add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); بی جے پی سرکارمیں بدحال سرکاری اسپتالوں کی حقیقت ہوئی بے نقاب : بھاردواج – sachkiawaz.com
Connect with us

Uncategorized

بی جے پی سرکارمیں بدحال سرکاری اسپتالوں کی حقیقت ہوئی بے نقاب : بھاردواج

Published

on

 

 

(پی این این)
نئی دہلی: بی جے پی کی حکومت نے دہلی کے سرکاری اسپتالوں کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ لوگوں کا علاج کرنے والے سرکاری اسپتال آج خود بیمار پڑے ہیں۔ اسپتالوں میں مریضوں کو نہ دوائیں مل رہی ہیں اور نہ ہی ضروری ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔
عام آدمی پارٹی کے رکنِ اسمبلی سنجیو جھا اور کلدیپ کمار نے گرو تیغ بہادر اسپتال (جی ٹی بی) کا دورہ کرکے وہاں کی زمینی حقیقت کو بے نقاب کیا۔ آپ کے ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے دورے کی ویڈیو ایکس پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ دہلی حکومت کے سب سے بڑے طبی مراکز میں سے ایک جی ٹی بی اسپتال شدید غفلت کا شکار ہے۔ حالات اتنے تشویشناک ہیں کہ لوگوں کو باہر سے دوائیں خریدنے اور ٹیسٹ کرانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ جی ٹی بی اسپتال میں دواؤں کی شدید قلت ہے اور مریضوں کو ڈاکٹر کی تجویز کردہ مکمل دوائیں نہیں مل پا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جانچ کی سہولیات بھی پوری طرح ٹھپ پڑی ہیں۔ ضروری ٹیسٹ اور اسکین اسپتال میں دستیاب نہیں ہیں، جس کی وجہ سے مریض باہر کی پرائیویٹ لیب سے یہ ٹیسٹ کرانے پر مجبور ہیں۔ علاج کے لیے آنے والے عام لوگوں کی یہ پریشانی دہلی کے سرکاری اسپتالوں کی زمینی حقیقت کو واضح طور پر اجاگر کرتی ہے۔
دراصل، جمعرات کو آپ کے ارکانِ اسمبلی سنجیو جھا اور کلدیپ کمار نے جی ٹی بی اسپتال کا دورہ کرکے زمینی حقیقت جاننے کی کوشش کی۔ جب انہوں نے اسپتال آنے والے لوگوں سے بات کی تو معلوم ہوا کہ ہر مریض اسپتال میں پھیلی بدنظمی سے انتہائی پریشان اور دکھی ہے۔ اگر ڈاکٹر پانچ دوائیں لکھ رہے ہیں تو ان میں سے صرف دو یا تین دوائیں ہی اسپتال سے مل رہی ہیں، باقی دوائیں باہر سے خریدنی پڑ رہی ہیں۔ دواؤں کے کاؤنٹر بھی کم کر دیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے مریضوں کا نمبر آتے ہی کاؤنٹر بند ہو جاتا ہے اور وہ بغیر دوا لیے واپس لوٹنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
اسپتال میں کوئی ٹیسٹ نہیں ہو پا رہا ہے اور ڈاکٹر انہیں باہر سے ٹیسٹ کرانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ بہت سے مریضوں نے بتایا کہ عام آدمی پارٹی کی حکومت کے دوران تمام دوائیں اسپتال سے ہی مل جاتی تھیں۔ ہر طرح کے ٹیسٹ بھی اسپتال میں ہوتے تھے، لیکن اب سب کچھ بدل گیا ہے۔مریضوں سے بات کرنے کے بعد رکنِ اسمبلی سنجیو جھا نے کہا کہ اسپتال میں تعینات سکیورٹی گارڈ 100 سے 200 روپے لے کر مریضوں کو براہِ راست ڈاکٹر کے کمرے میں داخل کرا دیتے ہیں۔
، جبکہ لائن میں کھڑے لوگ باہر ہی رہ جاتے ہیں۔ لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ ایمرجنسی کی پرچی راجیو گاندھی اسپتال سے بنے گی، جبکہ پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے محلہ کلینک میں اسپتالوں سے بھی بہتر دوائیں ملتی تھیں۔ جب سے محلہ کلینک بند ہوئے ہیں، تب سے اسپتالوں میں کھانسی، نزلہ، بخار جیسی بیماریوں کے علاج اور جانچ کے لیے شدید بھیڑ ہو رہی ہے۔ سنجیو جھا نے کہا کہ اسپتال میں کوئی ٹیسٹ نہیں ہو رہا ہے۔ مریضوں کو باہر سے الٹراساؤنڈ کرانے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ باہر الٹراساؤنڈ کے لیے 1000 روپے مانگے جا رہے ہیں۔ اسی طرح لوگوں کو ایم آر آئی اور ایکسرے کرانے کے لیے بھی باہر بھیجا جا رہا ہے۔ سنجیو جھا نے وزیرِ صحت اور وزیرِ اعلیٰ ریکھا گپتا سے کہا کہ پہلے ان کے وزیرِ صحت نے 300 کروڑ روپے لوٹ لیے۔ 100 کروڑ روپے مالیت کی دوائیں 400 کروڑ روپے میں خریدی گئیں۔ اب وہ دوائیں بھی غائب ہیں۔ وہ دوائیں اسپتال تک پہنچی ہی نہیں ہیں اور دواؤں پر ایم آر پی اس لیے درج ہے تاکہ انہیں باہر فروخت کیا جا سکے۔ اسپتال کے حالات ایسے بنا دیے گئے ہیں کہ مریضوں کو دوائیں مل ہی نہیں رہی ہیں۔ اس دوران کلدیپ کمار نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے محض ڈیڑھ سال میں ہی سرکاری اسپتالوں کی حالت بدتر کر دی ہے۔ مریض دواؤں اور ٹیسٹ کے لیے دھکے کھا رہے ہیں۔ نہ مکمل دوائیں مل رہی ہیں اور نہ ہی ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ جی ٹی بی اسپتال میں دور دراز علاقوں سے لوگ علاج کرانے آتے ہیں، لیکن یہاں آنے کے بعد وہ خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہے ہیں، کیونکہ انہیں مکمل دوائیں نہیں مل رہی ہیں۔ لوگوں کو جو دوائیں دی جا رہی ہیں، ان پر ناٹ فار سیل نہیں لکھا ہے بلکہ ان پر ایم آر پی چھپی ہوئی ہے۔ جان بوجھ کر ایم آر پی والی دوائیں دی جا رہی ہیں تاکہ انہیں باہر بازار میں فروخت کیا جا سکے۔ کلدیپ کمار نے کہا کہ اسپتال میں دستیاب سہولیات کا بھی برا حال ہے۔ سکیورٹی کے لیے تعینات گارڈ باہر کاؤنٹر پر پیسے لے کر بغیر لائن کے دوائیں دلوانے کا گورکھ دھندا چلا رہے ہیں۔اسپتال میں داخل ایک مریض کے تیماردار نے بتایا کہ وہ دو دن سے وہاں شفٹ ہیں، لیکن اس عمارت میں پانی نہیں آ رہا ہے، پنکھے خراب پڑے ہیں اور گرمی و بدنظمی کے باعث خواتین بے ہوش ہوکر گر رہی ہیں، لیکن کوئی شنوائی نہیں ہو رہی ہے۔

 

 

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Uncategorized

طلبا کوسستی رہائش فراہم کیلئے سرکار پرعزم :ایل جی

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں عمارت گرنے سے طلبہ کی موت کے بعد حکومت، انتظامیہ اور لیفٹیننٹ گورنر سبھی متحرک ہو گئے ہیں۔ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر ترنجیت سنگھ سندھو نے ڈی ڈی اے کے عہدیداروں سے ملاقات کی اور انہیں زمین تلاش کرنے کا حکم دیا جہاں پی جی بنائے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “ہم طلباء کو محفوظ، باوقار، اور سستی رہائش فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔” ایل جی نے اس کی اطلاع ٹویٹ کر کے ٹویٹر پر ڈی ڈی اے حکام کے ساتھ میٹنگ کی تصاویر بھی شیئر کیں۔
لیفٹیننٹ گورنر ترنجیت سنگھ سندھو نے ڈی ڈی اے کے وائس چیئرمین سرون کمار سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ انہوں نے کہا، “یہ میٹنگ طلباء کے لیے متبادل پی جی رہائش کے بارے میں تھی۔ اس میٹنگ کے دوران، میں نے ڈی ڈی اے کو حکم دیا کہ وہ پی جی کے قیام کے لیے مناسب زمین کی نشاندہی کرے۔ اس کے بعد ایک ایکشن پلان تیار کیا جانا چاہیے۔ یونیورسٹی کے اہلکاروں کو شامل کرکے ایکشن پلان پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔” شہر میں ہاسٹل کی سہولیات کی ترقی کے لیے نئے ماسٹر پلان کے تحت کام شروع کیا جائے۔ انہوں نے لکھا کہ ہماری توجہ طلباء کو محفوظ، معیاری اور سستی رہائش فراہم کرنے پر ہے۔
دہلی کا ماسٹر پلان 2041 ہاسٹلز اور پی جی کے حوالے سے بھی کچھ اصول طے کرتا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ادائیگی کرنے والے مہمانوں کو صرف رہائشی اور مخلوط استعمال والے علاقوں میں ہی رکھا جا سکتا ہے۔ اس کے رہنما خطوط میں کہا گیا ہے کہ A اور B زمرہ کے رہائشی علاقوں میں کوچنگ، ٹیوشن سینٹرز، ہاسٹلز اور PGs کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ستیہ نکیتن پی جی عمارت کے گرنے سے دہلی کے شہری بنیادی ڈھانچے کے بارے میں سوالات اٹھ گئے ہیں اور بے تحاشا غیر قانونی تعمیرات کے مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔ اس نے طالب علموں کے خراب حالات میں رہنے اور انہیں برقرار رکھنے کے لیے کافی رقم خرچ کرنے کے شیطانی چکر کو بھی بے نقاب کیا ہے

Continue Reading

Uncategorized

شادی کی تقریب میں 2 فریقوں میں زبردست مارپیٹ

Published

on

دیوبند:دیوبند میں منعقدہ شادی کی ایک تقریب کے دوران مہمانوں کے دو گروپ میں زبر دست مارپیٹ ہوگئی ۔پرانی رنجش کے سبب ہونے والی اس مارپیٹ میں دو افراد شدید طور پر زخمی ہوگئے ۔متاثرہ فریق نے تقریباً ایک درجن لوگوں کے خلاف دیوبند کوتوالی میں شکایت درج کرائی ۔تفصیل کے مطابق دیوبند کے قاسم پورہ روڑ پر واقع ایک شادی ہال میں پیر کے روز محلہ خانقاہ کے باشندہ عرفان کی بیٹی کی شادی کی تقریب چل رہی تھی۔ اسی دوران پورقاضی قصبہ سے بارات بھی شادی ہال پہنچ گئی ۔بارات پہنچنے کے بعد محلہ خانقاہ کے باشندہ نثار کے بیٹے محرم اور ان کے بھائی مکرم پر کھانا کھانے کے دوران کچھ لوگوں نے حملہ کردیا ۔الزام ہے کہ دیوبند کے محلہ خانقاہ اور جٹول گائوں کے تقریباً ایک درجن لوگوں نے پرانی رنجش کی سبب لاٹھی ڈنڈوں سے دونوں بھائیوں پر حملہ کردیا جس کے نتیجہ میں وہ شدید طور پرزخمی ہوگئے ۔بتایا جاتا ہے کہ سنیجر کے روز ملزمان اور متاثرہ فریق کے درمیان کیندکی گائوں میں شادی کی ایک تقریب کے دوران تلخ کلامی ہوگئی تھی لیکن اس وقت معاملہ کو رفع دفع کردیا گیا تھا ۔اسی پرانی رنجش کے سبب آج ملزمان کے گروپ نے محرم اور ان کے بھائی مکرم پر اس وقت حملہ کردیا جب وہ شادی ہال میں کھانا کھارہے تھے ۔
اچانک ہونے والی اس مارپیٹ کی وجہ سے شادی ہال میں افراتفری پیدا ہوگئی ۔محرم نے تقریباً ایک درجن لوگوں کے خلاف کوتوالی دیوبند میں تحریر دے کر کارروائی کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے وہیں دوسری فریق نے بھی مارپیٹ کا الزام عائد کرتے ہوئے پولیس کوایک تحریر دی ہے ۔
پولیس نے زخمی افراد کا میڈیکل کرانے کے بعد قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔

Continue Reading

Uncategorized

قومی تعمیر میں اقلیتی تعلیمی اداروں کے کردار اور وکست بھارت 2047 کے وژن پر اجلاس

Published

on

لکھنؤ: قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے مقاصد کو آگے بڑھانے اور اقلیتی تعلیمی اداروں کی شراکت کو مضبوط بنانے کے لیے اتوار کو اندرا بھون، لکھنؤ میں ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا۔
اس اجلاس کا مشترکہ انعقاد نیشنل کمیشن فار مائنارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (این سی ایم ای آئی)، حکومت ہند اور محکمہ اقلیتی فلاح و اوقاف، حکومت اتر پردیش کی جانب سے کیا گیا۔ اجلاس کا موضوع ’’قومی تعمیر میں اقلیتی تعلیمی اداروں کا کردار اور وکست بھارت2047 کا وژن‘‘ تھا۔
اجلاس کی صدارت این سی ایم ای آئی کے قائم مقام چیئرمین پروفیسر (ڈاکٹر) شاہد اختر نے کی، جبکہ اتر پردیش حکومت کے وزیر مملکت برائے اقلیتی فلاح، اوقاف و حج دانش آزاد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ اس موقع پر محکمہ اقلیتی فلاح اتر پردیش کے ڈائریکٹر شیلندر سنگھ یادو سمیت لکھنؤ اور اطراف کے مختلف اقلیتی تعلیمی اداروں کے منتظمین، عہدیداران، ماہرین تعلیم اور نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اجلاس کے دوران اقلیتی تعلیمی اداروں کو درپیش مختلف مسائل، ان کے حقوق کے تحفظ، قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے نفاذ اور ملک کو سال 2047 تک ایک ترقی یافتہ قوم بنانے کے ہدف میں ان اداروں کے کردار پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر (ڈاکٹر) شاہد اختر نے کہا کہ اقلیتی تعلیمی ادارے نہ صرف تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ قومی یکجہتی، سماجی ہم آہنگی اور انسانی وسائل کی ترقی میں بھی ان کی خدمات نمایاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این سی ایم ای آئی ملک بھر میں اقلیتی تعلیمی اداروں کے آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے اور ایسے اداروں کو درپیش انتظامی و قانونی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے اداروں کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ اقلیتی درجہ حاصل کرنے کے لیے متعلقہ محکموں اور حکام کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں اور ضروری دستاویزی کارروائی کو بروقت مکمل کریں تاکہ انہیں قانون کے تحت دستیاب تمام سہولیات اور تحفظات حاصل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی حیثیت کا حصول اداروں کو اپنے تعلیمی اور انتظامی امور کو زیادہ مؤثر انداز میں چلانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

وکست بھارت@2047 کے وژن کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر شاہد اختر نے کہا کہ جب بھارت اپنی آزادی کے 100 سال مکمل کرے گا تو ملک کو ترقی یافتہ، بااختیار اور علم پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنے کے لیے تعلیمی اداروں کا کردار فیصلہ کن ہوگا۔ انہوں نے تمام اقلیتی تعلیمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے اداروں کے لیے جامع عملی منصوبے تیار کریں، اہداف کا تعین کریں اور ان کے حصول کے لیے ذمہ داریاں واضح طور پر تقسیم کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ادارے اپنے تعلیمی، انتظامی اور سماجی چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہوئے کم از کم پانچ قابلِ عمل تجاویز تیار کریں اور انہیں کمیشن کے ساتھ شیئر کریں تاکہ پالیسی سازی کے عمل میں زمینی حقائق اور اداروں کی ضروریات کو شامل کیا جا سکے۔

مہمانِ خصوصی دانش آزاد انصاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ اتر پردیش حکومت اقلیتوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی ترقی کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کا مقصد یہ ہے کہ اقلیتی طبقے کے نوجوانوں کو بہتر تعلیمی مواقع، روزگار کے امکانات اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ ملک کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ اقلیتی فلاح مختلف فلاحی اور تعلیمی اسکیموں کے ذریعے اقلیتی برادری کے طلبہ اور تعلیمی اداروں کی مدد کر رہا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ جدید تعلیم، ہنرمندی اور روزگار سے متعلق پروگراموں کو مزید وسعت دی جائے تاکہ نوجوانوں کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے۔

اجلاس میں شریک مختلف اقلیتی تعلیمی اداروں کے نمائندوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اداروں کو درپیش مسائل، انتظامی امور، بنیادی سہولیات، تعلیمی معیار میں بہتری اور حکومتی تعاون سے متعلق متعدد تجاویز پیش کیں۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اقلیتی تعلیمی اداروں کو قومی ترقی کے دھارے میں مزید مؤثر طریقے سے شامل کرنے کے لیے مسلسل مکالمے اور تعاون کی ضرورت ہے۔

اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاء، منتظمین اور معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا گیا۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اقلیتی تعلیمی ادارے قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے اہداف اور وکست بھارت@2047 کے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے اور تعلیم کے ذریعے ملک کی ہمہ جہت ترقی میں اپنا حصہ بڑھائیں گے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network