تازہ ترین
این ڈی اے اقتدار والی ریاستوں میں کیوں بڑھ رہا ہےنشہ؟،بی جے پی حکومت والے صوبے میں نشہ ختم کرنے کی تاریخ کریں مقرر، وزیر داخلہ امت شاہ پر اروند کجریوال کا سخت حملہبامبے ہائی کورٹ نے مولانا حلیم اللہ قاسمی کو دوبارہ پٹیشن داخل کرنے کی دی ہدایتایک ساتھ رہ سکتے ہیں سیاسی مقابلہ اور ثقافتی تعامل،دکن کی مسلم سلطنتوں میں غیر مسلموں کے ساتھ سلوک کے موضوع پرپروفیسر سید شاہ وحیداللہ کا خطاباے ایم یو کے ویمنس کالج میں سوچھتا پکھواڑہ کے تحت شجرکاری مہمجامعہ امام محمد انور شاہ دیوبند میں سالانہ انعامی اجلاستیج پرتاپ کے گھر پہنچے والد لالوپرساد یادو، بہن میساا ورر وہنی، نوراتری کے موقع پر مہا اشٹمی پرکیا پوجا پاٹھ کا اہتمامانتخاب میں ہر ووٹر کو ہےووٹ دینے کا حق حاصل، کوسی گریجویٹ انتخابی حلقہ میں 20 ہزار ووٹروں کے اتحاد سے بی جے پی کودیا جاسکتا ہے سخت چیلنج: پرشانت کشورنوادہ میں پولیس ٹیم پر اینٹ اور پتھرسے حملہ، خاتون سپاہی کی ویڈیو بنانے پر بڑھا تنازع، 11 افراد گرفتار
دلی این سی آر

این ڈی اے اقتدار والی ریاستوں میں کیوں بڑھ رہا ہےنشہ؟،بی جے پی حکومت والے صوبے میں نشہ ختم کرنے کی تاریخ کریں مقرر، وزیر داخلہ امت شاہ پر اروند کجریوال کا سخت حملہ

نئی دہلی:عام آدمی پارٹی نے بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں کھلے عام جاری منشیات کے کاروبار کو لے کر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر سخت حملہ کیا ہے۔ پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بہار میں شراب بندی کے باوجود غیر قانونی نشہ آور اشیا کے کاروبار میں اضافے سے متعلق ایک میڈیا رپورٹ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے امت شاہ کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے امت شاہ سے سوال کیا کہ بہار، گجرات، راجستھان اور گوا میں تو بی جے پی کی ہی حکومتیں ہیں، پھر وہاں نشہ کیوں ختم نہیں ہو رہا ہے؟ کیا وہاں نشہ ختم کرنے کی کوئی آخری تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے؟ انہوں نے امت شاہ سے پوچھا کہ کیا وہ بہار کی طرح پنجاب میں بھی نشہ ختم کرنے کی بات کر رہے ہیں؟
اروند کیجریوال نے کہا کہ پنجاب کے بارے میں بات کرنے سے پہلے امت شاہ کو بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں نشہ ختم کرکے دکھانا چاہیے۔بہار میں منشیات کے بڑھتے کاروبار پر عام آدمی پارٹی نے امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بہار میں بی جے پی کی حکومت گزشتہ 20 سال سے ہے۔ آخرکار آپ لوگوں نے بہار کو بھی اڑتا بہار بنا ہی دیا۔ ہمیشہ کی طرح آپ کو شرم بھی نہیں آ رہی ہوگی۔ 2007 سے 2017 کے درمیان پنجاب میں آپ لوگوں نے شرومنی اکالی دل کے ساتھ مل کر جس طرح منشیات کی اسمگلنگ کو فروغ دیا، ایک پوری نسل کو برباد کیا اور اب پنجاب آکر بڑے بڑے دعوے کر رہے ہیں۔ منشیات کے معاملے پر آپ کے منہ سے ایسی باتیں اچھی نہیں لگتیں۔ ملک کو جواب دیجیے کہ بہار کب نشہ سے پاک ہوگا؟ اور ہاں، اس بار شتر مرغ کی طرح زمین میں اپنا سر مت چھپا لیجیے گا۔عام آدمی پارٹی نے کہا کہ بھگونت مان حکومت کی قیادت میں ہم نے ایک محفوظ پنجاب کا وعدہ کیا تھا اور ہم اس وعدے کو پورا کر رہے ہیں۔
2022 سے اب تک منشیات سے متعلق معاملات میں 1.27 لاکھ سے زیادہ گرفتاریاں کی گئی ہیں، 7,260 کلوگرام سے زیادہ ہیروئن ضبط کی گئی ہے اور جرائم پیشہ افراد کے 1,288 نیٹ ورکس کا پردہ فاش کیا گیا ہے۔ یہ تو محض شروعات ہے۔ ہم پنجاب سے منشیات اور گینگسٹرز کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔دوسری جانب عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے سنگھ نے کہا کہ پنجاب کو نشے میں ڈبونے کا گناہ اور جرم بی جے پی اور اکالی دل کی حکومتوں نے کیا ہے۔ پنجاب کا بچہ بچہ یہ بات جانتا ہے اور اس حقیقت میں کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے کہ پنجاب میں منشیات کس نے پھیلائیں اور ہزاروں کروڑ روپے کا منشیات کا کاروبار کس نے کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ کی آبائی ریاست گجرات میں اڈانی کے مُندرا بندرگاہ سے 20 ہزار کروڑ روپے کی منشیات ضبط کی گئی تھیں۔ اس وقت قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے سپریم کورٹ میں تحریری طور پر کہا تھا کہ گرفتار ملزمان کو ضمانت نہ دی جائے، کیونکہ ان منشیات سے حاصل ہونے والی رقم پاکستان میں دہشت گردی کی تربیت کے لیے استعمال ہوتی ہے۔سنجے سنگھ نے کہا کہ اڈانی کی بندرگاہ سے ضبط کی گئی منشیات کے معاملے پر نہ تو امت شاہ اور نہ ہی بی جے پی نے کوئی بیان دیا۔
یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اڈانی کے خلاف کیا کارروائی کی گئی یا ان سے کیا پوچھ گچھ ہوئی۔ پارلیمنٹ میں حکومت کے اپنے جواب میں اس معاملے کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کی اپنی ریاست گجرات میں شراب بندی نافذ ہونے کے باوجود زہریلی شراب پینے سے 100 افراد کی موت ہو گئی، وہ آخر کس منہ سے بات کریں گے؟ جب بی جے پی منشیات کے مسئلے پر بولتی ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے اسامہ بن لادن عدم تشدد کا درس دے رہا ہو۔وہیں عام آدمی پارٹی کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ امت شاہ بتائیں کہ سی بی آئی نے پانچ کروڑ کلو چاول کی چوری کے معاملے میں اب تک منجندر سنگھ سرسا سے پوچھ گچھ کیوں نہیں کی اور انہیں ملزم کیوں نہیں بنایا گیا؟انہوں نے کہا کہ ہم نے امت شاہ کی اینٹی کرپشن برانچ (اے سی بی) کو سائیکل گھوٹالے کی شکایت دی تھی، جسے ڈیڑھ ماہ گزر چکا ہے۔ اس معاملے میں چار ہزار روپے کی سائیکل سات ہزار روپے میں خریدی گئی تھی۔ امت شاہ کے ماتحت کام کرنے والے محکمے آخر کیا کر رہے ہیں؟ کیا وہ نشے میں ہیں؟ اب تک ملزم وزیر کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ سات سو کروڑ روپے کے صحت گھوٹالے میں فائلیں جل گئیں تو امت شاہ کے ماتحت کام کرنے والی اے سی بی کیا کر رہی ہے؟ ان کا کوئی بھی محکمہ ٹھیک سے کام نہیں کر پا رہا ہے۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ افغانستان میں تیار ہونے والی افیون اور دیگر نشہ آور اشیا سرحد کے راستے ہندوستان پہنچتی ہیں، جبکہ سرحد کی ذمہ داری امت شاہ کے پاس ہے۔ امت شاہ بتائیں کہ وہ گزشتہ 12 سال سے کیا کر رہے ہیں اور ملک میں منشیات کیسے پہنچ رہی ہیں؟ دہلی، ہریانہ، بہار اور جموں و کشمیر میں منشیات کا کاروبار جاری ہے، لیکن یہ منشیات کہاں سے آ رہی ہیں، اس کا جواب امت شاہ کب دیں گے؟ انہوں نے سوال کیا کہ امت شاہ کے اقتدار کا نشہ کب اترے گا؟ کبھی کوئی کام کرکے بھی دکھائیے، یا صرف بیان بازی سے ہی کام چلتا رہے گا؟انہیں صرف بولتے ہوئے کئی سال گزر چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں