دلی این سی آر
جامعہ کے آرسی اے ۔سی سی سی پی نے اولین المنائی میٹ کیا منعقد
نئی دہلی : ریزیڈنشل کوچنگ اکیڈمی، سینٹر فار کوچنگ اینڈ کیریئر پلاننگ (سی سی سی پی) جامعہ ملیہ اسلامیہ (آر سی اے) نے اپنی پندرہ سالہ تاریخ میں پہلی بار سابق طلبہ کے لیے المنائی میٹ کا انعقاد کر کے ایک اہم سنگِ میل عبور کیا ہے۔
گزشتہ ہفتے منعقد ہ تقریب کا عنوان’’ایک شام آرسی اے کے نام‘‘ تھا، جس میں ملک بھر سے تیس سے زائد سابق طلبہ شریک ہوئے۔ اس تقریب میں اکیڈمی کی جانب سے سال دوہزار پچیس چھبیس کے دوران یو پی ایس سی، سول سروس، انڈین فارسٹ سروس، ریاستی سول سروس اور دیگر مرکزی خدمات کے امتحانات میں ایک سو بیس امیدواروں کے انتخاب کی اب تک کی سب سے بڑی سالانہ کامیابی کا جشن منایا گیا۔ مختلف سرکاری خدمات پر فائز سابق طلبہ اس جشن میں شرکت کے لیے ملک کی مختلف ریاستوں سے جامعہ پہنچے، جس سے المنائی میٹ مشترکہ یادوں کے اعادے کے ساتھ ساتھ اجتماعی کامیابی کا ایک اہم سنگ میل بھی ثابت ہوا۔یہ تقریب جامعہ ملیہ اسلامیہ کے عزت مآب پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ اور پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی،مسجل ،جامعہ ملیہ اسلامیہ کی قیادت میں منعقد کی گئی، جن کے وژن اور رہنمائی کے طفیل رہائشی اکیڈمی، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے شاندار ترقی رقم کی ہے۔ آرسی اے کی انچارج پروفیسر ثمینہ بانو نے کہا کہ یہ ریکارڈ کامیابی یونیورسٹی کے مسلسل تعاون و حمایت، اسٹریٹجک وژن اور انتظامی قیادت کو اجاگر کرتی ہے۔
سول سروس اور دیگر مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ کو معیاری رہائشی کوچنگ فراہم کرنے کے مشن کے ساتھ قائم آر سی اے نے ڈپٹی کنٹرولر امتحانات، پروفیسر احتشام الحق کی خدمات کو بھی سراہا؛ ان کی گہری بصیرت اور محتاط منصوبہ بندی نے آر سی اے کے آل انڈیا داخلہ ٹیسٹ کے انعقاد میں نمایاں کردار ادا کیا۔
اس کے ساتھ ہی، افسر مالیات اور یونیورسٹی کے دیگر عہدیداران کی جانب سے فراہم کردہ مسلسل ادارہ جاتی تعاون کا بھی اعتراف کیا گیا۔ایک ہی سال میں ایک سو بیس امیدواروں کا انتخاب ایک ایسی شاندار کامیابی ہے جو آرسی اے کے امیدواروں کی سخت محنت اور استقامت؛ آرسی اے کی ٹیم، کونسلرس، اکیڈمک کوآرڈی نیٹر اور لیڈر کی لگن؛ نیز خصوصی ماہرین، ٹیسٹ سیریز، خصوصی سیشن، اور سابق طلبہ پر مشتمل پینل اور معاون عملے کی جانب سے فراہم کردہ مسلسل رہنمائی اور تعاون کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔شام کے اس پروگرام میں منتخب امیدواروں کی حوصلہ افزائی اور اعزاز افزائی کی گئی، اور سابق طلبہ نے اس موقع پر آر سی اے کے کلاس روم سے لے کر عوامی خدمت کے شعبے تک کے اپنے سفر کے تجربات اور تاثرات کا اظہار کیا۔آر سی اے کی انچارج اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر صبا محمود بشیر نے شکریہ اداکیا۔ انہوں نے آر سی اے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تئیں بصیرت اور غیر متزلزل عہد کے لیے عزت مآب شیخ الجامعہ اورعالی وقارمسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ کا صمیم قلب سے شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے اس پروگرام کو یادگار اور کامیاب بنانے میں گراں قدر تعاون اور مخلصانہ کوششوں کے لیے ڈپٹی کنٹرولر امتحانات، ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر، چیف پراکٹر، ڈائریکٹر اسپورٹس، ڈین، ڈائریکٹرس، پرووسٹس، چیف میڈیکل افسر، سکوریٹی مشیر، فیکلٹی ممبران، ممتاز سابق طلبہ، منتخب امیدواروں اور ان کے والدین کے علاوہ یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات بشمول شعبہ تعمیرات صفائی ، باغبانی اور ایم سی آر سی اور ٹیم آر سی اے کا بھی تشکر کیا۔
دلی این سی آر
دہلی میٹرو کی گولڈن لائن پر کام آخری مراحل میں
(پی این این)
نئی دہلی : دہلی میٹرو کی نئی گولڈن لائن پر کام تقریباً اپنے آخری مراحل میں ہے۔ جلد ہی، آپ اس لائن پر میٹرو کو آسانی سے چلتے ہوئے دیکھیں گے، جس سے ہوائی اڈے اور جنوبی دہلی کے علاقوں کے درمیان آسانی سے سفر کیا جا سکتا ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس لائن کا پہلا حصہ سال کے آخر تک یعنی دسمبر تک کھل جائے گا۔ معلوم کریں کہ اس لائن کے کھلنے سے سفر کتنا آسان ہو جائے گا۔دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کے مطابق، ایروسٹی-تغلق آباد گولڈن لائن پر 83 فیصد سول ورک مکمل ہو چکا ہے۔ اس پر غور کرتے ہوئے اندازہ لگایا گیا ہے کہ پہلے مرحلے کا ایک حصہ اس سال دسمبر تک کھول دیا جائے گا۔ پہلا مرحلہ تغلق آباد اور سنگم وہار کے درمیان تقریباً ساڑھے آٹھ کلومیٹر کے حصے کو کھولے گا۔ اس سیکشن میں کل چار اسٹیشن ہوں گے۔ ان میں سے تین اسٹیشنز زیر زمین ہوں گے جبکہ باقی ایک ایلیویٹڈ ہوگا۔
گولڈن لائن دہلی میٹرو کے فیز 4 کے تحت تعمیر کی جانے والی ایک نئی میٹرو لائن ہے۔ اسے پہلے سلور لائن کا نام دیا گیا تھا۔ یہ تقریباً 25.8 کلو میٹر لائن جنوبی دہلی کو اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ٹرمینل 1 سے جوڑے گی۔ تعمیر جون 2022 میں شروع ہوئی اور اب اسے 2026 کے آخر تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔قطب مینار اور مہرولی آرکیالوجیکل پارک جیسے تاریخی مقامات کو نقصان پہنچانے سے بچنے کے لیے لائن کا راستہ تبدیل کر دیا گیا۔ جنوری 2024 میں اس کا نام سلور لائن سے بدل کر گولڈن لائن کر دیا گیا۔ سریتا وہار ڈپو کو بھی گولڈن لائن کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ ڈپو فی الحال دہلی میٹرو کی وائلٹ لائن کے لیے ٹرینیں چلاتا ہے۔
دلی این سی آر
بڑے پیمانے پرنوجوانوں کو تباہ کر رہی ہےبی جے پی :کجریوال
نئی دہلی :عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال نے منشیات کے مسئلے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت حملہ کیا ہے جو پنجاب کے نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر تباہ کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں آنے والی 80 فیصد منشیات بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں سے آرہی ہیں۔ انہوں نے پارٹی کے زیر اقتدار کئی ریاستوں کا نام لیا، خاص طور پر اس کے لیے گجرات کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ دریں اثنا، کجریوال نے پنجاب میں بی جے پی کے انسداد منشیات مارچ کو بے شرمی قرار دیتے ہوئے تنقید کی اور کہا کہ اگر بی جے پی منشیات کے استعمال کو روکنا چاہتی ہے تو اسے پنجاب میں اے اے پی حکومت سے سیکھنا چاہئے۔ کیجریوال نے بی جے پی کو ہر چیز پر سیاست نہ کرنے کا مشورہ بھی دیا۔سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں کیجریوال نے لکھا، “2022 میں جب ہماری حکومت بنی تو 80 فیصد منشیات پاکستان سے آتی تھیں، AAP حکومت نے اینٹی ڈرون سسٹم لگا کر پاکستان سے آنے والی منشیات کو کنٹرول کیا، جس کے نتیجے میں آج صرف 20 فیصد منشیات پاکستان سے آتی ہیں۔”
انہوں نے منشیات کی اسمگلنگ کے لیے بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا، “آج 80 فیصد منشیات بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں جیسے گجرات، راجستھان، ہریانہ، اتر پردیش، اور دہلی سے آرہی ہیں۔ کیا بی جے پی اپنی ریاستوں میں منشیات کے کاروبار کو روکنے میں ناکام رہی ہے، یا وہ نہیں چاہتی؟” وہ تیس سال سے گجرات میں برسراقتدار ہیں اور وہاں منشیات کا کاروبار سب سے زیادہ ہے۔پوسٹ کے آخر میں، AAP کنوینر نے لکھا، مندرا بندرگاہ کے ذریعے بھارت میں منشیات داخل ہوتی ہیں، جس کی ذمہ داری مرکزی بی جے پی حکومت پر عائد ہوتی ہے، اور ان کی بے شرمی دیکھیں، یہ لوگ پنجاب میں منشیات کے خلاف مارچ کر رہے ہیں۔ اگر آپ سیکھنا چاہتے ہیں تو پنجاب سے سیکھیں، AAP سے سیکھیں، اور اپنی ریاستوں میں بھی منشیات کا خاتمہ کریں۔ ہر چیز پر سیاست نہ کریں۔”
کیجریوال نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ایک مضمون بھی شیئر کیا، جس میں وضاحت کی گئی ہے کہ جہاں پولس نے سرحد پار سے آنے والی منشیات کو روکنے میں زبردست کامیابی حاصل کی ہے، وہیں دوسری طرف ان ادویات کی مانگ پڑوسی ریاستوں سے فارماسیوٹیکل ادویات درآمد کرکے پوری کی جارہی ہے۔
مضمون میں پولیس کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پنجاب میں داخل ہونے والی تقریباً 80 فیصد دوائیاں اب گجرات، اتر پردیش، راجستھان، ہریانہ اور دہلی سے آتی ہیں۔ اس عرصے کے دوران، 2025 سے اب تک 1.154 ملین گولیاں اور کیپسول قبضے میں لیے جا چکے ہیں۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ جہاں پولیس ڈرونز اور پاکستان کی سرحد پر توجہ نے ایک سپلائی روٹ میں خلل ڈالا ہے، وہیں فارماسیوٹیکل چینلز کی شکل میں ایک نیا اور زیادہ خطرناک نیٹ ورک سامنے آیا ہے۔ پولیس نے اطلاع دی ہے کہ طبی مقاصد کے لیے منشیات کو غیر قانونی مارکیٹ میں موڑ دیا جا رہا ہے، جو اس چیلنج کو مجرمانہ اور ریگولیٹری دونوں بناتا ہے۔
دلی این سی آر
جامعہ کے طلبہ کی وی ایم اے سی 2026 میں شاندار کارکردگی
نئی دہلی جامعہ ملیہ اسلامیہ کی فیکلٹی آف لاء نے ورچوئل میڈی ایشن ایڈووکیسی کمپٹیشن وی ایم اے سی) 2026 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اپنے طلبہ عزیز عمر (تیسرے سال)، سیدہ یسرا (چوتھے سال) اور سارہ اظفر (تیسرے سال) کو مبارکباد پیش کی ہے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے طلبہ نے اس باوقار مقابلے میں 60 سے زائد ٹیموں کا مقابلہ کیا اور ثالثی (Mediation)، وکالت (Advocacy)، گفت و شنید (Negotiation) اور سہولت کاری (Facilitation) کے شعبوں میں غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
قابلِ تحسین کارکردگی کے اعتراف میں ٹیم کو 20,000 روپے کی وی ایم اے سی اسکالرشپ دی گئی۔ اس کے علاوہ ٹیم نے ‘اسپیشل ایوارڈز کیٹیگری’ میں پانچواں انعام بھی حاصل کیا، جس کے تحت اسے 1,000 روپے کی انعامی رقم دی گئی۔ اس طرح ٹیم نے مجموعی طور پر 21,000 روپے کے انعامات اور اعزازات حاصل کیے۔
یہ کامیابی طلبہ کی محنت، تیاری اور متبادل تنازعات کے حل (Alternative Dispute Resolution – ADR) کے شعبے میں اپنی مہارت کو فروغ دینے کے عزم کی عکاس ہے۔ ان کی شاندار کارکردگی سے فیکلٹی آف لاء کا وقار بلند ہوا ہے اور قومی و بین الاقوامی اے ڈی آر مقابلوں میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بڑھتی ہوئی موجودگی میں ایک اور اہم کامیابی کا اضافہ ہوا ہے۔
فیکلٹی نے فیکلٹی آف لاء کے ڈین پروفیسر (ڈاکٹر) غلام یزدانی اور فیکلٹی کنوینر ڈاکٹر علیشہ خاتون کی مسلسل حوصلہ افزائی اور تعاون کا بھی اعتراف کیا، جنہوں نے طلبہ کو ADR مقابلوں میں شرکت اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے مواقع فراہم کیے۔
میڈی ایشن ایڈووکیسی امتحان میں بھی ٹیم نے غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 100 فیصد مجموعی اسکور کے ساتھ کامیابی سے امتحان مکمل کیا، جو میڈی ایشن ایڈووکیسی کی مہارتوں پر ان کی مضبوط گرفت کو ظاہر کرتا ہے۔
ٹیم نے پورے مقابلے کے دوران وقف شدہ رہنمائی، قیمتی مشوروں اور مسلسل تعاون کے لیے محترمہ اسرا مختار اور محترمہ خدیجہ مرزا کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
فیکلٹی آف لاء نے اس قابلِ تحسین کامیابی پر عزیز عمر، سیدہ یسرا اور سارہ اظفر کو دلی مبارکباد پیش کی اور ان کی آئندہ کوششوں میں مسلسل کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
-
بہار10 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
