تازہ ترین
چھوٹی صنعتوںکو فروغ دینے کیلئے حکومت کی نئی پالیسی،بہار کے اگلے بجٹ میں سرمایہ کاری پر ہوگی دولت کی بارش، نتیش کمار کی تشکیل کردہ کمیٹی نے سمراٹ حکومت کوسونپی رپورٹمدارس کی تعلیمی صورتحال اور ملحقہ کنونشن کیلئے میٹنگ منعقد، مدرسہ ایجوکیشن بورڈکا قیام اور ملحقہ مدارس، مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کی مرہون منتافسران سے ملی بھگت کے ذریعہ فرضی رجسٹری کراکر زمین پر قبضہ کر رہے ہیں ’زمین مافیا‘چھپرا : 6 ماہ پرانے تنازع پر ہوا خونی تصادم، چاقو زنی سے 3 افراد ہلاکیوپی میںچیف الیکشن کمشنر کے خلاف ایس پی کا احتجاج،غازی آباد،میرٹھ،رائے بریلی، باغپت اور مظفر نگرمیں سڑکوں پر اترےسماجوادی پارٹی کے کارکنان ،نکالاپیدل مارچ،ای سی آئی کا پتلا نذر آتشپارٹی کی توقعات پوری کرنے کی کروں گاکوشش ،صوبہ کا ر گزار صد منتخب ہونے کے بعد عمران مسعود کی میڈیا سے گفتگوجمعیۃ علماء کی میٹنگ میں اصلاح معاشرہ، مردم شماری اور ہندو- مسلم اتحاد کی حکمت عملی طےرام لیلا بھگوان شری رام کی اقدار کی زندہ روایت :ریکھا
uttar pradesh

دیوبند: بجلی کٹوتی سے ناراض گائوں والوں نے10 گھنٹے تک رکھا سڑک کو جام

Oplus_131072

(پی این این)
دیوبند:غیر اعلانیہ بجلی کٹوتی سے ناراض بھائیلہ گائوں کے باشندوں نے دیوبند ،نانوتہ روڑ پر احتجاج کرتے ہوئے 10؍ گھنٹے تک جام لگائے رکھا ۔جام لگنے کی وجہ سے سڑک کے دونوں جانب گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں اور راہگیروں کو بہت زیادہ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ۔افسران یقین دہانی کے بعد احتجاج کرنے والوں نے جام کھولا ۔
تفصیل کے مطابق گزشتہ رات تقریباً 10؍ بجے سابق وزیر مملکت آنجہانی راجندر رانا کے بیٹے اور سماجوادی پارٹی کے لیڈر کارتک رانا کی قیادت میں بڑی تعداد میں بھائیلہ گائوں کے باشندے سڑکوں پر اترآئے اور انہوں نے بجلی سپلائی کے نظام کو درست کئے جانے کے مطالبہ کو لے کر احتجاج کرتے ہوئے زبردست نعرے بازی شروع کردی اور سڑک پر جام لگادیا ۔احتجاج کرنے والے گائوں کے باشندوں کا کہنا تھا کہ مسلسل ہونے والی غیر اعلانیہ بجلی کٹوٹی سے گائوں میں رہنے والے لوگوں کی روز مرہ کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے کیونکہ شدید گرمی کے درمیان گھنٹوں تک بجلی غائب رہنے سے گائوں کے لوگوں میں پاور کارپوریشن اور حکومت کے خلاف سخت ناراضگی پیدا ہوگئی ہے ۔
جام لگائے جانے کی اطلاع ملتے ہی دیوبند کے سی او امت کمار اور کوتوالی انچارج کپل دیو پولیس فورس کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے ان افسران نے جام لگانے والے اور احتجاج کرنے والے گائوں کے باشندوں کو سمجھا بجھاکر جام کھلوانے کی کوشش کی لیکن گائوں کے باشندے اپنے مطالبات پر بضد رہے ۔
دیر رات تک افسران اور احتجاج کرنے والوں کے درمیان بات چیت چلتی رہی لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا ۔سنیچر کے روز صبح کے وقت بھی گائوں کے باشندے بڑی تعداد میں سڑکوں پر جام لگا کر بیٹھے رہے ۔تقریباً 7؍ بجے دیوبند کے سی او امت کمار دوبارہ موقع پر پہنچے اور جام لگانے والے بھائیلہ گائوں کے باشندوں سے انہوں نے بات چیت کی ۔اسی دوران سماجوادی پارٹی کے لیڈر کارتک رانا اور پولیس افسران کے بیچ کا فی تلخ کلامی اور نوک جھونک بھی ہوئی ۔
کارتک رانا نے کہا کہ عوام کی آواز کو دبانے کے بجائے ان کے مسائل کو حل کیا جانا چاہئے ۔تقریباً 10؍ گھنٹوں تک چلنے والے اس ہائی وولٹیج ڈرامہ کے بعد صبح کو تقریباً9؍بجے افسران اور گائوں کے باشندوں کے درمیان جام کھولنے پر اتفاق ہوگیا ۔احتجاج کرنے والوں نے ایکس ،ای ،این انکت وششٹھ کو مطالبات پر مبنی ایک میمورنڈم بھی دیا اور ان کی جانب سے یقین دہانی کرائے جانے کے بعد جام کھول دیا گیا جس کے بعد سڑک پر آمد ورفت شروع ہوگئی ۔

 

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔