بہار
اردو شیریں اور بھائی چارے کی زبان :ضلع مجسٹریٹ انیل کمار
ضلع اردو زبان سیل ارریہ کے زیر اہتمام فروغ اردو سمینارو مشاعره کا انعقاد
(پی این این)
ارریہ : ہر سال کی طرح امسال بھی ضلع اردو زبان سیل، ارریہ کے زیرِ اہتمام ضلع سطحی فروغ اردو سمینار، مشاعرہ و عمل گاہ کا انعقاد بڑے تزک و احتشام کے ساتھ ٹاؤن ہال ارریہ میں ہوا۔ اس پروگرام کا افتتاح ضلع مجسٹریٹ ارریہ اور مہمان خصوصی انیل کمار اور دیگر معززین بشمول عہدیداروں نے شمع روشن کرکے کیا۔ اس سے قبل اردو زبان سیل ارریہ کی جانب سے ضلع اردو زبان سیل ارریہ کے انچارج محمد ذوالفقار اور پروگرام کے آرگنائزر تعظیم احمد ندوی ودیگر اردو مترجمین نے تمام عہدیداران اور مہمانوں کا پھولوں کے گلدستے پیش کرکے شاندار استقبال کیا اور ان کی شال پوشی کرکے انہیں اعزاز بخشا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ لینڈ ایکوزیشن آفیسر( ضلع اراضی حصول ) ارریہ شری وسیم احمد، اسسٹنٹ ڈائرکٹر ڈسٹرکٹ سوشل سیکورٹی سیل ارریہ شری دلیپ کمار، انچارج آفیسر اردو زبان سیل ارریہ شری ذوالفقار علی وغیرہ موجود تھے۔
پروگرام کے افتتاح کے معا بعد ضلع اردو زبان سیل کی طرف سے شائع ہونے والا سالانہ سوینیئر (رسالہ ) ضلع اردو نامہ ارریہ کا رسم اجراء کیا گیا۔ اس موقع پر پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ارریہ نے کہا کہ اردو درحقیقت مٹھاس اور بھائی چارے کی زبان ہے۔ یہ تنوع میں اتحاد کی علامت ہے۔ اردو زبان سیل ایسے پروگرام کے انعقاد پر تعریف کا مستحق ہے۔ انہوں نے اس طرح کے پروگراموں کو ضلع سے لے کر سب ڈویژن، بلاک اور اسکول کی سطح تک منعقد کرنے پر زور دیا۔ پروگرام کا پہلا سیشن فروغ اردو سیمینار کی شکل میں منعقد کیا گیا۔ اس سیشن میں پیپر ریڈر کی حیثیت سے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ فاربس گنج کے پرنسپل آفتاب عالم نے عوامی سطح پر اردو زبان کی ترقی میں پیدا ہونے والے مسائل اور ان کے حل پر اپنا مقالہ پیش کیا، پیپلز کالج ارریہ کے پرنسپل عنایت اللہ ندوی نے سرکاری سطح پر اردو زبان کی ترقی پر اپنا مقالہ پیش کیا۔
اقبال ندوی نے پرائمری اور سیکنڈری سطح پر اردو زبان کی تعلیم پر اپنا مقالہ پیش کیا، صحافی پرویز عالم علیگ جنہوں نے بطور نمائندہ شرکت کی، نے ارریہ ضلع میں اردو کی ترقی، ہیڈ ٹیچر مشیر عالم نے اردو بولنے والے طلباء کے لئے روزگار کے مواقع اور استاد ظفر رحمانی نے اردو اساتذہ کی ذمہ داریوں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پروگرام کے دوران طالبات عظمیٰ پروین، ایمن عائشہ، صدا آزاد اور صدف آزاد نے ایک کے بعد ایک غزل اور نظم پیش کرکے حاضرین کو مسحور کردیا۔ اس پروگرام کے دوسرے سیشن میں ایک مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔ مشاعرہ میں علاقائی اور ریاستی سطح کے شعراء نے شرکت کیں جن میں خاص طور پر طارق بن ثاقب، ارشد انور الف، عبدالباری زخمی، خورشید قمر، خطیب حیدر، محمد جنید عالم، محمد عطاء اللہ، مشتاق انجم، فیاض راہی اور شنکر کیموری شامل تھے۔
تمام شعراء نے اپنے نئےکلام اور غزلوں س خوب خوب داد تحسین کیں، خاص طور پر شنکر کیموری، فیاض راہی اور ارشد کی غزلوں کو سامعین نے بہت پسند کیا۔ اس پروگرام کے تیسرے اور آخری سیشن میں اردو ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ضلع کے تمام بلاکس کے اساتذہ نے شرکت کی۔ آخر میں انچارج آفیسر ڈسٹرکٹ اردو زبان سیل ارریہ نے اظہار تشکر پیش کیا۔ اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں اردو مترجم تعظیم احمد ندوی، محمد منہاج عالم، محمد۔ مشکور عالم، انور حسین، محمد۔ اسرارالحق، مسز سلمیٰ رحمانی، خوشبو دلکش اور معاون اردو مترجمین میں اسامہ صابر، انتخاب پاشا، ریحان احمد، محمد۔ گوہر اور مسز غوثیہ ناز اور مسز فرحت نگاہ کے ساتھ راہب اختر D.V. کلرک، مسٹر امتیاز علی انصاری U.V. کلرک نےاہم کردار ادا کیا۔
Bihar
تیج پرتاپ یادو جیل سے رہا
پٹنہ:(پی این این) بہار کے سابق وزیر اور جن شکتی جنتا دل (جے جے ڈی) کے قومی صدر تیج پرتاپ یادو پٹنہ کی بیور جیل سے باہر آ گئے ہیں۔ انہیں نیٹ پیپر لیک معاملے سے متعلق طلبہ تحریک کے ایک کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔بہار بند کے دوران ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے طلبہ کو پولیس پر حملے کے لیے اکسایا۔ عدالت نے انہیں عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو کے بڑے بیٹے تیج پرتاپ نے اپنی گرفتاری کو سیاسی سازش قرار دیا تھا۔
واضح رہے کہ دہلی میں مظاہرین کے ساتھ مرکزی حکومت کی رضامندی کے بعد بہار حکومت نے بھی نیٹ پیپر لیک تحریک سے متعلق درج مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔تیج پرتاپ یادو کو منگل کی شام بیور جیل سے رہا کر دیا گیا۔ جیل سے باہر آتے ہی ان کے حامیوں میں جوش و خروش بڑھ گیا۔ بیور جیل کے باہر بڑی تعداد میں موجود جے جے ڈی کارکنوں نے ان کا استقبال کیا۔ اس کے بعد تیج پرتاپ یادو گاڑی میں سوار ہو کر وہاں سے روانہ ہوگئے۔تیج پرتاپ یادو کو پٹنہ پولیس نے 25 جولائی کو حراست میں لیا تھا۔ ان کے خلاف گاندھی میدان تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ گزشتہ ہفتہ کو بہار بند کے دوران انہوں نے رام غلام چوک پر احتجاج کر رہے طلبہ و طالبات کے درمیان مظاہرہ کیا تھا۔
ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے مظاہرین کو پولیس پر حملے کے لیے اکسایا۔
Bihar
ہم بہارکونہیں بننے دیں گے ’پولیس گردی‘ کی ریاست،آپ کو بچانے نہیں آئیں گےسمراٹ چودھری،تمام پروٹوکول کی پابندی کریں پولیس افسران ، تیجسوی یادو کاقانونی نظام اور پولیس کارروائی پر سخت برہمی کا اظہار
(پی این این)
پٹنہ: بہار کی سمراٹ چودھری حکومت نے نیٹ امتحان کے مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس پر ریاستی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے کہا کہ حکومت نے ان کی تنبیہ اور دباؤ کے بعد ہی یہ قدم اٹھایا ہے۔
اسی کے ساتھ تیجسوی یادو نے ان افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا، جن کے حکم پر اے کے-47 سے فائرنگ کی اجازت دی گئی تھی۔ پٹنہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران افسران پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’سمراٹ چودھری آپ کو بچانے نہیں آئیں گے۔‘‘
تیجسوی یادو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیوان میں طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر اے کے-47 استعمال کرنے والے کانسٹیبل کو محض معطل کر دینا کافی نہیں ہے۔ اس پورے واقعے کی عدالتی نگرانی میں غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ اے کے-47 کے استعمال کا حکم کس نے دیا تھا اور اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب مظاہرین کے خلاف مبینہ طور پر اے کے-47 کا استعمال کیا گیا ہے۔ تیجسوی یادو نے مطالبہ کیا کہ وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری واضح کریں کہ طلبہ مظاہرین کے خلاف اے کے-47 استعمال کرنے کا حکم کس نے دیا تھا، نیز پولیس نے متعدد طلبہ کے خلاف اقدامِ قتل کے مقدمات کس بنیاد پر درج کیے۔
تیجسوی یادو نے کہا، “جب ہم نے آپ کو الٹی میٹم دیا تو آپ (وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری) نے گرفتار طلبہ کی رہائی کا حکم جاری کیا۔ جب ہم نے آپ کو خبردار کیا تو آپ نے مقدمات واپس لینے کا اعلان بھی کر دیا، لیکن وہ افسران جو قصوروار ہیں، جن کی وجہ سے گولیاں چلیں اور جن کے حکم پر فائرنگ ہوئی، ان کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟ آپ نے گرفتاریاں تو کیں، مگر اس معاملے کی تحقیقات کا کیا نتیجہ نکلا؟”تیجسوی یادو نے مزید کہا کہ وہ آج بھی سمراٹ چودھری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ کسی ایک سپاہی کو قربانی کا بکرا نہ بنایا جائے، کیونکہ ایک سپاہی اتنا بااختیار نہیں ہوتا کہ وہ اپنی مرضی سے اے کے-47 سے کسی 15 سالہ بچے کے سینے پر گولی چلا دے۔ آخر یہ سب کس کے حکم پر ہوا؟ اس معاملے کی عدالتی نگرانی میں غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی، وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
اس کے بعد تیجسوی یادو نے کہا کہ وہ متعلقہ افسران کو بھی خبردار کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “سمراٹ چودھری کب آئیں گے اور کب چلے جائیں گے، کسی کو معلوم نہیں، لیکن وہ ان افسران کو بچانے نہیں آئیں گے۔ بہتر یہی ہے کہ افسران آئین، قواعد و ضوابط اور اپنے سرکاری پروٹوکول کی پابندی کریں۔”تیجسوی یادو نے مزید کہا کہ اب بہار میں مجرموں اور بدعنوان عناصر کو سرپرستی دینے کا سلسلہ نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہا، “بہار جے پرکاش نارائن، کرپوری ٹھاکر اور لالو پرساد یادو کی سرزمین ہے۔ ہم اس دھرتی کو پولیس گردی کی ریاست نہیں بننے دیں گے۔‘‘
قابلِ ذکر ہے کہ ضلع سیوان میں طلبہ کے احتجاج کے دوران ابھیشیک کمار نامی ایک پولیس اہلکار اے کے-47 سے فائرنگ کرتے ہوئے نظر آیا تھا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شدید ہنگامہ برپا ہو گیا تھا، جس کے بعد کارروائی کرتے ہوئے ابھیشیک کمار کو معطل کر دیا گیا تھا۔
Bihar
بہار کے تمام بلاکوں میں کھولے جائیں گے ڈگری کالج، اب ریاست کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے نہیں جانا پڑے گاباہر :سمراٹ چودھری
پٹنہ:(پی این این)بہار کے تمام اسکولوں میں اب ہفتہ کے روز نصف دن کی تعلیم ہوگی۔ اسکولوں میں ہفتہ کے دن پورے وقت پڑھائی نہیں ہوگی بلکہ صرف نصف دن تک ہی تعلیمی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔
وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری نے یہ اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے لوگ اس کا مطالبہ کر رہے تھے۔ بہار قانون ساز اسمبلی کے مانسون اجلاس میں بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ اس کے بعد وزیرِ اعلیٰ نے محکمۂ تعلیم کے افسران کو اس سلسلے میں ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دے دی ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ یہ فیصلہ مرکزی حکومت کی قومی تعلیمی پالیسی-2020 کے تحت کیا گیا ہے۔وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری نے منگل کے روز مونگیر ضلع کے اثر گنج میں سرکاری ڈگری کالج کا افتتاح کیا۔ اس کے بعد جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بہار کے تمام اسکولوں میں ہفتہ کے روز نصف دن کی تعلیم کا اعلان کیا۔اب ریاست کے تمام اسکول ہفتہ کے دن صرف نصف دن تک ہی چلیں گے۔ ٹفن بریک کے بعد بچوں کو چھٹی دے دی جائے گی۔ وزیرِ اعلیٰ کے اس اعلان کے بعد پروگرام میں موجود لوگوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے تالیاں بجا کر ان کا استقبال کیا۔
سمراٹ چودھری نے کہا کہ ان کی حکومت نے بہار کے تمام پرکھنڈوں (بلاکوں) میں ڈگری کالج کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست میں اب تک 211 ڈگری کالج کھولے جا چکے ہیں۔ آج اثر گنج میں 212واں ڈگری کالج قائم کیا گیا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ اب بہار کے تمام بی ایڈ کالجوں میں بھی ڈگری کالج کھولے جائیں گے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ اب بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے باہر نہیں جانا پڑے گا۔ حکومت نے ماڈل اسکول کے تصور کو عملی جامہ پہنایا ہے۔ سرسوتی ودیا نکیتن قائم کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 551 مقامات پر ان اسکولوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ آج مزید 10 مقامات پر ایسے اسکول کھولے گئے ہیں، جس کے بعد ان کی تعداد بڑھ کر 561 ہو گئی ہے۔ یہ تعداد ابھی مزید بڑھے گی۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
