علماء، سماجی ذمہ داروں و نوجوانوں پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، آسام اور اڈیشہ کے حالیہ تباہ کن سیلاب میں امارتِ شرعیہ نے جنگی پیمانے پر راحت رسانی اور بحالی کا کام کیا، آسام کی امدادی ٹیم کی قیادت مولانا احمد حسین مدنی قاسمی، اور اڈیشہ ٹیم کی قیادت مولانا عبداللہ انس قاسمی نے کی،ان دونوں ٹیموں میں امارت شرعیہ کے کارکنا ن،مبلغین اور جامعہ رحمانی مونگیر کے اساتذہ کرام وفضلاءشامل تھے ، امارتِ شرعیہ نے سینکڑوں خاندانوں کے درمیان خوراک، بستر، کچن سیٹ اور مکانات کی تعمیر کا سامان تقسیم کیا، مجلسِ عاملہ کی کارروائی کا آغاز مولانا احمدحسین مدنی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا،مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ نے تجویز تعزیت پیش کی، جبکہ مولانا مفتی محمد سہراب ندوی نے اجلاس کی کارروائی بحسن و خوبی چلائی،اجلاس میں جناب حافظ محمداحتشام رحمانی صاحب ، جناب مولانا رضوان احمد ندوی معاون ناظم امارت شرعیہ بھی شریک رہے ،آخر میں یہ اجلاس حضرت امیرِ شریعت مدظلہ کی دعا پر اختتام پذیرہوئی ۔
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
