Connect with us

بہار

اسمبلی انتخابات کے لیے ای وی ایم کی پہلی رینڈمائزیشن مکمل

Published

on

(پی این این)
چھپرہ :اسمبلی انتخابات کے لیے ای وی ایم کی پہلی رینڈمائزیشن این آئی سی میں منعقد ہوئی۔ ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کم ڈی ایم امن سمیر،میونسپل کمشنر سنیل کمار پانڈے،ڈپٹی الیکشن آفیسر جاوید اقبال،ڈی ایم ڈبلیو او روی پرکاش،ڈی پی آر او رویندر کمار،ڈی آئی او تارنی کمار،جے ڈی یو کے ضلع جنرل سکریٹری پربھاش شنکر،کانگریس سٹی صدر فیروز اقبال،آر جے ڈی جنرل سکریٹری شیو کمار مانجھی،سی پی آئی (ایم) ضلع ممبر سنتوش کمار،بی جے پی کے ضلع صدر رنجیت کمار سنگھ اور سی پی آئی ایم ایل کے ڈی سی ممبر دیپانکر کمار مشرا موجود تھے۔
ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر مسٹر سمیر نے رینڈمائزیشن کے پورے عمل کی تفصیل سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ رینڈمائزیشن ایک ایسا عمل ہے جو ای وی ایم کی شفافیت کو یقینی بناتا ہے۔پہلی رینڈمائزیشن میں ای وی ایم کو اسمبلی حلقے کے لحاظ سے مختص کیا جاتا ہے۔دوسرے میں بوتھ کے سطح مشینیں مختص کی جائیں گی۔پہلی رینڈمائزیشن کے بعد ای وی ایم ڈی ای او کی لاگنگ سے آر او کی لاگنگ میں منتقل ہو جائے گی۔یہ پورا عمل دستی کام سے پاک ہے۔کوئی نہیں جانتا کہ کون سی مشین کس حلقے یا بوتھ کو سونپی جائے گی۔پہلی رینڈمائزیشن کے بعد، مشینوں کو حلقہ کے لحاظ سے الگ کیا جائے گا۔کمیشن کے پورٹل EMS-2.0 پر اسکین کیا جائے گا اور متعلقہ حلقے کے لیے ڈسپیچ سینٹر کو بھیج دیا جائے گا۔علیحدگی اور اسکیننگ صدر بلاک کے قریب واقع ای وی ایم گودام میں کی جائے گی۔ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن ای وی ایم کی شفافیت کو لے کر انتہائی حساس ہے۔تمام سیاسی پارٹیوں کو ای وی ایم کی ہر حرکت سے آگاہ کیا جاتا ہے۔آپ سے توقع کی جاتی ہے کہ آپ گودام اور ہر ڈسپیچ سنٹر میں خود یا نمائندہ کے ذ3موجودگی کو یقینی بنائیں۔
ڈی ای او کے حکم اور سیاسی جماعتوں کی رضامندی پر الیکشن کمیشن کے ای ایم ایس سسٹم پر رینڈمائزیشن شروع کی گئی۔اسمبلی حلقوں کو ان کے کل پولنگ اسٹیشنوں کے علاوہ 20 فیصد اضافی BUs اور CUs اور 30 ​​فیصد VVPATs الاٹ کیے گئے۔ایکما کے 356 بوتھس کے لیے،427-BU،427-CU اور 463 VVPAT مختص کیے گئے۔جبکہ مانجھی کے 363 بوتھوں کے لیے 435 بی یو، 435 سی یو اور 471 وی وی پی پیٹ،بنیا پور کے 377 بوتھوں کے لیے 452 بی یو،452 سی یو اور 490 وی وی پی پیٹ، تریاں کے 354 بوتھ کے لیے 424 بی یو، 424 سی یو اور 460 وی وی پیٹ، مڑھوڑہ کے 333 بوتھوں کے لیے 399 بی یو، 399 سی یو اور 432 وی وی پیٹ، چھپرہ کے373 بوتھ کے لیے 447 بی یو، 447 سی یو اور 484 وی وی پیٹ، گرکھا کے 360 بوتھ کے لیے 432 بی یو 432 سی یو اور 468 وی وی پیٹ، امنور کے 330 بوتھ کے لیے 396 بی یو 396 سی یو اور 429 وی وی پیٹ، پرسا کے 327 بوتھ کے لیے 392 بی یو 392 سی یو اور 425 وی وی پیٹ، سونپور کے 337 بوتھ کے لیے 404 بی یو 404 سی یو اور438 وی وی پیٹ مختص کیے گئے۔رینڈمائزڈ مشینوں کی فہرست کے ہر صفحے پر ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر،ای وی ایم کے نوڈل اور تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے دستخط کئے۔ ڈی ایم نے کہا کہ دستخط شدہ کاپیاں دیکھنے کے لیے ضلع اور کمیشن کی ویب سائٹس پر اپ لوڈ کی جائیں گی۔انہوں نے تمام امیدواروں کو مختص مشینوں کی فہرست کی ہارڈ کاپیاں بھی فراہم کیں۔

Bihar

تیج پرتاپ یادو جیل سے رہا

Published

on

پٹنہ:(پی این این) بہار کے سابق وزیر اور جن شکتی جنتا دل (جے جے ڈی) کے قومی صدر تیج پرتاپ یادو پٹنہ کی بیور جیل سے باہر آ گئے ہیں۔ انہیں نیٹ پیپر لیک معاملے سے متعلق طلبہ تحریک کے ایک کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔بہار بند کے دوران ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے طلبہ کو پولیس پر حملے کے لیے اکسایا۔ عدالت نے انہیں عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو کے بڑے بیٹے تیج پرتاپ نے اپنی گرفتاری کو سیاسی سازش قرار دیا تھا۔
واضح رہے کہ دہلی میں مظاہرین کے ساتھ مرکزی حکومت کی رضامندی کے بعد بہار حکومت نے بھی نیٹ پیپر لیک تحریک سے متعلق درج مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔تیج پرتاپ یادو کو منگل کی شام بیور جیل سے رہا کر دیا گیا۔ جیل سے باہر آتے ہی ان کے حامیوں میں جوش و خروش بڑھ گیا۔ بیور جیل کے باہر بڑی تعداد میں موجود جے جے ڈی کارکنوں نے ان کا استقبال کیا۔ اس کے بعد تیج پرتاپ یادو گاڑی میں سوار ہو کر وہاں سے روانہ ہوگئے۔تیج پرتاپ یادو کو پٹنہ پولیس نے 25 جولائی کو حراست میں لیا تھا۔ ان کے خلاف گاندھی میدان تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ گزشتہ ہفتہ کو بہار بند کے دوران انہوں نے رام غلام چوک پر احتجاج کر رہے طلبہ و طالبات کے درمیان مظاہرہ کیا تھا۔
ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے مظاہرین کو پولیس پر حملے کے لیے اکسایا۔

Continue Reading

Bihar

ہم بہارکونہیں بننے دیں گے ’پولیس گردی‘ کی ریاست،آپ کو بچانے نہیں آئیں گےسمراٹ چودھری،تمام پروٹوکول کی پابندی کریں پولیس افسران ، تیجسوی یادو کاقانونی نظام اور پولیس کارروائی پر سخت برہمی کا اظہار

Published

on

(پی این این)
پٹنہ: بہار کی سمراٹ چودھری حکومت نے نیٹ امتحان کے مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس پر ریاستی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے کہا کہ حکومت نے ان کی تنبیہ اور دباؤ کے بعد ہی یہ قدم اٹھایا ہے۔
اسی کے ساتھ تیجسوی یادو نے ان افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا، جن کے حکم پر اے کے-47 سے فائرنگ کی اجازت دی گئی تھی۔ پٹنہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران افسران پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’سمراٹ چودھری آپ کو بچانے نہیں آئیں گے۔‘‘
تیجسوی یادو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیوان میں طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر اے کے-47 استعمال کرنے والے کانسٹیبل کو محض معطل کر دینا کافی نہیں ہے۔ اس پورے واقعے کی عدالتی نگرانی میں غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ اے کے-47 کے استعمال کا حکم کس نے دیا تھا اور اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب مظاہرین کے خلاف مبینہ طور پر اے کے-47 کا استعمال کیا گیا ہے۔ تیجسوی یادو نے مطالبہ کیا کہ وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری واضح کریں کہ طلبہ مظاہرین کے خلاف اے کے-47 استعمال کرنے کا حکم کس نے دیا تھا، نیز پولیس نے متعدد طلبہ کے خلاف اقدامِ قتل کے مقدمات کس بنیاد پر درج کیے۔
تیجسوی یادو نے کہا، “جب ہم نے آپ کو الٹی میٹم دیا تو آپ (وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری) نے گرفتار طلبہ کی رہائی کا حکم جاری کیا۔ جب ہم نے آپ کو خبردار کیا تو آپ نے مقدمات واپس لینے کا اعلان بھی کر دیا، لیکن وہ افسران جو قصوروار ہیں، جن کی وجہ سے گولیاں چلیں اور جن کے حکم پر فائرنگ ہوئی، ان کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟ آپ نے گرفتاریاں تو کیں، مگر اس معاملے کی تحقیقات کا کیا نتیجہ نکلا؟”تیجسوی یادو نے مزید کہا کہ وہ آج بھی سمراٹ چودھری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ کسی ایک سپاہی کو قربانی کا بکرا نہ بنایا جائے، کیونکہ ایک سپاہی اتنا بااختیار نہیں ہوتا کہ وہ اپنی مرضی سے اے کے-47 سے کسی 15 سالہ بچے کے سینے پر گولی چلا دے۔ آخر یہ سب کس کے حکم پر ہوا؟ اس معاملے کی عدالتی نگرانی میں غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی، وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
اس کے بعد تیجسوی یادو نے کہا کہ وہ متعلقہ افسران کو بھی خبردار کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “سمراٹ چودھری کب آئیں گے اور کب چلے جائیں گے، کسی کو معلوم نہیں، لیکن وہ ان افسران کو بچانے نہیں آئیں گے۔ بہتر یہی ہے کہ افسران آئین، قواعد و ضوابط اور اپنے سرکاری پروٹوکول کی پابندی کریں۔”تیجسوی یادو نے مزید کہا کہ اب بہار میں مجرموں اور بدعنوان عناصر کو سرپرستی دینے کا سلسلہ نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہا، “بہار جے پرکاش نارائن، کرپوری ٹھاکر اور لالو پرساد یادو کی سرزمین ہے۔ ہم اس دھرتی کو پولیس گردی کی ریاست نہیں بننے دیں گے۔‘‘
قابلِ ذکر ہے کہ ضلع سیوان میں طلبہ کے احتجاج کے دوران ابھیشیک کمار نامی ایک پولیس اہلکار اے کے-47 سے فائرنگ کرتے ہوئے نظر آیا تھا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شدید ہنگامہ برپا ہو گیا تھا، جس کے بعد کارروائی کرتے ہوئے ابھیشیک کمار کو معطل کر دیا گیا تھا۔

 

Continue Reading

Bihar

بہار کے تمام بلاکوں میں کھولے جائیں گے ڈگری کالج، اب ریاست کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے نہیں جانا پڑے گاباہر :سمراٹ چودھری

Published

on

پٹنہ:(پی این این)بہار کے تمام اسکولوں میں اب ہفتہ کے روز نصف دن کی تعلیم ہوگی۔ اسکولوں میں ہفتہ کے دن پورے وقت پڑھائی نہیں ہوگی بلکہ صرف نصف دن تک ہی تعلیمی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔
وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری نے یہ اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے لوگ اس کا مطالبہ کر رہے تھے۔ بہار قانون ساز اسمبلی کے مانسون اجلاس میں بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ اس کے بعد وزیرِ اعلیٰ نے محکمۂ تعلیم کے افسران کو اس سلسلے میں ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دے دی ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ یہ فیصلہ مرکزی حکومت کی قومی تعلیمی پالیسی-2020 کے تحت کیا گیا ہے۔وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری نے منگل کے روز مونگیر ضلع کے اثر گنج میں سرکاری ڈگری کالج کا افتتاح کیا۔ اس کے بعد جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بہار کے تمام اسکولوں میں ہفتہ کے روز نصف دن کی تعلیم کا اعلان کیا۔اب ریاست کے تمام اسکول ہفتہ کے دن صرف نصف دن تک ہی چلیں گے۔ ٹفن بریک کے بعد بچوں کو چھٹی دے دی جائے گی۔ وزیرِ اعلیٰ کے اس اعلان کے بعد پروگرام میں موجود لوگوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے تالیاں بجا کر ان کا استقبال کیا۔
سمراٹ چودھری نے کہا کہ ان کی حکومت نے بہار کے تمام پرکھنڈوں (بلاکوں) میں ڈگری کالج کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست میں اب تک 211 ڈگری کالج کھولے جا چکے ہیں۔ آج اثر گنج میں 212واں ڈگری کالج قائم کیا گیا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ اب بہار کے تمام بی ایڈ کالجوں میں بھی ڈگری کالج کھولے جائیں گے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ اب بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے باہر نہیں جانا پڑے گا۔ حکومت نے ماڈل اسکول کے تصور کو عملی جامہ پہنایا ہے۔ سرسوتی ودیا نکیتن قائم کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 551 مقامات پر ان اسکولوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ آج مزید 10 مقامات پر ایسے اسکول کھولے گئے ہیں، جس کے بعد ان کی تعداد بڑھ کر 561 ہو گئی ہے۔ یہ تعداد ابھی مزید بڑھے گی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network