اتر پردیش
ڈاکٹر شگوفہ انگریزی ادب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے سرفراز ،علمی حلقوں میں خوشی کی لہر
آگرہ:ڈاکٹر شگوفہ کو ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر یونیورسٹی (DBRAU)، آگرہ کی جانب سے انگریزی ادب کے شعبے میں فلسفۂ ڈاکٹری (Ph.D.) کی سند تفویض کی گئ ۔ ان کی تحقیق کا عنوان تھا: “خالد حسینی کے ناولوں میں انسانی تعلقات: صدمہ خیز حالات کا ایک جائزہ”۔ یہ تحقیق شعبۂ انگریزی، بی۔ڈی۔کے۔ایم۔وی کی پروفیسر ڈاکٹر پونم رانی گپتا کی نگرانی میں مکمل ہوئی۔ڈاکٹر شگوفہ نے کئی سالوں کی محنت، لگن اور علمی کاوشوں کے بعد اپنی تحقیق کامیابی کے ساتھ مکمل کی۔ انہوں نے اپنی نگراں پروفیسر ڈاکٹر پونم رانی گپتا کا خصوصی شکریہ ادا کیا جن کی قیمتی رہنمائی، حوصلہ افزائی اور مسلسل تعاون اس تحقیقی سفر میں ان کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوا۔پی۔ایچ۔ڈی مکمل کرنا ڈاکٹر شگوفہ کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا کیونکہ وہ ازدواجی زندگی اور مادری ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اپنی تحقیق بھی جاری رکھے ہوئے تھیں۔ گھریلو ذمہ داریوں، بچے کی پرورش اور تعلیمی مصروفیات کے درمیان توازن قائم رکھنا آسان نہ تھا، لیکن انہوں نے ثابت قدمی، عزم اور مسلسل محنت کے ذریعے اپنے خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔ اپنی کامیابی کا سہرا انہوں نے اپنے والدین کو دیا اور ان کا خصوصی شکریہ ادا کیا، بالخصوص اپنی والدہ کا، جنہوں نے تحقیق اور تعلیمی کام کے دوران ان کے بیٹے کی دیکھ بھال کی۔ انہوں نے اپنے والد کا بھی شکریہ ادا کیا جن کی دعائیں اور حوصلہ افزائی ہمیشہ ان کے ساتھ رہی۔ ڈاکٹر شگوفہ نے اپنے شوہر کے تعاون اور سمجھ بوجھ کو بھی سراہا، جس کی مدد سے وہ اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ اس موقعے پر سبھی نے ان کو مبارک باد پیش کی – انہوں نے اپنے بیٹے کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے پورے سفر میں مسلسل حوصلہ اور تحریک کا ذریعہ رہا ہے ۔ڈاکٹر شگوفہ نے اپنی پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری اپنی والدہ کے نام منسوب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کامیابی ان کے والدہ کی قربانیوں، محبت اور غیر متزلزل حمایت کے بغیر ممکن نہ تھی۔“میری ہر کامیابی کے پیچھے میری والدہ کا ہاتھ ہے، جن کی محبت اور قربانیوں نے اس خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔”اس موقعے پر سبھی دوست احباب کے ساتھ قریش برادری کے لوگوں نے ان کو مبارک باد دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لئے دعائیں دی –
uttar pradesh
کسی بھی صورت میں منہدم نہیں ہونے دیں گے جوہر یونیورسٹی،اعظم خان کی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کے لیے اکھلیش یادو نے رام پور بھیجا سماجوادی پارٹی کا وفد،ضلع مجسٹریٹ کو سونپا میمورنڈم
(پی این این)
رام پور:اعظم خان کی جوہر یونیورسٹی کا معاملہ دن بہ دن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ جمعہ کے روز سماجوادی پارٹی کے آٹھ ارکانِ پارلیمنٹ سمیت 10 رکنی وفد رام پور پہنچا اور ضلع مجسٹریٹ سے ملاقات کرکے انہیں ایک عرضداشت پیش کی۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ارکانِ پارلیمنٹ نے کہا کہ جوہر یونیورسٹی کی عمارتوں کو کسی بھی صورت منہدم نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تعلیمی ادارہ ہے اور طلبہ سے لے کر اساتذہ تک، سب کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔وفد نے ضلع مجسٹریٹ اجے کمار دویدی سے ملاقات کے دوران یونیورسٹی کی عمارتیں منہدم کرنے کے حکم کو منسوخ کرنے اور قانون کے مطابق اس مسئلے کا مناسب حل نکالنے کی درخواست کی۔
دوپہر تقریباً سوا ایک بجے سماجوادی پارٹی کے ارکانِ پارلیمنٹ کا وفد درجنوں گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ گاندھی سمادھی واقع سنت شیرو منی روی داس گیسٹ ہاؤس پہنچا۔ یہاں حامیوں کی بڑی تعداد جمع تھی، جس کے باعث کچھ دیر دھکم پیل بھی ہوئی۔ اس کے بعد ارکانِ پارلیمنٹ کا قافلہ جوہر یونیورسٹی کے لیے روانہ ہو گیا۔یونیورسٹی کیمپس میں وفد نے دھرنے پر بیٹھے طلبہ و طالبات سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے مستقبل کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ اجلاس کے بعد وفد سہ پہر تقریباً ساڑھے تین بجے کلکٹریٹ پہنچا، جہاں ضلع مجسٹریٹ سے ملاقات کرکے انہیں ایک یادداشت پیش کی۔وفد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سماجوادی پارٹی جوہر یونیورسٹی کے طلبہ کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ کلکٹریٹ سے واپسی کے بعد تمام ارکانِ پارلیمنٹ اعظم خان کی رہائش گاہ پہنچے، جہاں انہوں نے ان کی اہلیہ تزئین فاطمہ سے ملاقات کی۔
مفاہمت نامہ پر سماجوادی پارٹی کے ضلعی صدر اجے ساگر، رکنِ پارلیمنٹ جاوید علی خان، ہریندر ملک، روچی ویرا، اقرا حسن، نیرج موریہ، ضیاء الرحمٰن برق، دیویش شاکیہ اور رام شیرو منی ورما کے دستخط موجود ہیں۔جوہر یونیورسٹی کو منہدم کیے جانے کی کارروائی کے خلاف رام پور پہنچیں مرادآباد سے سماجوادی پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ روچی ویرا نے دوٹوک انداز میں کہا کہ یونیورسٹی کو کسی بھی قیمت پر منہدم نہیں ہونے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک عمارت کا معاملہ نہیں بلکہ ہزاروں طلبہ و طالبات کے مستقبل کا سوال ہے، اور سماجوادی پارٹی بچوں کے تعلیمی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہے گی۔
سنبھل سے رکنِ پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے جوہر یونیورسٹی کی عمارتوں کو منہدم کرنے سے متعلق انتظامیہ کی کارروائی پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کو منہدم کرنے کا حکم سراسر غلط ہے اور رام پور کے ضلع مجسٹریٹ کو یہ حکم فوری طور پر واپس لینا چاہیے۔رکنِ پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے کو پارلیمنٹ میں بھرپور انداز میں اٹھائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ زیرو آور میں اس موضوع پر اظہارِ خیال کے لیے ان کا نمبر بھی آ چکا تھا، لیکن ایوان میں مسلسل ہنگامہ آرائی کے باعث کارروائی آگے نہیں بڑھ سکی۔
رام پور پہنچیں کیرانہ سے سماجوادی پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ اقرا حسن نے حکومت پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ جوہر یونیورسٹی کو صرف اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ اس کی بنیاد سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان نے رکھی تھی۔اقرا حسن نے کہا کہ اگر عمارتوں کے نقشوں کو بنیاد بنا کر کارروائی کی جا رہی ہے تو انگریزوں کے دور میں تعمیر ہونے والی بے شمار عمارتیں آج بھی بغیر منظور شدہ نقشوں کے موجود ہیں۔ ایسے میں کیا حکومت ان تمام عمارتوں کو بھی منہدم کرے گی؟
راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمنٹ جاوید علی خان نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت سے کسی بھی قسم کی امید رکھنا بے سود ہے، کیونکہ یہ تعلیم اور عوام دونوں کی مخالف حکومت ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ ملک کے لوگ تعلیم حاصل کریں یا غریب خاندانوں کے بچوں کو معیاری تعلیم میسر آئے۔
جاوید علی خان نے الزام لگایا کہ جوہر یونیورسٹی کو منہدم کرنے سے متعلق ضلع انتظامیہ کا حکم غیر قانونی ہے اور اسے فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔
مظفر نگر سے رکنِ پارلیمنٹ ہریندر ملک نے اتر پردیش حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تعلیم کے فروغ کے بجائے تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہے۔ہریندر ملک نے کہا کہ حکومت کی توجہ نئی یونیورسٹیاں قائم کرنے پر ہونی چاہیے، لیکن اس کے برعکس وہ موجودہ تعلیمی اداروں کو منہدم کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت ارکانِ پارلیمنٹ کے مطالبے کو قبول کرے گی، تو انہوں نے جواب دیا، ’’اگر حکومت مہر نہیں لگائے گی، تو ہم اپنی مہر لگائیں گے۔‘‘
uttar pradesh
گنگا ایکسپریس وے پرالٹ گئی بس،2 مسافروں کی موت، 20 زخمی
(پی این این)
سنبھل:اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں گنگا ایکسپریس وے پر اتوار کو ایک مسافر بس الٹ جانے سے دو مسافروں کی موت ہو گئی جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق حادثے کے وقت بس بہرائچ سے پنجاب جا رہی تھی اور اس میں تقریباً 150 مسافر سوار تھے۔ بہجوئی تھانہ علاقے میں لہراون ایکسچینج کے قریب مبینہ طور پر ڈرائیور کو نیند کی جھپکی آ گئی، جس کے باعث بس بے قابو ہو کر پہلے ڈیوائیڈر سے ٹکرائی اور پھر الٹ گئی، جس کے نتیجے میں 20 سے زائد مسافر زخمی ہو گئے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ایمبولینس، پولیس اور یوپیڈا کے افسران موقع پر پہنچ گئے اور راحت و بچاؤ کا کام شروع کرتے ہوئے زخمیوں کو کمیونٹی ہیلتھ سینٹر، بہجوئی منتقل کیا۔
اسپتال میں ڈاکٹروں نے گجاپور کی رہائشی گنگا رام کی 17 سالہ بیٹی نہا اور گونڈا کے رہائشی للّن کے 35 سالہ بیٹے پنٹو کو مردہ قرار دے دیا۔حادثے میں مہیش، دنیش، چھوٹو، پنکج، وپن، پونم، گڈو، شوبھت، اروند، منّا لال، سریندر کمار، انیتا، گیتا، رومانہ اور راما دیوی سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ شدید زخمی چند مسافروں کو بہتر علاج کے لیے ہائر سینٹر ریفر کر دیا گیا ہے۔
uttar pradesh
انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کا ماہانہ سائنسی سیمینار منعقد ,جدید تحقیق کے بعد لیور ٹرانس پلانٹیشن سے حسب معمول گزرتی ہے زندگی : ڈاکٹر راگھو بنسل
(پی این این)
دیوبند:انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن سہارنپور برانچ کے ماہانہ سائنسی مذاکرہ کا انعقاد کیا گیا ۔اس سائنسی اجلاس میں پارس ہاسپٹل ،پنچ کلا سے شرکت کرنے والے ڈاکٹر امت کمار منڈ ل اور ڈاکٹر راگھوبنسل نے اپنے خیالات کا اظہارکیا ۔ ڈاکٹر امت کمار منڈل نے کہا کہ ٹی بی کے مریضوں کو مکمل طور سے اپنا علاج کرانا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ درمیان میں علاج چھوڑدینے سے ٹی بی کے بیکڑیامیں مدافعت پیدا ہوجاتی ہے جس کے بعد علاج بہت مشکل ہوجاتا ہے ،انہوں نے کہا کہ ٹی بی کے کسی مریض کے پھینپھڑے میں اگر گھٹلی پیدا ہوجاتی ہے تو ایسے مریضوں کی بروکو اسکوپی کی مددسے ٹھیک ٹھیک جانچ کرنی چاہئے ۔ڈاکٹر راگھو بنسل نے بتایا کہ اگر کسی مریض کا جگر متاثر ہوجائے اور کام کرنا بند کردے تواس طرح کی صورت میں صرف لیور ٹرانس پلانٹیشن ہی واحد علاج ہے ۔ڈاکٹر راگھو بنسل نے کہا کہ اب لیور ٹرانس پلانٹیشن کے بعدمریض معمول کے طور سے اپنی زندگی گزار سکتا ہے ۔
اس موقع پر انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے سکریٹری ڈاکٹر نیرج آریہ نے سبھی مہمانوں کا استقبال کیا ۔جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر کلیم احمد نے انجام دیئے ۔ اس پروگرام میں ڈاکٹر انوپم ملک ،ڈاکٹر سدھیر اگروال ،ڈاکٹر پونم کمار ،ڈاکٹر سی ایس چوپڑا ،ڈاکٹر وندنا ورما ،ڈاکٹر انل ملک ،ڈاکٹر سیمااگروال ، ڈاکٹر سدرشن ناگپال ،ڈاکٹر وی ایس پنڈیر ،ڈاکٹر سومیا جین ،ڈاکٹر ڈی کے گپتا، ڈاکٹرمہیش چندرا ،ڈاکٹر رجنیش سنگھل ،ڈاکٹر روی کانت ، ڈاکٹرپروین متل ،ڈاکٹر آرایس پنوار ، ڈاکٹر سفل کمار ،ڈاکٹر ایم کے جین ،ڈاکٹر سعودحسن ،ڈاکٹر خلیل اللہ خاں اور ڈاکٹر رجت بنسل موجود رہے ۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
