تازہ ترین
مظفرپور میں مفت طبی کیمپ کا انعقاد،ماہر ڈاکٹروں نے دی صحت سے متعلق رہنمائی،سیوا ٹرسٹ کی پہل، بچوں اور خواتین سمیت مختلف امراض کے مریضوں کو ملی طبی سہولت، مفت ادویات بھی تقسیمسپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں کیا جائیگا اردو ٹی ای ٹی امیدواروں کا مقدمہ دائرارریہ: سدبھاونا منچ کے اراکین نے مختلف درگا پوجا پنڈالوں کاکیا دورہ، باہمی محبت اور بھائی چارے کا دیا پیغام،وسرجن میں شامل ہونے والے افراد کا استقبال اور کیا جائے گا اعزازسرسید احمد خاں نے قوم کو تعلیم کی اہمیت سے کرایاروشناس ،اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام یومِ سرسید کی پر تقریب کا انعقادوائس چانسلر نعیمہ خاتون کے ہاتھوں دس کتابوں کا اجرا ،یوم سر سید پر سر سید اکیڈمی کی جانب سےتقریب رسم اجرا کا انعقاددھام پور میں جشنِ سرسید تقریب کا انعقاد، عصری علوم کے حصول پرزور،سرسید احمد خاں کی خدمات کوپروقار اور شاندار انداز میںپیش کیاگیا خراجِ عقیدت5 افراد کی موت کے معاملے میں بہن، بہنوئی سمیت تین گرفتاردہلی حکومت جمنا کو صاف کرنے کے لیےکر رہی ہے کام : سی ایم ریکھا
دیش

کس کے سامنے پی ایم نے جھک کر کی جنگ بندی

آپریشن سندور پر لوگ سبھا میں گوروگوئی نے اٹھایا سوال
(پریتی پانڈے)
نئی دہلی : پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں ’آپریشن سندھ‘ پر زبردست بحث دیکھنے میں آئی۔ اس اہم معاملے پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے مرکزی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا اور کئی تند و تیز سوالات کئے۔ انہوں نے براہ راست وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال کیا کہ جنگ بندی کا فیصلہ کس دباؤ میں لیا گیا اور کس کے سامنے سر جھکایا؟
گورو گوگوئی نے اپنی تقریر کا آغاز اس سوال سے کیا کہ پہلگام میں دہشت گردانہ حملہ کیسے ہوا؟ انہوں نے کہا کہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے فوج کی بہادری کا ذکر کیا، لیکن اس سوال پر خاموشی اختیار کی کہ دہشت گرد ملک میں کیسے داخل ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس تمام جدید وسائل ہونے کے باوجود حملہ آور کیوں نہیں پکڑے جا سکے۔کانگریس رکن پارلیمنٹ نے اس بات پر بھی ناراضگی ظاہر کی کہ وزیر اعظم حملے کے بعد پہلگام نہیں گئے جبکہ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے موقع پر پہنچ کر متاثرین سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سیاسی شائستگی کی مثال نہیں ہے، بلکہ حساسیت – جو حکومت میں نظر نہیں آئی۔
سب سے بڑا سوال گورو گوگوئی نے جنگ بندی کو لے کر اٹھایا۔جنگ کے لیے تیار رکھا تھا، لیکن اچانک جنگ بندی ہوگئی۔ کیا وزیر اعظم ملک کو بتائیں گے کہ یہ فیصلہ کس کے دباؤ میں کیا گیا؟ کیا یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد ہوا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ انھوں نے ثالثی کی؟”گوگوئی نے ٹرمپ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا کہ اگر جنگ بندی امریکہ کے کہنے پر ہوئی ہے تو یہ ملک کی اسٹریٹجک خود مختاری پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔رافیل اور فوجی حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔کانگریس ایم پی نے یہ بھی جاننا چاہا کہ اگر آپریشن سندھ کے دوران ایک بھی رافیل طیارہ مار گرایا گیا تو یہ بہت سنگین معاملہ ہے کیونکہ ملک کے پاس محدود تعداد میں رافیل طیارے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ جہاں پہلے 21 اہداف مقرر کیے گئے تھے، انہیں بعد میں 9 کیوں کر دیا گیا؟ کیا حکومت یہ بتانے سے ڈرتی ہے؟گورو گوگوئی نے کہا کہ حملے کے دوران وادی کے عام شہریوں نے بھی متاثرین کی مدد کی، لیکن حکومت نے اس انسانی تعاون کا ذکر نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ راج ناتھ سنگھ کو نہ صرف فوج کی بہادری بلکہ عوام کی ہمت اور تعاون کا بھی احترام کرنا چاہئے تھا۔ہم ملک کے حق میں بول رہے ہیں دشمنوں کے نہیں لیکن جب بھی حکومت سچائی سے منہ موڑے گی سوال کرتے رہیں گے۔

 

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔