Connect with us

دلی این سی آر

جامعہ ملیہ کے زیر اہتمام پہلا قرۃ العین حیدر یادگاری خطبے کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:پریم چند آرکائیوز اینڈ لٹریری سینٹر، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام قرۃ العین حیدر سے منسوب پہلے یادگاری خطبے کا انعقاد کیا گیا۔ پہلا خطبہ ہونے کے ساتھ اس کو یادگار بنانے میں دو اہم پہلو نمایاں ہیں۔ ایک تو یہ کہ خود وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر مظہر آصف نے یہ خطبہ دیا، جو کہ کئی زبانوں اور علوم و فنون کے علاوہ صوفی اور بھکتی تحریکات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ اس خطبے کی دوسری اہمیت یہ تھی کہ اس کا عنوان ’’رومی اور کبیر: ایک تقابلی مطالعہ‘‘ تھا۔
دانشوروں اور اسکالرز کی کہکشاں کو خطاب کرتے ہوئے پروفیسر مظہر آصف نے کہا کہ صوفیوں اور سنتوں کی مشترک شناخت دنیابیزاری، انسانیت اور محبت ہے۔ چنانچہ رومی اور کبیر کے درمیان بظاہر بعدالمشرقین کے باوجود گہری مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ رومی کا تعلق ایک تہذیب یافتہ، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ ماحول سے ہے، جب کہ اس کے برعکس کبیر کا رشتہ ایک ان پڑھ، غیرمتمدن اور دیہی زندگی سے ہے۔ لیکن دونوں کا وجدان، الوہی انوار سے وابستگی، حیات و کائنات سے متعلق درویشانہ اور قلندرانہ رویہ، نفسانی خواہشات، انا، تکبر اور دنیوی آلائشوں سے بیزاری، رومی اور کبیر کو ایک ہی منبع نور سے منسلک کردیتی ہے۔
اس یادگاری خطبے کی شان و شوکت یوں بھی فزوں تر ہوجاتی ہے کہ اس کی صدارت کے فرائض رجسٹرار جامعہ ملیہ اسلامیہ اور بین الاقوامی تعلقات پر بسیط نظر رکھنے والے پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے انجام دیے۔ اس حوالے سے ان کی صدارت کی معنی خیزی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے کہ رومی اور کبیر بھی دراصل دو تہذیبوں اور دو اقوام کے مابین نقطۂ اتصال ہی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنے صدارتی کلمات میں پروفیسر مظہر آصف کی عالمانہ بصیرتوں کی تحسین کرتے ہوئے کہا کہ رومی اور کبیر دونوں کے یہاں امن، محبت اور اعلیٰ روحانی اقدار سے وابستگی اپنی انتہا پر ہے۔ رومی اور کبیر دراصل انانیت اور نفسانی خواہشات کو ختم کردینے کا نام ہیں۔
اس باوقار جلسے کو خطاب کرتے ہوئے مہمان اعزازی اور ڈین فیکلٹی برائے انسانی علوم و السنہ پروفیسر اقتدار محمد خاں نے کہا کہ پروفیسر مظہر آصف کا قرآن سے گہرا شغف ان کے والد کی تربیت کا نتیجہ ہے۔ ان کی دلچسپیوں کا دائرہ جتنی زبانوں اور علوم و فنون تک پھیلا ہوا ہے، ایسی شخصیات بہت کم ہی ہوتی ہیں۔ آج کے دور میں رومی اور کبیر کی تعلیمات کا آموختہ بہت ضروری ہے۔
استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے پریم چند آکائیوز اینڈ لٹریری سینٹر کے اعزازی ڈائریکٹر پروفیسر شہزاد انجم نے کہا کہ اس سینٹر کو وائس چانسلر اور رجسٹرار کا بے پایاں التفات حاصل ہے اور انھیں کی سرپرستی کے سبب ہمیں اس سال دو یادگاری خطبات کی داغ بیل ڈالنے کا موقع ملا۔ انھوں نے مہمانان کا خیرمقدم کرتے ہوئے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس سینٹر کے شایانِ شان ایک آڈیٹوریم کی سخت ضرورت ہے۔
اس موقع پر پروفیسر شہزاد انجم نے وائس چانسلر کی خدمت میں قرۃ العین حیدر کا شہرۂ آفاق ناول ’’آگ کا دریا‘‘ ہدیہ کرتے ہوئے ان کی شال پوشی کی۔ ڈاکٹر سید محمد عامر نے رجسٹرار کو یہ تحفے نذر کیے۔ سینٹر سے وابستہ اسنِگدھا رائے نے ڈین فیکلٹی برائے انسانی علوم و السنہ کا تحائف سے استقبال کیا۔ قرۃ العین حیدر یادگاری خطبے کی مناسبت سے ڈاکٹر ایس ایم عامر نے قرۃ العین حیدر کا ایک مختصر اور جامع تعارف پیش کیا، جب کہ مہمان مقرر پروفیسر مظہر آصف کے مفصل تعارف سے اسنِگدھا رائے نے حاضرین کو روشناس کرایا۔
اس موقر خطبے کی نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے شعبۂ اردو سے وابستہ ایسو سی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر خالدمبشر نے کہا کہ آج کا دن پریم چند آرکائیوز کی تاریخ میں نہایت یادگار ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سربراہِ اعلیٰ نے بہ نفس نفیس یہ باوقار اور علمی خطبہ ارشاد فرمایا۔ پروگرام کا آغاز ڈاکٹر شاہنواز فیاض کی تلاوت اور اختتام شردھا شنکر کے اظہارِ تشکر پر ہوا۔ اس موقع پر پروفیسر خالدمحمود، پروفیسر تسنیم فاطمہ، پروفیسر کوثر مظہری، پروفیسر حبیب اللہ، پروفیسر احمد محفوظ، ڈاکٹر سہیل احمد فاروقی اور ڈاکٹر شکیل اختر کے علاوہ بڑی تعداد میں جامعہ کے اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ و طالبات موجود تھے۔

دلی این سی آر

سنجے جھیل کو ملےگی نئی زندگی: ایل جی

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:مشرقی دہلی کی پہچان سمجھی جانے والی سنجے جھیل کو ایک نئی زندگی ملنے والی ہے۔ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر ترنجیت سنگھ سندھو نے مشرقی دہلی میں سنجے جھیل کا دورہ کیا۔ انہوں نے وہاں جاری احیاء اور خوبصورتی کے کام کا جائزہ لیا۔ انہوں نے عہدیداروں کو جھیل کے تحفظ اور بحالی کے کام میں تیزی لانے کی ہدایت دی۔ معلوم کریں کہ یہ 165 ایکڑ جنگلاتی علاقہ اپنے نئے اوتار میں کب ابھرے گا۔دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (DDA) نے تقریباً 52 ایکڑ پر پھیلی اس انسانی ساختہ جھیل کے لیے ایک مرحلہ وار منصوبہ تیار کیا ہے، اور اس کے ارد گرد 165 ایکڑ پر محیط جنگلاتی علاقہ ہے۔ معائنہ کے دوران، ایل جی نے جھیل کو پانی کی فراہمی میں خلل پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دہلی جل بورڈ (ڈی جے بی) کو ہدایت دی کہ وہ دلو پورہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) سے ٹریٹ شدہ پانی کی باقاعدگی سے فراہمی کو یقینی بنائے۔
انہوں نے پانی کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے پائپ لائن کی مرمت کا کام جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔LG نے جھیل پر جاری کاموں کا جائزہ لیا، جس میں جڑی بوٹیوں کو ختم کرنا، طحالب کی صفائی، اور جیو ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ڈھلوانوں کو مضبوط کرنا شامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان کاموں میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔اگست 2026 تک مکمل ہونے والے پہلے مرحلے میں جھیل کے ارد گرد جمع ہونے والے پانی کو مرکزی ذخائر کی طرف موڑنا، بائیو سویلز کی تنصیب، واک ویز کی مرمت اور جھیل کے بستر سے جڑی بوٹیوں کو ہٹانا شامل ہے۔ دوسرا مرحلہ، جو مئی 2027 تک مکمل کیا جائے گا، اس میں نکاسی آب کے نظام کو مضبوط بنانا، وسیع پیمانے پر بائیو میڈی ایشن، پانی کے معیار اور تحلیل شدہ آکسیجن کی سطح کو بہتر بنانے کے لیے ایریٹرز اور فوارے نصب کرنا شامل ہیں۔ماحولیاتی توازن کو مضبوط بنانے کے لیے، LG نے علاقے میں 5,000 مقامی درختوں کے پودے لگانے کی بھی ہدایت کی۔ فی الحال، متعدد انواع موجود ہیں، جن میں یوکلپٹس، نیم، ارجن، پِلخان، اشوکا، چاندنی، ہیبسکس اور اولینڈر شامل ہیں۔ایل جی نے کہا کہ سنجے جھیل کو اس کی سابقہ ​​شان میں بحال کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے محکموں کے درمیان بہتر تال میل، CSR فنڈنگ ​​کے استعمال، اور مقامی RWAs کی شرکت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ آنے والی نسلوں کے لیے جھیل ایک صاف، سرسبز اور ماحولیاتی لحاظ سے اچھی عوامی جگہ بنی رہے۔

 

Continue Reading

دلی این سی آر

دہلی میں 50 آئی اے ایس اور کئی سینئر افسران کا تبادلہ

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :دہلی حکومت نے ایک بڑا انتظامی ردوبدل کیا ہے۔ حکومت نے 50 IAS اور DANICS (دہلی، انڈمان اور نیکوبار جزائر سول سروس) افسران کا تبادلہ کیا ہے۔ محکمہ صحت میں سیکرٹری سطح کے تقریباً تمام افسران کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔
کابینی وزراء پنکج کمار سنگھ (صحت) اور کپل مشرا (سیاحت) کے سکریٹریوں کا بھی تبادلہ کیا گیا ہے۔انڈین ایکسپریس نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ محکمہ صحت میں سرکاری اسپتالوں کے لیے دوائیوں کی خریداری سے متعلق اٹھنے والے سوالات کے درمیان آیا ہے۔ اتنی بڑی تبدیلی کو حکومت کے کام کرنے کے انداز میں تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ محکمہ صحت کے علاوہ خواتین اور بچوں کی ترقی، تجارت اور ٹیکس، تعلیم، ٹرانسپورٹ، ریونیو، شہری ترقی، جیلوں، بجلی، اور واٹر بورڈ سمیت کئی محکموں میں افسران بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے ادویات اور دیگر طبی آلات کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ حکومت نے محکمہ صحت کے دو اعلیٰ افسران کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ان دو اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے، انسداد بدعنوانی برانچ (اے سی بی) نے اس کیس کے سلسلے میں گزشتہ ہفتے سنٹرل پروکیورمنٹ ایجنسی (سی پی اے) کے اس وقت کے انچارج ڈاکٹر ونود کمار رنگا کو گرفتار کیا تھا۔ ان پر خریداری کے عمل میں زبردست بے ضابطگیوں اور منتخب کمپنیوں کی حمایت کا الزام ہے۔ اس سے مبینہ طور پر سرکاری خزانے کو کافی نقصان پہنچا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل دہلی حکومت نے سینٹرل پروکیورمنٹ ایجنسی کے 40 سے زیادہ میڈیکل، پیرا میڈیکل اور انتظامی افسران اور ملازمین کا تبادلہ کیا تھا۔ حکومت نے کہا کہ سنٹرل پروکیورمنٹ ایجنسی دہلی حکومت کے صحت کے نظام کے لیے کام کرنے والا ایک اہم محکمہ ہے اور اس میں تجربہ کار افسران اور ملازمین کو شامل کیا جا رہا ہے۔فائر ڈیپارٹمنٹ میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ شہر میں آتشزدگی کے حالیہ واقعات کے بعد فائر ڈیپارٹمنٹ میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ دہلی فائر سروسز کے پرنسپل ڈائرکٹر نیدنچیزیان کو ہٹا دیا گیا ہے اور اب یہ ذمہ داری سچن رانا (اضافی چارج) کو سونپی گئی ہے۔ وہ محکمہ شہری ترقی اور محکمہ داخلہ میں سکریٹری کے عہدوں پر بھی فائز رہیں گے۔

 

Continue Reading

دلی این سی آر

اردو اکادمی دہلی کی اردو تھیٹر ورکشاپ کا شاندار اختتام

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: اردو اکادمی، دہلی کی تھیٹر ورکشاپ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور مسلسل جاری رہنے والا پروگرام ہے۔ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی اردو تھیٹر ورکشاپ کے دو مراکز قائم کیے گئے تھے کریسنٹ اسکول، موج پور اور اردو اکادمی دہلی کے دفتر کا احاطہ۔ ہندوستان میں شاید ہی کوئی دوسری ادبی و ثقافتی اکادمی ہو جو تقریباً تین دہائیوں سے مسلسل بچوں کے لیے باضابطہ ڈراما ورکشاپ کا انعقاد کرتی آ رہی ہو۔ اس ورکشاپ کے ذریعے بچوں کو اداکاری، مکالمہ ادائیگی، اسٹیج کے آداب اور اردو تھیٹر کی روایت سے عملی طور پر روشناس کرایا جاتا ہے۔وزیر برائے فن، ثقافت و السنہ اور چیئرمین اردو اکادمی ،دہلی کپل مشرا کی خصوصی توجہ، تعاون اور سرپرستی کے باعث ہی سمر کیمپ اور اردو تھیٹر ورکشاپ کا کامیاب انعقاد ممکن ہو سکا۔
منڈی ہاؤس کے سری رام سینٹر میں منعقدہ اختتامی پروگرام میں بڑی تعداد میں ایسے افراد بھی شریک ہوئے جن کا تعلق غیر اردو پس منظر سے تھا۔ اس موقع پر ایک خاتون نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ ’یہ میری زندگی کا پہلا موقع ہے کہ میں اردو اکادمی کے کسی پروگرام میں شریک ہوئی ہوں۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ بچوں کی صلاحیتوں پر مبنی اتنا خوبصورت اور معیاری پروگرام بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔‘‘دیگر حاضرین نے بھی بچوں کی شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ صرف بائیس دن کی محنت میں بچوں نے جس اعتماد اور مہارت کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، وہ حیرت انگیز اور قابلِ ستائش ہے۔ ان کے مطابق اردو اکادمی، دہلی اس کامیاب کاوش پر مبارک باد کی مستحق ہے۔
دوسرے روز کا پروگرام اپنے مقررہ وقت پر ریشماں فاروق کی دلکش نظامت میں شروع ہوا۔ اردو اکادمی، دہلی کے سینئر اراکین محمد ہارون اور عزیز حسین قدوسی نے فنکاروں کو گلدستہ پیش کر کے استقبال کیا۔
پروگرام کا پہلا حصہ سمر کیمپ میں تیار کردہ داستان گوئی پر مشتمل تھا، جس میں نو بچوں نے جناب ساحل آغا اور محترمہ اسما رحمان کی رہنمائی میں اپنی داستانیں پیش کیں۔ افرا افتخار نے ’’چچا چھکن‘‘، سمرین نے ’’نیکی کا فرشتہ‘‘، محمد عمر نے ’’شیر اور خرگوش‘‘، افرح حریم نے ’’ایمانداری‘‘، زویا نے ’’بڑوں کی عزت‘‘، یاسین نوشاد نے ’’کپڑوں کی دعوت‘‘، انشا محبوب نے ’’دنیا کی سب سے قیمتی چیز کیا ہے؟‘‘، ایمن فاطمہ نے ’’محنتی کسان اور اس کے آلسی بیٹے‘‘ اور عنایہ عظیم نے ’’میں بچ گئی ماں‘‘ کے عنوانات سے اپنی داستانیں پیش کیں۔
پروگرام کا دوسرا حصہ سمر کیمپ میں تیار کردہ غزل گائیکی پر مشتمل تھا۔ جویریہ نے ’’بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے‘‘، تسمیہ نے ’’اگر ہم کہیں اور وہ مسکرا دیں‘‘ اور عامرہ نے ’’یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا‘‘ پیش کر کے سامعین سے خوب داد حاصل کی۔ ان کے ساتھ ہارمونیم پر ان کے موسیقی استاد جناب ذیشان ضمیر اور طبلے پر غلام صابر نے شاندار سنگت پیش کی۔
بعد ازاں اردو تھیٹر ورکشاپ میں تیار کردہ مزاحیہ ڈراما ’’گدھے کا گدھا‘‘ پیش کیا گیا۔ ڈرامے کی کہانی جمن میاں اور ان کے محبوب گدھے ’’جنّوں میاں‘‘ کے گرد گھومتی ہے، جسے وہ تعلیم دلا کر انسان بنانا چاہتے ہیں۔ مختلف مناظر پر مشتمل اس ڈرامے میں معاشرتی مسائل کی عکاسی کے ساتھ کئی اہم پیغامات بھی پیش کیے گئے۔تقریباً ایک گھنٹے پر مشتمل اس ڈرامے میں اٹھائیس ننھے اداکاروں نے اپنی شاندار اداکاری سے حاضرین کو محظوظ کیا اور بھرپور داد حاصل کی۔
دونوں روز کے پروگراموں نے ثابت کر دیا کہ اردو اکادمی، دہلی کا سمر کیمپ اور تھیٹر ورکشاپ ہر اعتبار سے کامیاب رہا۔ ان دو دنوں میں 17بچوں نے داستان گوئی،5 بچوں نے غزل گائیکی اور71 بچوں نے ڈراموں میں حصہ لیا۔پروگرام میں ڈراما اور ادب سے وابستہ شخصیات کے علاوہ ڈاکٹر شعیب رضا خاں وارثی، ڈاکٹر شاہنواز فیاض، ڈاکٹر فرمان چودھری، حبیب سیفی، عرفان راہی، شاکر دہلوی، مختلف اسکولوں کے اساتذہ و طلبہ اور بچوں کے والدین نے بھی شرکت کی۔

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network