Connect with us

بہار

5 روزہ اسپورٹس فیسٹیول کا گوئنکا کالج میں ہ انعقادافتتاح

Published

on

(پی این این)
سیتامڑھی :شری رادھا کرشنا گوئنکا کالج کی 75 ویں سالگرہ کے موقعے پر اسپورٹس فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا جو کہ سیتامڑھی ضلع کے سب سے باوقار اور قدیم کالج ہے۔ تقریب کا افتتاح بہار حکومت کے آرٹ، کلچر اور یوتھ ڈپارٹمنٹ کے وزیر موتی لال پرساد، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ رچی پانڈے، ایم ایل سی ریکھا کماری، یونیورسٹی کے کھیل سکریٹری کانتیش کمار نے کرکٹ کھیل کر پروگرام کا باضابطہ طور پر افتتاح کیا۔ شروع ہونے سے قبل مہمانوں کا گلدستے اور شال پیش کر کے استقبال کیا گیا۔
پروگرام کی صدارت پرنسپل ڈاکٹر ٹی پی سنگھ نے کی، جس کی قیادت محمد ثناء اللہ نے کی اور نظامت اسپورٹس سکریٹری آنند بہاری سنگھ نے کیا۔ اس دوران مہمانوں کا خیرمقدم گیت، مشہور جھجھیا رقص اور گنیش اتسو کے رقص سے کیا گیا۔ تمام مہمانوں کا استقبال این سی سی کیڈٹس نے ڈھول بجا کر کیا۔ وزیر موتی لال پرساد نے کہا کہ کھیل سب سے اہم چیز ہے، جسمانی، ذہنی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے کھیل ضروری ہیں۔ قانون ساز کونسلر ریکھا کماری نے کہا کہ کھیل ہر قسم کی ترقی کا باعث بنتے ہیں اور کالج فیملی کی جانب سے اس طرح کے عظیم الشان انعقاد قابل ستائش ہے۔ اس دوران انہوں نے اعلان کیا کہ کالج کے مین گیٹ کی وہ تزئین و آرائش کریں گی۔
ضلع مجسٹریٹ رچی پانڈے نے کہا کہ آج کل نوجوان گمراہ ہو رہے ہیں، انہیں اپنے وقت کی اہمیت پر توجہ دینی چاہیے اور پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیلوں میں بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر کے اپنا مستقبل سنوار سکتے ہیں۔ انہوں نے عام لوگوں سے کہا کہ وہ سوشل میڈیا کا کم استعمال کریں اور پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیل کو بھی اپنی زندگی میں شامل کریں۔ ساتھ ہی ضلع مجسٹریٹ نے کالج کیمپس میں انڈور اسٹیڈیم بنانے پر بھی اتفاق کیا۔ پہلے روز کرکٹ مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر راکیش، ڈاکٹر مکیش کمار، ڈاکٹر تلسی، ڈاکٹر پروین سنگھ، ایمپلائز یونین کے سکریٹری سنجے کمار، چنچون سنگھ، دھیرج کمار، سوجیت جھا، رنجیت کمار، دلیپ کمار، سجاد انصاری اور دیگر موجود تھے۔

Bihar

پولیس کی من مانی پرروک لگانا ضروری،ریاست میں امن و قانون کی صورتحال ہوچکی ہے انتہائی بدحال،ایس پی کیخلاف شکایت لے کر ڈی جی پی سے ملے تیجسوی یادو، اے کے-47 سے فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار کے قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے جمعہ کے روز ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) ونئے کمار سے ملاقات کی۔ اس دوران انہوں نے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) سمیت دیگر پولیس افسران کے خلاف شکایت پیش کی۔
تیجسوی یادو نے طلبہ تحریک کے دوران اے کے-47 جیسے مہلک ہتھیاروں سے فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی متعلقہ ضلع کے ایس پی سمیت دیگر افسران کے خلاف بھی کارروائی کرنے کی درخواست کی۔
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے کارگزار صدر تیجسوی یادو نے اس معاملے میں ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) ونئے کمار کو ایک تحریری عرضداشت بھی پیش کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپر لیک کے خلاف طلبہ کے جمہوری احتجاج پر بہار پولیس نے فائرنگ کی اور نہایت بے رحمانہ لاٹھی چارج کیا۔ڈی جی پی ونئے کمار سے ملاقات کے موقع پر تیجسوی یادو کے ہمراہ آر جے ڈی کے سینئر رہنما عبدالباری صدیقی، منگنی لال منڈل، اُدے نارائن چودھری اور قانون ساز کونسل کے رکن (ایم ایل سی) سنیل سنگھ سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
تیجسوی یادو نے خبردار کیا کہ اگر نامزد پولیس اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تو اپوزیشن پورے بہار میں ریاست گیر تحریک شروع کرے گی۔ انہوں نے ریاست میں قانون و نظم کی بحالی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
تیجسوی یادو نے جمعہ کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ ہم نے درج ذیل پانچ مطالبات پر مشتمل ایک یادداشت ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کو پیش کی ہے،جن میںبہار پولیس نے طلبہ پر اے کے-47 سے گولیاں کیوں چلائیں؟بہار پولیس نے بچوں پر ’’شوٹ ٹو کِل‘‘ کی ذہنیت کے ساتھ گولیاں برسائیں، جو نہایت افسوسناک اور جمہوری اقدار کے منافی ہے۔بہار پولیس نے ہجوم پر قابو پانے کے لیے مقررہ گریڈیڈ ریسپانس ایکشن پلان (مرحلہ وار ردِعمل کے ضابطۂ کار) پر عمل کیوں نہیں کیا؟فائرنگ کا حکم دینے والے سینئر پولیس افسران کے خلاف اب تک کوئی ٹھوس کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟طلبہ تحریک کے دوران پولیس کی مبینہ بربریت اور کارروائی کی عدالتی نگرانی میں جانچ کرائی جائے، وغیرہ مطالبات شامل ہیں۔
قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) سے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں امن و قانون کی صورتحال انتہائی ابتر ہو چکی ہے اور پولیس انتظامیہ من مانی پر اتر آیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس کی من مانی پر روک لگائی جائے اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی دوبارہ تکرار روکنے کے لیے ضروری ہدایات جاری کی جائیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ طلبہ تحریک کے دوران بہار بھر میں شدید احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ اس دوران احتجاج کرنے والے طلبہ و طالبات اور پولیس اہلکاروں کے درمیان متعدد مقامات پر جھڑپیں ہوئیں۔ کئی شہروں میں پتھراؤ اور لاٹھی چارج کے واقعات میں مظاہرین طلبہ زخمی ہوئے تھے۔
سیوان میں طلبہ تحریک نے پُرتشدد رخ اختیار کر لیا تھا۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ پولیس نے مظاہرین پر گولیاں چلائیں، جس کے نتیجے میں تین طلبہ زخمی ہو گئے تھے۔ بعد ازاں سیوان کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) پورن کمار جھا نے اے کے-47 سے فائرنگ کرنے والے کانسٹیبل ابھیشیک کمار کو معطل کر دیا تھا۔ ہاتھ میں اے کے-47 تھامے فائرنگ کرتے ایک پولیس اہلکار کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہوئی تھی۔

Continue Reading

Bihar

جمہوری حقوق کا استحصال ناقابل قبول، اساتذہ کی آواز دبانے کی کوشش کی سخت مذمت:بنشی دھربرجواسی

Published

on

(پی این این)
مظفرپور: بہار اسٹیٹ ٹیچرس ایسوسی ایشن، ضلع اکائی مظفرپور، بہار قانون ساز کونسل کے معزز رکن بنشی دھر برجواسی کی جانب سے اساتذہ کے خلاف شکایات درج کرانے اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ایسوسی ایشن کا ماننا ہے کہ کسی بھی استاد کو تعلیمی نظام، اساتذہ کے مفادات یا عوامی مفاد سے متعلق مسائل پر جمہوری اور آئینی طریقے سے اپنی رائے پیش کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ اگر کسی کو کسی استاد کی رائے سے اختلاف ہے تو اس کا جواب حقائق، دلائل اور مکالمے کے ذریعے دیا جانا چاہیے، نہ کہ انتظامی شکایات کے ذریعے انہیں خوف زدہ کرنے یا خاموش کرانے کی کوشش کی جائے۔
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں متعدد اساتذہ نے شکایت کی ہے کہ ان پر مختلف ذرائع سے دباؤ ڈال کر ان کے خلاف انتظامی کارروائی کرانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان تمام شکایات کی غیر جانبدارانہ اور شفاف جانچ ہونی چاہیے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کہیں انتظامی نظام کا استعمال تنقیدی آوازوں کو دبانے کے لیے تو نہیں کیا جا رہا۔بہار اسٹیٹ ٹیچرس ایسوسی ایشن ضلع انتظامیہ اور محکمۂ تعلیم سے مطالبہ کرتی ہے کہ کسی بھی شکایت پر کارروائی سے قبل غیر جانبدارانہ، شفاف اور حقائق پر مبنی جانچ کو یقینی بنایا جائے اور فطری انصاف (Natural Justice) کے اصولوں کی مکمل پاسداری کی جائے۔
ایسوسی ایشن کے میڈیا انچارج وویک کمار نے کہا کہ اگر اساتذہ کی آواز دبانے کا سلسلہ جاری رہا تو تنظیم جلد ہی “پول کھول مہم” شروع کرے گی۔ اس مہم کے ذریعے عام اساتذہ کے سامنے ایسے تمام معاملات کو منظرِ عام پر لایا جائے گا جن میں اساتذہ نے اپنے خلاف غیر ضروری دباؤ، بے بنیاد شکایات یا کارروائی کی کوششوں کا الزام عائد کیا ہے۔ تنظیم نے واضح کیا کہ یہ مہم صرف مصدقہ حقائق اور دستیاب سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر چلائی جائے گی۔بہار اسٹیٹ ٹیچرس ایسوسی ایشن نے دوٹوک انداز میں کہا کہ وہ ہر استاد کے وقار، آزادیٔ اظہار اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ہمیشہ جدوجہد کرتی رہے گی اور ضرورت پڑنے پر جمہوری اور قانونی طریقوں سے وسیع پیمانے پر تحریک بھی چلائے گی۔

Continue Reading

Bihar

جامعہ خلفاء راشدین،پورنیہ میں’’النادی العربی‘‘ کے تعلیمی پروگرام کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
پورنیہ:جامعہ خلفاء راشدین کے زیرِ اہتمام طلباء کی علمی، فکری اور لسانی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے’’النادی العربی‘‘ کا شاندار تعلیمی پروگرام منعقد کیا گیا۔ یہ دو روزہ پروگرام تین مختلف نشستوں پر مشتمل تھا، جس میں جامعہ کے طلباء نے عربی زبان و ادب پر اپنی مضبوط گرفت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فصیح و بلیغ تقاریر اور بہترین مکالمات پیش کر کے حاضرین کو ششدر کر دیا۔
اس باوقار تعلیمی تقریب کی صدارت جامعہ کے مہتمم حضرت مولانا کفیل الدین ندوی نے فرمائی، جبکہ مہمانِ خصوصی کے طور پر معروف علمی و دینی شخصیت حضرت مفتی عمران احمد قاسمی صاحب (سابق شیخ الحدیث پانولی، گجرات) رونقِ اسٹیج رہے۔ طلباء کے مابین منعقدہ تعلیمی مقابلوں میں جانچ اور بہترین پرکھ کے لیے تین معزز منصفین (ججز) کا پینل مقرر تھا، جس میں حکمِ اول کے فرائض مفتی خالد حبیب صاحب ندوی (استاذ جامعہ صدیقیہ ڈگروا)، حکمِ دوم کے فرائض مفتی جاوید اشرف صاحب قاسمی اور حکمِ ثالث کے فرائض مولانا نیاز احمد صاحب ندوی نے انجام دیئے۔ علاوہ ازیں نظامت النادی العربی کے مربی،معروف مقرر اور جامعہ کے ا ستاذ حدیث وفقہ مفتی حسنین اشاعتی نے فرمائی۔
ججز کے اس پینل نے طلباء کے تلفظ، روانی، مواد اور لب و لہجے کا باریک بینی سے جائزہ لے کر نتائج مرتب کیے۔پروگرام کے دوران جامعہ کے مختلف درجات کے طلبا ء نے معاصر اور دینی موضوعات پر عربی زبان میں انتہائی پر اعتماد انداز میں تقاریر کیں۔
اس دو روزہ پروگرام کی مختلف نشستوں میں تعلیمی مقابلوں کے نتائج کے تحت طبقہ سفلی (ابتدائی درجات) میں درجہ اعدادیہ کے محمد شاہجہاں نے اول، محمد فیضان نے دوم، جبکہ تمہید قمر نے سوم پوزیشن حاصل کی۔طبقہ وسطیٰ (متوسط درجات) میں عربی دوم کے طالب علم ابوبکر نے اول، عربی سوم کے عبد القادر نے دوم، جبکہ عربی دوم کے ہی شاداب اقبال نے سوم پوزیشن حاصل کی۔طبقہ علیا (اعلیٰ درجات) کے سخت مقابلے میں عالیہ ثانیہ کے طالب علم حماد اکرم نے اول، درجہ خامسہ کے محمود عالم نے دوم، جبکہ عالیہ ثانیہ کے ہی شبلی نعمانی نے سوم پوزیشن حاصل کر کے نمایاں کامیابی حاصل کی۔تقریب میں دیگر دینی و علمی اداروں سے وابستہ شریک ذمہ داران اور معزز شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور طلباء کے پراعتماد انداز اور فصیح عربی گفتگو کی خوب ستائش کی۔ مہمانوں نے جامعہ خلفاء راشدین کے اساتذہ کرام کی مخلصانہ تربیت اور اراکینِ عاملہ (انتظامیہ) کے بہترین انتظامات اور اعلیٰ تعلیمی حکمتِ عملی کی زبردست پذیرائی کی اور انہیں مبارکباد پیش کی۔
پروگرام کے اختتام پرمہمان خصوصی حضرت مفتی عمران احمد قاسمی نے اپنے خطاب میں طلباء کو مبارکباد دیتے ہوئے فرمایا کہ عربی زبان قرآن وحدیث کی زبان ہے اور موجودہ دور میں اس پر مہارت حاصل کرنا دعوت دین کے لیے انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے جامعہ کی تعلیمی ترقی پراپنی دلی مسرت کا اظہار کیا۔تقریب کا باقاعدہ اختتام مہمانِ خصوصی حضرت مفتی عمران احمد قاسمی صاحب کی رقت آمیز اور خصوصی دعا پر ہوا، جس میں ملک و ملت کی ترقی، امن و امان اور جامعہ کی مزید تعلیمی و تعمیری ترقیاں مانگی گئیں۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network