Bihar
اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں نالندہ ضلع کو ملی نئی سوغات
بہار شریف: ریاست حکومت کے سات نشچے-3 2025-30 کے چوتھے نشچے اُنت شِکشا اُجّول بھوش کے تحت نالندہ ضلع میں قائم 09 نئے سرکاری ڈگری کالجوں کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ریاست سطحی پروگرام کا افتتاح معزز وزیرِ اعلیٰ، بہار جناب سمراٹ چودھری کے ہاتھوں سرکاری ڈگری کالج، گوراڈیہ بھاگلپور میں منعقدہ تقریب کے ذریعے کیا گیا۔ اسی پروگرام کے ساتھ ریاست کے تمام 211 نئے قائم شدہ ڈگری کالجوں میں ایک ساتھ تدریس کا آغاز کیا گیا۔
یہ پہل ریاست حکومت کے اس عزم کی علامت ہے جس کے تحت ہر علاقے کے طلبہ کو اپنے ہی پرکھنڈ میں معیاری اعلیٰ تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔نالندہ ضلع میں ان نئے ڈگری کالجوں کے شروع ہونے سے خاص طور پر دیہی اور دور دراز کے علاقوں کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے دوسرے شہروں کی طرف ہجرت نہیں کرنی پڑے گی۔ اس سے طلبہ و طالبات، بالخصوص طالبات کو اپنے قریبی علاقے میں تعلیم حاصل کرنے کا بہتر موقع ملے گا اور ضلع میں اعلیٰ تعلیم کا دائرہ مزید مستحکم ہوگا۔اب گریجویشن کی تعلیم کے لیے طلبہ کو دور دراز شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ ہر پرکھنڈ میں اعلیٰ تعلیم دستیاب ہونے سے وقت اور پیسے دونوں کی بچت ہوگی اور زیادہ سے زیادہ نوجوان اعلیٰ تعلیم سے جڑ سکیں گے۔
ان تمام کالجوں میں 6 اہم مضامین میں پڑھائی شروع کی گئی ہے۔ ان میں ہندی، انگریزی، سیاسیات، معاشیات، تاریخ اور سماجیات شامل ہیں۔
طلبہ کے داخلے، تدریس، بنیادی سہولیات اور تعلیمی ماحول کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے تمام ضروری انتظامات وقت کی حد میں یقینی بنائے جائیں۔
نالندہ ضلع میں ان 09 سرکاری ڈگری کالجوں کا آغاز اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک اہم کامیابی ہے۔ حکومت کے اُنت شِکشا اُجّول بھوش کے ہدف کو نئی رفتار ملے گی۔
Bihar
بوچی گاؤں میں نوجوان کا تیز دھار ہتھیار سے قتل
ارریہ: بیرگاچھی تھانہ حلقہ کے تحت بوچی گاؤں میں بدھ کی شب ایک نوجوان کو تیز دھار ہتھیار سے قتل کر دیا گیا۔ مقتول کی لاش اس کے گھر بوچی بکرا ندی سے متصل سڑک پر خون سے لت پت حالت میں برآمد ہوئی۔ مقتول کے سر پر گہرے زخم کے نشانات پائے گئے، جس سے ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نامعلوم افراد نے تیز دھار ہتھیار سے وار کرکے اس کی جان لے لی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی بیرگاچھی تھانہ کے انچارج نودیپ گپتا بدھ کی رات ہی موقع واردات پر پہنچ گئے اور قتل کے معمہ کو حل کرنے کے لیے تفتیش شروع کر دی۔ پولیس نے جمعرات کو لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجنے کے بعد ورثا کے حوالے کر دیا۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ڈی ایس پی سشیل کمار سنگھ جمعرات کی صبح بوچی گاؤں پہنچے اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کرتے ہوئے پولیس کو ضروری ہدایات دیں۔ اسی دوران آئی ایف ایس ایل کی ٹیم بھی موقع پر پہنچی اور تحقیقات کے لیے کئی نمونے جمع کیے۔ مقتول کی شناخت ارریہ بلاک کے بیرگاچھی تھانہ حلقہ، بوچی پنچایت کے وارڈ نمبر چار کے بکرا ٹولہ باشندہ نورالحسن کے 35 سالہ بیٹے خواجہ حسین کے طور پر کی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق مقتول خواجہ حسین اپنے گھر سے پچھم کی جانب سڑک پر خون سے لت پت حالت میں پڑا ہوا تھا۔ کسی راہگیر کی نظر اس پر پڑی تو اس نے فوری طور پر پنچایت کے مکھیا محمد علی حسن کو موبائل فون کے ذریعے واقعہ کی اطلاع دی۔ اطلاع ملتے ہی مکھیا محمد علی حسن گاؤں والوں کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے، جہاں اہل خانہ نے مقتول کی شناخت کی اور بیرگاچھی تھانہ پولیس کو واقعہ سے آگاہ کیا۔
ورثا کا کہنا ہے کہ مقتول کے سر پر تیز دھار ہتھیار سے سیدھا وار کر کے اس کا قتل کیا گیاہے۔ بیرگاچھی تھانہ صدر نودیپ گپتا نے بتایا کہ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی، پوسٹ مارٹم کی کارروائی مکمل کرائی گئی اور آئی ایف ایس ایل ٹیم کو بھی طلب کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، ورثا کی جانب سے تحریری درخواست موصول ہونے کے بعد قانونی کارروائی کی جائے گی اور جلد ہی واقعہ کا انکشاف کر لیا جائے گا۔
Bihar
جعلی آدھار کارڈ اور سرکاری دستاویزات بنانے والے گروہ کا پردہ فاش، ایک گرفتار
Bihar
المنصور ٹرسٹ کی ادبی نشست میں ’’کشمیر کا ادھورا سفر‘‘ کی رسمِ اجراء
دربھنگہ: المنصور ٹرسٹ، دربھنگہ کے زیرِ اہتمام ادبی و فکری نشست ’’گفتگو‘‘ کا کامیاب انعقاد حکیم دمڑی منزل، ڈاکٹر آفتاب حسین کمپلیکس، سبھاش چوک، دربھنگہ میں عمل میں آیا۔ نشست کا موضوع ’’ادیبوں کے عصری تقاضے‘‘ تھا، جبکہ معروف افسانہ نگار ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کی تازہ تصنیف ’’کشمیر کا ادھورا سفر‘‘ کی باوقار رسمِ اجراء بھی انجام دی گئی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی اور کلیدی مقرر پروفیسر آفتاب احمد آفاقی، صدر شعبۂ اردو، بنارس ہندو یونیورسٹی، وارانسی تھے، جبکہ صدارت پروفیسر محمد آفتاب اشرف، سابق صدر شعبۂ اردو، للت نارائن متھلا یونیورسٹی، دربھنگہ نے کی۔ نظامت کے فرائض معروف ادیب انور آفاقی نے انجام دیے۔
ابتدائی کلمات میں ڈاکٹر احسان عالم نے مصنف ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شاعری، افسانہ نگاری، تنقید اور تبصرہ نگاری کے ساتھ ساتھ سفرنامہ نگاری میں بھی اپنی منفرد شناخت قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دونوں سفرناموں کو قارئین کی بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی، جو ان کی گہری مشاہداتی بصیرت کا مظہر ہیں۔ڈاکٹر ایوب راعین نے مصنف سے اپنی دیرینہ رفاقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد ہمیشہ سفر اور مشاہدے کے شوقین رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کے سفرناموں میں حقیقت نگاری اور دلکشی نمایاں نظر آتی ہے۔
صدرِ مجلس پروفیسر محمد آفتاب اشرف نے اردو سفرنامہ نگاری کی روایت اور اس کی ادبی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’کشمیر کا ادھورا سفر‘‘ ایک دلچسپ اور معیاری تصنیف ہے، جو قاری کو اپنے ساتھ سفر پر لے جاتی ہے۔
مہمانِ خصوصی پروفیسر آفتاب احمد آفاقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ادب کو زمانے کے بدلتے ہوئے حالات اور سماجی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان کے تحفظ اور فروغ کے لیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر سنجیدہ کوششیں ناگزیر ہیں، جبکہ نوجوان نسل میں مطالعے کا ذوق پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے دربھنگہ ٹائمز پبلی کیشنز کی اشاعتی خدمات کو سراہتے ہوئے دو سو سے زائد کتابوں کی اشاعت پر مبارک باد پیش کی اور کہا کہ معیاری کتابوں کی اشاعت خوش آئند ہے، تاہم قارئین کی کم ہوتی تعداد اہلِ قلم اور معاشرے دونوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے دربھنگہ کو بہار کی علمی و ادبی سرگرمیوں کا اہم مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کی ادبی روایت ہمیشہ زندہ اور فعال رہی ہے۔
تقریب کے دوران ڈاکٹر منصور خوشتر، سکریٹری المنصور ٹرسٹ نے کتاب کی اشاعت کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کے سفرنامے محض سیاحتی روداد نہیں بلکہ معلومات، مشاہدات اور ادبی لطافت کا حسین امتزاج ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مصنف کا پہلا سفرنامہ ’’دارجلنگ کی سیر‘‘ قارئین میں بے حد مقبول ہوا، جبکہ تازہ تصنیف ’’کشمیر کا ادھورا سفر (سری نگر اور پہلگام کی سیر)‘‘ بھی اسی روایت کی کامیاب کڑی ہے، جسے دربھنگہ ٹائمز پبلی کیشنز نے شائع کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اڑتالیس صفحات پر مشتمل یہ مختصر مگر معلوماتی سفرنامہ قدرتی مناظر، تاریخی مقامات، سماجی مشاہدات اور ذاتی تاثرات کو نہایت سادہ، رواں اور مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے، جس سے قاری خود کو اس سفر کا حصہ محسوس کرتا ہے۔
تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر منصور خوشتر نے مہمانان، مقررین اور شرکائے مجلس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ المنصور ٹرسٹ آئندہ بھی ایسی ادبی، فکری اور علمی نشستوں کے انعقاد کا سلسلہ جاری رکھے گا تاکہ ادب و ثقافت کے فروغ کے ساتھ نئی نسل میں مطالعے کا رجحان مضبوط ہو۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
