(پی این این)
دیوبند:’’مدارس اسلامیہ کو درپیش موجودہ تشویشناک حالات سے خوف زدہ ہونے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے دعاؤں کا اہتمام کیا جائے، اپنے حالات درست کیے جائیں اور تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔ مدارس کے تحفظ کے لیے جاری جدوجہد میں حالات کی سنگینی کو سمجھنا ضروری ہے، تاہم اس سے مرعوب ہونے کے بجائے حکمت، اصلاح اور درست لائحہ عمل کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔‘‘
ان خیالات کا اظہار مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی دامت برکاتہم مہتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند و صدر رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ نے آج جامع رشید، دارالعلوم دیوبند میں منعقدہ کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کیا۔ اجلاس کی نظامت حضرت مولانا شوکت علی قاسمی بستوی صاحب جنرل سکریٹری رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند نے انجام دی۔اجلاس کا آغاز مولانا قاری عبد الرؤوف صاحب استاذ تجوید دارالعلوم دیوبند کی تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا، جس کے بعد دو طلبہ نے تران? دارالعلوم کے منتخب اشعار پیش کیے۔صدر اجلاس مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی نے اپنے صدارتی خطاب میں رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کے دستور، بنیادی مقاصد، ضرورت اور موجودہ تقاضوں پر تمہیدی گفتگو کی۔ انہوں نے ارباب مدارس کو نظامِ تعلیم کی بہتری کی طرف متوجہ کرتے ہوئے نصابِ تعلیم کے معیار، نصاب کی تکمیل اور تدریب المعلمین پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت واضح کی۔ انہوں نے طلبہ کی تعلیمی و اخلاقی تربیت، دارالاقامہ کے نظام کو بہتر بنانے اور اساتذہ و ذمہ دارانِ مدارس کو صاحب نسبت بزرگوں سے اصلاحی تعلق کو قائم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔اپنے خطاب میںنے مدارس کے داخلی نظام، اصلاحِ معاشرہ، دفاعِ اسلام، یونیفارم سول کوڈ اور وندے ماترم جیسے اہم مسائل کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اکابرِ امت نے اپنے مسائل کے حل کے لیے ابتدا ہی سے سڑکوں پر آنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کیا ہے، اس لیے موجودہ حالات میں بھی حکمت، قانونی طریق کار اور ضروری احتیاطی تدابیر کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند نے اپنے کلیدی خطاب بعنوان ’’تحفظ مدارس کو درپیش خطرات اور حل‘‘ میں مدارس کے دینی و تعلیمی کردار، نئی نسل کی دینی تربیت، گھر کے ماحول کی اصلاح اور معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلقات مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند ایک خالص مذہبی تعلیمی ادارہ ہے، جس کا بنیادی مقصد قرآن و حدیث کی تعلیم، معروف کو اپنی زندگی میں اختیار کرنا اور منکرات سے اجتناب کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی تاکید کی کہ مدارس کے فضلاء جہاں بھی جائیں، مدارس اسلامیہ سے اپنا تعلق برقرار رکھیں، دینی تعلیم کے فروغ کے لیے کام کریں اور ضرورت کے مطابق نئے مدارس قائم کرکے نئی نسل کو دینی تعلیمات سے آراستہ کریں۔ مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم نے کہا کہ بچوں کی دینی تربیت صرف مدارس کی ذمہ داری نہیں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر شخص کو اپنے متعلقین کا ذمہ دار بنایا ہے۔ اس لیے والدین کو اپنے گھروں کو بھی تربیت کا مرکز بنانا چاہیے۔ انہوں نے اکابرِ دیوبند کے اصلاحی طریقے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کتابیں پڑھنے کے بعد بزرگوں کی صحبت میں رہ کر اصلاح و تربیت حاصل کرتے تھے، پھر دین کی خدمت کے لیے مختلف علاقوں میں پھیل جاتے تھے۔ انہوں نے مدارس کے تعلیمی معیار، طلبہ کی حاضری، امتحانات کی تیاری اور انتظامی امور کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا اور مدارس کے ذمہ داران سے اپیل کی کہ وہ اپنے طلبہ کو محنت کے ساتھ تیار کرکے دارالعلوم دیوبند کے داخلہ امتحانات میں شرکت کے لیے بھیجیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مدارس کے ذمہ داران معاشرے کے مختلف طبقات سے قریبی روابط قائم کریں، برادران وطن کو بھی اپنے پروگراموں میں مدعو کریں، انہیں اپنے قریب بٹھائیں اور خوش گوار تعلقات کے ذریعے غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مدارس اسلامیہ کی خدمات اور ان کے حقیقی مقاصد کو مؤثر انداز میں متعارف کرانے سے معاشرے میں باہمی اعتماد کو فروغ ملے گا۔اپنے کلیدی خطاب میں حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم نے دارالعلوم دیوبند کے قیام کے تاریخی پس منظر اور اس کے بنیادی مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اکابرِ دارالعلوم نے تعلیمی مقاصد کے ساتھ ملک کو غلامی سے آزاد کرانے اور یہاں کے باشندوں کو غلامی کی زنجیروں سے نجات دلانے کا جذبہ بھی سامنے رکھا تھا۔ آزادی کے بعد ادارے کی توجہ خالص مذہبی تعلیم پر مرکوز رہی، جس کا مقصد قرآن و حدیث کی تعلیم، دینی احکام پر عمل اور معاشرے میں معروف و منکر کے حوالے سے صحیح شعور پیدا کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج بھی مدارس کے فارغین کو یہی تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ جہاں رہیں، مدارس اسلامیہ سے اپنا تعلق قائم رکھیں اور دینی تعلیم کے فروغ میں حصہ لیں۔ انہوں نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ اکابر نے مدارس کے قیام اور دینی تعلیم کے فروغ کی جو بنیاد رکھی تھی، اس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف حصوں میں مدارس اسلامیہ کا ایک وسیع نظام قائم ہوا ہے۔حضرت مولانا مدنی نے نئی نسل کے ایمان و عقائد کی حفاظت اور دینی ماحول کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے مخلوط تعلیم اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دینی و اخلاقی مسائل پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے والدین اور اربابِ مدارس کو متوجہ کیا کہ وہ بچوں کی تعلیم کے ساتھ ان کی دینی تربیت کا بھی خصوصی اہتمام کریں۔انہوں نے طلبہ کی حاضری اور امتحانات کی تیاری کے حوالے سے مدارس کے ذمہ داران کی کوششوں کو اہم قرار دیا اور کہا کہ دارالعلوم دیوبند میں کامیابی کے لیے طلبہ کو سال بھر محنت کے ساتھ تیار کرنا ضروری ہے، تاکہ وہ امتحان میں پورا پرچہ حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ انہوں نے اساتذہ اور منتظمین سے اپیل کی کہ وہ طلبہ کو وقت کی پابندی، حاضری اور مطالعے کا عادی بنائیں۔مولانا شوکت علی قاسمی بستوی صاحب نے سابقہ اجلاسِ مجلس عمومی منعقدہ 1444ھ کی کارروائی پڑھ کر سنائی، جس کے بعد رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کی جنرل سکریٹری رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں صوبائی شاخوں کے تحت منعقدہ مجلسِ عاملہ اور مجلسِ عمومی کے اجلاسوں، تدریب المعلمین کے پروگراموں، اجتماعی امتحانات، معائن? مدارس، تردیدِ فرقِ باطلہ، اصلاحِ معاشرہ کے اجلاسوں اور کامیاب طلبہ کے اعزاز میں منعقدہ انعامی تقریبات کی تفصیلات پیش کی گئیں۔اجلاس میں مجلسِ عاملہ اور مجلسِ عمومی کے ارکان کی توسیع کا اعلان کیا گیا، جب کہ مرکزی دفتر رابطہ کے دستورالعمل کی بعض دفعات میں اضافے کی منظوری بھی دی گئی۔
