Connect with us

Bihar

دوسرے مہجور شمسی ایوارڈ کی تقریب کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
ڈالٹن گنج:ڈالٹن گنج کی مشہور ادبی تنظیم ادارۂ فکر و ادب کے زیر اہتمام شہر کے ہوٹل ریلیکس اِن کے وسیع ہال میں حضرت مہجور شمسی ایوارڈ‌ کی تقریب منعقد ہوئ۔ جس میں 2026 میں میٹرک اور انٹر کے امتیازی نمبرات سے کامیابہونے والے طلبا و طالبات کے درمیان ایوارڈ و سند تقسیم کیا گیا۔ اس تقریب کی صدارت ڈاکٹر مظفر بلخی نے کی جب کہ نقابت کا فریضہ ایڈوکیٹ منور الزماں خاں نے انجام دیا۔اس موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سےشہر کے سماجی کارکن گیان چند پانڈے،سابق فوجی دامودر مشرا، شہر قاضی و امام مدینہ مسجد سیدالشاہ رضی احمد،‌ ڈاکٹر ارشد جمال اور ڈاکٹر مسرور احمد خاں کو گلدستہ دے کر ان کا پر تپاک استقبال کیا گیا۔
بعد ازاں تقریب کا باضاطہ آغاز مفتی محمد رضوان احمد کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔اس کے بعد نسیم احمد مسٹر نے تقریب منعقد کرنے کے غرض وغایت پر روشنی ڈالی۔ سکریٹری ارشد قمر نے مہجور شمسی کی شخصیت اور فن پر مختصر خاکہ پیش کیا۔ارشد جمال گڈو نے اس پروگرام کے اسپانسر ونود مدن سنہا کا پیغام پڑھا جوآج کے طلبا و طالبات کے نام تھا۔ بعد ازاں نسیم ریاضی اور عدنان کاشف نے مہجور شمسی کا کلام پیش کیا۔
اس پر وقار تقریب کے موقع پر 2026میں شہر کے مختلف اسکولوں سے پاس ہونے والے میٹرک اور انٹر کے تینوں فیکلٹی میں سب سے زیادہ نمبر لانے والے تین تین طلبا و طالبات کو مومنٹو اور توصیفی سند ،جب کہ باقی دیگر طلبا و طالبات کومیڈل اور سند دے کر حوصلہ افزائ کی گئ۔ دونوں کٹیگری میں مجموعی طور پر 62 طلباو طالبات نے شرکت کی۔ ان میں عبدالحسین لقب(میٹرک)،ہارون رشید انصاری(انٹر سائنس)، محمد مبشر عالم(انٹر کامرس)اور عارفہ فردوس (انٹر آرٹس) نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔
پروگرام کے درمیان میں مہمان اعزازی نے بھی اپنی اپنی بات کہی۔ڈاکٹر ارشد جمال نے کہاکہ ہمیں بے حد خوشی ہے کہ اب اس نوعیت کے پروگرام شہر میں منعقد ہو رہے ہیں جو بچوں میں نئ فکر اور نیا حوصلہ بخشے گا۔ رضی احمد نے کہا کہ مجھے اس شہر میں اس قسم کی تقریب میں شامل ہونے کا پہلا موقع ہے میں ان کے بہتر مستقبل کی تمنا کرتا ہوں ۔ دامودر مشرا نے اپنی بات میں کہا کہ میں بھی ان کے بہتر کل کی کامنا کرتا ہوں ۔یہ ان کا پہلا پڑاؤ ہے انہیں بہت دور جانا ہے۔میں اس جگہ آ کر بہت خوشی محسوس کر رہا ہوں ۔ گیان چند پانڈے نے بھی حوصلہ اور استقامت کی بات کی۔تقریب کے صدر مظفر بلخی نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ مہجور شمسی کے نام سے یہ پروگرام شروع کر ایک کامیاب پیش رفت کی گئ ہے۔میں چاہتا ہوں کہ یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے۔
اخیر میں نوشاد خاں کے اظہار تشکر کے ساتھ تقریب کا اختتام ہوا۔ اس تقریب کے موقع پر عمائدین شہر کے علاوہ معزز شخصیات ،کالج اسکول کے اساتذہ اور دانشور حضرات شریک تھے۔ جن حضرات نے تقریب کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں پیش پیش رہے ان میں ادارہ فکر و ادب کے عہد داران و اراکین میں ارشد قمر، ارشد جمال، منورالزماں، اصغر امام، نوشاد خاں، عدنان کاشف نسیم احمد مسٹر کا اہم رول رہا۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Bihar

اسپورٹس کلبوں کے کام کو بہتر طریقے سے چلانےکولیکر بلاک وار میٹنگ

Published

on

ارریہ: محکمہ کھیل، پٹنہ، بہار کی ہدایت کے مطابق، ضلع کی گرام پنچایتوں میں بنائے گئے اسپورٹس کلبوں کے فعال اور ہموار کام کو یقینی بنانے کے لئے ایک بلاک وار میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ اس سلسلے میں بدھ کے روز اسپورٹس بلڈنگ ارریہ کے آڈیٹوریم میں صدر بلاک ارریہ کی مختلف پنچایتوں میں بننے والے اسپورٹس کلبوں کے صدور، سکریٹریز، خزانچی اور ممبران کے ساتھ میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔
میٹنگ کی صدارت جناب سانیال کمار، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف فزیکل ایجوکیشن، ارریہ نے کی۔ میٹنگ میں تفصیلی بات چیت کی گئی، جس میں پنچایت کی سطح پر بنائے گئے اسپورٹس کلبوں کے باقاعدہ اور موثر کام کرنا، کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینا، اور زیادہ سے زیادہ مقامی نوجوانوں اور کھلاڑیوں کو کھیلوں میں شامل کرنا شامل ہے۔
بات چیت میں پنچایت کی سطح پر دستیاب کھیل کے میدانوں کے مناسب استعمال، کھیلوں کی سرگرمیوں کے انعقاد اور دیہی علاقوں میں کھیلوں کی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔ میٹنگ کے دوران اسپورٹس کلبوں کو فعال کرنے اور ان کے ذریعے پنچایت سطح پر مختلف کھیلوں کی سرگرمیاں کرانے کے لئے ایک ایکشن پلان پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر موجود اسپورٹس کلبوں کے ممبران نے بھی اسپورٹس کلبوں کے امور کے حوالے سے اپنی تجاویز اور خیالات کا اظہار کیا۔
فزیکل ایجوکیشن کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جناب سانیال کمار نے کہا کہ پنچایت سطح پر کھیلوں کے کلبوں کے فعال اور باقاعدہ کام سے دیہی بچوں اور نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کے بہتر مواقع فراہم ہوں گے۔ انہوں نےاسپورٹس کلب کی موثر سرگرمیوں کو محکمانہ رہنما اصولوں کے مطابق یقینی بنانے اور کھیلوں میں نوجوانوں کی شرکت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

Continue Reading

Bihar

مولانا آزاد کی وراثت کو نئی دھار دیں گی حسن آرا یوسف سلیم

Published

on

پٹنہ:مولانا ابوالکلام آزاد کی وراثت محض تاریخ کے صفحات تک محدود نہیں ہے، بلکہ تعلیم، سماجی یکجہتی، جمہوری اقدار اور مشترکہ ثقافت کی وہ فکر ہے، جو آج بھی معاشرے کو سمت دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی وراثت کو سماجی سروکاروں سے جوڑنے کی سمت میں کولکاتا کی رہنے والی حسنا آرا یوسف سلیم کا سماجی شعبے میں فعال ہونا اہم سمجھا جا رہا ہے۔ انہیں آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت کی رکنیت فراہم کی گئی ہے۔
مجلس کے صدر ایڈووکیٹ فیروز احمد کی جانب سے جاری استقبالیہ خط میں حسنا آرا یوسف سلیم کی رکنیت قبول کیے جانے پر انہیں مبارکباد دی گئی ہے۔ سماجی شعبے میں فعال حسنا آرا یوسف سلیم مافیسہ کی بانی اور صدر بھی ہیں۔ تنظیم کو امید ہے کہ ان کے تجربے، فعالیت اور سماجی سروکاروں سے مجلس کے مقاصد کو مضبوطی ملے گی۔
حسنا آرا یوسف سلیم کا تعلق اس خاندان سے ہے، جس کی وراثت ملک کی تحریکِ آزادی، تعلیم اور ہندو مسلم اتحاد کے نظریات سے گہرائی سے وابستہ رہی ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد آزاد ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم رہے اور انہوں نے تعلیم کو قوم کی تعمیر کا سب سے اہم بنیاد قرار دیا۔ ان کی سوچ مذہبی تنگ نظری سے بالاتر ہو کر قومی یکجہتی، بھائی چارے اور مشترکہ ثقافت کی حامی تھی۔
مولانا آزاد کی اسی وسیع فکر کو خاندان کی اگلی نسل سماجی خدمت کے ذریعے آگے بڑھانے میں مصروف ہے۔ حسنا آرا یوسف سلیم نے بھی تعلیم اور سماجی بااختیاری کو اپنے کاموں کا اہم حصہ بنایا ہے۔ ان کی کوششوں میں تعلیم، خواتین کو بااختیار بنانے اور بچوں کے بہتر مستقبل سے متعلق موضوعات کو خصوصی اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ضرورت مند بچوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کرنے، خواتین کو معاشی طور پر خود کفیل بنانے اور معاشرے کے کمزور طبقات کو مرکزی دھارے سے جوڑنے جیسی کوششوں کو مولانا آزاد کی سماجی سوچ کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد کے لیے تعلیم صرف روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں تھی۔ ان کا ماننا تھا کہ تعلیم یافتہ معاشرہ ہی اپنے حقوق کو سمجھ سکتا ہے اور جمہوری نظام کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ ان کی اسی سوچ میں سماجی مساوات، قومی یکجہتی اور انسانیت کا وسیع پیغام مضمر تھا۔
آج کے دور میں تعلیم، سماجی انصاف، شہری حقوق، خواتین کو بااختیار بنانا اور سماجی ہم آہنگی جیسے مسائل پہلے سے زیادہ اہم ہو گئے ہیں۔
ایسے وقت میں حسنا آرا یوسف سلیم کا سماجی فعالیت کے میدان میں آگے آنا اور مسلم مجلس سے وابستہ ہونا ان مسائل کو وسیع پلیٹ فارم فراہم کرنے کی سمت میں اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

تنظیم کو ملے گی نئی توانائی

مسلم مجلس سے وابستہ ہونے کے بعد حسنا آرا یوسف سلیم کو اقلیتوں کے آئینی اور شہری حقوق، تعلیم، سماجی انصاف، خواتین کو بااختیار بنانے اور سماجی اتحاد جیسے موضوعات پر کام کرنے کے لیے وسیع پلیٹ فارم ملے گا۔ وہیں ان کے تجربے اور سماجی فعالیت سے تنظیم کو بھی نئی توانائی ملنے کی امید ہے۔

ان کی رکنیت کو تنظیمی توسیع سے آگے بڑھ کر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ مولانا آزاد کی اس وراثت کو موجودہ سماجی چیلنجز سے جوڑنے کی کوشش ہے، جس میں تعلیم، انصاف، برابری اور سماجی اتحاد کو مرکز میں رکھا گیا تھا۔

مولانا آزاد کی وراثت کو صرف یادوں، تقریبات اور تقریروں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے معاشرے کے درمیان عملی کام کی صورت میں آگے بڑھانا ہی ان کے نظریات کے تئیں حقیقی احترام ہوگا۔ حسنا آرا یوسف سلیم کی سماجی فعالیت اور مسلم مجلس سے ان کا وابستہ ہونا اسی سمت میں ایک نئی کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Continue Reading

Bihar

وارڈ 14 کی شیعہ ٹولی میں عوامی راستے پر قبضے سے پریشانی، میونسپل کمشنر سے کارروائی کا مطالبہ

Published

on

بھاگلپور: آشا نندپور محلہ کے وارڈ 14 واقع شیعہ ٹولی میں عوامی راستے اور سرکاری زمین پر تجاوزات کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ مرحوم سید نقی حسین عرف ہیرو، والد مرحوم سید ناظم حسین اور ان کے بیٹوں کی جانب سے طویل عرصے سے سرکاری زمین اور راستے کی جگہ پر قبضہ کر رکھا گیا ہے۔
تجاوزات کے باعث مقامی لوگوں کو آمدورفت میں پریشانی ہو رہی ہے۔ معاملے کو لے کر مقامی باشندے، سماجی کارکن اور جے ڈی یو جنرل سکریٹری (اقلیتی) سید ارشد علی نے میونسپل کمشنر کو تحریری درخواست دے کر تجاوزات ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست پر محلے کے کئی لوگوں کے دستخط بھی ہیں۔
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ علاقے میں پانی کی سنگین قلت کو دیکھتے ہوئے مقامی لوگوں نے کئی دہائیوں سے مبینہ طور پر قبضے میں رہی مذکورہ سرکاری زمین کو پانی کے پیاؤ کی تعمیر کے لیے نشان زد کیا ہے۔ وارڈ 14 کے کونسلر انیل پاسوان کی جانب سے بھی میونسپل کارپوریشن کو تحریری طور پر مذکورہ زمین کو سرکاری بتاتے ہوئے یہاں پیاؤ تعمیر کیے جانے کی ضرورت سے آگاہ کیے جانے کی بات درخواست میں کہی گئی ہے۔درخواست گزار کا الزام ہے کہ مذکورہ زمین پر قبضہ کرنے والے افراد کے پاس زمین سے متعلق کوئی قانونی دستاویز موجود نہیں ہے اور مبینہ طور پر دبنگئی کے زور پر زمین پر قبضہ برقرار رکھا گیا ہے۔ معاملے کی جانچ کے لیے میونسپل کارپوریشن کے تجاوزات شعبہ کے انچارج جے پرکاش یادو بھی موقع پر پہنچے تھے۔ درخواست کے مطابق، موقع پر جانچ کے بعد انہوں نے زمین کو سرکاری قرار دیا اور متعلقہ فریق کو جگہ خالی کرنے کا الٹی میٹم بھی دیا تھا۔ اس کے باوجود اب تک زمین کو تجاوزات سے آزاد نہیں کرایا جا سکا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف علاقے میں پینے کے پانی کا سنگین مسئلہ ہے اور دوسری جانب جس مقام پر پیاؤ کی تعمیر کی پہل ہو سکتی ہے، وہ مبینہ تجاوزات کی وجہ سے استعمال میں نہیں آ پا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی راستے کی زمین پر مبینہ قبضے کے باعث گلی بھی تنگ ہو گئی ہے، جس سے لوگوں کی آمدورفت میں پریشانی ہو رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر میونسپل کارپوریشن کی جانچ میں زمین سرکاری پائی گئی اور متعلقہ فریق کو مقام خالی کرنے کی ہدایت بھی دی گئی تھی، تو اب تک تجاوزات کیوں نہیں ہٹائی گئیں؟ مقامی لوگوں نے میونسپل کارپوریشن انتظامیہ سے پورے معاملے کی دوبارہ موقع پر جانچ کرا کر سرکاری زمین اور عوامی راستے کو تجاوزات سے آزاد کرانے اور پیاؤ کی تعمیر کا عمل آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عوامی راستہ اور سرکاری زمین کسی ایک شخص کے ذاتی استعمال کے لیے نہیں ہو سکتی۔ انتظامیہ کی جانب سے بروقت کارروائی نہیں کی گئی تو آنے والے دنوں میں مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network