دیوبند: دیوبند کی مشہور مرکزی دانش گاہ جامعہ امام محمد انور شاہ دیوبند میں سالانہ انعامی اجلاس رئیس الجامعہ مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی کشمیری کی صدارت میں منعقد ہوا، نظامت کے فرائض مولانا سید فضیل احمد ناصری اور مولانا عمر اعجاز قاسمی نے مشترکہ طور پر انجام دیے۔ انضمام الحق ہریانوی نے اپنی خوب صورت تلاوت سے جلسے کا آغاز کیا۔
نعت خوانی کی سعادت عزیزم علی اسجد سہرساوی کے حصے میں آئی۔ رئیس الجامعہ مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی کشمیرینے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اس طرح کے اجلاس طلبہ کے ذوق و شوق کو مہمیز دینے کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں۔ انعام میں دی جانے والی کتب اگرچہ حجم میں کم ہوں، مگر ان کے نتائج و ثمرات انمول، عہد آفریں اور شخصیت ساز ہوتے ہیں۔
مدارس اسلامیہ اسلام کی نشر و اشاعت اور فرقۂ ضالہ و باطلہ کی سرکوبی کے لیے افراد سازی کے مراکز ہیں۔
اس طرح کی نشستیں طالبان علوم دینیہ کو ابھارنے اور ان کو ان کے مقصد زندگی میں منہمک کرنے میں بڑی معاون بنتی ہیں۔ جامعہ کے استاذ حدیث اور ماہنامہ محدث عصر کے نائب مدیر مولانا سید فضیل احمد ناصری نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے کہا: انسان کی فطرت ہے کہ اپنے بڑوں سے سیکھتا اور اپنے مستقبل کے پروگرام ترتیب دیتا ہے۔ ہمارے اسلاف نے تحصیل علم کے لیے جیسی کوہ کنی کی۔ وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔
بلاشبہ وہ شیرین علم کے فرہاد تھے۔ انہوں نے افلاس، تنگ حالی اور فقر و بے مائیگی کو کبھی بھی آڑے نہیں دیا۔ جامعہ کے صدر المدرسین مولانا وصی احمد قاسمی نے کہا کہ عہد خیرالقرون سے لے کر ماضی قریب تک کے اکابر کی زندگی پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ علم حاصل کرنے کے لیے انہوں نے اپنا سب کچھ جھونک دیا۔ اساتذہ سے ان کا قرب اور کتابوں سے ان کا لگاؤ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔
امام العصر علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ کتابوں کے اس قدر دلدادہ تھے کہ فتح الباری اور فتح القدیر جیسی کئی جلدوں پر مشتمل کتابوں کا چند دنوں میں مطالعہ کر لیا۔ بانء جامعہ فخر المحدثین حضرت مولانا سید محمد انظر شاہ کشمیری رحمہ اللہ اپنے والد کے صحیح معنوں میں جانشین تھے۔ کتابوں سے شغف اور لوح و قلم سے ان کی وابستگی کا ایک زمانہ گواہ اور مداح ہے۔ ان کے دروس مغز ہی مغز ہوتے تھے۔ جامعہ کے نائب ناظم تعلیمات مفتی نوید دیوبندی نے تعلیمات کی جامع رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے اپنی رپورٹ میں یہ اعداد و شمار پیش کیے۔ وہ طلبہ جنہوں نے اپنی جماعتوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اول، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کی۔درس گاہ میں صد فی صد حاضر رہنے والے طلبہ کو بھی انعام و اکرام سے نوازا گیا، ایسے ہی 100% حاضری درج کرانے والے طلبہ کو حضرت مہتمم صاحب کی جانب سے مبلغ 16000روپے کے نقد انعامات دیے گئے۔ اس کے علاوہ جو کتابیں انعام کی شکل میں دی جا رہی ہیں، ان کی مجموعی مالیت تقریباً ۳ لاکھ روپے ہے۔جامعہ نے ان تمام معاونین کا شکریہ ادا کیا، جن کے تعاون اور جذبہ ٔاخلاص کا نتیجے میں یہ کامیاب اجلاس انعقاد پذیر ہو سکا۔ ان معاونین میں دیوبند کے تقریباً تمام ہی کتب خانے شامل ہیں۔ اس موقع پر جامعہ کے تمام اساتذہ: مفتی نثار خالد دیناجپوری، مولانا شبیر احمد قاسمی، مولانا محمد صغیر پرتاپ گڑھی، مولانا محمد سعید پالن پوری، مولانا محمد عثمان دیوبندی، مولانا حمدان شاہ مسعودی، مولانا جمیل احمد قاسمی، قاری بلال احمد چالاک پوری، مولانا ذکی انجم صدیقی، مولانا ثاقب دیوبندی موجود رہے۔ مفتی نثار خالد دیناجپوری کی دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
