(پی این این)
پٹنہ: بہار کی سابق وزیر مرحومہ پروین امان اللہ صاحبہ کی تیسری برسی کے موقع پر ان کی یاد اور خراجِ عقیدت کے لیے ’’پروین امان اللہ یادگاری خطبہ 2026‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام میں سماجی، سیاسی، انتظامیہ اور عوامی زندگی سے وابستہ اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر مرحومہ پروین امان اللہ کی زندگی، ان کے افکار اور عوام کے تئیں ان کی بے لوث خدمات کو یاد کیا گیا۔
پروین امان اللہ محض ایک سیاسی شخصیت نہیں تھیں، بلکہ ان لوگوں میں شامل تھیں جنہوں نے عوام کی خدمت کو اقتدار سے بالاتر اور انسانیت کو سیاست سے بڑا مقصد سمجھا۔ ان کی سادگی، بے باکی، دیانت داری اور عام لوگوں کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش نے انہیں دیگر رہنماؤں سے منفرد شناخت عطا کی۔آج جب ان کی یاد میں یہ خطبہ منعقد کیا گیا تو مقررین کی گفتگو میں صرف ایک مرحوم رہنما کی یاد نہیں تھی، بلکہ ایک سوال بھی تھا کہ کیا ہم اس راستے پر چل رہے ہیں جسے پروین امان اللہ نے اپنے عمل سے روشن کیا تھا؟پروگرام میں مرحومہ کے شوہر اور سابق سینئر بیوروکریٹ افضل امان اللہ کے ساتھ ان کی بیٹی رحمت امان اللہ بھی موجود تھیں۔
مرحومہ کو یاد کرتے ہوئے تقریب میں موجود کئی افراد جذباتی ہوگئے۔ اس موقع پر پروین امان اللہ کو جاننے اور ان کے ساتھ کام کرنے والی متعدد اہم شخصیات بھی موجود تھیں، جنہوں نے ان کی سادگی، دیانت داری اور بااصول شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
پروگرام میں موجود اور خطاب کرنے والی کئی اہم شخصیات نے اپنے اپنے انداز میں مرحومہ کی زندگی اور ان کی خدمات کو یاد کیا۔ مقررین نے کہا کہ کسی انسان کو یاد کرنے کا بہترین طریقہ صرف اس کی تصویر پر پھول چڑھانا نہیں، بلکہ اس کے اچھے افکار اور ادھورے خوابوں کو آگے بڑھانا ہے۔اسی لیے آج کی یہ تقریب محض ایک یادگاری تقریب نہیں، بلکہ ایک تحریک کا ذریعہ بنتی نظر آئی۔ پروین امان اللہ صاحبہ کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ عوام کی آواز سننا، کمزور اور ضرورت مند لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا اور معاشرے کے لیے ایمانداری سے کام کرنا ہی حقیقی رہنمائی ہے۔
آج کی محفل کا سب سے اہم پیغام یہی رہا کہ رہنماؤں کو یاد کرنے کا مطلب صرف ماضی کو یاد کرنا نہیں، بلکہ ان کے اصولوں کو آج کی زندگی میں عملی طور پر اپنانا بھی ہے۔ اس موقع پر مرحومہ کے لیے مغفرت کی دعائیں کی گئیں اور ان کے اہل خانہ کے لیے بھی خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔اس موقع پر معروف مصنف اپوروانند نے ’’ہندوستانی ہونے کی مشکل‘‘ کے موضوع پر خطبہ دیا۔ انہوں نے اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالی، جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا۔
تقریب میں موجود دیگر مقررین نے کہا کہ کچھ لوگ دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں، لیکن ان کے افکار ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ کچھ آوازیں خاموش ہوجاتی ہیں، مگر ان کا پیغام خاموش نہیں ہوتا۔ مرحومہ پروین امان اللہ بھی انہی لوگوں میں شامل تھیں۔ ایسے لوگوں کی آج دنیا کو پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔آخر میں مرحومہ پروین امان اللہ کی بیٹی رحمت امان اللہ نے اظہارِ تشکر کیا اور بڑی تعداد میں پروگرام میں شرکت کرنے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔
