دلی این سی آر
اوڈیشہ میں قبائلیوں سے زبردستی چھینی گئی950ایکڑ زمین :سنجے سنگھ
نئی دہلی، 5 اگست: عام آدمی پارٹی نے اوڈیشہ کے ضلع سندر گڑھ میں قبائلیوں کی 950 ایکڑ زمین حاصل کرکے ڈالمیہ سیمنٹ کو دینے کے معاملے پر بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے پیسا ایکٹ (PESA Act) کو نظر انداز کرتے ہوئے ڈالمیہ سیمنٹ کی توسیع کے لیے قبائلی برادری سے 950 ایکڑ زمین زبردستی چھین لی ہے۔ پیسا ایکٹ کے مطابق قبائلی زمین کے حصول سے پہلے متعلقہ گرام پنچایتوں کی منظوری لازمی ہے، لیکن حکومت نے کوئی منظوری نہیں لی اور پولیس کے بل بوتے پر پانچ گرام پنچایتوں کے 12 دیہات کی زمینوں پر غیر قانونی قبضہ کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور مودی حکومت دلتوں، قبائلیوں اور محروم طبقات سے نفرت کرتی ہے۔ غریبوں اور قبائلیوں سے زمین چھین کر اپنے سرمایہ دار دوستوں کو دینا ہی ان کا واحد مقصد بن چکا ہے۔بدھ کے روز عام آدمی پارٹی کے مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پورے ملک میں کسانوں، قبائلیوں، دلتوں اور محروم طبقات کی زمینیں مناسب معاوضے کے بغیر زبردستی حاصل کرنا اور پولیس کے ذریعے انہیں بے دخل کرنا بی جے پی اور مودی حکومت کی پہچان بن چکا ہے۔ جہاں بھی بی جے پی کی ڈبل انجن یا سنگل انجن حکومت ہے، وہاں اس کا ایک ہی مقصد ہے کہ کسی بھی طرح سرمایہ داروں کے لیے زمین پر قبضہ کرایا جائے، خواہ اس کے لیے گولی چلانی پڑے یا لاٹھی۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں ایک روپے کے عوض دس لاکھ آم اور لیچی کے درختوں سمیت ہزاروں ایکڑ زمین اڈانی گروپ کو دے دی گئی تھی۔ اسی طرح اب اوڈیشہ کے ضلع سندر گڑھ میں ڈالمیہ سیمنٹ کی توسیع کے لیے تقریباً 950 ایکڑ قبائلی زمین زبردستی حاصل کی جا رہی ہے۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ قانون اور قواعد کے مطابق پنچایت اور قبائلی برادری کی منظوری کے بغیر ان کی زمین نہ حاصل کی جا سکتی ہے اور نہ ہی اس پر قبضہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن سندر گڑھ میں پانچ پنچایتوں اور تقریباً 11 سے 12 دیہات کے لوگوں سے کوئی منظوری نہیں لی گئی اور لاٹھی اور پولیس کے زور پر ان کی زمینوں پر قبضہ کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیرِ سماعت ہے اور انہوں نے اسے پارلیمنٹ میں اٹھانے کے لیے نوٹس بھی دیا ہے۔ مودی حکومت دلتوں، قبائلیوں اور غریبوں کی مخالف ہے۔ انہوں نے اوڈیشہ کی بی جے پی حکومت سے مطالبہ کیا کہ قبائلیوں کے ساتھ ہونے والے اس ظلم اور ناانصافی کا فوری نوٹس لیا جائے اور اس غیر قانونی زمین حصولی کو فوراً روکا جائے۔ اس موقع پر سندر گڑھ کے زمین مالک راکیش روشن نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ اوڈیشہ کے وزیر اعلیٰ، ہمارے ضلع سندر گڑھ سے تعلق رکھنے والے مرکزی وزیر برائے قبائلی امور، حتیٰ کہ ملک کی صدر بھی قبائلی برادری سے تعلق رکھتی ہیں، لیکن اس کے باوجود قبائلیوں کی زمینیں چھیننے سے نہیں بچائی جا رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری 950 ایکڑ سے زائد زمین ہماری معلومات اور رضامندی کے بغیر کم کر دی گئی۔ جب ہم دھان فروخت کرنے گئے تو معلوم ہوا کہ ہماری زمین کا رقبہ کم ہو چکا ہے۔ ہماری یہ جدوجہد 2018 سے جاری ہے۔ ہم نے احتجاج کیے، پیدل مارچ نکالا اور گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا بھی دیا، لیکن ہمارے لوگوں پر جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے اور متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔ راکیش روشن نے کہا کہ جب پولیس کی موجودگی میں زبردستی زمین حاصل کی گئی تو ہمارے کھیتوں میں مسور اور اُڑد کی فصلیں کھڑی تھیں، جنہیں بلڈوزر چلا کر تباہ کر دیا گیا اور تقریباً 202 فٹ گہرے گڑھے کھود دیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 27 ایکڑ زمین پر اب پتھر نکالنے کی کان کنی جاری ہے۔ سی اے جی اور آر ڈی سی کی رپورٹوں میں بھی کہا گیا ہے کہ گرام سبھا کی منظوری نہیں لی گئی۔ گرام سبھا نے واضح طور پر کہا تھا کہ وہ ایک انچ زمین بھی نہیں دے گی، کیونکہ ڈالمیہ سیمنٹ پہلے ہی چار مرتبہ ہماری زمین لے چکا ہے۔ مستقبل کی نسلوں کے لیے ہمارے پاس بمشکل چند ایکڑ زمین باقی رہ گئی ہے۔ قبائلی ہونے کے ناطے زمین ہی ہماری شناخت اور ہماری ریڑھ کی ہڈی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے اوڈیشہ ریاستی صدر نشی کانت موہاپاترا نے کہا کہ اوڈیشہ میں قبائلی وزیر اعلیٰ، مرکز میں قبائلی وزیر اور بی جے پی کی ڈبل انجن حکومت ہونے کے باوجود ضلع سندر گڑھ میں قبائلیوں کی زمین ہڑپنے کا کھیل جاری ہے۔ دن میں گرام سبھا منعقد کرنے کے بجائے رات کے اندھیرے میں پولیس بھیج کر کارکنان کو گرفتار کیا جا رہا ہے اور لوگوں پر لاٹھیاں برسائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پورا علاقہ پیسا ایکٹ کے تحت درج فہرست علاقوں میں شامل ہے، لیکن اس کے باوجود قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے زبردستی زمینیں ہتھیائی جا رہی ہیں، جس سے تقریباً دس ہزار افراد کے روزگار پر سنگین خطرہ منڈلا رہا ہے۔ عام آدمی پارٹی قبائلیوں کی اس جدوجہد کی مکمل حمایت کرتی ہے اور مضبوطی کے ساتھ ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ عوام کی رضامندی کے بغیر جاری اس زبردستی زمین حصولی کو فوری طور پر بند کیا جائے، لوگوں کی بات سنی جائے اور اس سیاہ حکم نامے کو واپس لیا جائے۔
دلی این سی آر
دہلی کی بسوں میں خواتین کے مفت سفر کا نیا سرکلرجاری
خواتین کے لیے یکم اگست سے دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ڈی ٹی سی) کی بسوں میں مفت سفر کرنے کے لیے گلابی سہیلی کارڈ لازمی کر دیا گیا ہے۔ ڈی ٹی سی نے کہا ہے کہ دہلی میں خواتین کے لیے یکم اگست سے پنک سہیلی کارڈ کے بغیر بس سروس مفت نہیں ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ خواتین یکم اگست سے اس کارڈ کے بغیر مفت بس سروس کا فائدہ نہیں اٹھا سکیں گی۔حکومت موجودہ پیپر پنک ٹکٹ سسٹم کو مرحلہ وار ختم کر رہی ہے۔تازہ ترین ڈی ٹی سی سرکلر کے مطابق، کاغذی گلابی ٹکٹ اب صرف 31 جولائی تک جاری کیے جائیں گے۔ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ یکم اگست 2026 سے صرف گلابی سہیلی کارڈ والی خواتین ہی مفت سفر کی اہل ہوں گی۔ خواتین کو ڈی ٹی سی اور دہلی انٹیگریٹڈ ملٹی ماڈل ٹرانزٹ سسٹم (ڈی آئی ایم ٹی ایس) کلسٹر بسوں میں داخل ہونے پر کارڈ کو ٹیپ کرنے کی ضرورت ہوگی۔سرکلر کے مطابق سمارٹ کارڈ کے بغیر سفر کرنے والی خواتین کو 31 جولائی کے بعد گلابی ٹکٹ جاری نہیں کیا جائے گا اور انہیں ٹکٹ خریدنا ہوگا۔ سہیلی پنک اسمارٹ کارڈ اسکیم کے تحت، حکومت دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ڈی ٹی سی) اور کلسٹر بسوں میں خواتین اور ٹرانس جینڈر لوگوں کو مفت سفر فراہم کرتی ہے۔دہلی میں 1.4 ملین سے زیادہ گلابی سہیلی کارڈ جاری کیے گئے ہیں۔ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ دہلی کے وزیر ٹرانسپورٹ پنکج سنگھ نے یہ جانکاری دی۔ ان کے مطابق، دہلی بھر میں تقریباً 73 تقسیمی مراکز اس وقت کارڈ جاری کر رہے ہیں، جن میں روزانہ تقریباً 11,000 کارڈ جاری کیے جاتے ہیں۔’گلابی سہیلی اسمارٹ کارڈ، جو خواتین کو سرکاری بسوں میں مفت سفر کی پیشکش کرتا ہے، انہیں کنڈکٹر سے بار بار بات چیت کیے بغیر سفر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ اصل میں یکم جولائی سے شروع ہونے والے پنک ٹکٹ کے بجائے صرف پنک اسمارٹ کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے دہلی بسوں میں سفر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، لیکن تاریخ ملتوی کر دی گئی۔ اب، 31 جولائی کو پنک ٹکٹ کے ذریعے سفر کرنے کا آخری دن قرار دیا گیا ہے۔
دلی این سی آر
نوجوانوں میں دینی بیداری پیدا کریں مسلمان: مفتی مکرم
(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میںمسلمانوں سے اپیل کی کہ اپنے دین اور ایمان کی حفاظت کریں اور نوجوانوں میں دینی بیداری پیدا کریں تاکہ وہ گمراہ نہ ہو سکیں۔ انہوں نے احمد آباد سیریل بم دھماکوں کے معاملے میں گجرات ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ کے فیصلے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر متوقع اور انتہائی مایوس کن قرار دیا انہوں نے کہا کہ فیصلہ سے ظاہر ہے کہ ملزمین کی اپیلوں پر غور نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں ملزمین کی طرف سے اپیلوں کی پیروی کرنے کے لیے فاضل وکلا کی بڑی ٹیم موجود تھی لیکن جو فیصلہ آیا وہ ناقابل یقین ہے اور چونکا دینے والا ہے ۔ مفتی مکرم نے کہا اس فیصلے نے انصاف پسند ہر شہری کو شدید غم میں مبتلا کر دیا ہے ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ میں انصاف ملے گا ۔ پہلے ایسا کئی مرتبہ ہو چکا ہے کہ نچلی عدالتوں کے فیصلے سپریم کورٹ کے سامنے ٹک نہیں سکے انشاء اللہ اس مقدمے میں بھی ایسا ہی ہوگا ۔
مفتی مکرم نے چھتیس گڑھ حکومت کی طرف سے مدارس کے خلاف کاروائی کی مذمت کی انہوں نے چھتیس گڑھ وقف بورڈ کی بھی مذمت کی جس نے مدرسہ کے تعلیمی نظام میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیراعلی کو خط لکھا ہے وقف بورڈ کا استدلال ہے کہ مدارس میں جدید تعلیم کے لیے خاطر خواہ انتظامات نہ ہونے سے طلبہ کی مجموعی ترقی متاثر ہوتی ہے مفتی مکرم نے کہا کہ اسکولوں میں پڑھائے جانے والا نصاب الگ ہوتا ہے اور مدارس کا نصاب الگ ہوتا ہے اسکولوں کی تعلیم بھی مفید ہے اور مدرسہ کی تعلیم بھی مفید ہے اکثر و بیشتر مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم کو بھی بقدر ضرورت شامل کیا جا رہا ہے لہذا اس پر اعتراض کرنا بالکل غلط ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چھتیس گڑھ وقف بورڈ نے سرکاری ایما پر مدرسہ کے تعلیمی نظام میں تبدیلی کے لیے وزیر اعلی کو خط لکھا ہے اس میں کوئی دنیاوی فائدہ مد نظر ہوگا ہمارا مطالبہ ہے کہ مدرسہ کی تعلیم کو کہیں بھی بند نہ کیا جائے مدرسہ ایجوکیشن کو آئین کی تائید حاصل ہے یہ اقلیتی طبقہ کو دین سے محروم کرنے کی سازش ہے اور سرکاری اسکول بھی بہت کم ہیں۔مفتی مکرم نے امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی معاہدہ ختم ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ۔انہوں نے اپیل کی کہ جنگ بندی معاہدہ ختم نہ کیا جائے۔
دلی این سی آر
نوجوانوں میں دینی بیداری پیدا کریں مسلمان: مفتی مکرم
(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میںمسلمانوں سے اپیل کی کہ اپنے دین اور ایمان کی حفاظت کریں اور نوجوانوں میں دینی بیداری پیدا کریں تاکہ وہ گمراہ نہ ہو سکیں۔ انہوں نے احمد آباد سیریل بم دھماکوں کے معاملے میں گجرات ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ کے فیصلے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر متوقع اور انتہائی مایوس کن قرار دیا انہوں نے کہا کہ فیصلہ سے ظاہر ہے کہ ملزمین کی اپیلوں پر غور نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں ملزمین کی طرف سے اپیلوں کی پیروی کرنے کے لیے فاضل وکلا کی بڑی ٹیم موجود تھی لیکن جو فیصلہ آیا وہ ناقابل یقین ہے اور چونکا دینے والا ہے ۔ مفتی مکرم نے کہا اس فیصلے نے انصاف پسند ہر شہری کو شدید غم میں مبتلا کر دیا ہے ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ میں انصاف ملے گا ۔ پہلے ایسا کئی مرتبہ ہو چکا ہے کہ نچلی عدالتوں کے فیصلے سپریم کورٹ کے سامنے ٹک نہیں سکے انشاء اللہ اس مقدمے میں بھی ایسا ہی ہوگا ۔
مفتی مکرم نے چھتیس گڑھ حکومت کی طرف سے مدارس کے خلاف کاروائی کی مذمت کی انہوں نے چھتیس گڑھ وقف بورڈ کی بھی مذمت کی جس نے مدرسہ کے تعلیمی نظام میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیراعلی کو خط لکھا ہے وقف بورڈ کا استدلال ہے کہ مدارس میں جدید تعلیم کے لیے خاطر خواہ انتظامات نہ ہونے سے طلبہ کی مجموعی ترقی متاثر ہوتی ہے مفتی مکرم نے کہا کہ اسکولوں میں پڑھائے جانے والا نصاب الگ ہوتا ہے اور مدارس کا نصاب الگ ہوتا ہے اسکولوں کی تعلیم بھی مفید ہے اور مدرسہ کی تعلیم بھی مفید ہے اکثر و بیشتر مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم کو بھی بقدر ضرورت شامل کیا جا رہا ہے لہذا اس پر اعتراض کرنا بالکل غلط ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چھتیس گڑھ وقف بورڈ نے سرکاری ایما پر مدرسہ کے تعلیمی نظام میں تبدیلی کے لیے وزیر اعلی کو خط لکھا ہے اس میں کوئی دنیاوی فائدہ مد نظر ہوگا ہمارا مطالبہ ہے کہ مدرسہ کی تعلیم کو کہیں بھی بند نہ کیا جائے مدرسہ ایجوکیشن کو آئین کی تائید حاصل ہے یہ اقلیتی طبقہ کو دین سے محروم کرنے کی سازش ہے اور سرکاری اسکول بھی بہت کم ہیں۔مفتی مکرم نے امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی معاہدہ ختم ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ۔انہوں نے اپیل کی کہ جنگ بندی معاہدہ ختم نہ کیا جائے۔
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
