تازہ ترین
مظفرپور میں مفت طبی کیمپ کا انعقاد،ماہر ڈاکٹروں نے دی صحت سے متعلق رہنمائی،سیوا ٹرسٹ کی پہل، بچوں اور خواتین سمیت مختلف امراض کے مریضوں کو ملی طبی سہولت، مفت ادویات بھی تقسیمسپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں کیا جائیگا اردو ٹی ای ٹی امیدواروں کا مقدمہ دائرارریہ: سدبھاونا منچ کے اراکین نے مختلف درگا پوجا پنڈالوں کاکیا دورہ، باہمی محبت اور بھائی چارے کا دیا پیغام،وسرجن میں شامل ہونے والے افراد کا استقبال اور کیا جائے گا اعزازسرسید احمد خاں نے قوم کو تعلیم کی اہمیت سے کرایاروشناس ،اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام یومِ سرسید کی پر تقریب کا انعقادوائس چانسلر نعیمہ خاتون کے ہاتھوں دس کتابوں کا اجرا ،یوم سر سید پر سر سید اکیڈمی کی جانب سےتقریب رسم اجرا کا انعقاددھام پور میں جشنِ سرسید تقریب کا انعقاد، عصری علوم کے حصول پرزور،سرسید احمد خاں کی خدمات کوپروقار اور شاندار انداز میںپیش کیاگیا خراجِ عقیدت5 افراد کی موت کے معاملے میں بہن، بہنوئی سمیت تین گرفتاردہلی حکومت جمنا کو صاف کرنے کے لیےکر رہی ہے کام : سی ایم ریکھا
دلی این سی آر

دہلی میں تیز بارش کے بعد کئی مقامات پر لگا لمبا جام

(پی این این)
نئی دہلی :دہلی میں دو دن کے بعد برسنے والے بادلوں نے راحت کے ساتھ ساتھ پریشانی بھی لائی ہے۔ ایک طرف دہلی والوں کو گرمی سے راحت ملی تو دوسری طرف کئی جگہوں پر پانی جمع ہونے کی وجہ سے انہیں ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا۔ لوگوں نے اپنا سارا غصہ سوشل میڈیا پر نکالا۔
بارش کی وجہ سے کئی سڑکوں پر پانی بھر گیا اور حال ہی میں بنائی گئی اسفالٹ سڑکوں پر گڑھے بن گئے جس سے ٹریفک کی رفتار کم ہو گئی۔ آئی ٹی او سے پرانی روہتک روڈ، دہلی-جے پور ہائی وے (این ایچ-8)، مہرولی-بدر پور روڈ، مہرولی-گروگرام روڈ، پیر گڑھی سے آئی ایس بی ٹی، مدھوبن چوک، دہلی-غازی آباد مارگ اور نیشنل ہائی وے-9 پر کئی گھنٹوں تک شدید ٹریفک جام رہا۔شہر میں پانی نکالنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مہرولی بدر پور کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں دوپہر تک گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی گئیں اور ڈرائیوروں کو ایک گھنٹے تک کی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ گھنٹوں جام میں پھنسے رہنے کی وجہ سے لوگوں نے اپنا صبر کھو دیا اور اپنی مایوسی کو ایکس پر نکالا۔ایک مسافر نے کہا، میں صبح 8 بجے دہلی سے گروگرام کے لیے روانہ ہوا، ہوائی اڈے کے قریب گھنٹوں پھنس گیا۔ خوفناک ٹریفک جام تھا۔ میں دو گھنٹے میں صرف 18 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر سکا۔” ایک اور ‘X’ صارف نے لکھا کہ مجھے گروگرام-دہلی روٹ پر 30 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں 2 گھنٹے لگے۔ فٹ پاتھ غائب ہیں اور شہر میں بہت ہجوم ہے۔ ننگلوئی سے نجف گڑھ جانے والی ٹریفک ٹھپ ہوگئی۔
ایک اور مسافر نے بتایا کہ دہلی-غازی آباد روڈ کا صرف ایک کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں انہیں 30 منٹ سے زیادہ کا وقت لگا۔ جنوبی دہلی کے کئی حصے بشمول ایمس، صفدر جنگ اسپتال اور آشرم کے علاقے کی طرف جانے والی سڑکیں جام ہوگئیں۔ بہت سے لوگوں نے سوشل میڈیا پر دہلی ٹریفک پولیس پر بروقت الرٹ جاری نہ کرنے یا صورتحال سے نمٹنے کے لیے اہلکاروں کو تعینات نہ کرنے کا الزام لگایا۔ ایک مسافر نے تبصرہ کیا، “دہلی پولیس یا دہلی ٹریفک پولیس کا ایک بھی کانسٹیبل ہماری رہنمائی کے لیے موجود نہیں ہے۔ مہرولی-بدر پور روڈ پر پانی بھر جانے کی وجہ سے کئی لوگ گھنٹوں سڑک پر پھنسے رہے۔”

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔