Connect with us

دلی این سی آر

فاسٹ ٹریک عدالتوں کے لیے 427 اسامیوں کا اعلان

Published

on

نئی دہلی :دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر ترنجیت سنگھ سندھو نے دہلی ہائر جوڈیشل سروس (DHJS) کی نئی تشکیل شدہ 53 عدالتوں کے لیے مختلف زمروں میں 427 اسسٹنٹ عہدوں کی تخلیق کو منظوری دی۔ ایل جی کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ نئی عدالتیں فاسٹ ٹریک اسپیشل کورٹس (FTSCs) بنانے کے لیے قائم کی جا رہی ہیں، اور معاون عملے کی تقرری ان کے مکمل اور موثر کام کرنے کے قابل ہو جائے گی۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ان نئی آسامیوں کی تخلیق سے سرکاری خزانے پر سالانہ 37.37 کروڑ روپے کا بوجھ بڑھے گا۔ان 53 عدالتوں کے لیے 427 منظور شدہ آسامیوں میں 58 ریڈرز/سینئر جوڈیشل اسسٹنٹ، 58 سینئر پرسنل اسسٹنٹ (سٹینو گرافرز)، 58 پرسنل اسسٹنٹ (سٹینو گرافرز)، 58 اہلمد، 58 اسسٹنٹ احمد، 20 کار ڈرائیور، اور 117 ملٹی کنگ اسٹاف شامل ہیں۔ حکام نے بتایا کہ 10 فیصد چھٹیوں کا ریزرو (چھٹیوں کے دوران کام کا احاطہ کرنے کے لیے اضافی عملہ) بھی ان تمام زمروں میں شامل ہے۔بیان میں کہا گیا ہے، “تجویز کا محکمہ انتظامی اصلاحات نے محکمہ قانون کے ساتھ مل کر جائزہ لیا اور منظوری کے لیے سفارش کی۔ پھر محکمہ خزانہ نے اس کے مالیاتی اثرات کی جانچ کی، جس کی رقم ₹37.37 کروڑ بنتی ہے۔” محکمہ خزانہ نے بھی اس تجویز سے اتفاق کیا لیکن ایک شرط عائد کی کہ نئی عدالتی اسامیوں کو پر کرنے سے پہلے موجودہ 415 عدالتوں میں 243 خالی معاون عملہ کی اسامیوں کو ترجیحی بنیادوں پر پُر کیا جائے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتوں کے لیے 53 ڈی ایچ جے ایس (انٹری لیول) اسامیاں لیفٹیننٹ گورنر کی منظوری سے پہلے ہی تخلیق کی جا چکی ہیں، اور منظور شدہ سپورٹ سٹاف کے عہدوں کی منظوری اب ان کے مکمل اور موثر کام کرنے کے قابل ہو جائے گی۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

جامعہ میں ’’مصر: معاشرہ اور ثقافت میری نظر میں‘‘ پر کانفرنس

Published

on

نئی دہلی :انڈیا عرب کلچرل سینٹر ، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے مورخہ دس ستمبر دوہزار چھبیس کو دوپہر ڈھائی بجے اپنے کانفرنس ہال میں ’’مصر: معاشرہ اور ثقافت میری نظر میں‘‘ کے موضوع پر ایک خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا۔ یہ لیکچر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ کمپیوٹر سائنس کے ایسوسی ایٹ ڈاکٹر خالد رضا اورپروفیسر اور عین شمس یونیورسٹی، قاہرہ میں آئی سی سی آر چیئر وزیٹنگ پروفیسر (دوہزار سترہ ۔اٹھارہ) نے دیا۔ ، تقریب کی صدارت نئی دہلی میں مصر کے سفارت خانے کے تعلیمی و ثقافتی بیورو کی سربرا ہ ڈاکٹر آیت سعد احمد نے کی، جب کہ مرکز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد آفتاب احمد نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔
مقرر اور مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے ڈاکٹر آفتاب احمد نے موضوع کا تعارف پیش کیا اور مصر کو نہ صرف قدیم یادگاروں اور تاریخی خزانوں کی سرزمین کے طور پر بلکہ ایک متحرک جدید معاشرے کے حامل ملک کے طور پر بھی اجاگر کیا۔ انھوں نے بتایا کہ مصر اپنے اہراموں، مندروں، مقبروں، فلموں، رقص اور دریائے نیل کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اجلاس کے مقرر کی حیثیت سے ڈاکٹر خالد رضا نے مصری طلبہ کو پڑھانے ، مقامی لوگوں کے ساتھ میل جول (جیسے بازاروں اور ہوٹلوں میں)، وہاں کے انداز خورد ونوش اور پکوانوں کے تجربے ، نیز تاریخی مقامات، بندرگاہوں اور سماجی تقریبات میں شرکت کے اپنے تجربات بیان کیے۔ مقرر نے اس بات پر زور دیا کہ ثقافت کو محض مطالعے کے بجائے عملی تجربے کے ذریعے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ مصری ثقافت میں خاندان اہم کردار ادا کرتا ہے اور وہاں بزرگوں کے احترام اور مضبوط خاندانی تعلقات کو کافی اہمیت دی جاتی ہے۔ مقرر نے مصری عوام کی گرم جوشی اور مہمان نوازی کا رتذکرہ ہوئے روایتی کھانوںجیسے کوشاری، فول مدامس اور مختلف اقسام کی روٹیوں اور میٹھے پکوانوں کا بھی ذکر کیا جو مصر کی منفرد غذائی ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔
تقریب کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر آیت سعد احمد نے اس بات پر زور دیا کہ مصر کو محض اہرام اور فرعونوں کی سرزمین کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ ایک زندہ معاشرہ ہے جس کی ثقافت ہزاروں سال کی تاریخ کے دوران پروان چڑھی ہے اور آج بھی ارتقا کے عمل سے گزر رہی ہے۔ انھوں نے طلبہ سے کہا کہ وہ ثقافتی تنوع کی قدر کریں اور براہِ راست مشاہدے اور تجربے کے ذریعے دیگر معاشروں کو سمجھیں۔ ان کا ماننا تھا کہ سماجی میل جول، تقریبات اور اجتماعات اکثر کمیونٹی اور باہمی وابستگی کے مضبوط احساس کی عکاسی کرتے ہیں۔ بھارت کے ساتھ مصر کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے تعلیم، ادب، سنیما، موسیقی اور فنونِ لطیفہ جیسے شعبوں میں باہمی تعاون کیا ہے۔ بھارتی فلموں اور موسیقی کو مصری شائقین میں مقبولیت حاصل رہی ہے ، جب کہ مصری ادب، تاریخ اور سنیما نے بھارت میں لوگوں کی دلچسپی کو اپنی جانب راغب کیا ہے۔ ثقافتی میلوں اور تعلیمی تبادلوں نے دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کی روایات سے آگاہی حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے ہیں۔لیکچر میں یونیورسٹی کے مختلف شعبوں اور مراکز کے اساتذہ اور اسکالرس نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

Continue Reading

دلی این سی آر

عازمین حج کی میڈیکل جانچ کی مدت میں توسیع،اب 30ستمبر تک جانچ کرا سکتے ہیں

Published

on

نئی دہلی:دلی سرکار کے 25 اسپتالوں میں جاری حج 2027 کے لیے منتخب عازمین حج کی پہلے مرحلے کی ابتدائی صحت جانچ اور فٹنس سر ٹیفکیٹ کے حصول اور حج کمیٹی میں جمع کرنے کی مدت میں توسیع کردی گئی ہے۔دلی اسٹیٹ حج کمیٹی کے ایگزیکٹو آفیسر اشفاق احمد عارفی کی طرف سے جاری پریس بیانیے کے مطابق اب عازمین حج اس ماہ کی آخری تاریخ یعنی 30 ستمبر تک کسی بھی سرکاری اسپتال سے حج کمیٹی آف انڈیا کے مقررہ پروفارمے میں فٹنس سر ٹیفکیٹ حاصل کر نے کے بعد یکم اکتوبر تک اپنی فٹنس سر ٹیفکیٹ اور حج اخراجات کی پیشگی رقم کی رسید،حج کمیٹی آف انڈیا کے پورٹل پر اپلوڈ کر سکتے ہیں یا دلی اسٹیٹ حج کمیٹی کے دفتر،حج منزل میں جمع کراسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے جاری سرکلر نمبر گیارہ کے مطابق غیر ملکوں میں مقیم عازمین حج اپنے رہائشی ملک میں ترجیحی طور پر کسی سرکاری اسپتال سے حاصل کردہ فٹنس سرٹیفکیٹ اپلوڈ کر سکتے ہیں۔
واضح ہو کہ میڈیکل اسکریننگ اور فٹنس سرٹیفکیٹ کے لیے متعینہ طبی جانچ مثلاً سی بی، ٹی، ایل ایف ٹی،کے ایف ٹی، سینے کا ایکسرے،بلڈ شوگر اور ای سی جی کی رپورٹ صر ف سرکاری اسپتالوں،سرکاری جانچ مراکز سے ہی کرانا لازمی ہے۔ کسی پرائیویٹ اسپتال یا پرائیویٹ لیب کی رپورٹ قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ دلی کے عازمین حج کے لیے حکومت دلی نے 25 سرکاری اسپتالوں میں انتظامات کو یقینی بنایا ہے۔ان اسپتالوں میں ایل این جی پی اسپتال،دلی گیٹ، سی ٹی بی اسپتال،شاہدرہ، جی بی پنتھ ہسپتال،دلی گیٹ، ہیڈ گوار اسپتال،جگ پرویش اسپتال، ارونا آصف علی اسپتال، مدن موہن مالویہ اسپتال وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھی کسی دُوسرے سرکاری اسپتال سے میڈیکل جانچ اور فٹنس سر ٹیفکیٹ حاصل کرسکتے ہیں۔ان اسپتالوں میں ایک دن میں عازمین حج کی مخصوص تعداد کو ہی رجسٹر کیا جاتا ہے اس لیے عازمین صبح 9 بجے تک میڈیکل اسکریننگ سرٹیفکیٹ کا ابتدائی حصہ خود بھر کر اپنے اصل آدھار کارڈ اور اس کی فوٹو کاپی اور اپنے8 یا10 فوٹو کے ساتھ اسپتالوں میں رپورٹ کریں۔

Continue Reading

دلی این سی آر

دہلی میٹرو کی گولڈن لائن پر کام آخری مراحل میں

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی : دہلی میٹرو کی نئی گولڈن لائن پر کام تقریباً اپنے آخری مراحل میں ہے۔ جلد ہی، آپ اس لائن پر میٹرو کو آسانی سے چلتے ہوئے دیکھیں گے، جس سے ہوائی اڈے اور جنوبی دہلی کے علاقوں کے درمیان آسانی سے سفر کیا جا سکتا ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس لائن کا پہلا حصہ سال کے آخر تک یعنی دسمبر تک کھل جائے گا۔ معلوم کریں کہ اس لائن کے کھلنے سے سفر کتنا آسان ہو جائے گا۔دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کے مطابق، ایروسٹی-تغلق آباد گولڈن لائن پر 83 فیصد سول ورک مکمل ہو چکا ہے۔ اس پر غور کرتے ہوئے اندازہ لگایا گیا ہے کہ پہلے مرحلے کا ایک حصہ اس سال دسمبر تک کھول دیا جائے گا۔ پہلا مرحلہ تغلق آباد اور سنگم وہار کے درمیان تقریباً ساڑھے آٹھ کلومیٹر کے حصے کو کھولے گا۔ اس سیکشن میں کل چار اسٹیشن ہوں گے۔ ان میں سے تین اسٹیشنز زیر زمین ہوں گے جبکہ باقی ایک ایلیویٹڈ ہوگا۔
گولڈن لائن دہلی میٹرو کے فیز 4 کے تحت تعمیر کی جانے والی ایک نئی میٹرو لائن ہے۔ اسے پہلے سلور لائن کا نام دیا گیا تھا۔ یہ تقریباً 25.8 کلو میٹر لائن جنوبی دہلی کو اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ٹرمینل 1 سے جوڑے گی۔ تعمیر جون 2022 میں شروع ہوئی اور اب اسے 2026 کے آخر تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔قطب مینار اور مہرولی آرکیالوجیکل پارک جیسے تاریخی مقامات کو نقصان پہنچانے سے بچنے کے لیے لائن کا راستہ تبدیل کر دیا گیا۔ جنوری 2024 میں اس کا نام سلور لائن سے بدل کر گولڈن لائن کر دیا گیا۔ سریتا وہار ڈپو کو بھی گولڈن لائن کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ ڈپو فی الحال دہلی میٹرو کی وائلٹ لائن کے لیے ٹرینیں چلاتا ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network