تازہ ترین
این ڈی اے اقتدار والی ریاستوں میں کیوں بڑھ رہا ہےنشہ؟،بی جے پی حکومت والے صوبے میں نشہ ختم کرنے کی تاریخ کریں مقرر، وزیر داخلہ امت شاہ پر اروند کجریوال کا سخت حملہبامبے ہائی کورٹ نے مولانا حلیم اللہ قاسمی کو دوبارہ پٹیشن داخل کرنے کی دی ہدایتایک ساتھ رہ سکتے ہیں سیاسی مقابلہ اور ثقافتی تعامل،دکن کی مسلم سلطنتوں میں غیر مسلموں کے ساتھ سلوک کے موضوع پرپروفیسر سید شاہ وحیداللہ کا خطاباے ایم یو کے ویمنس کالج میں سوچھتا پکھواڑہ کے تحت شجرکاری مہمجامعہ امام محمد انور شاہ دیوبند میں سالانہ انعامی اجلاستیج پرتاپ کے گھر پہنچے والد لالوپرساد یادو، بہن میساا ورر وہنی، نوراتری کے موقع پر مہا اشٹمی پرکیا پوجا پاٹھ کا اہتمامانتخاب میں ہر ووٹر کو ہےووٹ دینے کا حق حاصل، کوسی گریجویٹ انتخابی حلقہ میں 20 ہزار ووٹروں کے اتحاد سے بی جے پی کودیا جاسکتا ہے سخت چیلنج: پرشانت کشورنوادہ میں پولیس ٹیم پر اینٹ اور پتھرسے حملہ، خاتون سپاہی کی ویڈیو بنانے پر بڑھا تنازع، 11 افراد گرفتار
دیش

بامبے ہائی کورٹ نے مولانا حلیم اللہ قاسمی کو دوبارہ پٹیشن داخل کرنے کی دی ہدایت

ممبئی:مہاراشٹر حکومت کی جانب سے بنائے گئے لؤ جہاد قانون بنام مہاراشٹر فریڈم آف ریلجن ایکٹ2026 کی آئینی حیثیت پر آج بامبے ہائی کورٹ میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران چیف جسٹس آف بامبے ہائی کورٹ نے زبانی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے ہر شہری کو اپنے پسند کے مذہب کو اختیار کرنے کی آئینی آزاد ی ہے لیکن صرف شادی کے لیئے کسی کا مذہب تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔عدالت نے زبانی تبصرہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس قانون کو بنانے کا مقصدہندوستان کے سیکولر تانے بانے کو محفوظ رکھنا ہے اور جبراً تبدیلی مذہب کو روکنا ہے۔عدالت نے مزید کہا کہ ہوسکتا ہے اس قانون میں خامیاں ہو ں لیکن ابھی اس موقع پر اس قانون کے تعلق سے عدالت کوئی فیصلہ نہیں صادر کریگی۔
صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی کی جانب سے داخل پٹیشن پر سینئر ایڈوکیٹ یوسف مچھالہ نے بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ مہاراشٹر حکومت کی جانب سے مذہبی آزادی دینے والا قانون غیر آئینی ہے۔ چیف جسٹس آف بامبے ہائی کورٹ مہیش سی ترپاٹھی اور جسٹس ادوت سیتھنا نے عرض گذار مولانا حلیم اللہ قاسمی کے تعلق سے دریافت کیا کہ آیا اس قانون سے مولانا حلیم اللہ قاسمی کو ذاتی طور پر کوئی فرق پڑا ہے کیا؟ جس کے جواب میں سینئر ایڈوکیٹ یوسف مچھالہ نے عدالت کو بتایا کہ عرض گذار مولانا حلیم اللہ قاسمی حافظ قرآن اور ایک مشہور عالم دین ہیں،جو دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہیں۔
نیز مولانا حلیم اللہ پورے صوبہ مہاراشٹر میں اسلامی موضوعات پر بیان کرنے جاتے ہیں۔سینئر ایڈوکیٹ یوسف مچھالہ نے عدالت کو بتایا کہ مہاراشٹر فریڈم آف ریلجن ایکٹ2026 نافذ العمل ہونے کے بعد سے عرض گذار اور صوبہ میں رہنے والے مسلمانوں میں بے چینی ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال ہوسکتا ہے کیونکہ یہ قانون نہایت مبہم ہے جس نے پولس اور اتھاریٹی کو بہت زیادہ اختیارات دیئے ہیں۔ دوران سماعت ایڈوکیٹ مچھالہ نے عدالت کو بتایا کہ مذہب تبدیل کرنے والے کاپیشگی نوٹس دینا اور اتھاریٹی کی اجازت لینے کی جو شرط ہے غیر آئینی ہے۔دوران بحث دو رکنی بینچ نے سینئر ایڈوکیٹ یوسف مچھالہ کو ہدایت دی کہ وہ اپنی پٹیشن میں مزید تفصیلات شامل کرکے دوبارہ پٹیشن داخل کریں جس کے بعدعدالت ان کی پٹیشن پر از سر نو سماعت کریگی کیونکہ عدالت کو ایسا لگتا ہے کہ موجودہ پٹیشن میں مزید کچھ باتیں شامل کرنا ضروری ہے۔عدالت کی ہدایت پر سینئر ایڈوکیٹ نے مولانا حلیم اللہ قاسمی کی جانب سے داخل پٹیشن واپس لے لی اس شرط کے ساتھ کہ عدالت ان کی پٹیشن پر دوبارہ سماعت کریگی۔آج دوران سماعت عدالت میں سینئر ایڈوکیٹ یوسف مچھالہ کے ساتھ ایڈوکیٹ متین شیخ، ایڈوکیٹ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ محمد عقیل خان، ایڈوکیٹ مسکان شیخ و دیگر موجود تھے۔

متعلقہ خبریں