Connect with us

uttar pradesh

لینگویج یونیورسٹی میں فیکلٹی آف آرٹ کی جانب سے ترنگا یاتراکا انعقاد

Published

on

لکھنؤ:آج خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میںفیکلٹی آف آرٹ کی جانب سے اکیڈمک ڈین اور شعبۂ اردو کے صدر پروفیسر ثوبان سعید کی زیر قیادت طلبہ میں حب الوطنی کے جذبات کو مہمیز کرنے کے ساتھ ساتھ انھیںوطن کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کے لئے ایک ترنگا یاترا نکالی گئی ۔
یہ ترنگا یاترا ابولاکلام آزاد اکیڈمک عمارت سے شروع ہوکر یونیورسٹی سرکل سے ہوتے ہوئے دوبارہ اکیڈمک بلڈنگ کے گیٹ پر اختتام پذیر ہوئی۔اس ترنگا یاترا کے افتتاح سے قبل پروفیسرثوبان سعید نے فیکلٹی آف آرٹ کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی یہ ترنگا یاترا محض ایک رسمی پروگرام نہیںبلکہ ہمارے اندر موجود حب الوطنی کے جذبات کو بیدار کرنے اور ہمیں اپنے وطن کے تئیں ذمہ داریوں کا احساس دلانے کی ایک بامقصد کوشش ہے۔
ترنگا ہمارے قومی وقار، اتحاد، امن، قربانی اور جمہوری اقدار کی علامت ہے۔ جب ہم اپنے ہاتھوں میں ترنگا لے کر چلتے ہیں تو دراصل ہم اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ اپنے ملک کی عزت، ترقی، سالمیت اور خوش حالی کے لیے ہمیشہ اپنا مثبت کردار ادا کریں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ حب الوطنی کا مطلب صرف قومی دنوں پر پرچم لہرانا یا قومی ترانے کے وقت احتراماََکھڑا ہونا نہیں ہے۔
حقیقی حب الوطنی اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب ہم اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دیتے ہیں، قانون کا احترام کرتے ہیں، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں، اپنے ماحول کو صاف رکھتے ہیں، قومی املاک کی حفاظت کرتے ہیں اور معاشرے میں نفرت کے بجائے محبت، رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دیتے ہیں۔آج کی یہ ترنگا یاترا ہمیں یہ پیغام دے رہی ہے کہ ہم اپنے وطن سے محبت صرف الفاظ میں نہ کریں بلکہ اپنے کردار اور عمل سے اس کا ثبوت دیں۔
ہم عہد کریں کہ ہم اپنی تعلیم کو محض ذاتی کامیابی کا ذریعہ نہیں بنائیں گے بلکہ اسے ملک و قوم کی خدمت کا وسیلہ بنائیں گے۔ ہم تعصب، نفرت، تشدد، بدعنوانی اور بے حسی سے دور رہیں گے اور ایک ایسے معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں گے جہاں ہر فرد کو عزت، مواقع اور انصاف حاصل ہو۔میں فیکلٹی آف آرٹس کے تمام طلبہ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آج کے اس پروگرام کو ایک لمحاتی سرگرمی تک محدود نہ رکھیں۔ اس ترنگا یاترا کے پیغام کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ اپنے حقوق کے ساتھ اپنے فرائض کو بھی یاد رکھیں، اپنے ادارے اور اپنے شہر کو اپنا سمجھیں، قومی وسائل کی قدر کریں اور جہاں بھی ہوں، اپنے علم، کردار اور عمل سے ملک کی نیک نامی کا باعث بنیں۔ترنگا یاترا کے اختتام کے موقع پر شعبۂ فارسی کے انچارج ڈاکٹر عارف عباس نے فیکلٹی آف آرٹ کے اساتذہ اور طلبہ و طالبات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج کی یہ ترنگا یاترا صرف ایک پروگرام نہیں بلکہ حب الوطنی، قومی یکجہتی اور اپنی ذمہ داریوں کے احساس کو اجاگر کرنے کی ایک خوب صورت اور بامعنی کوشش تھی۔ اس پروگرام میں جس جوش و جذبے کے ساتھ اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی، وہ قابل تحسین ہے۔اس ترنگا یاترا میں ڈاکٹر محمد اکمل،ڈاکٹر عبدالحفیظ،ڈاکٹر وصی اعظم انصاری،ڈاکٹر منور حسین،ڈاکٹر موسی رضا،ڈاکٹر جہاں آراڈاکٹر راج کمار،ڈاکٹر ہارون رشید،ڈاکٹر عائشہ شہناز،ڈاکٹر اخلاق،ڈاکٹر عبدالرحمٰن،ڈاکٹر مدثر،ڈاکٹر مزمل،ڈاکٹر یوگیندر سنگھ،ڈاکٹر آرادھنا آستھانہ کے علاوہ مختلف شعبوں کے دیگر اساتذہ اور کثیر تعداد میں شرکت کی۔

uttar pradesh

اعظم خان کیساتھ غلط سلوک کررہی ہے یوپی حکومت،خودبی جے پی رہنماؤں کی ہیں لکھنؤ میں سب سے زیادہ غیر قانونی عمارتیں :اکھلیش یادو

Published

on

(پی این این)
لکھنؤ:سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے جمعرات کو لکھنؤ میں پارٹی دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بی جے پی حکومت پر حملہ بولا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت ہمارے پروگرام منعقد نہیں ہونے دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلند شہر میں سماج وادی پارٹی کا ساون کے دوران ایک پروگرام ہونا تھا۔ حکام نے پروگرام کے لیے میدان کی اجازت دینے کی کئی بار یقین دہانی کرائی، بعد میں ساون کا مہینہ ہونے کی وجہ سے پروگرام کی تاریخ آگے بڑھانے کا مشورہ دیا۔ سماج وادی پارٹی نے پروگرام آگے بڑھا دیا، لیکن اس کے باوجود اجازت نہیں دی گئی۔ کہا گیا کہ پولیس لائن میں پانی بھرا ہوا ہے، جس کی وجہ سے ہیلی پیڈ پر ہیلی کاپٹر نہیں اتر سکے گا۔اکھلیش یادو نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ میں نے سوچا شاید کالی ندی میں سیلاب تو نہیں آگیا ہے۔ اس کے بعد اکھلیش نے پولیس لائن کی ایک ویڈیو دکھائی، جس میں کہیں بھی پانی نظر نہیں آ رہا تھا۔ اکھلیش نے کہا کہ آخر حکومت ہمارے پروگرام سے پریشان کیوں ہے؟ ہم نے اس سے خراب حکومت پہلے کبھی نہیں دیکھی۔
دراصل بلند شہر میں 11 ستمبر(آج) کو سماج وادی پارٹی کا پروگرام مقرر تھا۔ ایس پی صدر نے کہا کہ جہاں ہیلی کاپٹر اترنا تھا، وہاں ہیلی پیڈ پر دور دور تک پانی جمع نہیں ہے۔ صرف زبردستی سیمنٹ، گارا اور پیور بلاکس دکھا کر، حکومت کی خفیہ ہدایت پر انتظامیہ ہمارے 11 ستمبر کے پروگرام کو منسوخ کرنے کا بہانہ تلاش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے عہدیداران کی موجودگی میں غیر جانب دار ماہرین سے جانچ کراکر حقیقت سامنے لائی جائے۔ اگر ہم سڑک کے راستے آئیں گے تو کیا ایکسپریس وے، ہائی وے یا سڑکوں کی خراب حالت کا بہانہ بھی بنایا جائے گا؟ کیونکہ یہ تمام سڑکیں واقعی آمدورفت کے قابل نہیں ہیں۔عوام پوچھ رہی ہے کہ ہیلی پیڈ اور موسم صرف اپوزیشن کے لیے ہی کیوں خراب ہوتا ہے؟
سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ ہم ضلع وار انتخابی منشور تیار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ریاست کے لیے تو انتخابی منشور تیار کریں گے ہی، ساتھ ہی ضلع وار منشور بھی بنائیں گے، جس میں ہر ضلع کے مسائل کو ترجیح دی جائے گی۔بی جے پی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ درست خبریں چلانے پر صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں اور انہیں اسکولوں میں جانے سے روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت جانے والی ہے اور سماج وادی پارٹی اسے اقتدار سے ہٹانے کا عزم کر رہی ہے۔
اکھلیش نے اعظم خان کے خلاف کارروائی کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے ساتھ غلط سلوک کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ لکھنؤ میں سب سے زیادہ غیر قانونی عمارتیں بی جے پی رہنماؤں کی ہیں۔ انہوں نے ریزرویشن اور مدارس کے معاملے پر بھی بی جے پی کو گھیرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے معاملے پر حکومت کے پاس کوئی جواب نہیں ہے، اسی لیے وہ دوسرے مسائل کو سامنے لا رہی ہے۔
جی ڈی پی کے اعداد و شمار پر سوال اٹھاتے ہوئے اکھلیش نے جھانسی کے واقعے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص کے پاس اپنی اہلیہ کی لاش لے جانے اور آخری رسومات ادا کرنے تک کے پیسے نہیں تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ کیسی جی ڈی پی ہے؟ اکھلیش نے الزام لگایا کہ اپنے خاص لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے جی ڈی پی کے اعداد و شمار میں اضافہ دکھایا جا رہا ہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

دانش آزاد انصاری کی ڈاکٹر عمار رضوی سے ملاقات،سیتاپور میں ڈگری کالج، آئی ٹی آئی، پولی ٹیکنک اور یونانی و آیورویدک کالج کے قیام پر زور

Published

on

(پی این این)
لکھنؤ:ریاستی وزیر برائے اقلیتی بہبود، مسلم وقف و حج، اتر پردیش حکومت دانش آزاد انصاری نے آل انڈیا مائنارٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے قومی صدر اور اتر پردیش کے سابق کارگزار وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عمار رضوی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ اس دوران ریاست میں اقلیتوں سے متعلق مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ملاقات کے دوران تعلیم، تجارت، روزگار اور سماجی و معاشی مسائل سمیت متعدد موضوعات زیرِ بحث آئے۔ دانش آزاد انصاری نے ڈاکٹر عمار رضوی کو بتایا کہ اقلیتی طبقے کے تعلیمی فروغ اور مجموعی پیش رفت کے لیے حکومت کی جانب سے ان اضلاع میں، جہاں اقلیتی آبادی تقریباً 25 فیصد ہے، ڈگری کالج، آئی ٹی آئی، پولی ٹیکنک، یونانی اور آیورویدک کالج قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر عمار رضوی نے ریاستی وزیر کی توجہ ضلع سیتاپور کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی اقلیتی آبادی قابلِ ذکر تعداد میں ہے، اس لیے ضلع میں اعلیٰ تعلیم اور فنی تربیت سے متعلق اداروں کے قیام کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اداروں کے قیام سے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم اور ہنر حاصل کرنے کے بہتر مواقع میسر آئیں گے، جس سے روزگار کے امکانات بڑھنے کے ساتھ سیتاپور کی مجموعی ترقی کو بھی تقویت ملے گی۔
دانش آزاد انصاری نے ڈاکٹر عمار رضوی کو یقین دلایا کہ وہ سیتاپور کے معاملے میں خصوصی توجہ دیں گے اور اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ ضلع کے لیے کون کون سی سرکاری اسکیمیں اور منصوبے فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ دستیاب امکانات کے مطابق ضروری اقدامات کے لیے متعلقہ سطح پر کوشش کی جائے گی۔ڈاکٹر عمار رضوی نے اقلیتی بہبود سے متعلق ریاستی حکومت کی فلاحی اسکیموں کے نفاذ میں دانش آزاد انصاری کی سرگرمی اور کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں مبارک باد اور نیک خواہشات پیش کیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اقلیتوں کی تعلیمی، معاشی اور سماجی ترقی کے لیے حکومت کی کوششوں کو مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنایا جائے گا۔یہ اطلاع آل انڈیا مائنارٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے شعبۂ نشر و اشاعت کے سیکریٹری ابوشحمہ انصاری نے فراہم کی۔

Continue Reading

uttar pradesh

شمیم حنفی نے تنقیدی و تحقیقی کا رناموں کے علاوہ ڈرا ما نگاری کے حوالے سے بھی انجام دی ہیں لائق تحسین خدمات:پروفیسر کوثر مظہری

Published

on

میرٹھ:تخلیق سے ہی تنقید بنی ہے۔ ریڈیائی ڈرامے اسٹیج پر کامیاب نہیں ہوتے کیونکہ ان کے لیے موسیقی اور پردہ بھی ضروری ہو تا ہے۔ ریڈیائی اور اسٹیج ڈرامے میں جو فرق ہوتا ہے وہ پردہ ہو تا ہے اور یہ پردہ بھی اس طرح کا ہوتا ہے کہ سامعین و ناظرین کو پردہ جوڑے رکھتا ہے۔ شمیم حنفی نے زندگی کے آخری دور میں ڈرامے نہیں لکھے۔یہ الفاظ تھے سابق صدر شعبہئ اردو،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسرصغیر افراہیم کے جو شعبہئ اردو اور ایو ساکے زیر اہتمام منعقد ”شمیم حنفی کی ڈراما نگاری“ موضوع پر اپنی صدارتی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”شمیم حنفی کا”زندگی کی طرف“ ایک اہم ڈراما ہے جس میں پردہ کے پیچھے سے عجیب و غریب آ وازیں آ تی ہیں جن کا تعلق زندگی سے ہوتا ہے۔ ریڈیا ئی ڈراموں میں بہت سی پریشانیاں ہوتی ہیں۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازسعید احمد نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔پروگرام کی سرپرستی معروف ناقد و افسانہ نگار اور صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی اور صدارت کے فرائض معروف ادیب وناقدپروفیسر صغیر افراہیم نے انجام دیے۔ مہمانان کے طور پروفیسر کوثر مظہری ]سابق صدر شعبہئ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی[،پروفیسر عارفہ بشریٰ]صدر شعبہئ اردو، کشمیر یونیورسٹی[، اسلم پرویز]ممبئی[ نے آن لائن شر کت فرمائی۔ لکھنؤ سے ایوسا کی صدر پروفیسر ریشما پروین بھی موجود رہیں۔ استقبالیہ اور تعارفی کلمات فر حت اختر، نظا مت کے فرا ئض شعبہئ اردو کے ریسرچ اسکالر شاہِ زمن اورشکریے کی رسم ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے اداکی۔
پروگرام کا تعارف پیش کرتے ہوئے پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ ریوتی سرن شرما ڈرا ما نگاری کے حوالے سے بڑا نام ہے۔حبیب تنویر اور شمیم حنفی نے ریڈیا ئی ڈراموں کے حوالے سے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ ریڈیو کے لیے ڈرا مے لکھنا آسان کام نہیں ہے۔آواز کے ذریعے کوئی کہانی یا ڈرا ما پیش کرنا بہت مشکل کام ہے۔ شمیم حنفی، عارف نقوی، کرشن چندر،منٹو وغیرہ نے ریڈیو کے لیے ڈرا مے لکھے مگر شمیم حنفی کے ڈراموں کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ شمیم حنفی نے ڈراموں کے حوالے سے جو کام کیے ہیں انہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
پروفیسر کوثر مظہری نے کہا کہ پروفیسر شمیم حنفی کا ادبی دائرہ کافی پھیلا ہوا ہے۔ ان کے ڈرا موں کے مجمو عوں ”زندگی کی طرف“، ”مٹی کا بلا وا“ وغیرہ نے شمیم حنفی کو بڑا مقبول کیا ہے۔ ہما رے شعبے میں بھی شمیم حنفی پر دو ریسرچ اسکالر تحقیق کررہے ہیں اور آپ کے یہاں بھی کام ہورہا ہے تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شمیم حنفی نے تنقیدی و تحقیقی کا رناموں کے ساتھ ساتھ ساتھ ڈرا ما نگاری کے حوالے سے بھی لائق تحسین خدمات انجام دی ہیں۔
پروفیسر عارفہ بشریٰ نے کہا کہ شمیم حنفی نے تحقیق اور تنقید کے میدان میں متعدد کتابیں تحریر کیں۔ ان کو بہت سے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ اگر ان کے ڈرا موں کی بات کریں تو ان کے ڈراموں میں ذہنی کشمکش، زبان کا حسن تہذیبی مسائل کو بہترین انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ زندگی کے بہت سے نئے تجربات ان کے ڈرا موں میں ملتے ہیں۔”مٹی کا بلا وا“ میں چھ ڈرا مے شا مل ہیں۔ اس مجمو عے کا بہترین ڈرا ما”مٹی کا بلا وا“ ہے۔ ”مجھے گھر یاد آتا ہے1988ء میں منظر عام پر آ یا۔ شمیم حنفی کے ڈرا موں میں زمین داری، تہذیب و ثقا فت،ماضی و حال کی کشمکش ملتی ہے۔
اسلم پرویز نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شمیم حنفی نے زیادہ تر ریڈیو ڈرا مے لکھے ہیں اور انہیں ”اندھوں کا رنگ منچ“ کہا جاتا ہے۔ آنکھوں دیکھا حال جو ڈرا موں میں ملتا ہے وہ زیادہ متاثر کرتا ہے۔ شمیم حنفی کے ریڈیو ڈرا موں میں علمی و ادبی کار کردگی ملتی ہے۔ ان کے ریڈیو ڈراموں کو تھو ڑی تبدیلی کے ساتھ اسٹیج پر کھیلا جاسکتا ہے۔ شمیم حنفی کے بیشتر کردار جیتے جاگتے ہوتے ہیں۔ سماجی، سیاسی زندگی کا انتشار ان کے ڈرا موں کی خوبی ہے۔ان کے ریڈیا ئی ڈراموں میں مختلف کردار، خوبصورت مکالمے اور لفظوں کا معنیٰ خیز استعمال ملتا ہے۔ ان کے بیشتر ڈرا موں میں ڈرامائی غزلیات شدت کے سا تھ موجود ہیں۔شمیم حنفی نے اپنے ڈراموں میں بڑی حد تک سماج کی حقیقت کو پیش کیا ہے۔
پروفیسر ریشما پروین نے کہا کہ آج کا مو ضوع بہت اہم ہے۔ آج ہم نے شمیم حنفی کے ڈرا موں کے بارے میں جانا۔ میں آج کے پروگرام سے کا فی استفادہ کیا ہے۔ ہم کبھی کبھی یہ سوچتے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسٹیج ڈرامے اور ریڈیا ئی ڈراموں کے درمیان کیا فرق ہوتا ہے۔ آج کے پروگرام نے بہت سے نئے نکات پر روشنی ڈا لی۔پروگرام سے ڈاکٹرآصف علی،ڈاکٹرشاداب علیم،ڈاکٹر الکا وششٹھ، سیدہ مریم الٰہی،محمد شمشاد اور دیگر طلبہ وطالبات جڑے رہے۔

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network