Connect with us

Bihar

پانچ سو تیتیس سیڑھیاں چڑھ کر ڈی ایم نے شراونی میلے کی تیاریوں کا لیا جائزہ

Published

on

بہار شریف:زائرین کی سہولت و حفاظت کے لیے پبلک ایڈریس سسٹم، کنٹرول روم، میڈیکل ٹیم اور ضرورت کے مطابق آفت مِتروں کی تعیناتی کی ہدایت دی۔ مندر احاطے کے آس پاس تجاوزات ہٹا کر پارکنگ اور زائرین کی سہولیات کی ترقی اور راستے میں مناسب روشنی کا انتظام یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
سدھناتھ مندر، جرا سندھ اکھاڑہ اور بیلویدار آبی ذخیرہ علاقے کا معائنہ کر کے ضروری ہدایات دیں۔ زیرِ زمین پانی کے تحفظ کو فروغ دینے کے لیے نجی اور سرکاری بورویلز کو گراؤنڈ واٹر ریچارج ایکویفر کے طور پر تیار کرنے کی کارروائی منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی۔
نالندہ شراونی میلہ-2026 کے کامیاب، محفوظ اور منظم انعقاد کے لیے ضلع افسر، نالندہ محترمہ ادیتا سنگھ نے آج راجگیر کے کنڈ علاقے اور ویوہار گری پہاڑ کا جامع فیلڈ معائنہ کیا۔ معائنہ کے دوران انہوں نے خود 533 سیڑھیاں چڑھ کر مختلف انتظامات کا جائزہ لیا اور متعلقہ افسران کو ضروری ہدایات دیں۔معائنہ کے دوران مقامی عوامی نمائندوں اور متعلقہ افسران نے ضلع افسر کو ویپول گری، سورن گری، ویوہار گری اور رتن گری پہاڑی سلسلوں کی دینی، تاریخی اور سیاحتی اہمیت کی تفصیلی معلومات دیں۔
ساتھ ہی بمبیسار ٹریکنگ ٹریک کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا، جو راجگیر کے اہم سیاحتی اور ٹریکنگ مقامات میں سے ایک ہے۔

ضلع افسر نے پہاڑی علاقے کی نباتات و حیوانات “فلورا اینڈ فیول” کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں۔ ویوہار گری پہاڑ پر چڑھائی کے دوران انہوں نے راجگیر اسٹیڈیم، پولیس ٹریننگ انسٹیٹیوٹ، اسپورٹس اکیڈمی سمیت آس پاس کے قدرتی اور ترقی پذیر مقامات کا مشاہدہ کیا۔

مقامی عوامی نمائندوں نے شراونی میلے کے دوران راستے میں کافی روشنی سمیت دیگر بنیادی سہولیات کا مطالبہ رکھا۔ اس پر ضلع افسر نے زائرین کی سہولت و حفاظت کو سب سے اوپر ترجیح دیتے ہوئے پورے راستے میں مناسب روشنی کا انتظام یقینی بنانے کی ہدایت دی۔

انہوں نے ہدایت دی کہ میلے کے دوران زائرین کو ضروری معلومات اور ہدایات فراہم کرنے کے لیے پبلک ایڈریس سسٹم کا مناسب انتظام کیا جائے۔ ساتھ ہی زائرین کی رہنمائی، ہم آہنگی اور ہنگامی صورتحال کے مؤثر انتظام کے لیے کنٹرول روم قائم کیا جائے اور کسی بھی اچانک طبی ضرورت کے لیے کافی میڈیکل ٹیم اور صحت کی سہولیات دستیاب کرائی جائیں۔ ضرورت پڑنے پر آفت مِتروں کی خدمات لینے کی بھی ہدایت دی۔

معائنہ کے دوران ضلع افسر نے ویوہار گری پہاڑ پر واقع تاریخی سدھناتھ مندر کا بھی دورہ کیا۔ مقامی سطح پر انہیں آگاہ کیا گیا کہ مہا بھارت کے دور میں یہ مندر مگدھ کے بادشاہ جرا سندھ نے قائم کروایا تھا۔

اس کے بعد انہوں نے ویوہار گری پہاڑ کے بیلویدار علاقے کا معائنہ کیا، جہاں بارش کا پانی ذخیرہ ہوتا ہے۔ ضلع افسر نے محکمہ جنگلات کے افسران کو آبی ذخیرہ کی گنجائش بڑھانے کے مقصد سے تالاب کو تقریباً 6 فٹ اور گہرا کرنے کی ہدایت دی۔

معائنہ کے دوران انہوں نے جرا سندھ اکھاڑہ کے علاقے کا بھی جائزہ لیا۔ وہاں سے نظر آنے والے دلکش منظر کا مشاہدہ کرتے ہوئے انہوں نے مندر احاطے کے آس پاس تجاوزات ہٹا کر اس زمین کو پارکنگ اور زائرین کی دیگر ضروری سہولیات کی ترقی کے لیے استعمال کرنے کی ہدایت دی، تاکہ زائرین کو بہتر تجربہ اور سہولیات میسر آسکیں۔

ڈی ایف او “DFO” کے ساتھ گفتگو کے دوران ضلع افسر نے زیرِ زمین پانی کے تحفظ اور فروغ کے مقصد سے نجی اور سرکاری بورویلز کو گراؤنڈ واٹر ریچارج ایکویفر کے طور پر استعمال کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ انہیں بتایا گیا کہ اس طرح کا کامیاب تجربہ وینوون علاقے میں کیا جا چکا ہے۔ ضلع افسر نے اس سلسلے میں عملی کارروائی منصوبہ تیار کر کے زیرِ زمین پانی کی سطح بڑھانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔

ضلع افسر نے کہا کہ شراونی میلے میں آنے والے زائرین کی حفاظت، سہولت اور آسان آمد و رفت یقینی بنانا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور تمام محکمے باہمی تعاون کے ساتھ وقت پر ضروری تیاریاں مکمل کریں۔

معائنہ کے دوران مقامی عوامی نمائندوں اور معزز شہریوں نے ضلع افسر کے ساتھ دورہ کیا اور علاقے کی دینی، تاریخی اور سیاحتی اہمیت سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس موقع پر کونسلر شری شرون کمار، شری شیام نارائن پرساد، شری شیام بھارتی، شری گولو جی اور شری آزاد کمار موجود تھے۔ انہوں نے مختلف مقامات کے بارے میں تفصیل سے بتایا اور شراونی میلے کے کامیاب انعقاد کے لیے ضروری تجاویز بھی دیں۔

انتظامیہ کی طرف سے نالندہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ شری بھارت سونی، سب ڈویژنل افسر، راجگیر، اسپیشل ڈیوٹی افسر، ضلع پلاننگ افسر اور دیگر متعلقہ افراد موجود تھے۔

Bihar

نتیش کی سیاسی وراثت پر این ڈی اے میں خانہ جنگی،پہلے خوداپنا گھر سنبھالیںاپیندر کشواہا ، جے ڈی یو کے ریاستی صدرامیش سنگھ کشواہا کی نصیحت

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار کے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو لے کر این ڈی اے میں گھمسان شروع ہوگیا ہے۔ راشٹریہ لوک مورچہ (آر ایل ایم) کے قومی صدر اپیندر کشواہا نے نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری سنبھالنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
وہیں اب نتیش کمار کی پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے رہنما ان کے خلاف سخت برہم ہوگئے ہیں۔ جے ڈی یو کے ریاستی صدر امیش سنگھ کشواہا نے راشٹریہ لوک مورچہ کے سربراہ اپیندر کشواہا کو اپنا گھر سنبھالنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ دن میں خواب نہ دیکھیں۔
جے ڈی یو رہنما امیش سنگھ کشواہا نے اس سلسلے میں ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی۔ اس میں اپیندر کشواہا کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا، ’’جتنی چادر ہو، پاؤں بھی اتنے ہی پھیلانے چاہئیں۔ لیکن کچھ حد سے زیادہ بلند عزائم رکھنے والے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ خالی بیٹھے بیٹھے خیالی پلاؤ پکاتے رہیں اور کبھی پورے نہ ہونے والے خوابِ غفلت دیکھتے رہیں۔ ایسے لوگ کو ہمارا مشورہ ہے کہ جے ڈی یو کی فکر چھوڑ کر پہلے اپنے گھر کی فکر کریں۔ کیونکہ آپ کاخود اپنا کنبہ تو پنکچر گاڑی کی طرح وقتاً فوقتاً اپنا توازن کھوتا رہتا ہے۔‘‘
جے ڈی یو کے ریاستی صدر نے راشٹریہ لوک مورچہ کے سربراہ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اصل بے چینی کی وجہ کچھ اور ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نتیش کمار کے بیٹے نِشانت کمار بہار کا مستقبل ہیں۔ ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور عوامی قبولیت کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہی ہے۔نالندہ ضلع کے راج گیر میں منعقدہ راشٹریہ لوک مورچہ کے فکری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے قومی صدر اپیندر کشواہا نے کہا تھا کہ نتیش کمار نے بہار کی سیاست سے سبکدوشی اختیار کرلی ہے۔ انہوں نے بہار کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے بہتر خدمات انجام دی ہیں۔ بہار اور ملک کے ایک بڑے طبقے میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو آگے کیسے بڑھایا جائے گا۔
کشواہا نے کہا کہ نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھانے کا دعویٰ بہت سے لوگ کریں گے، لیکن موجودہ وقت میں راشٹریہ لوک مورچہ کا دعویٰ ہے کہ یہ ذمہ داری اسے سنبھالنی چاہیے۔ بہار کا ایک بڑا طبقہ بھی یہی چاہتا ہے۔ راشٹریہ لوک مورچہ کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ وہ اس ذمہ داری کو نبھانے میں کس حد تک کامیاب ہوں گے، یہ وہ نہیں جانتے، لیکن نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھانے کے لیے وہ پوری طرح تیار ہیں۔
راجیہ سبھا کے رکن اپیندر کشواہا بہار کے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے قریبی ساتھی رہ چکے ہیں۔ تاہم، دونوں کے درمیان کئی سیاسی اتار چڑھاؤ، اختلافات، علیحدگی اور پھر مفاہمت کے دور بھی دیکھنے کو ملے۔ نتیش کمار نے 90 کی دہائی میں بہار میں ’لو-کش‘ سیاسی مساوات کو مضبوط بناتے ہوئے سمتا پارٹی کی بنیاد رکھی تھی، اس وقت اپیندر کشواہا مضبوطی کے ساتھ ان کے ساتھ کھڑے تھے۔ نتیش کمار خود ’لو‘ یعنی کُرمی اور کشواہا ’کش‘ یعنی کوئری برادری کے بااثر رہنما کے طور پر ابھرے۔تاہم، سیاسی اختلافات کے باعث اپیندر کشواہا نے جے ڈی یو سے علیحدگی اختیار کرکے راشٹریہ لوک سمتا پارٹی (آر ایل ایس پی) تشکیل دی۔
2014 میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرکے اپیندر کشواہا آر ایل ایس پی کی جانب سے نریندر مودی کی کابینہ میں وزیر بھی بنے۔ سال 2021 میں نتیش کمار اور کشواہا کے درمیان تعلقات ایک بار پھر بہتر ہوئے اور آر ایل ایس پی کا جے ڈی یو میں انضمام کر دیا گیا۔ اس کے بعد اپیندر کشواہا کو جے ڈی یو کے پارلیمانی بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔
تاہم، 2023 میں دونوں کے تعلقات میں ایک بار پھر تلخی آگئی۔ اپیندر کشواہا نے جے ڈی یو سے علیحدگی اختیار کرکے نئی سیاسی جماعت راشٹریہ لوک مورچہ تشکیل دی۔ فی الحال جے ڈی یو اور راشٹریہ لوک مورچہ، دونوں ہی این ڈی اے کا حصہ ہیں۔ نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو لے کر دونوں جماعتوں کے درمیان گھمسان چھڑنے کے بعد سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر بحث شروع ہوگئی ہے۔

Continue Reading

Bihar

ہند-نیپال سرحد پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ،جعلی نوٹ، غیر قانونی اسلحہ، منشیات اور شراب کی اسمگلنگ پر لگے گی لگام، انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے مشترکہ کارروائی پر اتفاق

Published

on

(پی این این)
سیتامڑھی:ہند-نیپال بین الاقوامی سرحد سے متعلق اہم امور پر غور و خوض کے لیے نیپال کے مہوتری ضلع کے جلیشور میونسپلٹی کے سبھا کمرہ میں انڈو-نیپال بارڈر ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کی اہم میٹنگ منعقد ہوئی۔ میٹنگ کی صدارت مہوتری کے چیف ڈسٹرکٹ آفیسر اندر دیو یادو نے کی۔ اس موقع پر سیتامڑھی کے ضلع مجسٹریٹ تنئے سلطانیہ، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس امیت رنجن سمیت مہوتری، سرلاہی اور روتہٹ اضلاع کے اعلیٰ انتظامی و پولیس افسران موجود تھے۔
میٹنگ میں ہند-نیپال بین الاقوامی سرحد پر امن و امان برقرار رکھنے، سرحدی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کی سکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنے سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔افسران نے جعلی نوٹوں کے کاروبار، غیر قانونی اسلحہ کی اسمگلنگ، منشیات و نارکوٹکس، شراب، تمباکو اور دیگر ممنوعہ و غیر قانونی اشیا کی سرحد پار اسمگلنگ پر مؤثر طریقے سے قابو پانے کے اقدامات پر سنجیدگی سے غور کیا۔
سرحد پار جرائم کی روک تھام کے لیے دونوں ممالک کے افسران کے درمیان مربوط اور مشترکہ کارروائی پر زور دیا گیا۔میٹنگ میں انتہائی مطلوب جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری، مشتبہ افراد اور غیر ملکی شہریوں کی غیر قانونی آمد و رفت پر روک لگانے، باہمی معلومات کے فوری تبادلے اور ضرورت کے مطابق مشترکہ کارروائی کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔سرحدی علاقوں میں انسانی اسمگلنگ اور منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے علاوہ سرحدی تجاوزات، نو مینز لینڈ میں تجاوزات، بارڈر پلرز کی حفاظت اور دیگر مقامی مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔
میٹنگ میں مہوتری کے چیف ڈسٹرکٹ آفیسر اندر دیو یادو، سرلاہی کے سی ڈی او وجے راج سوبیدی، روتہٹ کے سی ڈی او دینیش ساگر بھوسال سمیت تینوں اضلاع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ ہندوستان کی جانب سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سیتامڑھی سنجیو کمار، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ برج کشور پانڈے، منیش کمار داس، قونصل (ICS)، سی جی آئی بیر گنج، ایس ایس بی کی 51ویں بٹالین کے کمانڈنٹ سنجیو کمار سنگھ، 20ویں بٹالین کے ڈپٹی کمانڈنٹ وکاس دیپ، ایس ڈی او پپری گورو کمار اور ایس ڈی پی او پپری سونیتا کماری سمیت دیگر افسران موجود رہے۔ افسران نے سرحدی تھانوں اور سکیورٹی ایجنسیوں کو مکمل چوکس رہنے اور معمولی سے معمولی واقعہ کو بھی سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
میٹنگ میں دونوں ممالک کے افسران نے سرحدی علاقوں میں سرگرم جرائم پیشہ اور سماج دشمن عناصر کے خلاف مشترکہ اور مسلسل کارروائی جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ ساتھ ہی ہند-نیپال سرحد پر امن، سلامتی اور خوشگوار ماحول برقرار رکھنے کے لیے باہمی اعتماد، تعاون اور تال میل کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔

 

 

Continue Reading

Bihar

بھاگلپور: انجمن باغ و بہار کے زیراہتمام ادبی نشست منعقد

Published

on

بھاگلپور:(پی این این)انجمن باغ و بہار، برہ پورہ، بھاگلپور کے زیر اہتمام محمد شاداب عالم کی رہائش گاہ پر شاعر جوثر ایاغ کی صدارت میں ادا ؔجعفر ی کے یوم پیدائش پر ایک ادبی نشست منعقد کی گئی۔
اس موقع پر انجمن کے جنرل سکریٹر ی ڈاکٹر محمد پرویز نے ادا جعفری کے حیات و فن کے حوالے سے کہا کہ ادا جعفری جدید اردو شاعری میں شاعرہ کی حیثیت سے کسی تعارف کا محتاج نہیںہیں۔ انکو اردو شاعری کی پہلی شاعرہ کہا جاتا ہے۔ انکی شاعری کا لب لہجہ شعر و ادب کے قارئین کے لئے اجنبی نہیںمانوس اور جانا پہچانا ہے۔انکے کلام کا دھیما میٹھا دلاویزلہجہ پڑھنے اور سننے والوں کے دلوں میں رچ بس جاتا ہے۔انکا اصل نام عزیز جہاں اور تخلص اداؔ۔ پہلے وہ بدایوں کے نام سے لکھتی تھیں۔انکی شادی نور الحسن جعفری سے ہوئی تو انہوں نے ادا جعفری لکھنا شروع کیا۔انکے والد کا نام مولوی بدر الحسن تھا جو محکمہ زراعت میں ملازم تھے۔ 22 اگست 1924ء بدایوں میں پیدا ہوئیں اور وفات مارچ 2015ء میں۔ انکی ابتدئی تعلم گھر پر ہوئی اور میٹرک اور انٹر پرائیوٹ طور پر کیا۔انکے گھر میں نیرنگ خیال،ساقی اور رومان جیسے مشہور ادبی رسالے آتے تھے۔
وہ اثر لکھنوی،جوش ملیح آبادی،جگر مراد آبادی،فراق گورکھپوری ،اختر شیرانی کا کلام پڑھا کرتی تھیں اور علامہ اقبال سے متاثر تھیں۔ انہوں نے تیرہ سال کی عمر میں شعر کہنے لگی تھیں۔ انکی پہلی غزل 1945ء کے رومان میں شائع ہوئی ،جس کے مدیر شاعر رومان اختر شیرانی تھے۔انہوں نے اختر شیرانی سے اصلاح لی بعد میں مرزا جعفر علی خاں اثر سے۔ وہ ترقی پسند تحریک سے متاثر تھیں۔انہوں نے غزلوں اور نظموں کے علاوہ جاپانی صنف ہائیکو پر طبع آزمائی کی۔ نظموں میں انہوں نے پابند اور معریٰ نظمیں لکھی ہیں تقسیم ہند کے بعد 1948ء وہ پاکستان چلی گئیں۔انکی تصانیف میں ساز ڈھونتی رہی،جو رہی سو بے خبر رہی(سوانح حیات)،ساز سخن بہانہ ہے،شہر درد،غزالا ںتم تو واقف ہو،حرف شناسائیِ غزل نما،۔انکی اہم نظموں میں جلا وطن،ابھی ٹھہرو،لمحہ لمحہ،ہم نے خواب دیکھے تھے،سویرا ہو تو کیسے ہو،خالی ہاتھ،وہ لمحہ، گواہی،پانچواں موسم، آنسو ہے گلاب ہے دیا ہے،کوئی تو ہو، آئینوں کے دکھ،اے دل بے ہنر،صدیوں کا سفر،کہیں وقت تھم نہ جائے وغیرہ اہم ہیں ۔ نشست میں جوثر ایاغ، محمد شاداب عالم، شہزور اختر،محمد محبوب عالم،نوشین جہاں نے ادا جعفری کے فن سے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network