تازہ ترین
ایم ایل سی انتخابی نتائج پر جے ڈی یو میں کشمکش، منعقدہ جائزہ میٹنگ میں جے ڈی یوکی تمام ناراض لیڈران کو منانے اوراسے مطمئن کرکے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوششانکاؤنٹر کلچر کو فروغ دے کر آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے سمراٹ حکومت، منیر انکاؤنٹر پر میسا بھارتی کے بعد روہنی آچاریہ بھی سرگرم، بہار سرکارکو بنایا نشانہیونانی طب کے فروغ کے لیے جدید تحقیق اور قدیم طبی روایات کا امتزاج ضروری’کوئی بھی اہل شہری ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے سے نہ رہے محروم‘، ارریہ میں خصوصی سمری ریویژن پروگرام کے حوالے سے تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ منعقدپریاگ راج میں 250 کروڑ روپے کا زیورات کا کاروباراے ایم یو کے عبداللہ اسکول میں تقسیم انعامات تقریب کا انعقاددہلی فسادات: کرکرڈوما کورٹ سے چھ مسلمان باعزت بریکرایہ دار ہیں سب گھر بدلتے رہتے ہیں
دیش

کس کے سامنے پی ایم نے جھک کر کی جنگ بندی

آپریشن سندور پر لوگ سبھا میں گوروگوئی نے اٹھایا سوال
(پریتی پانڈے)
نئی دہلی : پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں ’آپریشن سندھ‘ پر زبردست بحث دیکھنے میں آئی۔ اس اہم معاملے پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے مرکزی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا اور کئی تند و تیز سوالات کئے۔ انہوں نے براہ راست وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال کیا کہ جنگ بندی کا فیصلہ کس دباؤ میں لیا گیا اور کس کے سامنے سر جھکایا؟
گورو گوگوئی نے اپنی تقریر کا آغاز اس سوال سے کیا کہ پہلگام میں دہشت گردانہ حملہ کیسے ہوا؟ انہوں نے کہا کہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے فوج کی بہادری کا ذکر کیا، لیکن اس سوال پر خاموشی اختیار کی کہ دہشت گرد ملک میں کیسے داخل ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس تمام جدید وسائل ہونے کے باوجود حملہ آور کیوں نہیں پکڑے جا سکے۔کانگریس رکن پارلیمنٹ نے اس بات پر بھی ناراضگی ظاہر کی کہ وزیر اعظم حملے کے بعد پہلگام نہیں گئے جبکہ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے موقع پر پہنچ کر متاثرین سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سیاسی شائستگی کی مثال نہیں ہے، بلکہ حساسیت – جو حکومت میں نظر نہیں آئی۔
سب سے بڑا سوال گورو گوگوئی نے جنگ بندی کو لے کر اٹھایا۔جنگ کے لیے تیار رکھا تھا، لیکن اچانک جنگ بندی ہوگئی۔ کیا وزیر اعظم ملک کو بتائیں گے کہ یہ فیصلہ کس کے دباؤ میں کیا گیا؟ کیا یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد ہوا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ انھوں نے ثالثی کی؟”گوگوئی نے ٹرمپ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا کہ اگر جنگ بندی امریکہ کے کہنے پر ہوئی ہے تو یہ ملک کی اسٹریٹجک خود مختاری پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔رافیل اور فوجی حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔کانگریس ایم پی نے یہ بھی جاننا چاہا کہ اگر آپریشن سندھ کے دوران ایک بھی رافیل طیارہ مار گرایا گیا تو یہ بہت سنگین معاملہ ہے کیونکہ ملک کے پاس محدود تعداد میں رافیل طیارے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ جہاں پہلے 21 اہداف مقرر کیے گئے تھے، انہیں بعد میں 9 کیوں کر دیا گیا؟ کیا حکومت یہ بتانے سے ڈرتی ہے؟گورو گوگوئی نے کہا کہ حملے کے دوران وادی کے عام شہریوں نے بھی متاثرین کی مدد کی، لیکن حکومت نے اس انسانی تعاون کا ذکر نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ راج ناتھ سنگھ کو نہ صرف فوج کی بہادری بلکہ عوام کی ہمت اور تعاون کا بھی احترام کرنا چاہئے تھا۔ہم ملک کے حق میں بول رہے ہیں دشمنوں کے نہیں لیکن جب بھی حکومت سچائی سے منہ موڑے گی سوال کرتے رہیں گے۔

 

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔