تازہ ترین
مظفرپور میں مفت طبی کیمپ کا انعقاد،ماہر ڈاکٹروں نے دی صحت سے متعلق رہنمائی،سیوا ٹرسٹ کی پہل، بچوں اور خواتین سمیت مختلف امراض کے مریضوں کو ملی طبی سہولت، مفت ادویات بھی تقسیمسپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں کیا جائیگا اردو ٹی ای ٹی امیدواروں کا مقدمہ دائرارریہ: سدبھاونا منچ کے اراکین نے مختلف درگا پوجا پنڈالوں کاکیا دورہ، باہمی محبت اور بھائی چارے کا دیا پیغام،وسرجن میں شامل ہونے والے افراد کا استقبال اور کیا جائے گا اعزازسرسید احمد خاں نے قوم کو تعلیم کی اہمیت سے کرایاروشناس ،اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام یومِ سرسید کی پر تقریب کا انعقادوائس چانسلر نعیمہ خاتون کے ہاتھوں دس کتابوں کا اجرا ،یوم سر سید پر سر سید اکیڈمی کی جانب سےتقریب رسم اجرا کا انعقاددھام پور میں جشنِ سرسید تقریب کا انعقاد، عصری علوم کے حصول پرزور،سرسید احمد خاں کی خدمات کوپروقار اور شاندار انداز میںپیش کیاگیا خراجِ عقیدت5 افراد کی موت کے معاملے میں بہن، بہنوئی سمیت تین گرفتاردہلی حکومت جمنا کو صاف کرنے کے لیےکر رہی ہے کام : سی ایم ریکھا
Bihar

سرکاری پالیسیوں اور آن لائن دوا فروخت کے خلاف گیاجی میں 2500 میڈیکل دکانیں رہیں بند

(پی این این)
گیاجی : آن لائن دوا فروخت کو فروغ دینے والی سرکاری پالیسیوں اور ای-فارمیسی نظام کے خلاف بدھ کو گیا ضلع کی قریب 2500 میڈیکل دکانیں بند رہیں۔ گیا ضلع دوا وکرِیتا سنگھ کے آہوان پر ہوئے اس بند کا اثر پورے ضلع میں دیکھنے کو ملا۔ شہر سے لے کر دیہی علاقوں تک بیشتر میڈیکل دکانوں پر تالے لٹکے رہے، جس کے باعث مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو دوائیں حاصل کرنے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔شہر کے فتح بہادر شیوالہ روڈ واقع دوا تھوک منڈی تحریک کا مرکز بنی رہی۔ صبح سے ہی سنگھ کے عہدیداران وہاں موجود رہے اور بند کو کامیاب بنانے میں مصروف دکھائی دیے۔ تنظیم کے رہنماؤں نے حکومت کی دوا سے متعلق پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آن لائن دوا کمپنیوں کو مسلسل فروغ دیا جا رہا ہے، جس سے چھوٹے اور متوسط درجے کے دوا کاروباریوں کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔
دوا کاروباریوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے آن لائن دوا فروخت یعنی ای-فارمیسی کو منظم کرنے کے لیے ڈرگس اینڈ کاسمیٹکس رولز کے تحت ڈرافٹ ضوابط تیار کیے ہیں، جن کے تحت آن لائن کمپنیوں کو پورے ملک میں دواؤں کی فروخت کی اجازت دینے کی تجویز رکھی گئی ہے۔ ان ضوابط میں ای-فارمیسی کمپنیوں کو سینٹرل ڈرگس اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن (سی ڈی ایس سی او) میں رجسٹریشن کرانے اور ایک ریاست سے لائسنس لے کر پورے ملک میں دوا فروخت کرنے کی چھوٹ دینے کا بھی انتظام شامل ہے۔ سنگھ کا الزام ہے کہ انہی پالیسیوں کے سبب بڑی آن لائن کمپنیاں بھاری رعایت، کیش بیک اور مختلف آفر دے کر بازار پر قبضہ جما رہی ہیں، جبکہ مقامی میڈیکل دکانداروں کو لائسنس، جی ایس ٹی، ملازمین کی تنخواہ، بجلی بل اور دیگر اخراجات کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ کاروباریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی پالیسیاں کارپوریٹ کمپنیوں کو فائدہ پہنچا رہی ہیں، جبکہ برسوں سے دوا کاروبار سے وابستہ چھوٹے دکاندار معاشی بحران کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔
سنگھ کے سکریٹری نے کہا کہ آن لائن دوا فروخت سے صرف کاروبار ہی متاثر نہیں ہو رہا بلکہ مریضوں کی حفاظت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی مرتبہ بغیر مناسب جانچ اور ڈاکٹری مشورے کے دوائیں فراہم کر دی جاتی ہیں، جس سے صحت سے متعلق خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ مقامی دوا دکانوں پر تربیت یافتہ فارماسسٹ موجود رہتے ہیں، جو مریضوں کو صحیح مشورہ اور دوا سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں۔اگرچہ بندی کے دوران تنظیم نے ایمرجنسی خدمات جاری رکھیں۔
سنگھ کی جانب سے ضرورت مند مریضوں کے لیے ضروری دواؤں کا انتظام کیا گیا تھا۔ عہدیداران نے کہا کہ ان کی لڑائی عام عوام سے نہیں بلکہ ان سرکاری پالیسیوں سے ہے جو چھوٹے کاروباریوں کو کمزور کر رہی ہیں۔تنظیم کے مطابق گیا ضلع میں روزانہ تقریباً 10 کروڑ روپے کا دوا کاروبار ہوتا ہے۔ ایسے میں ایک دن کی بندی سے کروڑوں روپے کے کاروبار پر اثر پڑا ہے۔ دوا کاروباریوں نے انتباہ دیا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا تو تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔