تازہ ترین
مظفرپور میں مفت طبی کیمپ کا انعقاد،ماہر ڈاکٹروں نے دی صحت سے متعلق رہنمائی،سیوا ٹرسٹ کی پہل، بچوں اور خواتین سمیت مختلف امراض کے مریضوں کو ملی طبی سہولت، مفت ادویات بھی تقسیمسپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں کیا جائیگا اردو ٹی ای ٹی امیدواروں کا مقدمہ دائرارریہ: سدبھاونا منچ کے اراکین نے مختلف درگا پوجا پنڈالوں کاکیا دورہ، باہمی محبت اور بھائی چارے کا دیا پیغام،وسرجن میں شامل ہونے والے افراد کا استقبال اور کیا جائے گا اعزازسرسید احمد خاں نے قوم کو تعلیم کی اہمیت سے کرایاروشناس ،اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام یومِ سرسید کی پر تقریب کا انعقادوائس چانسلر نعیمہ خاتون کے ہاتھوں دس کتابوں کا اجرا ،یوم سر سید پر سر سید اکیڈمی کی جانب سےتقریب رسم اجرا کا انعقاددھام پور میں جشنِ سرسید تقریب کا انعقاد، عصری علوم کے حصول پرزور،سرسید احمد خاں کی خدمات کوپروقار اور شاندار انداز میںپیش کیاگیا خراجِ عقیدت5 افراد کی موت کے معاملے میں بہن، بہنوئی سمیت تین گرفتاردہلی حکومت جمنا کو صاف کرنے کے لیےکر رہی ہے کام : سی ایم ریکھا
دیش

ویڈیو کا مقصد غلط بیانی کرکے دارالعلوم کے بہی خواہان و معاونین کو گمراہ کرنا ہے: مفتی ابوالقاسم نعمانی

(پی این این)
دیوبند:چند دنوں سے عالمی شہرت یافتہ دینی دانش گاہ دارالعلوم دیوبندسے متعلق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو ووائرل ہورہاہے، جس میں یہ دعویٰ کیاگیاہے کہ دارالعلوم دیوبند میں وصول شدہ غلہ کی بڑی مقدار نہایت کم قیمت کے حساب سے بازار میں فروخت کردی گئی، نیز ادارہ کے سالانہ بجٹ سے 13؍ کروڑ روپیہ کی خطیر رقم صرفہ سے بچ گئی ہے، جس کی وجہ سے باقی ماندہ رقم میں سے نصف 6؍ کروڑ پچاس لاکھ روپیہ بطور سبسڈی حکومت کو واپس دینی پڑی ہے۔
اس سلسلہ میںدارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی اابوالقاسم نعمانی نے غلط بیان پر مبنی ویڈیو پر اپنی سخت ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے ایک تردیدی بیان میں کہاکہ چند روز سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ دارالعلوم دیو بند میں وصول شدہ غلہ کی بڑی مقدار 9.30؍ روپیہ فی کلو کے حساب سے بازار میں فروخت کر دی گئی ہے۔ نیز سالانہ بجٹ میں تیرہ کڑور روپے کی خطیر رقم صرفہ سے بچ گئی ہے، جس میں سے6؍ کروڑ50؍ لاکھ روپے کی سبسڈی سرکار کو لوٹانی پڑی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں خلاف واقعہ اور حقائق سے دور ہیں، نہ تو ادارہ میں35؍ ہزار بوری آٹا باہر فروخت کیا گیا ہے اور نہ کوئی رقم سرکار کو بطور سبسڈی واپس کی گئی ہے۔ اس طرح کی غلط بیانی کا مقصد دارالعلوم کے معاونین اور بہی خواہوں کو گمراہ کرنا اور ادارہ کو نقصان پہنچانا ہے جو قابل مذمت عمل ہے اور اس سلسلہ میں دارالعلوم دیوبند قانونی چارہ جوئی پر بھی غور کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ دارالعلو م دیوبند کی جانب اس قسم کی ویڈیو منسوب کرنے سے دارالعلوم دیوبند نے سخت مذمت کرتے ہوئے اس کی تردید کی ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔