Connect with us

دیش

کس کے سامنے پی ایم نے جھک کر کی جنگ بندی

Published

on

آپریشن سندور پر لوگ سبھا میں گوروگوئی نے اٹھایا سوال
(پریتی پانڈے)
نئی دہلی : پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں ’آپریشن سندھ‘ پر زبردست بحث دیکھنے میں آئی۔ اس اہم معاملے پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے مرکزی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا اور کئی تند و تیز سوالات کئے۔ انہوں نے براہ راست وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال کیا کہ جنگ بندی کا فیصلہ کس دباؤ میں لیا گیا اور کس کے سامنے سر جھکایا؟
گورو گوگوئی نے اپنی تقریر کا آغاز اس سوال سے کیا کہ پہلگام میں دہشت گردانہ حملہ کیسے ہوا؟ انہوں نے کہا کہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے فوج کی بہادری کا ذکر کیا، لیکن اس سوال پر خاموشی اختیار کی کہ دہشت گرد ملک میں کیسے داخل ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس تمام جدید وسائل ہونے کے باوجود حملہ آور کیوں نہیں پکڑے جا سکے۔کانگریس رکن پارلیمنٹ نے اس بات پر بھی ناراضگی ظاہر کی کہ وزیر اعظم حملے کے بعد پہلگام نہیں گئے جبکہ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے موقع پر پہنچ کر متاثرین سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سیاسی شائستگی کی مثال نہیں ہے، بلکہ حساسیت – جو حکومت میں نظر نہیں آئی۔
سب سے بڑا سوال گورو گوگوئی نے جنگ بندی کو لے کر اٹھایا۔جنگ کے لیے تیار رکھا تھا، لیکن اچانک جنگ بندی ہوگئی۔ کیا وزیر اعظم ملک کو بتائیں گے کہ یہ فیصلہ کس کے دباؤ میں کیا گیا؟ کیا یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد ہوا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ انھوں نے ثالثی کی؟”گوگوئی نے ٹرمپ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا کہ اگر جنگ بندی امریکہ کے کہنے پر ہوئی ہے تو یہ ملک کی اسٹریٹجک خود مختاری پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔رافیل اور فوجی حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔کانگریس ایم پی نے یہ بھی جاننا چاہا کہ اگر آپریشن سندھ کے دوران ایک بھی رافیل طیارہ مار گرایا گیا تو یہ بہت سنگین معاملہ ہے کیونکہ ملک کے پاس محدود تعداد میں رافیل طیارے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ جہاں پہلے 21 اہداف مقرر کیے گئے تھے، انہیں بعد میں 9 کیوں کر دیا گیا؟ کیا حکومت یہ بتانے سے ڈرتی ہے؟گورو گوگوئی نے کہا کہ حملے کے دوران وادی کے عام شہریوں نے بھی متاثرین کی مدد کی، لیکن حکومت نے اس انسانی تعاون کا ذکر نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ راج ناتھ سنگھ کو نہ صرف فوج کی بہادری بلکہ عوام کی ہمت اور تعاون کا بھی احترام کرنا چاہئے تھا۔ہم ملک کے حق میں بول رہے ہیں دشمنوں کے نہیں لیکن جب بھی حکومت سچائی سے منہ موڑے گی سوال کرتے رہیں گے۔

 

دیش

پانچ کلو وزن ہواکم،وانگچک کے بھوک ہڑتال کا ساتواں دن

Published

on

نئی دہلی:جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا دھرنا جاری ہے۔ ان کے اندولن کے ساتھ معروف سماجی خدمات گار سونم وانگچک بھی شریک ہوچکے ہیں آج ان کے بھوک ہڑتال کا ساتواں دن ہے۔ جس میں ان کا پانچ کلو وزن کم ہوگیا ہے۔ اس دوران سی جے پی نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبہ کو تیز کردیا ہے۔ واضح ہو کہ جنتر منتر پر طلبا نیٹ ، یوجی سمیت مقابلہ جاتی امتحانات میں بدعنوانی کولیکر مظاہرہ کررہے ہیں۔

Continue Reading

دیش

حکومت پر تنقید جمہوریت کا حصہ ، جرم نہیں : بمبئی ہائی کورٹ

Published

on

بمبئی ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ جمہوری نظام میں شہریوں کو حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کرنے، اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور پُرامن احتجاج کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ صرف حکومت مخالف نعرے لگانے یا احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے کی بنیاد پر کسی شہری کو اس کے اپنے شہر سے بے دخل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے اسی بنیاد پر مہاراشٹر پولیس کی جانب سے جاری ایک سالہ ایکسٹرنمنٹ (شہر بدری) کا حکم منسوخ کر دیا۔
یہ فیصلہ جسٹس مادھو جمدار کی بنچ نے سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے مہاراشٹر کے جنرل سیکریٹری اور سابق لوک سبھا امیدوار سعید احمد عبد الواحد چودھری کی درخواست پر سنایا۔ عدالت نے واضح کیا کہ انتظامی اختیارات کا استعمال شہریوں کے آئینی اور بنیادی حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے نہیں کیا جا سکتا۔
سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کی کارروائی اور اس کے جواز پر کئی اہم سوالات اٹھائے۔ جسٹس مادھو جمدار نے ریمارکس دیے کہ ہر شہری کو حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے، احتجاج کرنے اور اختلاف رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
عدالت نے سوال کیا کہ محض ’’بی جے پی حکومت مردہ باد‘‘ یا ’’امت شاہ مردہ باد‘‘ جیسے نعرے کسی شخص کے خلاف شہر بدری جیسی سخت کارروائی کی بنیاد کیسے بن سکتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت میں اختلاف رائے کو دبانے کے بجائے اسے برداشت کرنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
جسٹس جمدار نے گزشتہ برسوں میں مختلف مسابقتی امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر عوام ایسے معاملات پر احتجاج کریں اور اس کے جواب میں ان پر مقدمات درج کیے جائیں تو یہ جمہوری اقدار کے مطابق نہیں ہوگا۔ عدالت نے واضح کیا کہ پولیس عوام کی خدمت کے لیے ہے اور اس کی جواب دہی شہریوں کے سامنے ہے، نہ کہ کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے سامنے۔
اپنے تحریری فیصلے میں ہائی کورٹ نے کہا کہ حکومت کے بعض فیصلوں کی مخالفت کرنا کسی شخص کو اس کے رہائشی علاقے سے بے دخل کرنے کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت کے مطابق ایسی کارروائی اظہارِ رائے کی آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔عدالت نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار کے خلاف جاری کیے گئے ایکسٹرنمنٹ آرڈر کی اصل وجہ مختلف احتجاجی پروگراموں کا انعقاد اور ان میں شرکت تھی۔ عدالت نے کہا کہ صرف اسی بنیاد پر کسی شہری کے خلاف اتنی سخت انتظامی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔
سعید احمد عبد الواحد چودھری شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)، نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی)، بابری مسجد تنازع، گیان واپی مسجد معاملہ، وقف بورڈ میں مبینہ بدعنوانی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سمیت کئی عوامی مسائل پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں سرگرم رہے ہیں۔

Continue Reading

دیش

رام مندر کے بعد بدری ناتھ میں چڑھاوا چوری معاملہ ، کرمچاریوں سے جواب طلب

Published

on

نئی دہلیایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوا چوری کا معاملہ چل ہی رہا ہے کہ اب معروف کیدار بدری ناتھ چڑھاوا چوری کا معاملہ بھی اجاگر ہوا ہے اس سلسلے میں انتظامیہ نے فوری طور پر کرمچاریوں کو نوٹس دیا ہے اور تین دن میں جواب دینے کو کہا ہے۔ غورطلب ہے کہ شری بدری ناتھ-کیدار ناتھ مندر کمیٹی (بی کے ٹی سی) نے معاملے کی تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے۔ کمیٹی کے ایک عہدیدارکے مطابق دہرادون واقع ’بھیرو سینا‘ نامی تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ بدری ناتھ دھام میں تعینات ایک ملازم عطیات اور نذرانوں کی رقم میں گڑبڑی کر رہا ہے۔ حالانکہ انتظامیہ کی جانب سے ان الزامات کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے، لیکن معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے کمیٹی نے تحقیقات شروع کر دی ہے۔ ساتھ ہی عطیات کی رقم کی گنتی سے منسلک ملازمین سے بھی وضاحت طلب کی گئی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network