(پی این این)
پٹنہ:پٹنہ سے مظفرپور کے درمیان سفر کو تیز اور آسان بنانے کی سمت میں کام شروع ہوگیا ہے۔ دونوں شہروں کے درمیان حاجی پور کے راستے علاقائی ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم (آر آر ٹی ایس) کے لیے مطالعہ شروع ہوچکا ہے۔ نیشنل کیپیٹل ریجن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (این سی آر ٹی سی) اس کے لیے متبادل تجزیاتی رپورٹ اور تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ تیار کرے گی۔
ریپڈ ریل کوریڈور شروع ہونے کے بعد پٹنہ-مظفرپور کا فاصلہ ایک گھنٹے میں طے کیا جاسکے گا۔ روزانہ سفر کرنے والے مسافروں، ملازمت پیشہ افراد اور طلبہ کو اس سے زیادہ سہولت ملے گی۔آر آر ٹی ایس کو دہلی-این سی آر میں چلنے والے علاقائی ریپڈ ٹرانزٹ نظام کی طرز پر تیار کیا جائے گا۔ یہ میٹرو سے الگ نظام ہوگا۔ اس کا مقصد طویل فاصلے کا سفر کرنے والے مسافروں کو کم وقت میں ایک شہر سے دوسرے شہر تک پہنچانا ہے۔اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ پٹنہ، حاجی پور اور مظفرپور کے درمیان روزانہ کتنے لوگ سفر کرتے ہیں اور کن علاقوں سے سب سے زیادہ مسافر مل سکتے ہیں۔ اسی بنیاد پر ممکنہ روٹ اور اسٹیشن طے کیے جائیں گے۔
زمین کی دستیابی، تعمیراتی لاگت، تکنیکی متبادل اور ٹریفک کے دباؤ کا بھی اسی ترتیب سے مطالعہ کیا جائے گا۔ریپڈ ریل کے اسٹیشنوں کو پٹنہ میٹرو، ریلوے اسٹیشنوں، بس ٹرمینل اور دیگر عوامی نقل و حمل کے ذرائع سے جوڑنے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
اس کا مقصد ایسا ٹرانسپورٹ نیٹ ورک تیار کرنا ہے، جس میں مسافر ایک ذریعۂ نقل و حمل سے دوسرے ذریعے پر آسانی سے منتقل ہوسکیں۔ اس ٹرین کے لیے مکمل طور پر الگ اور مخصوص ایلیویٹڈ یا زیرِ زمین کوریڈور تعمیر کیا جائے گا۔واضح رہے کہ فی الحال پٹنہ سے مظفرپور جانے میں تقریباً دو گھنٹے لگتے ہیں، لیکن پروجیکٹ مکمل ہونے کے بعد یہ فاصلہ موجودہ وقت کے نصف میں طے کیا جاسکے گا۔
مئی 2024 میں ریاستی حکومت نے آر آر ٹی ایس کو منظوری دی تھی۔ اس کے تحت پٹنہ سے مظفرپور، گیا اور بھاگلپور کی کنیکٹیویٹی بڑھائی جا رہی ہے۔ چھوٹے شہروں کو بھی اس نیٹ ورک سے جوڑا جانا ہے۔ اسی سلسلے میں یہ مطالعہ شروع کیا گیا ہے۔ریپڈ ریل 130 سے 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلے گی۔ اس سے روزانہ سفر کرنے والے مسافروں، ملازمت پیشہ افراد اور طلبہ کو زیادہ سہولت ملے گی۔ واضح رہے کہ اے اے آر اور ڈی پی آر کی تیاری پر 31.59 کروڑ روپے خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔
پٹنہ-مظفرپور ریپڈ ریل کی راہ ہموار،آپس میں جڑیں گے تین بڑے صنعتی علاقے، ایک گھنٹے میں طے ہوگا فاصلہ
