Connect with us

uttar pradesh

بچوں کی تعلیم اور تربیت میں اردو اور اردو کے اخبار کا اہم کردار :پروفیسر صغیر افراہیم

Published

on

میرٹھ:بچہ اگر گھر کے ماحول میں ہے تو اس کے ماحول کو خوشگوار کرنے میں اردو کا اہم رول ہے۔ گھر کا ماحول اگراردو کا بن جائے تو یہ ایک تہذیب کو بڑھاوادینا ہوگا۔ اردو کا اخبار منگانا بھی ضروری ہے۔ بچوں کی تعلیم اور تربیت میں اردو اور اردو کے اخبار کا اہم کردار ہوتا ہے۔ والدین بھی اردو کے لیے مایوس نہیں ہو تے۔ وہ بھی اسکول کے پرنسپل سے آکر نہیں کہتے کہ ہمارا بچہ اردو میں کمزور کیوں ہے۔ اسکول والوں پر بھی ہم اعتراض نہیں کرسکتے۔ وہ اردو کے لیے جتنا کررہے ہیں ٹھیک ہے۔ کیو نکہ اگر ہم سنجیدہ نہیں ہیں تو اسکول والوں کو بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بچوں کے والدین اردو کے لیے فکر مند نہیں ہوتے۔ ہمارے بچے مسجد میں قرآن کا ترجمہ، انگریزی میں پڑھتے ہیں مگر اردو میں انہیں دلچسپی نہیں ہے۔ ہمیں قوم کے درد کو محسوس کرنا ہوگا۔ ملک کی آزادی سے قبل بے شمار اردو میڈیم اسکول تھے مگر اب غا ئب ہیں۔یہ الفاظ تھے معروف ادیب و ناقد پروفیسر صغیر افراہیم کے جو شعبہئ اردو اور ایوسا کے اشتراک سے منعقد پروگرام بعنوان”اردو کی پرائمری تعلیم: صورت حال اور امکانات“ میں اپنی صدارتی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغاز سعید احمد سہارنپوری نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔پروگرام کی سرپرستی معروف ناقد و افسانہ نگار اور صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی اور صدارت کے فرائض معروف ادیب وناقدپروفیسر صغیر افراہیم نے انجام دیے۔ مہمان خصوصی کے بطور محمد طیب] پرنسپل جے ایس جونئر ہائی اسکول، غازی پور[اورمہمان اعزازی کے بطورمرزا منہاج الدین، وسیم احمد، محمد عمران اور جاوید علی ]اسسٹنٹ ٹیچر[نے شر کت فرمائی۔ مقرر کے بطور ایو ساکی صدر پروفیسر ریشما پروین بھی موجود رہیں۔استقبالیہ کلمات سیدہ مریم الٰہی، نظامت عرفان عارف]جموں [ اور شکریے کی رسم ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے ادا کی۔
ایو ساکے سیکریٹری ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے کہا کہ اردو کی پرائمری تعلیم آج کا ایک اہم موضوع ہے جو عصر حاضر میں،مدرسوں، اسکولوں اور زبان کی ترقی سے جڑا ہوا ہے۔پرا ئمری سطح پر اردو تعلیم کے سامنے آج بہت سے مسائل اور میلانات ہیں۔ان مسائل کے ساتھ بہت سی تبدیلیاں بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں۔بہت سے مسائل جیسے اردو اساتذہ کی کمی، جدید اردو کی پرائمری کتب کا نہ ہونا، روزگار سے اردو کا جُڑا نہ ہونا وغیرہ ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ کچھ سہولیات بھی ہیں مثلاً خوبصورت ڈیزائن اور تصاویر کے ساتھ اردو کی پرائمری کتب منظر عام پر آ رہی ہے۔ ذاتی مدارس اور اسکولوں میں دینی تعلیم اور اردو زبان کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری نے موضوع کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ آج کے پروگرام کا موضوع بڑا اہم اور منفرد ہے۔ تعلیم کا بنیادی کام پرا ئمری کے اساتذہ کرتے ہیں۔ میری خود کی ابتدا پرائمری اسکول سے ہوئی۔ میں نے پرائمری ادارہ میں 150 روپے کی تنخواہ پر خود کام کیا ہے۔ ہم اعلیٰ تعلیم والوں کا پرائمری تعلیم والوں سے کوئی رابطہ نہیں ہے جو ایک بڑی کمی ہے۔ اردو کے درخت کی جڑے سینچنا ہوں تو پرائمری تعلیم پر زور دینا ہوگا۔ آج بہت سے مسائل ہیں جو اردو کے فروغ میں رکا وٹ بنے ہوئے ہیں۔ آج کل اردو میں اعلیٰ تعلیم والے کم ہیں۔ اردو زبان کا مقصد دلوں کو ملانا ہے۔ دیگر زبانوں کی طرح اردو بھی روز گار دیتی ہے۔سر کاری اورپرائیویٹ اسکولوں میں اردو کی بقا کے لیے ہم سب کو غور کرنا چاہئے۔
اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے محمد طیب نے کہا کہ اردو کی کمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اردو کا استاد ہونے کے باوجود اردو کا اخبار تک نہیں منگاتے اور نہ ہی اردو کی نشست و دیگر پروگراموں کا انعقاد کرتے ہیں۔ میں ایسے اردو اساتذہ سے درخوا ست کرتا ہوں جو اردو کی روزی روٹی سے جڑے ہوئے ہیں انہیں اردو سکھانا، پڑھا نا اور اردو کے فروغ کے لیے کام کرنا چاہئے۔وسیم احمد نے کہا کہ جو ہمارا نصاب ہے اس میں اردو کو خاص طور سے شامل کر کے اردو پڑھوانے کی کوشش کریں۔ ہماری درسی کتابیں آسانی سے مہیا نہیں ہوتیں۔اردو کو گھر گھر تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم اردو کی جگہ دوسری زبانیں پڑھاتے ہیں یا دوسرے کام کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں اردو نصاب کی بھی کمی ہے جس کو پورا کرنا ضروری ہے۔
مرزا منہاج الدین نے کہا کہ آج اردو کے بہت سے اساتذہ کی بھی اردو کمزور ہے۔ہم اردو کے نام پر نوکری کرتے ہیں لیکن ہم سے دوسرے کام لیے جاتے ہیں اور اردو ٹیچرس کا رجحان بھی اردو ٹیچنگ میں نہیں ہے اور نا ہی وہ قوم کے بچوں کے لیے فکر مند ہیں۔ اسکول کے ذمہ داروں کو بھی اردو کی پرائمری تعلیم سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ اس لیے اردو کے طلبہ آگے چل کر اردو مضمون چھوڑ دیتے ہیں اور دوسرے مضا مین کو فوقیت دینے لگتے ہیں۔ہمیں اس مرحلے پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنا ہوگا۔
پروفیسر ریشما پروین نے کہا کہ لکھنؤ کے بہت سے لوگ دوسرے ممالک میں ہیں جو اردو کی پرائمری تعلیم پر زور دے رہے ہیں اور اپنی زبان کو مضبوط کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ہم میں سے کچھ لوگ ابھی بھی ہیں جو اردو کے لیے خاصی قربانی دے سکتے ہیں۔ ہمارے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اردو کا فروغ کیسے ہو۔لکھنؤ میں اردو کے بہت سے پروگرام ہو تے رہتے ہیں اور اردو کے اساتذہ کی تنخواہ بھی خود دیتے ہیں۔پروگرام میں معروف شاعر سید بایاب الدین نایاب نے یوم اساتذہ کے تعلق سے ایک خو بصورت نظم پیش کی۔پروگرام سے ڈاکٹر ارشد اکرام،سعودی عرب،ڈاکٹر وصی اعظم انصاری، ڈاکٹرآصف علی، ڈاکٹرشاداب علیم ڈاکٹر الکا وششٹھ،محمد شمشاد اور دیگر طلبہ و طالبات جڑے رہے۔

uttar pradesh

ہاشمی کالج آف لاء، امروہہ میں طلبہ کے لیے الوداعی تقریب کا اہتمام، طلبہ و طالبات نے اپنی رنگا رنگ ثقافتی اور ادبی پرکارکردگی سے جیت لئے عوام کے دل

Published

on

(پی این این)
امروہہ:حکیم مہتاب الدین ہاشمی کالج آف لاء، امروہہ میں ایل ایل بی اور بی اے ایل ایل بی کے آخری سال کے طلبہ کے لیے ایک الوداعی پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔ طلباء نے اپنی رنگا رنگ ثقافتی اور ادبی پرفارمنس سے سب کے دل موہ لیے۔ الوداعی تقریب نے جہاں اپنے ہم جماعتوں اور اساتذہ سے جذباتی جدائی کا اظہار کیا، وہیں ان کے چہروں سے مستقبل میں نئی راہوں پر آگے بڑھنےکا جوش بھی جھلک رہا تھا۔
تقریب کے مہمان خصوصی کپل کمار چکارا ایڈوکیٹ صدر بار ایسوسی ایشن امروہہ تھے جبکہ ارشد بھارتی ایڈوکیٹ سیکرٹری بار ایسوسی ایشن امروہہ نے بطور مہمان زی وقار شرکت کی۔ سراج الدین ہاشمی، منیجر، ہاشمی لاء کالج، امروہہ، اور برہان الدین ہاشمی، منیجنگ ڈائریکٹر، ہاشمی لاء کالج، امروہہ بھی موجود تھے طالب علم معصوم سیفی نے خوبصورت نظم پیش کی جبکہ لوینہ نے شاعری کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ زویا کی غزل کو بھی سامعین نے خوب پسند کیا اور ان کی شاندار پرفارمنس نے پروگرام کی رونق میں اضافہ کیا۔ طلباء کی پرفارمنس کو آڈیٹوریم میں موجود اساتذہ، مہمانوں اور ساتھی طلباء نے خوب سراہا۔
الوداعی تقریب میں طلبہ نے ’’یادوں کے دریچے سے‘‘ کے موضوع پر جذباتی تقریر کی۔ اس نے اپنے کالج کے سالوں کی یادیں، اپنے اساتذہ کی رہنمائی، اور اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ گزارے لمحات شیئر کیے۔ اس کی جذباتی کارکردگی نے ایک گہرا جذباتی ماحول لایا، اور بہت سے طلباء اپنے کالج کے دنوں کی یادوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مہمان ذی وقارارشد بھارتی ایڈوکیٹ سکریٹری،ضلع بار ایسوسی ایشن، امروہہ نے آخری سال کے طلباء کے روشن مستقبل کی خواہش کی۔ انہوں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ مسلسل محنت، لگن اور ایمانداری کے ساتھ اپنے کیریئر کو آگے بڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کا شعبہ ذمہ داری اورسماجی خدمت سےوابستہ ہےاس لیے طلباء اپنے علم اور ہنر کو معاشرے اور نظام عدل کو مضبوط بنانےکےلیےاستعمال کریں۔
مہمان خصوصی کپل کمار چکارا ایڈوکیٹ صدر ضلع بار ایسوسی ایشن امروہہ نے بھی طلباء سے خطاب کیا اور ان کے روشن مستقبل کی خواہش کی۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد طلباء کے پاس بہت سے مواقع ہوتے ہیں لیکن کامیابی کے لیے مسلسل مطالعہ،محنت، نظم و ضبط اور اپنےمقاصدکےلیےلگن کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نےطلباء کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں ایمانداری اور محنت کو ترجیح دیں۔
ہاشمی لاء کالج امروہہ کے منیجر ڈاکٹر سراج الدین ہاشمی نے پروگرام کے کامیاب انعقاد پر تمام مہمانوں، اساتذہ اور طلباء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خصوصی طور پر مہمان خصوصی کپل کمار چکارا ایڈوکیٹ اور مہمان ذی وقار ارشد بھارتی ایڈوکیٹ کا شکریہ ادا کیا اور طلباء کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ کالج کے لیے فخر کی بات ہے کہ یہاں پر تعلیم حاصل کرنے والے طلباء قانون کے میدان میں بہترین کارکردگی دکھانے کی تیاری کر رہے ہیں مجھےامید ہےکہ یہ طلبا ہمیشہ حق اورانصاف کےلیےکوشاں رہکرہمیں بھی سرخرو کریں گیں انہوں نےطلباء کواس بات کی ترغیب دی کہ وہ اپنےاساتذہ سےسیکھےگئےعلم اوراقدارکواپنائیں اوراپنےادارےکی شان میں اضافہ کریں۔
الوداعی پارٹی کے دوران آخری سال کے طلباء نے اپنے تجربات اور کالج میں اپنے وقت کی یادیں شیئر کیں۔ بہت سے طلباء نے کہا کہ کالج میں ان کا وقت ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ رہے گا۔ ان کے اساتذہ کی رہنمائی، دوستوں کے ساتھ گزارے گئے لمحات اور مختلف علمی و ثقافتی سرگرمیوں کی یادیں ہمیشہ ان کےساتھ رہیں گی۔تقریب میں طلباء کی پیشکش اور جذباتی تقاریرنےواضح کیا کہ یہ تقریب محض الوداعی نہیں بلکہ طلباء کے لیے ایک نئی زندگی اور پیشہ ورانہ سفر کے آغاز کی علامت بھی ہے۔کالج کی فیکلٹی اور سٹاف نے تقریب کے انعقاد میں نمایاں کردار ادا کیا۔ برہان چڈھا اور نبیہہ نے تقریب کی نظامت کی۔ دانش، زید، واریشہ، ہرشیتا، بلوا اور منتاشا نے بھی ایونٹ کی کامیابی میں اہم کردارادا کیا۔ کالج کے استاد شہزاد صدیقی نے اس پورے پروگرام کےلیےسرپرست کے طور پر خدمات انجام دیں اوراس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا برہان الدین ہاشمی، منیجنگ ڈائریکٹر،ہاشمی لاء کالج، امروہہ نے سبھی کا شکریہ ادا کیا اس موقع پرکالج کی پرنسپل ڈاکٹررانا پروین،اساتذہ ڈاکٹرمحمد طارق، محمد افتخار علی، ڈاکٹر محمد ہارون، فرحت منصوری اورڈاکٹرمحمد طارق خان سمیت کالج کےدیگراساتذہ اورعملہ موجود رہا ۔

 

Continue Reading

uttar pradesh

کسانوں، نوجوانوں اور گنے کے مسائل پرجینت چودھری نے اپوزیشن کو گھیرا

Published

on

(پی این این)
دیوبند:راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کی جانب سے جمعرات کو رام پور منیہاران علاقے میں واقع گوچر کرشی انٹر کالج کے میدان میں ’سوامیمان ریلی‘ کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی میں پارٹی کے قومی صدر اور مرکزی وزیر جینت چودھری اپنی اہلیہ چارو چودھری اور بیٹی سائرہ کے ہمراہ پہنچے۔ ان کے پہنچتے ہی کارکنوں میں زبردست جوش و خروش دیکھنے کو ملا اور حامیوں نے نعرے لگا کر ان کا پْرجوش استقبال کیا۔
ریلی کے مقام پر تقریباً 7 سے 8 ہزار افراد کی بھیڑ موجود رہی، جبکہ آس پاس کے اضلاع سے بھی کارکنوں اور حامیوں کے پہنچنے کا سلسلہ جاری رہا۔ شدید گرمی اور تیز دھوپ کے پیش نظر منتظمین کی جانب سے رالی کے مقام پر بڑا پنڈال لگایا گیا تھا، جسے مکمل طور پر ڈھانپ دیا گیا تھا۔ گرمی سے راحت کے لیے پنڈال میں مسٹ فین بھی لگائے گئے تھے۔اپنے خطاب میں جینت چودھری نے نوجوانوں، کسانوں اور گنے سے متعلق مختلف مسائل پر تفصیلی گفتگو کی اور اپوزیشن کو بھی کئی معاملات پر نشانہ بنایا۔ انہوں نے نوجوانوں سے مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کسی کو اپنا دشمن نہیں بنانا چاہیے۔جینت چودھری نے ہریانہ کے سابق فوجی اور شوریہ چکر یافتہ جے سنگھ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی کا اصول تھا کہ ان کے قول، عمل یا کسی بھی کام سے کسی کو تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران پاکستان کے کئی ٹینک تباہ کرنے والے اس بہادر فوجی کی یہ سوچ انہیں بہت متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ان کی زندگی سے مثبت سوچ اور دوسروں کے احترام کا سبق حاصل کریں۔جینت چودھری نے کہا کہ اگر آنے والی نسل کے نوجوانوں کو زراعت میں خاطر خواہ ترقی کے امکانات نظر نہیں آتے تو ان میں اسٹارٹ اپ شروع کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔ نوجوانوں کے ہاتھ میں ہنر اور اچھی تعلیم ہونا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر کی حیثیت سے ان کی کوشش ہے کہ نوجوانوں کے لیے روزگار اور ترقی کے نئے راستے کھولے جائیں۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے نوجوانوں کو زراعت کے ساتھ نئے شعبوں سے جوڑنا ہوگا۔ جینت چودھری کے مطابق گزشتہ سال ملک میں ڈی پی آئی ٹی کے تحت رجسٹرڈ تقریباً 55 ہزار نئے اسٹارٹ اپ شروع ہوئے۔
انہوں نے ریلی میں موجود کاروباری افراد اور صنعت کاروں کو پلیٹ فارم فراہم کرنے کی کوشش کا بھی ذکر کیا۔گنے کے مسئلے پر اپوزیشن کو گھیرتے ہوئے جینت چودھری نے کہا کہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے کئی مرتبہ ایسی باتیں کہی جاتی ہیں جن سے اضافی ووٹ حاصل کیے جاسکیں، لیکن گنے کے مسئلے پر بات کرنے کے لیے اپوزیشن تیار نہیں ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ شاید انہیں اب بھی رس گلا نظر آرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر اپوزیشن کو خط لکھیں گے اور اگر اتفاقِ رائے پیدا ہوا تو لکھنؤ میں رس گلے کا پیکٹ بھی بھیجیں گے۔ جینت چودھری نے واضح کیا کہ پیداوار کرنے والے کسان کے مفادات کی قیمت پر صارف کو بہانہ نہیں بنایا جاسکتا۔
کسانوں کے مفادات کو محفوظ رکھتے ہوئے ایک متوازن پالیسی بنانا ضروری ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا ذکر کرتے ہوئے جینت چودھری نے کہا کہ یوگی آدتیہ ناتھ نظام کے خلاف کھڑے ہونے والوں کے لیے سخت ہیں، لیکن کسانوں کے لیے ان کا دل نرم ہے۔ جینت چودھری کے سہارنپور دورے اور سوامی مان ریلی میں بڑی تعداد میں کارکنوں کی شرکت کو مغربی اترپردیش میں آر ایل ڈی کی سیاسی سرگرمیوں کے اعتبار سے اہم قرار دیا جارہا ہے۔ ریلی میں کسانوں، نوجوانوں اور زرعی مسائل کے ساتھ ساتھ روزگار، صنعت اور کھیل سے متعلق امکانات کو بھی سیاسی ایجنڈے کا حصہ بنایا گیا۔

Continue Reading

uttar pradesh

یونیورسٹی میں داخلہ شخصیت سازی اور فکری بالیدگی کے نئے سفر کا آغاز

Published

on

لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں آج نو وارد طلبہ کے لیے ایک جامع اور بامقصد اورینٹیشن پروگرام کا اہتمام کیا گیا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد طلبہ کو نہ صرف شعبے کی علمی فضا اور تحقیقی روایت سے واقف کرانا تھا بلکہ انھیں تعلیم کے عملی تقاضوں، شعبہ جاتی سرگرمیوں، اور مستقبل کے امکانات سے روشناس کرانا بھی تھا تاکہ وہ اعلیٰ تعلیم کے سفر کا آغاز اعتماد، شعور اور واضح رہنمائی کے ساتھ کر سکیں۔اس اورینٹیشن پروگرام میں ریسرچ اسکالر راشدہ خاتون نے تمام نووارد طلبہ کا گرم جوشی خیر مقدم کرتے ہوئے شعبے کے تعلیمی اور ادبی ماحول سے روشناس کرایا۔
اس پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے شعبۂ اردو کے صدر پروفیسر ثوبان سعید نے نووارد طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں داخلہ محض ایک نئے تعلیمی مرحلے کا آغاز نہیں بلکہ شخصیت سازی، علمی وسعت اور فکری بالیدگی کے ایک نئے سفر کی ابتدا ہے۔
انھوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم کو صرف نصابی کتابوں اور امتحانات تک محدود نہ رکھیں بلکہ مطالعہ، تحقیق، تخلیقی اظہار اور علمی سرگرمیوں کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ انھوں نے کہا کہ شعبۂ اردو طلبہ کو زبان و ادب کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تنقیدی شعور، تحقیقی مزاج اور تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔
پروفیسر ثوبان سعید نے نووارد طلبہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ شعبۂ اردو میں ان کے لیے ایک ایسا تعلیمی ماحول فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی جہاں وہ اپنی علمی، تحقیقی، ادبی اور تخلیقی صلاحیتوں کو آزادانہ طور پر پروان چڑھا سکیں۔ انھوں نے طلبہ کو یقین دلایا کہ شعبہ ان کی تعلیمی رہنمائی، تحقیقی تربیت اور مستقبل کے تعلیمی و پیشہ ورانہ امکانات کے سلسلے میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔
پروگرام کے دوران نووارد طلبہ کو شعبۂ اردو کے تعلیمی پروگراموں، نصاب، تدریسی طریقۂ کار، امتحانی نظام، حاضری، داخلی تشخیص، تحقیقی سرگرمیوں، کتب خانے اور دیگر تعلیمی سہولیات کے بارے میں بھی تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔ طلبہ کو یونیورسٹی کی مختلف کمیٹیوں، ادبی و ثقافتی سرگرمیوں، این ایس ایس، کھیلوں اور دیگر ہم نصابی پروگراموں میں شرکت کی اہمیت سے بھی آگاہ کیا گیا۔
اس اورینٹیش پروگرام میں ڈاکٹر محمد اکمل نے کہا کہ اردو زبان و ادب ہماری تہذیبی اور ثقافتی شناخت کا اہم حصہ ہے اور اس کے مطالعے کے ذریعے طلبہ نہ صرف ادبی روایت سے واقف ہوتے ہیں بلکہ معاشرے، تاریخ، تہذیب اور انسانی اقدار کو سمجھنے کی صلاحیت بھی حاصل کرتے ہیں۔ڈاکٹر محمد اعظم انصاری نے نووارد طلبہ کو شعبے کی مختلف علمی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں میں فعال طور پر حصہ لینے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ سیمینار، مذاکرے، ادبی نشستیں، مشاعرے، تقریری و تحریری مقابلے، مضمون نویسی، بیت بازی، ڈراما، ثقافتی پروگرام اور دیگر ہم نصابی سرگرمیاں طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔اس موقع پر ڈاکٹر منور حسین یونیورسٹی کی وسیع تر علمی و ثقافتی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لینگویج یونیورسٹی طلبہ کو مختلف شعبہ ہائے علم کے ساتھ بین الشعبہ جاتی اور ثقافتی سرگرمیوں میں شرکت کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے قومی و بین الاقوامی سیمینار، ورکشاپس، کانفرنسیں، ادبی و ثقافتی پروگرام، کھیلوں کی سرگرمیاں، این ایس ایس کے تحت سماجی و فلاحی مہمات، قومی و بین الاقوامی دنوں کی مناسبت سے منعقد ہونے والے پروگرام اور مختلف تخلیقی و علمی مقابلے طلبہ کی ہمہ جہت شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر موسی رضا نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ اساتذہ سے مسلسل علمی رابطہ رکھیں، کتب خانہ اور دیگر علمی وسائل سے بھرپور استفادہ کریں اور اپنی دلچسپی کے میدان میں باقاعدہ مطالعہ اور تحقیق کی عادت پیدا کریں۔اس موقع پرڈاکٹر سدھارت سدیپ اور ڈاکٹر عبدالرحمٰن نے بھی اظہار خیال کیااور ساتھ شعبۂ کمپیوٹر سائنس کے ڈاکٹر رضا عباس حیدری نے اپار آئی ڈی اور دوسرے ٹیکنیکل معلومات فراہم کی۔اس پروگرام کے آخر میں نووارد طلبہ نے مختصر طور پر اپنا تعارف پیش کیا۔اس پروگرام کی نظامت ریسرچ اسکالر حسن اکبراور شکریے کے کلمات ریسرچ اسکالر طاہرہ خاتون نے انجام دیا۔اس پروگرام میںڈاکٹر عارف عباس،ڈاکٹر ظفرالنقی اور ڈاکٹر عبد الحفیظکے علاوہ طلبہ بھی کثیر تعداد میں موجود تھے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network