Connect with us

Bihar

سرکاری پالیسیوں اور آن لائن دوا فروخت کے خلاف گیاجی میں 2500 میڈیکل دکانیں رہیں بند

Published

on

(پی این این)
گیاجی : آن لائن دوا فروخت کو فروغ دینے والی سرکاری پالیسیوں اور ای-فارمیسی نظام کے خلاف بدھ کو گیا ضلع کی قریب 2500 میڈیکل دکانیں بند رہیں۔ گیا ضلع دوا وکرِیتا سنگھ کے آہوان پر ہوئے اس بند کا اثر پورے ضلع میں دیکھنے کو ملا۔ شہر سے لے کر دیہی علاقوں تک بیشتر میڈیکل دکانوں پر تالے لٹکے رہے، جس کے باعث مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو دوائیں حاصل کرنے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔شہر کے فتح بہادر شیوالہ روڈ واقع دوا تھوک منڈی تحریک کا مرکز بنی رہی۔ صبح سے ہی سنگھ کے عہدیداران وہاں موجود رہے اور بند کو کامیاب بنانے میں مصروف دکھائی دیے۔ تنظیم کے رہنماؤں نے حکومت کی دوا سے متعلق پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آن لائن دوا کمپنیوں کو مسلسل فروغ دیا جا رہا ہے، جس سے چھوٹے اور متوسط درجے کے دوا کاروباریوں کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔
دوا کاروباریوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے آن لائن دوا فروخت یعنی ای-فارمیسی کو منظم کرنے کے لیے ڈرگس اینڈ کاسمیٹکس رولز کے تحت ڈرافٹ ضوابط تیار کیے ہیں، جن کے تحت آن لائن کمپنیوں کو پورے ملک میں دواؤں کی فروخت کی اجازت دینے کی تجویز رکھی گئی ہے۔ ان ضوابط میں ای-فارمیسی کمپنیوں کو سینٹرل ڈرگس اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن (سی ڈی ایس سی او) میں رجسٹریشن کرانے اور ایک ریاست سے لائسنس لے کر پورے ملک میں دوا فروخت کرنے کی چھوٹ دینے کا بھی انتظام شامل ہے۔ سنگھ کا الزام ہے کہ انہی پالیسیوں کے سبب بڑی آن لائن کمپنیاں بھاری رعایت، کیش بیک اور مختلف آفر دے کر بازار پر قبضہ جما رہی ہیں، جبکہ مقامی میڈیکل دکانداروں کو لائسنس، جی ایس ٹی، ملازمین کی تنخواہ، بجلی بل اور دیگر اخراجات کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ کاروباریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی پالیسیاں کارپوریٹ کمپنیوں کو فائدہ پہنچا رہی ہیں، جبکہ برسوں سے دوا کاروبار سے وابستہ چھوٹے دکاندار معاشی بحران کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔
سنگھ کے سکریٹری نے کہا کہ آن لائن دوا فروخت سے صرف کاروبار ہی متاثر نہیں ہو رہا بلکہ مریضوں کی حفاظت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی مرتبہ بغیر مناسب جانچ اور ڈاکٹری مشورے کے دوائیں فراہم کر دی جاتی ہیں، جس سے صحت سے متعلق خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ مقامی دوا دکانوں پر تربیت یافتہ فارماسسٹ موجود رہتے ہیں، جو مریضوں کو صحیح مشورہ اور دوا سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں۔اگرچہ بندی کے دوران تنظیم نے ایمرجنسی خدمات جاری رکھیں۔
سنگھ کی جانب سے ضرورت مند مریضوں کے لیے ضروری دواؤں کا انتظام کیا گیا تھا۔ عہدیداران نے کہا کہ ان کی لڑائی عام عوام سے نہیں بلکہ ان سرکاری پالیسیوں سے ہے جو چھوٹے کاروباریوں کو کمزور کر رہی ہیں۔تنظیم کے مطابق گیا ضلع میں روزانہ تقریباً 10 کروڑ روپے کا دوا کاروبار ہوتا ہے۔ ایسے میں ایک دن کی بندی سے کروڑوں روپے کے کاروبار پر اثر پڑا ہے۔ دوا کاروباریوں نے انتباہ دیا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا تو تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا۔

Bihar

ماحولیات کو صاف ستھرا رکھنا ہم سب کی ذمہ داری : نیہا دے

Published

on

حاجی پو: ماحولیاتی تحفظ کے پیغام کو لیکر دی یونیورسٹی بردھوان کے ایم بی اے ایچ آر ڈپارٹمنٹ کی طالبات نے ایک مہم کے دوران پچھم بنگال کے دارجلنگ ضلع واقع مشہورمیریک لیک کے قریب درجنوں سیاحوں کو بیدار کیا۔ اس دوران اس مہم کی قیادت کر رہی محترمہ نیہا دے نے سیاحوں کے درمیان درجنوں طالبات کے ساتھ مختلف پیغام کی تختی ہاتھوں میں لیکر عوامی بیداری مہم چلائیں اور کہاکہ صاف ستھرا ماحول قائم رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اپنے پیغام میں ان سبھی نے کوڑا کو ڈسٹ بین میں ڈالنے، پلاسٹک کا استعمال نہیں کرنے، اپنے آس پاس کے جگہ کو صاف ستھرا رکھنے جیسے اہم فریضہ انجام دینے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر وِیشالی ضلع کے مشہور صحافی محمد شاہ نواز عطا و دیگر سیاحوں کے فیملیز کو ماحولیاتی تحفظ اور ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے مختلف طریقوں کو زندگی میں اپنانے کی تلقین کی۔ جس میں پانی کا خرچ کم سے کم کرنا، کچرا نہیں پھیلانے،ندی،تالاب،جھیل کو گندگی سے پاک کرنے وغیرہ ہم سمیت دیگر کئی اہم نکات بتایا۔ اس موقع پر دی یونیورسٹی بردھوان کے ایم بی اے ایچ آر ڈپارٹمنٹ کی محترمہ اسنگدھا بساک، مدھوریما چٹرجی، اونڈریلا پاترا، رابعہ خاتون، نیہا گپتا، موپیا لاہا، پرتکچھا ملک، سوویچھا مجومدار، ترینا چکرورتی،ایلیشا شبنم مدھیا وغیرہ ہم موجود تھیں۔

Continue Reading

Bihar

نتیش کمار کے اشارے پر ہورہا ہے سب کچھ، سیکورٹی واپس لینے اور رابڑی دیوی کے بنگلہ تنازعہ پر آرجے ڈی سپریمو کا سخت ردعمل

Published

on

پٹنہ:تقریباً ایک ماہ سے بہار میں سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی کی 10 سرکلر روڈ، پٹنہ میں واقع رہائش گاہ کو خالی کرنے پر سیاست چل رہی ہے۔ یہ مسئلہ ابھی جاری ہی تھا،کہ اسی دوران ریاستی حکومت نے لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی کو فراہم کردہ زیڈ پلس سیکورٹی واپس لے لی۔ بنگلہ تنازعہ اور سیکورٹی واپس لینے کا معاملہ اتنا گرم ہوا کہ لالو پرساد یادو اور تیجسوی یادو سمیت آر جے ڈی کے کئی لیڈروں نے اپنی سیکورٹی بھی واپس کردی۔ اب لالو پرساد یادو نے رابڑی کی رہائش گاہ خالی کرنے اور سیکورٹی واپس کرنے کے معاملے پر ردعمل دیا ہے۔
اپنے بیان میں لالو پرساد یادو نے براہ راست سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار پر الزام لگایا۔ آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو نے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو اپنی اور اپنے اہل خانہ کے لیے سیکورٹی واپس لینے اور رہائش گاہ خالی کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ پٹنہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ نتیش کمار یہ سب کچھ کرا رہے ہیں۔ جب پٹنہ میں نامہ نگاروں نے لالو پرساد یادو سے پوچھا کہ کیا ان کی سیکورٹی واپس لے لی گئی ہے، تو انہوں نے جواب دیا، “ہاں، سیکورٹی واپس لے لی گئی ہے۔ اورنتیش کمار نے ہی یہ سب کروایا ہے۔
لالو یادو کے اس بیان نے اس معاملے پر ایک نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ جے ڈی یو کے ترجمان نیرج کمار نے لالو پرساد یادو کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ رابڑی دیوی نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ بیمار ہیں اور انہیں اپنی رہائش گاہ خالی کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت درکار ہے۔ تاہم لالو پرساد یادو بیمار نہیں ہیں، جیسا کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں۔ نتیش کمار ایسا کیوں کریں گے؟ نتیش کمار وزیر اعلیٰ نہیں بلکہ ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ ہیں۔ اگر آپ نتیش کمار کے کہنے پر بول رہے ہیں تو آپ نتیش کمار کی مثال پر کیوں نہیں چلتے؟ نتیش کمار نے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ خالی کر دی ہے، آپ کیوں نہیں کرتے؟ نتیش کمار آپ جو الزامات لگا رہے ہیں وہ سیاسی طور پر اہم ہیں کیونکہ ان کا ووٹ بینک ختم ہو رہا ہے۔ اس لیے وہ یہ بیان دے رہے ہیں، اور کوئی اور وجہ نہیں ہے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل بہار میں سمراٹ چودھری حکومت نے راشٹریہ جنتا دل کے سپریمو لالو پرساد یادو اور سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی کو دی گئی زیڈ پلس کیٹیگری کی سیکورٹی واپس لے لی تھی۔ ریاستی حکومت نے دلیل دی کہ سیکورٹی کم کرنے کا فیصلہ ریاستی سیکورٹی کمیٹی کی سفارشات پر مبنی ہے، جس کا اجلاس 4 جون کو ہوا تھا۔ حکومت نے کہا کہ یہ کمیٹی وقتاً فوقتاً سیکورٹی کیٹیگریز کا جائزہ لیتی ہے اور اپنی سفارشات پیش کرتی ہے۔
تاہم سیکورٹی ہٹانے سے ناراض لالو اور رابڑی نے اپنی رہائش گاہ کے باہر تعینات پولیس اہلکاروں کو وہاں سے جانے کا حکم دیا۔ اس کے بعد کئی آر جے ڈی لیڈران اور کارکنان کو رابڑی کی رہائش گاہ کے باہر دن اور رات شدید گرمی میں پہرہ دیتے ہوئے دیکھا گیا۔ آر جے ڈی لیڈروں نے بھی حکومت پر بدنیتی سے کام لینے کا الزام لگایا۔ اس تنازعہ کے درمیان حکومت نے رابڑی کی رہائش گاہ کے باہر تقریباً 42 سیکورٹی اہلکاروں کو دوبارہ تعینات کر دیا۔

Continue Reading

Bihar

بچوں کی ہمہ جہت ترقی پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت، ڈی ایل ایس اے کی سکریٹری سنجنا گاندھی نے کیا معائنہ

Published

on

سیتامڑھی: نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی (نالسا)، نئی دہلی اور بہار اسٹیٹ لیگل سروسز اتھارٹی (بالسا)، پٹنہ کی ہدایات کی روشنی میں، ضلع قانونی خدمات اتھارٹی (ڈی ایل ایس اے)، سیتامڑھی کے چیئرمین و پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج اکھلیش کمار جھا کی رہنمائی میں ڈی ایل ایس اے کی سکریٹری سنجنا گاندھی نے بدھ کے روز سمرا، سیتامڑھی میں واقع خصوصی گود لینے کے ادارے (اسپیشل ایڈاپشن ایجنسی) اور چلڈرن کیئر ہوم کا معائنہ کیا۔معائنے کے دوران خصوصی گود لینے کے ادارے میں دو بچے موجود پائے گئے۔ سکریٹری نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ بچوں کے لیے موسم کے مطابق لباس، غذائیت سے بھرپور خوراک اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے ادارے کے کوآرڈینیٹر کو بچوں کی حفاظت، صحت اور دیکھ بھال میں کسی بھی قسم کی غفلت نہ برتنے کی سخت تاکید بھی کی۔ اسی طرح چلڈرن کیئر ہوم میں کل 19 بچے موجود پائے گئے۔ معائنے کے دوران سنجنا گاندھی نے بچوں کی صفائی ستھرائی، متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک، معیاری تعلیم اور بہتر طبی سہولیات پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت دی۔ انہوں نے بچوں کی تعلیمی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لینے کے لیے وقتاً فوقتاً ٹیسٹ امتحانات منعقد کرنے کا بھی مشورہ دیا۔ سکریٹری نے کہا کہ بچوں کی جسمانی، ذہنی، تعلیمی اور سماجی نشوونما کے لیے بہتر ماحول فراہم کرنا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع قانونی خدمات اتھارٹی بچوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network