دیش
ہمیں کوئی نہیں بتا سکتاکہ ہمیں کیاکرناہے :ایس جے شنکر
(پی این این)
چنئی:وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان دنیا کی ان چند قدیم تہذیبوں میں سے ایک ہے جو زندہ رہ کر ایک بڑی جدید قومی ریاست میں تبدیل ہوئی ہے، جس سے ملک کو تاریخ کا گہرا احساس ملتا ہے جو زیادہ تر قوموں کے پاس نہیں ہے۔ آئی آئی ٹی مدراس گلوبل کے آغاز اور آئی آئی ٹی مدراس ٹیک فیسٹ شاسترا کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان ان چند قدیم تہذیبوں میں شامل ہے جو ایک بڑی جدید قومی ریاست بننے کے لیے زندہ رہ گئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمیں کوئی نہیں بتاسکتاکہ ہمیں کیا کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “واقعی بہت کم قدیم تہذیبیں ہیں جو بڑی جدید قومی ریاستیں بننے کے لیے زندہ رہیں، اور ہم ان میں سے ایک ہیں۔ ہمیں اپنے ماضی کا احساس ہے، جو بہت کم ممالک کے پاس ہے۔”انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے جمہوریت کے انتخاب کے عالمی نتائج ہیں۔ “یہ ایک جمہوری سیاسی ماڈل کا انتخاب کرنے کا ہمارا فیصلہ تھا جس نے جمہوریت کے تصور کو ایک عالمگیر سیاسی تصور بنایا۔ اگر ہم اس طرف نہ جاتے تو جمہوریت بہت علاقائی اور تنگ ہوتی۔ یہ ہمارا فرض، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے خیالات اور اپنی اقدار، ثقافت اور تاریخ کا اظہار کریں۔ لیکن یہ پیدائشی طور پر کیا جا سکتا ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ مغرب کے ساتھ شراکت داری بہت اہم ہے۔ ہم دنیا کو کس طرح تشکیل دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا”یہ ہمارا فرض ہے، اپنے خیالات اور اپنی اقدار، ثقافت اور تاریخ کا اظہار کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ لیکن یہ ایک دوستانہ شراکت داری کے طریقے سے کیا جا سکتا ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ مغرب کے ساتھ شراکت داری اہم ہے۔ میرے خیال میں یہ بہت زیادہ طریقہ ہے کہ ہم دنیا کو کس طرح تشکیل دیتے ہیں۔جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان آج کئی دہائیوں پہلے کے مقابلے میں کم متعلقہ وسائل کے ساتھ کام کرتا ہے اور اسے زیادہ سے زیادہ اثرات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہندوستان اپنی مسابقت، اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اور اداروں اور عالمی شراکت داری کا فائدہ اٹھا کر ایسا کرتا ہے۔آئی آئی ٹی مدراس کے بیرون ملک اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ تنزانیہ میں آئی آئی ٹی مدراس کیمپس یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح ہندوستانی خارجہ پالیسی بڑے عالمی اثرات مرتب کرنے کے لیے ملکی اداروں کا استعمال کرتی ہے۔
جے شنکر نے کہا، “جب ہم اس لفظ کو اتفاق سے استعمال کرتے ہیں ‘واسودھائیو کٹمبکم’، تو دراصل اس اصطلاح کے اس لفظ کا پیغام کیا ہے؟ اصطلاح یہ ہے کہ ہم نے کبھی بھی دنیا کو ایک دشمن یا مخالف ماحول نہیں سمجھا ہے جس سے ہمیں دفاعی طور پر خود کو بچانا ہے… اگر آپ مسئلہ حل کرنے کے موڈ میں ہیں، تو آپ کے پاس محدود وسائل کے ساتھ کیا اثر ہے؟ آج ہندوستانی خارجہ پالیسی میں کرنے کی کوشش کرنا، ہندوستانی سفارت کاری میں، درحقیقت اس مسئلے کو حل کرنا ہے، اور ہم اسے جزوی طور پر اپنی مسابقت کا استعمال کرتے ہوئے، اپنی طاقتوں کا استعمال کرتے ہوئے، دوسرے اداروں اور امکانات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کرنے کی کوشش کرتے ہیں، میں یہ بھی کہوں گا کہ تنزانیہ میں ایک IIT مدراس کیمپس ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے ہندوستانی خارجہ پالیسی نے وہاں کے ایک ادارے کی صلاحیتوں کا فائدہ اٹھایا ہے۔
دیش
ٹی ایم سی کے 22 باغیوں کی رکنیت پر لٹکی تلوار
نئی دہلی:ترنمول کانگریس کے 22 باغی ممبران پارلیمنٹ جو این سی پی میں چلے گئے ہیں، ان کی رکنیت پر تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے انھیں نوٹس جاری کردیا ہے کہ وہ 22 ستمبر تک جواب دیں کہ کیسے وہ این سی پی آئی میں گئے۔ غورطلب ہے کہ ٹی ایم سی کے لیڈر ابھشیک بنرجی نے اپنی عرضی میں ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو غیر قانونی طور پر ایک گمنام جماعت این سی پی آئی میں چلے گئے ہیں۔ واضح ہو کہ گزشتہ 18 جون 2026 کو ٹی ایم سی کے جنرل سکریٹری اور ایم پی ابھشیک بنرجی نے اوم برلا سے ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کے خلاف آئین کی دسویں شیڈیول کے تحت نااہل قرار دیتے ہوئے ان کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اسپیکر اوم برلا نے ان 20 این سی پی آئی ممبران پارلیمنٹ کو ٹی ایم سی اس عرضی کا جواب دینے کے لئے 22 ستمبر تک کا وقت دیا ہے۔
غورطلب ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخاب کے نتیجے آنے کے بعد 14 جون ٹی ایم سی کے 20 ارکان پارلیمنٹ نے بغاوت کردی تھی اور نیشنلسٹ سٹیزن پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی ) کا دامن تھام لیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے این ڈی اے کو حمایت دینے کا اعلان کردیا تھا، مگر اب ان کی رکنیت پر آئینی سوال کھڑا ہوگیا ہے۔ ان باغی ارکان کی قیادت پارٹی کے سینئر رہنماؤں سدپ بندیوپادھیائے اور کاکولی گھوش دستیدار کر رہے ہیں۔ ان ارکان نے انتخابی شکست کے بعد پارٹی میں پیدا ہونے والی اندرونی کشمکش کے دوران جون میں پارٹی سے الگ راہ اختیار کی تھی۔دسویں شیڈول یعنی پارٹی بدلنے سے متعلق قانون سے بچنے کے لیے، باغی گروپ نے، جو ٹی ایم سی کے 28 لوک سبھا ارکان میں سے دو تہائی سے زیادہ ارکان پر مشتمل ہے، تریپورہ میں قائم نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں انضمام کا اعلان کیا تھا۔
اس دوران اسپیکر اوم برلا نے 20 باغی ارکان کے لیے ایوان میں الگ نشستوں کی منظوری دے دی ہے، تاہم ان کے انضمام کی ابھی توثیق نہیں کی ہے۔ ابھشیک بنرجی نے اسپیکر اوم برلا سے باغی ارکان کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر کارروائی تیز کرنے اور ٹی ایم سی کے باقی 8 وفادار ارکان کے لیے نشستوں کے انتظام میں تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
بنرجی نے اس معاملے میں سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔ سماعت کے دوران لوک سبھا اسپیکر اور ایوان کے سکریٹری جنرل کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا تھا کہ اسپیکر نے دسویں شیڈول کے تحت ٹی ایم سی کی جانب سے دائر نااہلی کی درخواستوں پر 20 ارکان کو پہلے ہی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔بہرحال باغیوں میں حجان کی کیفیت ہے جبکہ ممتا بنرجی خیمہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔اطلاع یہ بھی ہے کہ یوسف پٹھان سمیت چار ممبران پارلیمنٹ ممتا بنرجی کے رابطہ میں ہیں۔
دیش
بی سی آئی کو قانون کے طلبا کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں
نئی دہلی:سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) قانون کے طلبہ کو ان کے کالج یا یونیورسٹی کے اندر کیے گئے کسی طرز عمل پر سزا نہیں دے سکتی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ بی سی آئی کے پاس قانون کی تعلیم حاصل کر رہے طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون کے طلبہ کے طرز عمل اور ان کے نظم و ضبط سے متعلق فیصلہ ان کی یونیورسٹی یا تعلیمی ادارہ ہی کر سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ بی سی آئی نے چیف جسٹس کی کانووکیشن تقریب میں شرکت کی مخالفت کرنے والے نلسار کے طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے جو خطوط بھیجے تھے، وہ اس کے دائرہ اختیار سے باہر تھے۔یہ عرضی نالسار کے سابق طلبہ مہر سود اور ابھشیک تیواری نے دائر کی تھی۔ عرضی میں بی سی آئی کے چیئرمین منن کمار مشرا کے 13 اگست کے اس سرکلر کو چیلنج کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے نالسار کے طلبہ کے کسی بھی بار کونسل میں وکیل کی حیثیت سے رجسٹریشن پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم مخالفت کے بعد منن مشرا نے یہ سرکلر واپس لے لیا تھا۔
دراصل نالسار کے طلبہ نے چیف جسٹس سوریہ کانت کے ہاتھوں کانووکیشن تقریب میں ڈگری حاصل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد منن کمار مشرا نے یہ سرکلر جاری کیا تھا۔
دیش
بہار کے 13اضلاع زیر آب،یوپی میں سیلاب کی صورتحال سنگین،کئی ہلاک
لکھنؤ: یوپی میں سیلاب کی صورتحال سنگین ہوگئی ہے۔ 7سے زائد افراد کے مرنے کی خبریں ہیں، وزیر اعظم کے حلقہ انتخاب کاشی میں 407 افراد نقل مکانی کرچکے ہیں۔ اب تک 20ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا جاچکا ہے۔
یوپی کے 23 اضلاع میں سیلابی کیفیت ہے۔ دریں اثنا بہار کے 13 اضلاع سیلابی کیفیت سے دوچار ہیں۔ وہاں مسلسل بارش ہورہی ہے۔ پٹنہ میں گنگا خطرے کے نشان سے 2 فٹ اوپر بہہ رہی ہے۔ 8ندیوں کی طغیانی میں اضافہ ہوگیا ہے۔واضح رہے کہ لینڈ سلائڈنگ سے ہماچل پردیش میں 175 سڑکیں بند ہوگئی ہیں۔ مدھیہ پردیش کے آدھے حصے میں زبردست بارش کے تحت الرٹ جاری ہے۔ چھتر پور ساگر ، رائے سین، نرسنگ پل، سیونی اور بیتول میں عوام کو الرٹ رہنے کیلئے کہا گیا ہے۔
افسران نے این ڈی آر ایف کی کشتی کے ذریعے نمو گھاٹ سے سفر کرتے ہوئے سالارپور، سرائیا، کونیا، پل کوہنا، ڈھیلوریا اور سرائے موہانا سمیت مختلف علاقوں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے متاثرہ لوگوں سے ملاقات کر کے انہیں ہر ممکن انتظامی مدد کی یقین دہانی کرائی۔
ضلع مجسٹریٹ نے حکام کو ہائی الرٹ رہنے اور متاثرہ علاقوں کی مسلسل نگرانی کی ہدایت دی۔ انہوں نے ضرورت پڑنے پر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے پیشگی انتظامات، کشتیوں اور دیگر امدادی وسائل کی دستیابی یقینی بنانے کو کہا۔ پولیس اور این ڈی آر ایف اہلکاروں کو بھی ہنگامی صورتِ حال میں فوری کارروائی اور مسلسل نگرانی کی ہدایت دی گئی ہے۔سیلاب متاثرین کے لیے قائم ریلیف کیمپوں میں خوراک، پینے کا پانی، بجلی، روشنی، صفائی، طبی سہولیات اور سکیورٹی کا جائزہ بھی لیا گیا۔ بچوں، خواتین اور بزرگوں پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ طبی ٹیموں کو باقاعدگی سے صحت کا معائنہ کرنے اور ضروری ادویات دستیاب رکھنے کو کہا گیا ہے۔دوسری جانب ریاست کے مجموعی سیلابی منظرنامے کے مطابق اب تک 35 اضلاع متاثر ہوئے ہیں، جبکہ فی الحال 23 اضلاع میں سیلاب کا اثر برقرار ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 16,784 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جن میں 3,042 افراد کو بدھ کے روز نکالا گیا۔ریلیف اور ریسکیو آپریشن کے لیے ریاست میں 1,499 کشتیاں اور موٹر بوٹس جبکہ 1,067 طبی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ حکومت نے 1,311 سیلاب ریلیف کیمپ قائم کیے ہیں، جن میں سے 201 اس وقت فعال ہیں۔ سیلاب سے مکانات کو پہنچنے والے نقصان کے 442 معاملات میں بھی امداد فراہم کی گئی ہے، جبکہ 36,287 مویشی متاثر ہوئے ہیں۔غازی پور میں بھی گنگا کا پانی خطرے کے نشان سے تجاوز کر چکا ہے۔ یہاں پوستا گھاٹ پر لوگوں کو تیز بہاؤ سے محفوظ رکھنے کے لیے لگایا گیا فلوٹنگ بیریئر مبینہ طور پر گزشتہ تقریباً ایک ہفتے سے ایک سرے سے کھلا ہوا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق تیز دھار میں بیریئر کا ایک حصہ جھول رہا ہے، جس سے حفاظتی انتظامات پر سوال اٹھ رہے ہیں۔انتظامیہ نے گنگا کے اہم گھاٹوں پر پولیس اہلکار تعینات کیے ہیں، تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بڑھتے پانی کے دوران حفاظتی آلات کا درست حالت میں ہونا بھی ضروری ہے۔ ان کی مطالبہ ہے کہ انتظامیہ فوری طور پر فلوٹنگ بیریئر کو محفوظ کرے اور تمام گھاٹوں پر موجود حفاظتی انتظامات کا جائزہ لے۔
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
