Bihar
عوامی مسائل کے فوری حل کوبنایا جائے یقینی ،مظفرپور آتشزدگی واقعہ کے قصورواروں کے خلاف ہوگی سخت کارروائی:نشانت کمار
(پی این این)
حاجی پور:بہار کے مظفرپور میں پیش آئے المناک آتشزدگی کے واقعے پر ریاستی حکومت سرگرم نظر آ رہی ہے۔ ویشالی ضلع کے انچارج وزیر اور بہار کے وزیرِ صحت نشانت کمار نے اس حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی جانچ کرانے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا یقین دلایا ہے۔
ویشالی ضلع میں منعقدہ بیس نکاتی نفاذ کمیٹی کی اہم میٹنگ میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ حادثہ نہایت افسوسناک ہے اور حکومت متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلانے کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہے۔ واقعے کی اعلیٰ سطحی جانچ ہوگی، ذمہ داروں کو بخشا نہیں جائے گا وزیرِ صحت نشانت کمار نے کہا کہ مظفرپور آتشزدگی واقعے کی مکمل اور تفصیلی تحقیقات کرائی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آگ لگنے کی اصل وجہ کیا تھی اور اس کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما تھے۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ جانچ رپورٹ سامنے آنے کے بعد جو بھی فرد، ادارہ یا انتظامیہ کی جانب سے لاپروائی کا مرتکب پایا جائے گا، اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔ متاثرین سے ہمدردی، زخمیوں کے بہتر علاج کی ہدایت حادثے میں جان گنوانے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ صحت نے کہا کہ خدا مرحومین کے لواحقین کو اس صدمے کو برداشت کرنے کی طاقت عطا فرمائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور محکمۂ صحت کو ہدایت دی گئی ہے کہ حادثے میں جھلسنے اور زخمی ہونے والے تمام افراد کو اسپتالوں میں بہترین اور مفت طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
بیس نکاتی کمیٹی کی میٹنگ میں ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ مظفرپور آتشزدگی کے حوالے سے بیان دینے سے قبل وزیرِ صحت نشانت کمار کی صدارت میں ویشالی ضلع کی بیس نکاتی کمیٹی کی میٹنگ منعقد ہوئی۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں ضلع میں جاری مختلف عوامی فلاحی منصوبوں اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزیر نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ تمام منصوبے مقررہ مدت کے اندر معیاری انداز میں مکمل کیے جائیں اور عوامی مسائل کے فوری حل کو یقینی بنایا جائے۔ پی ایچ ای ڈی کے وزیر جناب سنجے سنگھ،وزیر جناب لکھیندر روشن اور جے ڈی یو کے ریاستی صدر جناب امیش کشواہا بھی موجود رہے۔اجلاس میں ان سینئر رہنماؤں نے بھی ضلع میں جاری انتظامی اور ترقیاتی سرگرمیوں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور مقامی عوامی نمائندوں کے ساتھ بہتر تال میل کے ذریعے ترقیاتی کاموں کو تیز رفتار بنانے پر زور دیا۔
Bihar
سنجے یادو کا کولیجیم نظام کو ختم کرنے اور ججوں کی تقرری میں ریزرویشن نافذ کرنے کامطالبہ
مظفرپور:راجیہ سبھا میں سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ترمیمی بل 2026پر بحث کے دوران راشٹریہ جنتا دل (آرجے ڈی) کے نوجوان اور شعلہ بیاں رکن پارلیمنٹ سنجے یادو نے مودی حکومت اور موجودہ عدالتی نظام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے طریقے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جس ملک میں ایک چپراسی کی نوکری کے لیے بھی غریب کے بچے کو کٹھن امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے، وہاں اتنے بڑے اور اہم عہدوں پر ججوں کی تقرری بنا کسی امتحان کے کیسے ہو جاتی ہے؟ انہوں نے مروجہ کولیجیم نظام کو جمہوریت کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
راجیہ سبھا میں اپنی مدلل اور تیکھی تقریر کے دوران آرجے ڈی ایم پی نے ملک کے سماجی ڈھانچے اور عدالتی نمائندگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ سنجے یادو نے ایوان کو بتایا کہ “یہ کتنی بڑی ناانصافی ہے کہ ملک کی 85 فیصد آبادی دلت، آدیواسی اور پسماندہ طبقات (او بی سی ایس سی ٹی) پر مشتمل ہے، لیکن جب ہم اعلیٰ عدلیہ (ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ) کی طرف دیکھتے ہیں تو وہاں ان مظلوم طبقات کے ججوں کی تعداد ایک فیصد بھی نہیں ہے۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ عدلیہ میں سماجی انصاف کو یقینی بنانے کے لیے ججوں کی تقرری میں ریزرویشن (آرکشن) کا نظام فوری طور پر نافذ کیا جانا چاہیے۔
سنجے یادو نے عدالتی نظام میں شفافیت اور عوامی جوابدہی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے حکومت کے سامنے پانچ اہم مطالبات رکھے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی بھرتی کے لیے آل انڈیا جوڈیشل سروس (اے آئی جے ایس) کے تحت سول سروسز کی طرز پر ملک گیر امتحان کا انعقاد ہونا چاہیے تاکہ غریب اور پسماندہ طبقے کے قابل نوجوانوں کو جج بننے کا موقع مل سکے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ کس جج کو کس بنیاد پر ترقی دی گئی یا مقرر کیا گیا ہے، لہٰذا تقرری کی تمام وجوہات اور دستاویزات کو پبلک کیا جائے۔
پارلیمنٹ میں سنجے یادو کے اس تیکھے تیور اور جرات مندانہ موقف کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اور سیاسی حلقوں میں اس پر گہما گہمی شروع ہو گئی ہے۔
Bihar
بانکی پور میں بی جے پی کا قلعہ منہدم،نتن نوین کے مضبوط گڑھ میں بی جے پی کے نیرج کودی بری طرح سے شکست،پرشانت کشور کی این ڈی اے کی اعلیٰ قیادت سے بہار کے لیے’اہل اور ایماندار‘ وزیر اعلیٰ منتخب کرنے کی اپیل
(پی این این)
پٹنہ:بہار کے دارالحکومت پٹنہ کی بانکی پور اسمبلی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب کے نتائج کی گونج پورے ملک میں سنائی دے رہی ہے۔ اس نشست سے انتخابی حکمتِ عملی ساز اور جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے مضبوط گڑھ سمجھی جانے والی اس نشست پر بی جے پی امیدوار نیرج کمار کو شکست دے دی۔
الیکشن کمیشن کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، پرشانت کشور نے بی جے پی امیدوار نیرج کمار کو 19,324 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ کمیشن کے مطابق 32وں مرحلوں کی ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد پرشانت کشور کو 64,151 ووٹ حاصل ہوئے، جبکہ بی جے پی کے نیرج کمار کو 44,827 ووٹ ملے۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی امیدوار ریکھا کماری 14,273 ووٹوں کے ساتھ تیسرے مقام پر رہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر نتن نوین کے مضبوط سیاسی گڑھ بانکی پور میں جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے بی جے پی امیدوار نیرج سنہا کو بھاری فرق سے شکست دے دی۔ ووٹوں کی گنتی کے آغاز ہی سے پرشانت کشور مسلسل سبقت بنائے رکھے، جو آخر تک برقرار رہی۔واضح رہے کہ بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب کے لیے 30 جولائی کو ووٹنگ ہوئی تھی، جس میں تقریباً 35 فیصد رائے دہندگان نے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔
اسی دوران، اپنی تاریخی کامیابی کے بعد پرشانت کشور کے ایک بیان پر بھی خاصی توجہ دی جا رہی ہے۔ پیر کے روز انہوں نے کہا کہ’’بانکی پور ایک رات میں بنگلورو نہیں بن سکتا، تاہم میری جیت کے بعد اس اسمبلی حلقے میں واضح اور مثبت تبدیلی ضرور نظر آئے گی۔‘‘وہیں پرشانت کشور نے آج بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی اعلیٰ قیادت سے بہار کے لیے ایک “اہل، ایماندار اور ترقی پسند” شخص کو وزیر اعلیٰ مقرر کرنے کی اپیل کی۔ مسٹر کشور نے دعویٰ کیا کہ بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب کے نتائج نے ریاست کی قیادت میں تبدیلی کے لیے عوام کی خواہش کو واضح کر دیا ہے۔
انہوں نے بانکی پور ضمنی انتخاب میں جیت کی طرف بڑھتے ہوئے گنتی مرکز کے باہر نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کو 202 ایم ایل ایز کا مینڈیٹ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب بی جے پی کی ذمہ داری ہے کہ وہ بہار کی قیادت کسی ایسے شخص کے سپرد کرے جس کا عکس بے داغ ہو اور جو تعلیم، روزگار اور گڈ گورننس کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ہجرت (مائگریشن) کو روک سکے۔
مسٹر کشور نے کہا کہ بہار کو ایک ایسے اچھے اور اہل وزیر اعلیٰ کی ضرورت ہے جو معیاری تعلیم فراہم کرے، روزگار کے مواقع پیدا کرے اور بہاریوں کے وقار کو بحال کرے۔انہوں نے کسی متبادل لیڈر کا نام لیے بغیر کہا کہ ان کی مخالفت کسی فرد یا پارٹی سے نہیں بلکہ’’کمزور قیادت‘‘سے ہے۔ وزیر اعلیٰ مسٹر چودھری کا نام لیے بغیر ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ ان سے لوگ اچھی طرح واقف ہیں اور اگر ایسی ہی قیادت برقرار رہی تو بہار کی ترقی پر برا اثر پڑے گا۔
Bihar
ضلع مجسٹریٹ سے سیمانچل یوا سنگٹھن جوکی ہاٹ کی ملاقات
ارریہ:سوموار کو سیمانچل یوتھ آرگنائزیشن، جوکی ہاٹ کے ایک وفد نے ضلع مجسٹریٹ، ارریہ سے ملاقات کرکے +2 سرکاری امداد یافتہ ہائی اسکول، جوکی ہاٹ کے احاطے میں تعمیر شدہ اقلیتی طلبہ ہاسٹل کو فوری طور پر فعال کرنے اور ہائی اسکول کے میدان نیز اس سے متصل عوامی سڑک پر برسوں سے قائم غیر قانونی تجاوزات اور سبزی منڈی کے مسئلے سے متعلق ایک تفصیلی عرضداشت پیش کی۔ وفد نے ضلع مجسٹریٹ کو بتایا کہ اقلیتی طلبہ ہاسٹل کی عمارت مکمل ہونے کے باوجود آج تک اسے طلبہ کے لیے نہیں کھولا گیا، جس کے باعث سیمانچل کے غریب اور اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ اس بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔
اس سلسلے میں مختلف محکموں اور متعلقہ حکام کو پہلے بھی متعدد بار درخواستیں دی جا چکی ہیں، جن کی تفصیلات بھی ضلع مجسٹریٹ کے سامنے پیش کی گئیں۔ اس موقع پر وفد نے جوکی ہاٹ ہائی اسکول کے میدان اور اس سے گزرنے والی عوامی سڑک پر قائم غیر قانونی سبزی منڈی اور تجاوزات کا معاملہ بھی اٹھایا۔ وفد نے کہا کہ اس تجاوز کی وجہ سے روزانہ ہزاروں طلبہ، اساتذہ اور سرپرستوں کو اسکول آنے جانے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سڑک پر ہر وقت ٹریفک جام رہتا ہے، حادثات کا خدشہ برقرار رہتا ہے، جبکہ اسکول کا واحد کھیل کا میدان بھی بری طرح متاثر ہو چکا ہے، جس سے طلبہ کی کھیل، ثقافتی اور دیگر تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
ضلع مجسٹریٹ نے دونوں معاملات کو سنجیدگی سے سنتے ہوئے وفد کو یقین دلایا کہ اقلیتی طلبہ ہاسٹل کو جلد از جلد فعال بنانے کے لیے متعلقہ محکموں اور ذمہ دار افسران کو ضروری ہدایات جاری کی جائیں گی۔ ساتھ ہی اسکول مینجمنٹ کمیٹی سے بھی وضاحت طلب کی جائے گی کہ اب تک ہاسٹل کے آغاز میں تاخیر کیوں ہوئی۔ مزید برآں ضلع مجسٹریٹ نے ہائی اسکول میدان اور عوامی سڑک پر قائم تجاوزات کی فوری جانچ کرا کر ضروری کارروائی کرنے اور متعلقہ محکموں کو تجاوزات ہٹانے کے لیے مناسب ہدایات جاری کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔
، تاکہ طلبہ اور عام شہریوں کو محفوظ اور آسان آمد و رفت کی سہولت میسر آ سکے۔
سیمانچل یوتھ آرگنائزیشن نے ضلع مجسٹریٹ کے مثبت اور سنجیدہ رویے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انتظامیہ کی مؤثر کارروائی سے اقلیتی طلبہ ہاسٹل جلد فعال ہوگا اور ہائی اسکول کا میدان اور عوامی سڑک تجاوزات سے پاک ہو کر دوبارہ طلبہ اور عوام کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔
تنظیم نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ تعلیم، طلبہ کے حقوق اور عوامی مفاد سے وابستہ مسائل کو آئندہ بھی آئینی، جمہوری اور پرامن طریقے سے انتظامیہ کے سامنے اٹھاتی رہے گی۔
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
