Connect with us

Bihar

مغربی چمپارن میں حضرت امیر شریعت وذمہ داران امارت کے دوروزہ تنظیمی،تعلیمی واصلاحی دورہ کا آغاز

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:ناظم امارت شرعیہ بہار،ڈیشہ جھارکھنڈ ومغربی بنگال جناب مولانا مفتی محمد سعیدالرحمن قاسمی صاحب نے اپنے ایک اخباری بیان میں بتایا کہ امارت شرعیہ کے زیر اہتمام ضلع مغربی چمپارن اوراس کے اطراف میں مورخہ ۱۲؍۱۳؍جون ۲۰۲۶ء کو کئی اہم تنظیمی ،تعلیمی واصلاحی اجلاسوں کا انعقادہونے جارہاہے ، ان تمام اجلاسوں کی صدرات مفکر ملت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ امیر شریعت بہار،ڈیشہ جھارکھنڈ ومغربی بنگال وسجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر فرمائیں گے۔ اس سلسلہ کاپہلا اجلاس تعلیمی بیداری کے عنوان سے ۱۲؍جون کو بعد نماز مغرب مدرسہ رحمانیہ ہاتھی خانہ بتیا میں منعقد ہوگا ، جس میں تعلیمی بیداری ،نظام مدارس کے تحفظ اور دینی مدارس کی ترقی کی راہیں جیسے موضوعات پر خطابا ت ہوں گے ۔جب کہ ۱۳؍جون کو صبح ۹؍بجے سے سواگتم میرج ہال ،منواپل ،بتیا کے وسیع وپررونق ہا ل میں ضلع مغربی چمپارن کے نقباء ،نائبین نقباء اور تنظیم امارت شرعیہ کے ضلعی وبلاک سطح کی کمیٹیوں کے ذمہ داران وارکان کا خصوصی تربیتی اجلاس ہونا ہے ، جس میں حاضرین کو معلوماتی وتربیتی نقطۂ نظر سے فکر امارت کی تفہیم ،خدمات امارت کے تعارف اورتنظیمی ذمہ داریوں سے واقف کراتے ہوئے کئی اہم پہلوؤں پر عملی تربیت بھی دی جائے گی ، اس موقع پر حضرت امیر شریعت دامت برکاتہم موجودہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے مدارس کے تحفظ ،شریعت کے عملی بقاء اور ملی مسائل کے حل کے سلسلہ میں اپنے کلیدی خطاب کے ذریعہ ضروری رہنمائی بھی فرمائیں گے ۔۱۳؍جون ہی کوبعد نماز مغرب ایک بڑا اصلاحی اجلاس مسلمانوں کی بڑی آبادی بھوگاڑی میں منعقد ہوگا جس کی تیاری نہایت زور وشور کے ساتھ کی گئی ہے اور بڑی تعداد میں اہل ایمان کی شرکت متوقع ہے ،ان تمام پروگراموں کا نظام امارت شرعیہ کے رکن شوریٰ وعاملہ ،ٹرسٹ،تنظیم امارت شرعیہ مغربی چمپارن کے ضلع سکریٹری اورامارت شرعیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ کے چیئرمین جناب ایڈوکیٹ ذاکر بلیغ صاحب نے اپنی سرکردگی میں اپنے رفقاء وتنظیم کے دیگر ذمہ داروں کے ساتھ نہایت ہی منظم اوربامقصد انداز میں مرتب کیا ہے ،محترم ناظم صاحب نے بتایاکہ ان تمام پروگراموں میں حضرت امیر شریعت مدظلہ اور خود ان کے علاوہ امارت شرعیہ کے صدر قاضی جناب مولانا مفتی محمد انظارعالم قاسمی صاحب ، نائب ناظم امارت شرعیہ جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب ، رفیق پروجیکٹ مینجمنٹ مولانا محمد منہاج عالم ندوی صاحب اور قاضی شریعت بتیا جناب مولانا شمس الحق قاسمی صاحب شریک رہیں گے ۔
محترم جناب ناظم صاحب اورنائب ناظم صاحب نے جمعہ کی نمازبھی شہر بتیا میں اداکی ،ناظم صاحب کا خطاب شہر بتیا کی وسیع جامع مسجد واقع نزد مدرسہ اسلامیہ بتیا میں ہوا ، آپ نے اپنے خطا ب میںموجودہ حالات ومشکلات اورملت کو درپیش مسائل کا ذکرکرتے ہوئے ان کے حل کی طرف خصوصی رہنمائی فرمائی اورامارت شرعیہ کے دوروزہ پروگراموں کی ضرورت اور حضرت امیر شریعت مدظلہ العالی کی آمد کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے دونوں اجلاس عام میں عوام وخواص کو شرکت کی دعوت دی اورخصوصی تنظیمی اجلاس کی ضرورت کو سمجھایا،نائب ناظم امارت شرعیہ جنا ب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے جنگی مسجد بتیا میں نماز جمعہ سے قبل خطاب کیا اور امارت شرعیہ کا سرزمین مغربی چمپارن سے جو دیرینہ رشتہ ہے اور بانی امارت شرعیہ کاجولگاؤ اس زمین سے رہاہے اس کا ذکر کرتے ہوئے اس تعلق کو مستحکم رکھنے کی دعوت دی اورحضرت امیرشریعت کی آمد کو باعث برکت بتاتے ہوئے ان کا حوصلہ مندانہ استقبال کرنے کی ترغیب دی ۔جمعہ کے بعد محترم ناظم صاحب نے نائب ناظم صاحب اور ایڈوکیٹ ذاکر بلیغ صاحب کے ہمراہ پروگراموں کے مقامات کا جائزہ لیا اور انتظامی نقطۂ نظر سے اجلاس کو بہتربنانے کے سلسلہ میں منتظمین کو کئی مفید مشورے دیئے۔ناظم صاحب نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ سارے پروگرام ان شاء اللہ مفید اوربامقصد ہوں گے اوراس سے تنظیم امارت شرعیہ کے استحکام اورملت کی بیداری کی نئی راہیں کھلیں گی۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Bihar

کسانوں کی زرخیز زمین زبردستی چھین رہی ہے حکومت،روہنی اچاریہ نے سیٹلائٹ ٹاؤن شپ پراٹھائے سوال، سمراٹ حکومت کو گھیرا

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ لالو پرساد یادو کی بیٹی روہنی آچاریہ نے بہار کی سمراٹ چودھری کی حکومت کو کسان مخالف اور کارپوریٹ گھرانوں کی حامی قرار دیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا ہے کہ حکومت سیٹلائٹ ٹاؤن شپ منصوبے کے نام پر کسانوں کی قابلِ کاشت اور زرخیز زمین زبردستی لے رہی ہے۔ اس سے سبز علاقوں کو نقصان پہنچے گا اور نجی کمپنیوں و بلڈروں کو فائدہ پہنچے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے ماحولیات کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
سارن لوک سبھا کی سابق امیدوار ڈاکٹر روہنی اچاریہ نے ریاستی حکومت پر بہار میں مجوزہ سیٹلائٹ ٹاؤن شپ پروجیکٹ کے سلسلے میں کسانوں کے مفادات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا ہے۔انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کی کثیر فصلی اور زرخیز زرعی اراضی کا ٹاؤن شپ کے نام پر حصول انتہائی تشویشناک ہے۔یہ کسانوں کے لیے سماجی اور معاشی بحران کا باعث بن سکتا ہے۔
روہنی آچاریہ نے جمعرات کو سوشل میڈیا کے ذریعے سنگاپور سے بہار حکومت کو نشانہ بنایا۔ اپنے ایکس ہینڈل پر جاری ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ بہار میں سیٹلائٹ ٹاؤن شپ منصوبے کے تحت کسانوں کی قابلِ کاشت زمین کے حصول سے کاشت کاروں کو متعدد سماجی اور معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بہار جیسے زرعی ریاست میں سیٹلائٹ ٹاؤن شپ کے نام پر کثیر فصل والی اور زرخیز زمین زبردستی حاصل کی جا رہی ہے۔ اس سے ریاست کی غذائی سلامتی اور زراعت پر مبنی معیشت پر منفی اثر پڑنے والا ہے۔روہنی آچاریہ کے مطابق، زمین ایک کسان خاندان کے لیے نسل در نسل روزگار اور آمدنی کا ذریعہ ہوتی ہے۔ سمراٹ حکومت کی جانب سے کسانوں کو اپنی زمین دینے پر مجبور کرنا براہِ راست ان کے لیے روزگار اور معاش کا بحران پیدا کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور معمولی کسانوں کے پاس آمدنی کا واحد ذریعہ ان کی زمین ہوتی ہے۔ زمین چھن جانے سے وہ اپنی آبائی روزی روٹی سے محروم ہو جاتے ہیں اور انہیں مزدوری کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔
وہیںآر جے ڈی کے سابق ترجمان ہرے لال یادو نے روہنی کے حوالے سے کہا کہ بہار ایک زرعی ریاست ہے،جہاں ایک بڑی آبادی اپنی روزی روٹی کے لیے زراعت پر منحصر ہے۔لہٰذا زرخیز زرعی زمین کا حصول ریاست کی غذائی تحفظ کے ساتھ ساتھ زراعت پر مبنی معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔آچاریہ نے کہا کہ کسانوں کے لیے زمین صرف جائیداد نہیں ہے بلکہ نسلوں کی روزی روٹی اور آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے۔چھوٹے اور معمولی کسانوں کے پاس آمدنی کا ایک پائیدار ذریعہ نہیں ہے۔ان کی زمین کھونے سے ان کے روزگار اور خاندان کے ذریعہ معاش کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھاتے ہوئے کسانوں کی رضامندی،ان کے مفادات اور مناسب بحالی اور معاوضے کے انتظامات کو ترجیح دینی چاہیے۔کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ جو کسانوں کو ان کی آبائی زمین سے محروم کرتا ہے ان کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔انہوں نے ریاستی حکومت پر زور دیا کہ وہ کسانوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے سیٹلائٹ ٹاؤن شپ پروجیکٹ کے لیے زمین کے حصول کے عمل پر دوبارہ غور کرے۔

Continue Reading

Bihar

سیتامڑھی: اساتذہ کے اہل خانہ کو ملاسیلری پیکیج کا فائدہ،اسکیم کے تعلق سے سرکاری ٹیچروں میں خوشی کا ماحول

Published

on

(پی این این)
سیتامڑھی:اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی مرکزی برانچ ڈمرا میں چیف برانچ منیجر نیرج کمار نے پرائمری ٹیچرس ویلفیئر ایسوسی ایشن کے ریاستی صدر ششی رنجن سمن کی موجودگی میں ایک متوفی معزز استاد کے بیٹے پریتم جیت کمار کو مالی امداد فراہم کی۔
یہ رقم ایس بی آئی لائف کی ٹرم انشورنس کے تحت ریاستی حکومت کی تنخواہ پیکیج اسکیم کے تحت متوفی استاد ونود راوت کی بیوی پونم دیوی کے اکاؤنٹ میں 10 لاکھ روپے منتقل کیے گئے تھے۔معلوم ہوا ہے کہ ونود راوت نان پور بلاک کے کوئلی پرائمری اسکول میں ایک ممتاز استاد کے طور پر کام کرتے تھے۔ ان کا 12 جون 2026 کو اچانک انتقال ہوگیا۔
برانچ منیجر نیرج کمار نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی اسٹیٹ گورنمنٹ سیلری پیکج اسکیم خاص طور پر سرکاری ملازمین کے لیے ہے۔ اس اسکیم کے تحت اساتذہ کے قدرتی موت پر ان کے زیر کفالت خاندان کو 10 لاکھ روپے فراہم کیے جاتے ہیں۔
ریاستی صدر مسٹر سمن نے کہا کہ ایس بی آئی کے تنخواہ پیکیج کے تحت آنے والے اساتذہ کو 2025 سے ٹرم انسورنش کے تحت حادثاتی موت پر ایک کروڑ اور قدرتی موت پر 10 لاکھ کی رقم اس گورنمنٹ اساتذہ کے زیر کفالت اہل خانہ کو مذکورہ رقم دینے کا پروویژن ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2020 میں میری پہل پر موجودہ ممبر پارلیمنٹ اور اس وقت کے قانون سازکونسل کے رکن جناب دیویش چندر ٹھاکر کی کوشش سے اس وقت کے ڈائریکٹر پرائمری ایجوکیشن رنجیت کمار سنگھ سے بات کر سیتامڑھی، شیوہر، ویشالی سمیت 20 اضلاع میں گورنمنٹ اساتذہ کی تنخواہ کی ادائیگی ایس بی آئی بینک سے کرایا۔ جس اسکیم سے اساتذہ اور ان کے زیر کفالت اہل خانہ بڑی تعداد میں مستفید ہو رہے ہیں۔

Continue Reading

Bihar

ارریہ:ڈی ایم کی ماڈل اسکولوں کے ہیڈ ماسٹروںکے ساتھ میٹنگ،ضلع مجسٹریٹ نے اسکولوں میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ بچوں کی ہمہ جہت ترقی کے حوالے سے دیں ضروری ہدایات

Published

on

(پی این این)
ارریہ:ضلع مجسٹریٹ ارریہ مسٹر ونود دوہن کی صدارت میں ضلع کے ماڈل اسکولوں کے پرنسپلوں اور اساتذہ کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں اسکولوں میں تعلیمی معیار، طلباء کی ہمہ جہت ترقی اور تدریسی نظام کے مؤثر نفاذ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو ہدایت کی گئی کہ وہ ماڈل اسکولوں میں معیاری تعلیم کو یقینی بنائیں اور 100 فیصد بچے کی کامیابی کے حصول کے لئے کام کریں۔ ہر استاد کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے مضمون کے لئے سبق کے منصوبے تیار کریں، نصاب کو وقت پر مکمل کریں، اور طلباء کی سیکھنے کی پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیں۔
انہوں نے اسکولوں کو ہفتہ وار امتحانات منعقد کرنے، نتائج کا جائزہ لینے اور کمزور طلبہ کو ضروری اضافی تعلیمی مدد فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے طلباء اور والدین کے درمیان بہتر رابطے کو فروغ دینے کے لیے باقاعدگی سے والدین اور اساتذہ کے اجلاس منعقد کرنے کی خصوصی ہدایات بھی جاری کیں۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے اسکولوں میں لیبارٹریوں کے موثر اور باقاعدہ استعمال پر زور دیا، تاکہ طلباء ہینڈ آن سرگرمیوں کے ذریعے مضامین کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کی نشوونما صرف ماہرین تعلیم تک محدود نہیں ہے۔ ان کی ذہنی و جسمانی نشوونما کے لیے سکولوں میں کھیلوں اور دیگر مقابلوں کا باقاعدگی سے انعقاد کیا جائے۔ اس میٹنگ میں اساتذہ کے کام کی مؤثر نگرانی کے لیے مضمون اور کلاس کی بنیاد پر اساتذہ کی رینکنگ تیار کرنے کی بھی ہدایات دی گئیں۔ جس کے ذریعے طلباء کی تعلیمی کارکردگی، امتحان کے نتائج اور تدریسی کام کے معیار کا جائزہ لیا جائے گا۔
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو واضح ہدایات دی گئیں کہ اگر کوئی استاداسکول کے اوقات میں کوچنگ چلاتے ہوئے یا کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث پائے گئےتو ان کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے۔ انہوں نے تمام ہیڈ ماسٹرز اور اساتذہ کو ہدایت کی کہ وہ اسکول میں نظم و ضبط، باقاعدگی اور معیاری تدریسی نظام کو یقینی بنائیں۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network