دلی این سی آر
بی جے پی کا ہر انجن بدعنوان:کلدیپ کمار
نئی دہلی: عام آدمی پارٹی نے ایم سی ڈی کے ٹول ٹیکس ٹینڈر میں 680 کروڑ روپے سے زائد کے مبینہ گھوٹالے کے انکشاف پر بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما اور رکن اسمبلی کلدیپ کمار نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی چار انجنوں والی حکومت ہے اور اس کا ہر انجن بدعنوانی میں ملوث ہے۔ ایک انجن نے دواؤں اور سائیکل خریداری میں گھوٹالہ کیا، جبکہ دوسرے انجن نے ایم سی ڈی کے ٹول ٹینڈر میں 680 کروڑ روپے کا گھوٹالہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مبینہ گھوٹالے کو انجام دینے کے لیے بی جے پی کے زیر انتظام ایم سی ڈی نے پہلے اسٹینڈنگ کمیٹی کو نظر انداز کرتے ہوئے 5500 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاری کیا، پھر ایک بلیک لسٹڈ کمپنی کو محض 4820 کروڑ روپے میں ٹھیکہ دے دیا، جبکہ 5500 کروڑ روپے کی سب سے زیادہ بولی لگانے والی کمپنی کو ٹیکنیکل بِڈ کا بہانہ بنا کر باہر کر دیا گیا۔ عام آدمی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ اس ٹینڈر کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور سی بی آئی سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔بدھ کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کونڈلی سے رکن اسمبلی کلدیپ کمار نے کہا کہ گزشتہ 19 برسوں میں بی جے پی نے ایم سی ڈی کو ملک کے سب سے بدعنوان اداروں میں تبدیل کر دیا ہے۔ دواؤں اور طالبات کی سائیکل خریداری میں مبینہ گھوٹالوں کے بعد اب ایم سی ڈی کے ٹول ٹیکس ٹینڈر میں بھی ایک بڑا مالی بے ضابطگی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم سی ڈی کے پاس نہ کچرا اٹھانے کے لیے رقم ہے اور نہ ملازمین کی تنخواہیں دینے کے لیے، لیکن بڑے ٹھیکیداروں پر مہربانیاں جاری ہیں۔ دہلی میں ٹول کلیکشن سے حاصل ہونے والی آمدنی ایم سی ڈی کے پاس جاتی ہے۔ 5 جون 2026 کو ایم سی ڈی نے 5500 کروڑ روپے کا ٹول کلیکشن ٹینڈر جاری کیا، لیکن ضابطوں کے برخلاف اسٹینڈنگ کمیٹی کی منظوری نہیں لی گئی، حالانکہ پانچ کروڑ روپے سے زیادہ کے کسی بھی معاملے کو اسٹینڈنگ کمیٹی کی منظوری کے بغیر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ کلدیپ کمار نے کہا کہ ٹینڈر جاری ہونے کے بعد اس میں ایسی شرائط شامل کی گئیں جن سے بی جے پی کی پسندیدہ کمپنی کو فائدہ پہنچایا جا سکے اور مبینہ طور پر کک بیک حاصل کیا جا سکے۔ شرط رکھی گئی کہ کمپنی کے پاس 122 لین کا سنگل کنٹریکٹ اور 24 ماہ کا تجربہ ہونا چاہیے۔ اس ٹینڈر میں سب سے زیادہ بولی شری سائی انٹرپرائزز نے 5500 کروڑ روپے کی دی تھی، لیکن ایم سی ڈی نے اسے ٹیکنیکل بِڈ کے نام پر باہر کر دیا اور یہ ٹھیکہ سہکار گلوبل لمیٹڈ کو 4820 کروڑ روپے میں دے دیا۔ اس طرح 680 کروڑ روپے کا براہِ راست نقصان ایم سی ڈی کو پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا صرف ایک بدعنوان حکومت ہی کر سکتی ہے۔ کلدیپ کمار نے مزید کہا کہ یہی سہکار گلوبل کمپنی گزشتہ پانچ برسوں سے ایم سی ڈی کا ٹول کلیکشن سنبھال رہی ہے۔ ایم سی ڈی میں قائد حزب اختلاف انکش نارنگ نے 21 جولائی 2026 کو خط لکھ کر خبردار کیا تھا کہ پسندیدہ کمپنی کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایم سی ڈی کے ریونیو کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ کمپنی نقد رقم میں ٹول وصول کر کے ایم سی ڈی کو نقصان پہنچا رہی ہے، لیکن ہماری بات نہیں سنی گئی۔ اب یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس کمپنی کے خلاف شاہجہاں پور میں ایف آئی آر درج ہوئی، جس کی بنیاد پر 19 جولائی 2026 کو نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) نے اسے بلیک لسٹ اور ڈی بار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب کمیشن خوری ہوتی ہے تو اس کا حصہ نیچے سے اوپر تک، یعنی میئر سے لے کر وزیر اعلیٰ تک تقسیم ہوتا ہے۔ بی جے پی کو جواب دینا چاہیے کہ جس کمپنی کو این ایچ اے آئی نے بلیک لسٹ کر دیا، اسے ایم سی ڈی کا ٹینڈر کیوں دیا گیا؟ ہماری مانگ ہے کہ اس ٹینڈر کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور سی بی آئی کے ذریعے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ اس بلیک لسٹڈ کمپنی کو ٹینڈر دے کر ایم سی ڈی کے ریونیو کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ اس کے بعد ایم سی ڈی کے شریک انچارج پروین کمار نے کہا کہ جب ایم سی ڈی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت تھی تو صحت مند مسابقت کو فروغ دینے کے لیے 122 لین کے سنگل کنٹریکٹ اور دو سالہ شرط کو ختم کر دیا گیا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ کمپنیاں بولی میں حصہ لیں اور ایم سی ڈی کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ لیکن بی جے پی حکومت نے دوبارہ یہی شرط شامل کر دی۔ جب یہ معاملہ ہائی کورٹ گیا تھا تو خود ایم سی ڈی نے بھی کہا تھا کہ صحت مند مقابلے کے لیے اس شرط کو ہٹایا جانا چاہیے، لیکن بی جے پی کے دباؤ اور مبینہ مالی مفادات کے باعث جان بوجھ کر یہ شرط شامل کی گئی تاکہ گزشتہ پانچ برس سے ٹول پلازہ چلا رہی سہکار گلوبل اور اس کی معاون کمپنی ٹیکسیڈیل کو ہی ٹینڈر مل سکے۔ پروین کمار نے بتایا کہ ٹینڈر میں ساتویں نمبر پر ایک نیگوشی ایشن کلاز بھی موجود تھا، جس کے تحت اگر کوئی زیادہ بولی لگانے والا امیدوار سامنے آئے تو ایم سی ڈی ٹینڈر جیتنے والی کمپنی سے مزید بہتر مالی پیشکش پر بات چیت کر سکتی تھی، لیکن اس شق کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا اور سہکار گلوبل سے کسی قسم کی گفت و شنید کیے بغیر اسے ٹینڈر دے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹینڈر کو اس قدر عجلت میں منظور کیا گیا کہ جس روز اسٹینڈنگ کمیٹی کے انتخابات ہو رہے تھے اور ستیہ شرما کو چیئرمین منتخب کر کے مبارک باد دی جا رہی تھی، اسی دن اس مبینہ گھوٹالے پر مہر لگا دی گئی۔ اسی روز لیٹر آف انٹینٹ (LOI) جاری کر دیا گیا اور اسے اسٹینڈنگ کمیٹی کے نوٹس میں بھی شامل نہیں ہونے دیا گیا۔ اگلے ہی دن صبح 6 بجے کام حوالے کر دیا گیا، جس سے پوری کارروائی پر سوالات اٹھتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ شاہجہاں پور میں نقد رقم میں ٹول وصولی کے معاملے پر این ایچ اے آئی پہلے ہی سہکار گلوبل اور ٹیکسیڈیل کو بلیک لسٹ اور ڈی بار کر چکی ہے، اس کے باوجود دہلی میں بی جے پی کی چار انجنوں والی حکومت اور وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا آخر اسی کمپنی کو بار بار ٹینڈر کیوں دے رہی ہیں؟ انہوں نے الزام لگایا کہ ایم سی ڈی میں ایک بڑا گٹھ جوڑ کام کر رہا ہے۔ عام آدمی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ موجودہ ٹینڈر کو فوری طور پر منسوخ کر کے دوبارہ اوپن ٹینڈر جاری کیا جائے اور 5500 کروڑ روپے کے اس معاملے کی سی بی آئی سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ قصورواروں کو سزا مل سکے۔ ایم سی ڈی کی شریک انچارج پریتی ڈوگرا نے کہا کہ بی جے پی نے 680 کروڑ روپے کے اس مبینہ گھوٹالے سے ثابت کر دیا ہے کہ اس نے ایم سی ڈی میں توڑ پھوڑ اور کونسلروں کی خرید و فروخت کے ذریعے اقتدار کیوں حاصل کیا تھا۔ ان کا مقصد صرف دہلی کو لوٹنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو معلوم ہے کہ آئندہ عوام انہیں اقتدار سے باہر کر دیں گے، اس لیے وہ جانے سے پہلے ایم سی ڈی اور دہلی حکومت کے وسائل کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ستیہ شرما اور بی جے پی وضاحت کریں کہ جس کمپنی کے خلاف ایف آئی آر درج ہے اور جسے این ایچ اے آئی مسترد کر چکی ہے، اسے ٹینڈر دینے کے پیچھے کیا وجوہات ہیں۔پریتی ڈوگرا نے کہا کہ آج ایم سی ڈی خود قرض میں ڈوبی ہوئی ہے اور ملازمین کی تنخواہیں دینے تک کے وسائل نہیں ہیں۔ ایسے میں جب بہتر ریونیو حاصل کیا جا سکتا تھا تو ایک بلیک لسٹڈ کمپنی کو ٹینڈر دے کر ادارے کو نقصان کیوں پہنچایا گیا؟ عام آدمی پارٹی اور دہلی کے عوام مطالبہ کرتے ہیں کہ بی جے پی اپنی مبینہ بدعنوانیوں کا سلسلہ بند کرے۔ سائیکل گھوٹالہ، دواؤں کا گھوٹالہ اور اب ٹول ٹینڈر گھوٹالہ، یہ سب عوامی مفادات کے خلاف ہیں، اس لیے اس ٹینڈر کو فوری طور پر منسوخ کیا جانا چاہیے۔ ایم سی ڈی کونسلر راجیو چودھری نے کہا کہ ایک کونسلر کو ایک سال میں ایک کروڑ روپے کا ترقیاتی فنڈ ملنا چاہیے، لیکن گزشتہ چار برسوں میں مجموعی طور پر صرف 90 لاکھ روپے ہی فراہم کیے گئے۔ جب فنڈ نہ ملنے کی وجہ پوچھی جاتی ہے تو جواب دیا جاتا ہے کہ ایم سی ڈی کے پاس رقم نہیں ہے، جبکہ صرف ایک ٹینڈر میں ہی 680 کروڑ روپے کے مبینہ نقصان کی بات سامنے آ رہی ہے۔ راجیو چودھری نے مزید کہا کہ ایم سی ڈی ہر سال اس طرح کے متعدد ورک آرڈر جاری کرتی ہے۔ حال ہی میں کچرا اٹھانے والی کمپنی بھی تبدیل کی گئی ہے اور آنے والے دنوں میں اس معاملے میں بھی مبینہ بدعنوانی کو بے نقاب کیا جائے گا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب ایک کمپنی 5500 کروڑ روپے کی بولی دے رہی تھی تو اسے چھوڑ کر 4820 کروڑ روپے کی بولی والی کمپنی کو ٹینڈر کیوں دیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ اس مبینہ بدعنوانی کے روابط بی جے پی کے میئر اور اسٹینڈنگ کمیٹی کی چیئرپرسن سے جڑے ہوئے ہیں۔ گزشتہ 25 سے 30 برسوں میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی کو مسلسل دوسرے سال بھی اسٹینڈنگ کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا ہو، لیکن اس سال ایسا کیا گیا، جو ان کے بقول اسی بدعنوانی کا انعام ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کی سی بی آئی سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، تمام ذمہ دار افراد کے نام منظر عام پر لائے جائیں اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی عوامی فنڈ میں بدعنوانی کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔
دلی این سی آر
دہلی کی بسوں میں خواتین کے مفت سفر کا نیا سرکلرجاری
خواتین کے لیے یکم اگست سے دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ڈی ٹی سی) کی بسوں میں مفت سفر کرنے کے لیے گلابی سہیلی کارڈ لازمی کر دیا گیا ہے۔ ڈی ٹی سی نے کہا ہے کہ دہلی میں خواتین کے لیے یکم اگست سے پنک سہیلی کارڈ کے بغیر بس سروس مفت نہیں ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ خواتین یکم اگست سے اس کارڈ کے بغیر مفت بس سروس کا فائدہ نہیں اٹھا سکیں گی۔حکومت موجودہ پیپر پنک ٹکٹ سسٹم کو مرحلہ وار ختم کر رہی ہے۔تازہ ترین ڈی ٹی سی سرکلر کے مطابق، کاغذی گلابی ٹکٹ اب صرف 31 جولائی تک جاری کیے جائیں گے۔ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ یکم اگست 2026 سے صرف گلابی سہیلی کارڈ والی خواتین ہی مفت سفر کی اہل ہوں گی۔ خواتین کو ڈی ٹی سی اور دہلی انٹیگریٹڈ ملٹی ماڈل ٹرانزٹ سسٹم (ڈی آئی ایم ٹی ایس) کلسٹر بسوں میں داخل ہونے پر کارڈ کو ٹیپ کرنے کی ضرورت ہوگی۔سرکلر کے مطابق سمارٹ کارڈ کے بغیر سفر کرنے والی خواتین کو 31 جولائی کے بعد گلابی ٹکٹ جاری نہیں کیا جائے گا اور انہیں ٹکٹ خریدنا ہوگا۔ سہیلی پنک اسمارٹ کارڈ اسکیم کے تحت، حکومت دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ڈی ٹی سی) اور کلسٹر بسوں میں خواتین اور ٹرانس جینڈر لوگوں کو مفت سفر فراہم کرتی ہے۔دہلی میں 1.4 ملین سے زیادہ گلابی سہیلی کارڈ جاری کیے گئے ہیں۔ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ دہلی کے وزیر ٹرانسپورٹ پنکج سنگھ نے یہ جانکاری دی۔ ان کے مطابق، دہلی بھر میں تقریباً 73 تقسیمی مراکز اس وقت کارڈ جاری کر رہے ہیں، جن میں روزانہ تقریباً 11,000 کارڈ جاری کیے جاتے ہیں۔’گلابی سہیلی اسمارٹ کارڈ، جو خواتین کو سرکاری بسوں میں مفت سفر کی پیشکش کرتا ہے، انہیں کنڈکٹر سے بار بار بات چیت کیے بغیر سفر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ اصل میں یکم جولائی سے شروع ہونے والے پنک ٹکٹ کے بجائے صرف پنک اسمارٹ کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے دہلی بسوں میں سفر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، لیکن تاریخ ملتوی کر دی گئی۔ اب، 31 جولائی کو پنک ٹکٹ کے ذریعے سفر کرنے کا آخری دن قرار دیا گیا ہے۔
دلی این سی آر
نوجوانوں میں دینی بیداری پیدا کریں مسلمان: مفتی مکرم
(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میںمسلمانوں سے اپیل کی کہ اپنے دین اور ایمان کی حفاظت کریں اور نوجوانوں میں دینی بیداری پیدا کریں تاکہ وہ گمراہ نہ ہو سکیں۔ انہوں نے احمد آباد سیریل بم دھماکوں کے معاملے میں گجرات ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ کے فیصلے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر متوقع اور انتہائی مایوس کن قرار دیا انہوں نے کہا کہ فیصلہ سے ظاہر ہے کہ ملزمین کی اپیلوں پر غور نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں ملزمین کی طرف سے اپیلوں کی پیروی کرنے کے لیے فاضل وکلا کی بڑی ٹیم موجود تھی لیکن جو فیصلہ آیا وہ ناقابل یقین ہے اور چونکا دینے والا ہے ۔ مفتی مکرم نے کہا اس فیصلے نے انصاف پسند ہر شہری کو شدید غم میں مبتلا کر دیا ہے ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ میں انصاف ملے گا ۔ پہلے ایسا کئی مرتبہ ہو چکا ہے کہ نچلی عدالتوں کے فیصلے سپریم کورٹ کے سامنے ٹک نہیں سکے انشاء اللہ اس مقدمے میں بھی ایسا ہی ہوگا ۔
مفتی مکرم نے چھتیس گڑھ حکومت کی طرف سے مدارس کے خلاف کاروائی کی مذمت کی انہوں نے چھتیس گڑھ وقف بورڈ کی بھی مذمت کی جس نے مدرسہ کے تعلیمی نظام میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیراعلی کو خط لکھا ہے وقف بورڈ کا استدلال ہے کہ مدارس میں جدید تعلیم کے لیے خاطر خواہ انتظامات نہ ہونے سے طلبہ کی مجموعی ترقی متاثر ہوتی ہے مفتی مکرم نے کہا کہ اسکولوں میں پڑھائے جانے والا نصاب الگ ہوتا ہے اور مدارس کا نصاب الگ ہوتا ہے اسکولوں کی تعلیم بھی مفید ہے اور مدرسہ کی تعلیم بھی مفید ہے اکثر و بیشتر مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم کو بھی بقدر ضرورت شامل کیا جا رہا ہے لہذا اس پر اعتراض کرنا بالکل غلط ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چھتیس گڑھ وقف بورڈ نے سرکاری ایما پر مدرسہ کے تعلیمی نظام میں تبدیلی کے لیے وزیر اعلی کو خط لکھا ہے اس میں کوئی دنیاوی فائدہ مد نظر ہوگا ہمارا مطالبہ ہے کہ مدرسہ کی تعلیم کو کہیں بھی بند نہ کیا جائے مدرسہ ایجوکیشن کو آئین کی تائید حاصل ہے یہ اقلیتی طبقہ کو دین سے محروم کرنے کی سازش ہے اور سرکاری اسکول بھی بہت کم ہیں۔مفتی مکرم نے امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی معاہدہ ختم ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ۔انہوں نے اپیل کی کہ جنگ بندی معاہدہ ختم نہ کیا جائے۔
دلی این سی آر
نوجوانوں میں دینی بیداری پیدا کریں مسلمان: مفتی مکرم
(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میںمسلمانوں سے اپیل کی کہ اپنے دین اور ایمان کی حفاظت کریں اور نوجوانوں میں دینی بیداری پیدا کریں تاکہ وہ گمراہ نہ ہو سکیں۔ انہوں نے احمد آباد سیریل بم دھماکوں کے معاملے میں گجرات ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ کے فیصلے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر متوقع اور انتہائی مایوس کن قرار دیا انہوں نے کہا کہ فیصلہ سے ظاہر ہے کہ ملزمین کی اپیلوں پر غور نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں ملزمین کی طرف سے اپیلوں کی پیروی کرنے کے لیے فاضل وکلا کی بڑی ٹیم موجود تھی لیکن جو فیصلہ آیا وہ ناقابل یقین ہے اور چونکا دینے والا ہے ۔ مفتی مکرم نے کہا اس فیصلے نے انصاف پسند ہر شہری کو شدید غم میں مبتلا کر دیا ہے ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ میں انصاف ملے گا ۔ پہلے ایسا کئی مرتبہ ہو چکا ہے کہ نچلی عدالتوں کے فیصلے سپریم کورٹ کے سامنے ٹک نہیں سکے انشاء اللہ اس مقدمے میں بھی ایسا ہی ہوگا ۔
مفتی مکرم نے چھتیس گڑھ حکومت کی طرف سے مدارس کے خلاف کاروائی کی مذمت کی انہوں نے چھتیس گڑھ وقف بورڈ کی بھی مذمت کی جس نے مدرسہ کے تعلیمی نظام میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیراعلی کو خط لکھا ہے وقف بورڈ کا استدلال ہے کہ مدارس میں جدید تعلیم کے لیے خاطر خواہ انتظامات نہ ہونے سے طلبہ کی مجموعی ترقی متاثر ہوتی ہے مفتی مکرم نے کہا کہ اسکولوں میں پڑھائے جانے والا نصاب الگ ہوتا ہے اور مدارس کا نصاب الگ ہوتا ہے اسکولوں کی تعلیم بھی مفید ہے اور مدرسہ کی تعلیم بھی مفید ہے اکثر و بیشتر مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم کو بھی بقدر ضرورت شامل کیا جا رہا ہے لہذا اس پر اعتراض کرنا بالکل غلط ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چھتیس گڑھ وقف بورڈ نے سرکاری ایما پر مدرسہ کے تعلیمی نظام میں تبدیلی کے لیے وزیر اعلی کو خط لکھا ہے اس میں کوئی دنیاوی فائدہ مد نظر ہوگا ہمارا مطالبہ ہے کہ مدرسہ کی تعلیم کو کہیں بھی بند نہ کیا جائے مدرسہ ایجوکیشن کو آئین کی تائید حاصل ہے یہ اقلیتی طبقہ کو دین سے محروم کرنے کی سازش ہے اور سرکاری اسکول بھی بہت کم ہیں۔مفتی مکرم نے امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی معاہدہ ختم ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ۔انہوں نے اپیل کی کہ جنگ بندی معاہدہ ختم نہ کیا جائے۔
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
