نئی دہلی: ہنری مارٹن انسٹی ٹیوٹ، حیدرآباد کے پروفیسر سید شاہ وحیداللہ حسینی قادری نے بدھ کو یہاں انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز (آئی او ایس) میں “دکن کی مسلم سلطنتوں میں غیر مسلموں کے ساتھ سلوک” کے موضوع پر چھٹا ابن خلدون خطبہ پیش کیا۔
لیکچر میں قرون وسطیٰ کے دکن میں مسلم حکمرانوں اور غیر مسلم اقوام کے درمیان تعلقات کی سیاسی، سماجی، اقتصادی اور ثقافتی جہتوں کا جائزہ لیا گیا۔ خطیب موصوف نےتاریخی شواہد کی روشنی میں ان طریقوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جن میں مختلف خاندانوں نے متنوع مذہبی آبادیوں پر حکومت کی اور دکن کی جامع ثقافتی روایات کے ارتقا میں اپنا کردار ادا کیا۔ پروفیسر حسینی نے وضاحت کی کہ سلاطین دکن کے ماتحت غیر مسلموں کے ساتھ سلوک کو عمومیت کے ساتھ یا پورے دور کو یکساں تاریخی تجربے کے طور پر دیکھ کر سمجھا نہیں جا سکتا۔ الگ الگ حکمرانوں کی اپنی اپنی پالیسیاں اور طرز عمل سیاسی حالات، انتظامی تقاضوں، علاقائی حالات اور ان کے علاقوں کی سماجی ساخت کے مطابق مختلف ہوتے تھے۔ انہوں نے الگ تھلگ واقعات کی بنیاد پر کسی پورے خاندان یا پورےدور کا فیصلہ کرنے کے بجائے تاریخی شواہد کو اس کے خاص تناظر میں جانچنے کی اہمیت پر زور دیا۔بہمنی سلطنت پر گفتگو کرتے ہوئےانہوں نے مقامی رہنماؤں اور تجربہ کار عہدیداروں کو حکومت میں شامل کرکے انتظامیہ کو مضبوط بنانے کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔
کہاکہ انتظامی ڈھانچے میں مختلف سماجی گروہوں کے انضمام نے ریاست کو اپنی اتھارٹی کو مستحکم کرنے میں مدد دی جبکہ غیر مسلم کمیونٹیز کو ذاتی اور خاندانی معاملات سے متعلق روایتی اداروں کو برقرار رکھنے کی اجازت دی۔لیکچر میں بہمنی سلطنت اور وجئے نگر سلطنت کے درمیان تعلقات کا حوالہ دیاگیا جو 1336 سے 1646 تک موجود رہے اور سیاسی و فوجی دشمنی کے باوجود، ان دونوں کے درمیان بات چیت کے ساتھ ثقافتی لین دین بھی ہوئے جس نے دکنی معاشرے کے ارتقاء میں اہم کردار ادا کیا۔ پروفیسرموصوف نے کہاکہ تاریخی تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ سیاسی مقابلہ اور ثقافتی تعامل ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔
بارد شاہی خاندان کا حوالہ دیتے ہوئے، پروفیسر حسینی نے متنوع آبادیوں پر حکومت کرنے میں زرعی محصولات کےمروجہ نظام، مقامی ثالثوں اور کام کرنے والے تجارتی نیٹ ورکس کی اہمیت کی طرف توجہ مبذول کروائی۔ اس طرح کے انتظامی انتظامات ایک ایسے خطے پر حکمرانی کے عملی تقاضوں کی عکاسی کرتے ہیں جس کی معیشت اور سماجی تنظیم کا انحصار مختلف برادریوں کی شرکت پر ہے۔لیکچر میں منظم مذہبی ظلم و ستم یا جبری تبدیلی کے ثبوت کی عدم موجودگی کو اس بات کے ثبوت کے طور پر برتنے کے خلاف خبردار کیا گیا کہ امتیازی سلوک یا تشدد کا کوئی انفرادی واقعہ پیش نہیں آیا۔ دلیل دی کہ ایک متوازن تاریخی تشخیص کو ریاستی پالیسی کے عمومی رجحان اور سیاسی تنازعات یا فوجی ہلچل سے پیدا ہونے والے خاص خاص واقعات کے درمیان فرق کرنا چاہیے۔لیکچر کا ایک اہم حصہ گولکنڈہ کے قطب شاہی خاندان (1490-1686) پر مرکوز تھا، جسے دکن کی انتظامی اور ثقافتی تنوع کی ایک اہم مثال کے طور پر پیش کیا گیا۔اس خاندان کی حکمرانی نے کثیر لسانی ثقافتی مشغولیت کے ساتھ جامع انتظامی طریقوں کو اپنایا، جس میں فارسی اور تیلگو/دکنی روایات شامل تھیں۔
لیکچر میں بین المذاہب مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں صوفی اداروں کے کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی۔خطبہ اس پر توجہ مبذول کراتا ہے کہ صوفی روایات، مقامی ثقافتی طریقوں اور ادبی لین دین نے ماورائےمذہبی و سماجی حدود رشتوں کی نشوونما میں اہم کردار ادا کیا۔ ان تعاملات نے دکن کی وسیع تر تاریخ کا ایک اہم حصہ بنایا اور مشترکہ ثقافتی زندگی کی روایات کو برقرار رکھنے میں مدد کی۔لیکچر کے اختتام پر، پروفیسر ایس ایس وحید اللہ حسینی قادری کےپریزنٹیشن نے سلطنت دکن کے تجربے کو تکثیریت، حکمرانی اور ثقافتی تعامل کے وسیع تر تاریخی فریم ورک کے اندر رکھا۔ لیکچر میں زیر بحث شواہد نے مذہبی اقلیتوں کے تئیں مختلف نقطہ نظر کی طرف اشارہ کیا، جس کی تشکیل خاندانوں، حکمرانوں اور تاریخی حالات کے درمیان اختلافات سے ہوتی ہے۔
اس موقع پر اپنے تاثرات میں انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین پروفیسر محمد افضل وانی نے تاریخ و ثقافت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کوئی قوم یاکمیونٹی تب تہی دست ہوجاتی ہے، جب وہ اپنی وراثت کو چھوڑ دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے مہاراجا ‘کارپوریٹس ہیڈس’ ہیں ۔ان کواور حکمرانوں کو ان کی حیثیت اورذمہ داریاں یاد دلاتے رہنا ،اسی طرح ہمارے اہل علم وقلم اور صحافیوں کی ذمہ داری ہے، جس طرح عہد وسطی کے درویشوں نے سلاطین وقت کے سامنے کلمۃ الحق بلند کرتے رہنااپنا شیوہ بنایا۔ اسی طرح آئی او ایس سینٹر فار ہسٹوریکل اینڈ سولائزیشنل اسٹڈیز(علی گڑھ) کے سربراہ پروفیسر سید جمال الدین نے جو پروگرام کی صدارت کررہے تھے، اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ہندوستان کی تہذیب و ثقافت کے ارتقا میں دکن کے سلاطین اور صوفیا کا بہت اہم کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو دکن کی سب سے بڑی دین دکنی زبان اور ریختہ ہے جس کی موجودہ شکل اردو /ہندی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ولی دکنی تھے جن کی شاعری نے شمالی ہند بالخصوص دہلی کے ان شعرا کو ریختہ کی طرف متوجہ کیا جنھوں نے شاعری کا آغاز فارسی میں کیا تھا۔
پروگرام کا آغاز حسب روایت آیات قرآن پاک کی تلاوت و ترجمےسے ہوا ۔ خیرمقدمی کلمات آئی او ایس کی وائس چیئرپرسن پروفیسر حسینہ حاشیہ نے پیش کیے، پروگرام کی نظامت ڈاکٹرفیضان احمد کررہے تھے جبکہ شکریہ کی تحریک انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری جنرل جناب محمد عالم نے پیش کی۔ حاضرین میں مجدد آئی او ایس سینٹرکے کنوینر انجم نعیم، آجکل کے ایڈیٹرعبدالمنان، صحافی و مصنف احمدجاوید، تاریخ داں ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن اور دیگر اہل علم شامل تھے۔ پروگرام ہائیبرڈ موڈ میں آنلائن شرکا کے لیے بھی قابل رسائی تھا، ملک کے دور دراز علاقوں اور بیرون ملک سےجو لوگ شریک تھے، ان میںشیخ نظام الدین اور ڈاکٹر کلیم عالم بطورخاص قابل ذکر ہیں۔ ڈاکٹرعالم نے اپنے تحریری تاثرات میں اس اکیڈمک لکچر کو عام فہم بنانے پر زور دیا۔ خطبہ میں شواہد پر مبنی تاریخی تحقیقات کی اہمیت پر زور دیاگیا ہے، خاص طور پر جب مذہبی فرقوں کے درمیان تعلقات کا مطالعہ کیا جائے تو تنازعات کی اقساط کے ساتھ ساتھ انتظامی طرز عمل اور سیاسی عداوت کے ساتھ ساتھ ثقافتی تفاعل کا جائزہ لیا جائے۔
ایک ساتھ رہ سکتے ہیں سیاسی مقابلہ اور ثقافتی تعامل،دکن کی مسلم سلطنتوں میں غیر مسلموں کے ساتھ سلوک کے موضوع پرپروفیسر سید شاہ وحیداللہ کا خطاب
