Connect with us

بہار

ائمہ کرام جمعہ کے خطبہ میں لوگوں کو ووٹر فارم کی خانہ پری پرخصوصی توجہ دلائیں: مفتی محمد سعیدالرحمن قاسمی

Published

on

(پی این این)
پٹنہ :امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کے قائم مقام ناظم مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈ یا نے بہار کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر وو ٹر لسٹ پر خصوصی نظر ثانی کے لئےجو گائیڈ لائن جاری کیا ہے ،حکمت و مصلحت کا تقاضا ہے کہ الیکشن کمیشن کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے 25 جولائی 2025 تک رائے دہندگان اپنے فارم کی خانہ پری کرکے BLO کے پاس جمع کردیں ،یا براہ راست آن لائن فارم بھریں اور اس کا ثبوت محفوظ رکھیں ،اس سلسلہ میں ائمہ کرام جمعہ کے خطبہ میں اس پہلو پر لوگوں کوخصوصی توجہ دلائیں اورانہیں بیدار کریں ،انہوں نے کہا کہ جن ووٹرس کے نام 2003 ء کےووٹر لسٹ میں شامل ہیںانہیں صرف ووٹرلسٹ میں درج فارم کی فوٹو کاپی فار م کے ساتھ جمع کردینا کافی ہے ، جن کا نام 2003 کی فہرست میں شامل نہیں ہے ان کےلئے تین کٹیگری بنائی گئی ہے ،یکم جولائی 1987ء سے پہلے پید ا ہونے والے افراد کو گیارہ دستاویزات میں سے کوئی ایک ثبوت دینا ہے ،یکم جولائی 1987ء سے 2 ؍دسمبر 2004ء تک کے اشخاص کو گیارہ دستاویزات میں اپنا ایک دستاویز اور والدین میں سے کسی ایک کے د ستاویزی ثبوت کے ساتھ جمع کرنے ہیںاور 2 ؍دسمبر 2004ء کےبعد پیدا ہونے والے اصحاب کے لئے اپنے گیارہ دستاویزات میں سے ایک دستاویز کے ساتھ والدین کابھی دستاویز دینا لازمی ہے ، الیکشن کمیشن نے گیا رہ طرح کے دستاویزات میں سے کسی ایک کو قابل قبول تسلیم کیا (۱) سرکاری ملازمین کے لئے سرکاری شناختی کارڈ (۲) رہائشی سرٹیفیکٹ (۳) ذات کا سرٹیفیکٹ (۴) بزرگ پینشن کی منظوری کا خط (۵) پیدائش کا سرٹیفیکٹ (۶) پاسپورٹ (۷) تعلیمی سرٹیفیکٹ (۸) پردھان منتری آواس یوجنا کی منظوری کا خط (۹) زمین سے محروم افراد کو بہار حکومت کی طرف سے دیا گیا زمین کا پیبر(۱۰)1987 سے پہلے حکومت کی طرف سے جاری کسی بھی شناختی کارڈ کا ہونا (۱۱) کم سے کم میٹرک سرٹیفیکٹ کا ہونا ۔
جس زمرہ کے اشخاص کو ثبوت کے طور پر دستاویز داخل کرنا ہے انہیں مذکورہ کسی ایک کاغذ کا موجود ہونا کافی ہے ،الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق جو رائے دہندگان مخصوص دستاویزات کے ساتھ فارم جمع کرنے میں ناکام رہتے ہیں انہیں انتخابی فہرست سے حذف کردیا جائے گا ،اس لئےمعاملہ کی حساسیت ونزاکت کو محسوس کرتے ہوئے جس قدر جلد ممکن ہوسکےکا غذات حاصل کرکے 25 ؍جولائی تک اپنے فارم کو جمع کریں ،اور اپنے پر کئے گئے فارم کی جانچ کرلیں کہ آپ کا فارم کامیابی کے ساتھ اپ لوڈ ہو ا ہے یا نہیں ۔
قائم مقام ناظم صاحب نے ائمہ مساجد سےبھی اور سیاسی و سماجی تعلیم یافتہ اصحاب سےبھی اپیل کی ہےکہ وہ اس کام میں عام لوگوں کی مدد کریں تاکہ ووٹر لسٹ سے کسی کا بھی نام حذف نہ ہو،انہوں نے یہ بھی کہا کہ عین ممکن ہے کہ یہی ووٹر آئی کا رڈ آنے والے دنوںمیں شہریت کے ثبوت کے لئے دلیل بھی ثابت ہو گی ،اسلئے اس سلسلہ میں ہر گز کوتاہی نہ برتیں ،امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ وجھارکھنڈ کے امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مستقل لوگوں کو توجہ دلارہے ہیں ،ضلع اور بلاک کی سطح پرنقباء امارت شرعیہ علماء و دانشور اور،مخصلین ومعاونین کو ترغیب دے رہے ہیں کہ آپ حضرات ووٹر آئی کارڈ بنانے اور بنوانے میں عام لوگوں کی مد د کریں تاکہ کسی کا نام انتخابی فہرست میں چھوٹنے نہ پائے،اور بہار کے ہر بلاک کے چند نوجوانوں کو امارت شرعیہ کی جانب سے زوم ایپ پر ٹریننگ بھی دی جارہی ہے ،اس کی دو نششتیں ہوچکی ہیں اور بھی نششتیں ہوں گی ،مرکزی دفتر امارت شرعیہ میں بھی افراد متعین ہیں جو آن لائن فارم بھر رہیں ،لوگ اس سے بھی فائدہ اٹھائیں ۔اب وقت بہت کم ہے ،اسلئے اس کا م کو ایک تحریک کی شکل دی جائے اور جنگی پیمانے پر ووٹر فارم کی خانہ پری کی جائے۔

Bihar

سیکورٹی کونہیں بنانا چاہیے سیاسی ہتھیار،آرجے ڈی سپریمو لالو پرساد اور رابڑی دیوی کی سیکورٹی میں کٹوتی پرراجیہ سبھا رکن منوج جھا کاسخت ردعمل

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں سابق وزرائے اعلیٰ لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی کی سیکورٹی کم کیے جانے کے بعد سیاسی ماحول کافی گرما گیا ہے۔ آر جے ڈی کارکنان نے اس فیصلے کے خلاف رابڑی دیوی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج شروع کر دیا ہے۔ دوسری جانب اس معاملے پر سیاسی بیان بازی بھی تیز ہو گئی ہے۔
آر جے ڈی کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے حکومت کے اس فیصلے کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ لالو پرساد یادو، رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو جیسے لیڈران کی سیکورٹی کو لے کر اس طرح کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق سیکورٹی کو کسی بھی حالت میں سیاسی انتقام یا دباؤ کا ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر سیکورٹی کے انتظامات کو سیاسی ہتھیار کی طرح استعمال کیا جائے گا تو اس کا جمہوریت پر غلط اثر پڑے گا۔منوج جھا نے مزید کہا کہ بہار میں ایسے کئی لوگ ہیں جنہیں سیکورٹی کی حقیقی ضرورت بھی نہیں ہے، پھر بھی ان کے آس پاس بھاری سیکورٹی کے انتظامات رہتے ہیں۔ انہوں نے طنز کستے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ اقتدار کے مزے لوٹنے میں لگے ہوئے ہیں، لیکن عوام اب اپنے طور پر حفاظت کرے گی، اس لیے لیڈران نے اپنی سرکاری سیکورٹی واپس کر دی ہے۔
آر جے ڈی لیڈر نے جی ڈی پی گروتھ اور معاشی صورتحال پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ صرف اعداد و شمار سے سچائی نہیں بدلی جا سکتی۔ ان کے مطابق ملک کی معاشی حالت کے حوالے سے جو رپورٹیں سامنے آ رہی ہیں، وہ تشویشناک ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شرحِ نمو کو لے کر طرح طرح کے دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عام لوگوں کے حالات اچھے نہیں ہیں۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے آرجے ڈی راجیہ سبھاکے رکن منوج جھا نے یہ بھی کہا کہ منوج جھا نے کہا کہ آج متوسط اور نچلے طبقے کے لوگ مہنگائی اور معاشی دباؤ سے پریشان ہیں۔ روزمرہ کی ضرورت کی چیزیں مہنگی ہو رہی ہیں اور کئی خاندانوں کے بجٹ پر اس کا براہ راست اثر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھالی سے کئی ضروری چیزیں غائب ہوتی جا رہی ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ عام آدمی کی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔
راجیہ سبھا رکن منوج جھا کا یہ بھی کہنا ہے کہ عالمی حالات، جیسے مغربی ایشیا اور ایران کی صورتحال، آنے والے وقت میں ہندوستانی معیشت پر مزید اثر ڈال سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ان تمام وجوہات کا اثر عام عوام پر پڑ رہا ہے اور حکومت کو اعداد و شمار کے بجائے زمینی حقیقت پر توجہ دینی چاہیے۔

Continue Reading

Bihar

بھاگلپور:شاہ کنڈ میں غیرقانونی کاکنی عروج پر

Published

on

(سعیدانور؍پی این این)
بھاگلپور:ضلع شاہ کنڈ بلاک میں غیر قانونی مٹی کٹائی کا کاروبار مسلسل فروغ پا رہا ہے۔ بلاک کے موضع پنچ کٹھیا واقع سکھ سروور گاؤں کے پیچھے، بیرائی اور کھلنی پنچایت کے جمال پور علاقے سمیت کئی مقامات پر زرعی رعیّتی زمینوں سے بڑے پیمانے پر مٹی کاٹ کر فروخت کی جا رہی ہے۔ دیہی باشندوں کا الزام ہے کہ کئی جگہوں پر 10 سے 15 فٹ تک مٹی کاٹ لی گئی ہے، جس کے باعث سیکڑوں ایکڑ زرخیز زرعی زمین گہرے گڑھوں میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے مؤثر کارروائی نہ ہونے پر عوام میں ناراضگی بڑھتی جا رہی ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق جے سی بی مشینوں کی مدد سے کھیتوں کی بالائی زرخیز مٹی کاٹی جا رہی ہے اور درجنوں ٹریکٹروں کے ذریعے اس کی نقل و حمل کی جا رہی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ سرگرمیاں کسی دور دراز علاقے میں نہیں بلکہ ایسے مقامات پر ہو رہی ہیں جہاں انتظامی اور پولیس افسران کی باقاعدہ آمد و رفت رہتی ہے۔ اس کے باوجود مٹی کٹائی کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔دیہی باشندوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد مرتبہ متعلقہ تھانے اور انتظامی افسران کو اس کی اطلاع دی۔ شکایات میں بتایا گیا کہ زرعی اراضی سے بڑے پیمانے پر مٹی کاٹی جا رہی ہے اور ٹریکٹروں کے ذریعے اس کی کھلے عام نقل و حمل کی جا رہی ہے، لیکن اب تک کوئی ٹھوس کارروائی سامنے نہیں آئی۔ اس صورت حال کے باعث عوام کے درمیان یہ بحث تیز ہو گئی ہے کہ آخر اس غیر قانونی کاروبار کو روکنے میں انتظامیہ بے بس ہے یا پھر کہیں نہ کہیں اسے سرپرستی حاصل ہے۔
معاملے کے تعلق سے جب ضلعی معدنیات افسر سے ردِّعمل لیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’’موقع پر جا کر معائنہ اور جانچ کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔‘‘ محکمۂ معدنیات کا یہ جواب بھی کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ دیہی باشندوں کا کہنا ہے کہ جب مہینوں سے مٹی کٹائی جاری ہے، وسیع گڑھے بن چکے ہیں اور دن دہاڑے مٹی کی نقل و حمل ہو رہی ہے، تب بھی اگر محکمہ کو صورت حال کی خبر نہیں تو اسے نگرانی کے نظام کی سنگین ناکامی تصور کیا جائے گا۔
ادھر علاقائی رکنِ اسمبلی للیت نارائن منڈل نے اس معاملے میں کہا کہ ’’مٹی کٹائی روکنے کا کام تھانے کا ہے، میرا نہیں۔‘‘ رکنِ اسمبلی کے اس بیان کے بعد بھی کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ دیہی باشندوں کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندوں کی ذمہ داری صرف ترقیاتی منصوبوں تک محدود نہیں ہوتی بلکہ علاقے کے سنگین مسائل کو انتظامیہ کے سامنے اٹھا کر ان کے حل کی سمت میں پہل کرنا بھی ان کے فرائض کا حصہ ہے۔ماہرین کے مطابق کھیتوں کی بالائی مٹی سب سے زیادہ زرخیز ہوتی ہے اور زرعی پیداوار کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ بڑے پیمانے پر مٹی کٹنے سے زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے اور مستقبل میں کاشت کاری دشوار ہو جاتی ہے۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب جے سی بی مشینیں مسلسل کام کر رہی ہیں، درجنوں ٹریکٹر دن کی روشنی میں مٹی ڈھو رہے ہیں، زرعی اراضی پر گہرے گڑھے بن چکے ہیں اور دیہی باشندے مسلسل شکایات کر رہے ہیں، تب بھی کارروائی کیوں نہیں ہو رہی؟ شاہ کنڈ کے عوام اب یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر اس غیر قانونی مٹی کٹائی کو روکنے کی ذمہ داری کس کی ہے اور علاقے کی زرخیز زرعی زمین کو بچانے کے لیے انتظامیہ کب بیدار ہوگی۔اگر بروقت مؤثر روک نہ لگائی گئی تو آنے والے برسوں میں شاہ کنڈ کی زرخیز زمین زرعی پیداوار کے بجائے آبی جماؤ، زمینی کٹاؤ اور گہرے گڑھوں کی شناخت بن کر رہ جائے گی۔ دیہی باشندوں نے ضلعی انتظامیہ سے فوری جانچ کر کے قصورواروں کے خلاف کارروائی کرنے اور غیر قانونی مٹی کٹائی پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔

Continue Reading

Bihar

چیف منسٹر فشرمین ویلفیئر اسکیم کے تحت مستفیدین میں تھری وہیلر گاڑیاں تقسیم

Published

on

(پی این این)
ارریہ:ڈاکٹر رام چندر پرساد، عزت مآب وزیر، ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی محکمہ، بہار حکومت کے ساتھ وزیر انچارج، ارریہ ضلع نے فشریز ٹرانسپورٹ وہیکل اسکیم کے تحت تھری وہیلر آئس باکس سمیت 6 گاڑیاں تقسیم کیں۔ فائدہ اٹھانے والے اس کے علاوہ گاڑیوں کو بھی جھنڈی دکھا کر روانہ کیا گیا۔ اس موقع پر ضلع مجسٹریٹ ارریہ مسٹر ونود دوہان اور پولیس سپرنٹنڈنٹ ارریہ مسٹر جتیندر کمار بھی موجود تھے۔
استفادہ کنندگان سے خطاب کرتے ہوئے عزت مآب وزیر نے کہا کہ چیف منسٹر فشرمین ویلفیئر اسکیم ریاستی حکومت کی ایک اہم پہل ہے، جس سے ماہی گیروں اور مچھلی فروشوں کی روزی روٹی مضبوط ہوتی ہے۔ یہ اسکیم آبی ذخائر اور مچھلی کی پیداوار کی جگہوں سے مارکیٹ تک مچھلی کی محفوظ، صاف اور صحت مند نقل و حمل کو یقینی بناتی ہے۔ آئس بکس سے لیس گاڑیوں کا استعمال مچھلی کو زیادہ دیر تک تازہ اور محفوظ رکھے گا، اس کے معیار کو برقرار رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ روزگار کے مفید مواقع کی دستیابی سے ماہی گیری کے کاروبار کو وسعت ملے گی اور مستحقین کی سالانہ آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ بتایا گیا کہ اس اسکیم کے تحت ایک گاڑی کی یونٹ لاگت ₹3.00 لاکھ ہے، جس میں فائدہ اٹھانے والوں کو 50 فیصد سبسڈی دستیاب ہے۔ اس اسکیم سے ماہی گیری برادری کے اہل مستفید افراد اور مچھلی فروشوں کو فائدہ ہوتا ہے جو تھوک اور خوردہ مچھلی کی فروخت اور فروخت میں شامل ہیں۔ محکمانہ ہدف کے مطابق، ارریہ ضلع نے مالی سال 2025-26 کے لیے نو گاڑیوں کا ہدف حاصل کیا، جس میں ہر بلاک سے ایک مستفید کنندہ کا انتخاب کیا گیا۔ اسی سلسلے میں بہار کی سمردھی یاترا کے موقع پر عزت مآب وزیر اعلیٰ کی طرف سے پہلے ہی 3 مستفید افراد کو گاڑیاں فراہم کی جا چکی ہیں، جبکہ باقی 6 مستفیدین کو آج گاڑیوں کی چابیاں سونپی گئیں۔
مستفید ہونے والوں میں شامل ہیں: بھاویش منڈل، سکتی، مانکی دیوی، کرساکانتا، راج کمار چودھری، جوکیہاٹ، منی دیوی، بھرگاما، گرودیو سنگھ، فوربس گنج، اور ذوالقر نین، پالسی۔ پروگرام کے دوران موجود عہدیداروں اور عوامی نمائندوں نے مستفید ہونے والوں کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ اسکیم ماہی گیری کے کاروبار کو جدید بنانے کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network