Connect with us

Bihar

مہسول میں 100 بستروں والے اقلیتی ہاسٹل کی تعمیر شروع،ساڑھے 8 کروڑ روپے کی تخمینہ سے تعمیر ہوگا ہاسٹل، سال 2004 سے زیر التوا تھا منصوبہ، طلبہ کو ملے گی بہتر رہائشی کی سہولت

Published

on

(پی این این)
سیتامڑھی:مہسول اور آس پاس کے طلبہ کے لیے منگل کا دن بڑی خوشخبری لے کر آیا۔ سال 2004 سے زیر التوا 100 بستروں والے اقلیتی ہاسٹل کی تعمیر کا عمل آخرکار زمین پر اتر گیا۔ مہسول مشرقی، میونسپل کارپوریشن وارڈ نمبر 28 میں تقریباً ساڑھے 8 کروڑ روپے کی تخمینہ سے مجوزہ ہاسٹل کی تعمیر کے لیے منگل کو زمین کی پیمائش، حد بندی اور لے آؤٹ کا کام شروع کیا گیا۔ موقع پر پہنچیں اسسٹنٹ ڈائریکٹر، اقلیتی بہبود ڈاکٹر سونیتا سونو نے تعمیراتی مقام کا معائنہ کیا اور تعمیر سے متعلق تیاریوں کا جائزہ لیا۔
انہوں نے بتایا کہ ہاسٹل کی تعمیر کے سلسلے میں ضروری انتظامی کارروائی مکمل کرلی گئی ہے اور تعمیراتی عمل شروع کردیا گیا ہے۔ اقلیتی ہاسٹل کا یہ منصوبہ سال 2004 سے زیر التوا تھا۔ تقریباً 18 برسوں تک مختلف سطحوں پر جاری کارروائی کے بعد تعمیر شروع ہونے سے مقامی لوگوں اور طلبہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ 100 بستروں پر مشتمل یہ ہاسٹل دور دراز علاقوں سے آکر تعلیم حاصل کرنے والے اقلیتی طلبہ کے لیے اہم رہائشی سہولت ثابت ہوگا۔ ہاسٹل کی تعمیر سے طلبہ کو رہائش کے ساتھ تعلیم کے لیے بہتر اور سازگار ماحول بھی میسر ہوگا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے علاقے میں تعلیم کو فروغ ملے گا اور ضرورت مند طلبہ کو بڑی سہولت حاصل ہوگی۔ رحمانیہ یوتھ ایکتا کمیٹی، مہسول کے ضلعی صدر محمد ارمان علی نے تعمیراتی کام شروع ہونے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ، سیتامڑھی اور اقلیتی بہبود محکمہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ برسوں سے زیر التوا اہم مطالبہ اب پورا ہونے جا رہا ہے۔
ہاسٹل کی تعمیر سے دور دراز علاقوں سے تعلیم حاصل کرنے آنے والے طلبہ کو رہائش کی سہولت ملے گی اور ان کی تعلیم کے لیے بہتر ماحول فراہم ہوگا۔ تقریباً ساڑھے 8 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا 100 بستروں کا ہاسٹل مہسول کی ترقی اور تعلیمی ماحول کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔ مقامی لوگوں نے تعمیراتی کام شروع ہونے کو برسوں پرانی امید کی تکمیل کی جانب بڑی پیش رفت قرار دیا۔ لوگوں نے امید ظاہر کی کہ ہاسٹل کی تعمیر معیاری طریقے سے مقررہ مدت کے اندر مکمل کی جائے گی، تاکہ طلبہ کو جلد از جلد اس کا فائدہ مل سکے۔حد بندی اور لے آؤٹ کے دوران رحمانیہ یوتھ ایکتا کمیٹی کے ضلع صدر محمد ارمان علی، اقلیتی ایکتا منچ کے ضلع صدر محمد مرتضیٰ، شیخ محمد ضیاء الرحمٰن، محمد گلاب، محمد علیم عرف آرزو، محمد مظہر علی راجا، انجینئر توقیر انور عرف سکندر، محمد افروز عالم، محمد قمر اختر، محمد عامر مختار عرف آرزو، وارڈ کونسلر محمد عطا اللہ رحمانی سمیت دیگر افراد موجود رہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Bihar

بہار کے طلبہ و طالبات کو وزیر اعلیٰ کا تحفہ،سمراٹ چودھری نے طلبہ کے مسائل کا مقررہ وقت کے اندر حل یقینی بنانے کیلئے کیا پورٹل کاآغاز، ہر ماہ تعاون کیمپ لگانے کا اعلان

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار کے تعلیمی اداروں میں ہر ماہ کے چوتھے منگل کو تعاون کیمپ منعقد کیے جائیں گے، جہاں طلبہ براہِ راست اپنی شکایات، مسائل اور تجاویز پیش کر سکیں گے۔ اس سلسلے کا آغاز 25 اگست سے بہار کے تمام اسکولوں اور طلبہ کے ہاسٹلوں میں ہوگا۔ وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کل جے ڈی ویمنز کالج کے آڈیٹوریم میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران اس کا اعلان کیا۔اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ نے ’ودیارتی تعاون پورٹل‘ کا افتتاح کیا۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ طلبہ کے مسائل کا مقررہ وقت کے اندر حل یقینی بنانے کے لیے یہ پورٹل شروع کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد طلبہ و طالبات کے تعلیمی، ہاسٹل سے متعلق اور دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ ان کی تجاویز کا بھی فوری ازالہ کرنا ہے۔ یہ سہولت مکمل طور پر مفت ہوگی اور اس کے ذریعے طلبہ کی شناخت کو خفیہ رکھا جائے گا۔
تعاون کیمپ سے متعلق معلومات کے لیے ہیلپ لائن نمبر 1100 دستیاب ہوگا۔ طلبہ کی شکایات پر 10 دن کے اندر کارروائی شروع نہ ہونے کی صورت میں 11ویں دن وزیرِ اعلیٰ کے دفتر کی جانب سے ازخود نوٹس جاری کیا جائے گا اور زیادہ سے زیادہ 30 دن کے اندر ہر حال میں مسئلے کا حل یقینی بنایا جائے گا۔
وزیرِ اعلیٰ نے پٹنہ کے جے ڈی ویمنز کالج میں موجود طالبات سے بات چیت کی اور تعلیمی سرگرمیوں اور ان کے مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ بہار میں تعلیمی نظام کو مزید جدید، شفاف، جواب دہ اور طلبہ مرکوز بنانے کی سمت میں مسلسل کام کیا جا رہا ہے۔
سمراٹ چودھری نے 15 اگست کو گاندھی میدان میں پرچم کشائی کے بعد اپنی تقریر میں اس کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے حکومت طلبہ و طالبات سے براہِ راست بات چیت کرے گی۔ ان کی باتیں سننے اور ان کے مسائل کو سمجھنے کے لیے ہر ماہ تعاون کیمپ کا انعقاد کیا جائے گا۔اس کے علاوہ ’ودیارتی تعاون پورٹل‘ قائم کیا جائے گا، جس کے ذریعے طلبہ اپنے مسائل سے حکومت کو آگاہ کر سکیں گے۔ تعاون پورٹل پر درج کی جانے والی شکایات کا ازالہ ایک ماہ کے اندر یقینی بنایا جائے گا۔
وزیرِ اعلیٰ کی اس پہل سے طلبہ و طالبات میں خاصا جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔ کئی مرتبہ محکمہ کی سست روی کے باعث میٹرک اور انٹر کے امتحانات میں ہونے والی غلطیوں کی اصلاح کرانے کے لیے طلبہ کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ طالبات نے حکومت کے اس فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا ہے، جس کے تحت ان کے اسکول اور کالج کے قریب ’پولیس دیدی‘ تعینات کی جائیں گی۔
وزیرِ اعلیٰ کی ہدایت پر ایسا نظام وضع کیا جا رہا ہے، جس کے تحت خواتین پولیس اہلکار اور افسران سادہ لباس میں حساس مقامات پر نظر رکھیں گے۔ اس کی شروعات رکشا بندھن کے دن سے کی جائے گی۔ تمام اضلاع میں اس سلسلے میں ضروری تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

 

 

Continue Reading

Bihar

طلبہ کی تکثیریت کا احترام اور شمولیاتی تعلیم کا فروغ وقت کی اہم ضرورت: پروفیسر محمد مشاہد

Published

on

(پی این این)
دربھنگہ:مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (MANUU) کے کالج آف ٹیچر ایجوکیشن (CTE)، دربھنگہ میں 17 اگست کو ’’طلبہ کی تکثیریت اور شمولیاتی تعلیم‘‘ کے موضوع پر ایک توسیعی خطبے کا انعقاد کیا گیا۔ خطبے میں پروفیسر محمد مشاہد، ڈین، اسکول آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ، MANUU، حیدرآباد نے فیکلٹی اراکین، بی ایڈ و ایم ایڈ طلبہ اور پی ایچ ڈی اسکالرز سے خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں پروفیسر محمد مشاہد نے کہا کہ طلبہ کی مختلف سماجی، ثقافتی، لسانی، معاشی، تعلیمی اور انفرادی پس منظر کا احترام کرتے ہوئے شمولیاتی تعلیمی طریقۂ کار کو فروغ دینا ایک مساوی، جمہوری اور طالب علم مرکوز تعلیمی ماحول کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ مختلف صلاحیتوں اور پس منظر کے ساتھ جماعت میں آتے ہیں، اس لیے اساتذہ کو تدریس کی منصوبہ بندی اور اس کے نفاذ میں ان کے اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے مناسب تعلیمی مواقع فراہم کرنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ شمولیاتی تعلیم محض ایک نظریاتی تصور نہیں، بلکہ اس کا عملی اظہار جماعتی تعامل، تدریسی حکمتِ عملی، تشخیصی طریقوں، تعلیمی وسائل اور مجموعی علمی ماحول میں ہونا چاہیے۔ ہر طالب علم کو سیکھنے، اظہارِ خیال، جماعتی سرگرمیوں میں شرکت اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے مساوی مواقع ملنے چاہئیں۔پروفیسر مشاہد نے اساتذہ، محققین اور طلبہ کے درمیان علمی تعاون کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بامعنی علمی ترقی اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے CTE دربھنگہ کے فیکلٹی اراکین اور ریسرچ اسکالرز پر زور دیا کہ وہ علمی مکالمے، بین المضامین تعاون، علم کے اشتراک اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دیں تاکہ تدریس و تحقیق کے معیار کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
پروگرام کا آغاز پی ایچ ڈی اسکالر عبدالرافع کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد شارب علی اور ان کی ٹیم نے MANUU ترانہ پیش کیا۔ استقبالیہ خطاب پروفیسر شفاعت احمد نے کیا۔ ڈاکٹر فخرالدین علی احمد نے پروفیسر محمد مشاہد کا تعارف پیش کرتے ہوئے تعلیم کے میدان میں ان کی علمی خدمات اور کردار پر روشنی ڈالی۔اس موقع پر پروفیسر محمد فیض احمد، پرنسپل، MANUU CTE دربھنگہ نے پروفیسر محمد مشاہد کو شال اور متھلا پاگ پیش کرکے ان کا استقبال کیا اور ڈین کے عہدے کی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی۔
اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر محمد فیض احمد نے توسیعی خطبے کی علمی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ استاد تعلیم کے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے اساتذہ تیار کریں جو طلبہ کی متنوع ضروریات اور پس منظر کو سمجھیں اور ایک جامع و معاون تعلیمی ماحول تشکیل دینے کے لیے پُرعزم ہوں۔نشست میں بی ایڈ و ایم ایڈ طلبہ، پی ایچ ڈی اسکالرز اور فیکلٹی اراکین نے پُرجوش شرکت کی۔ پروگرام کے دوران ہونے والے علمی تبادلے میں عصری استاد تعلیم اور جماعتی تدریس میں شمولیاتی تعلیم کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر بھی گفتگو ہوئی۔
پروگرام کی نظامت ڈاکٹر محمد افروز عالم نے کی، جبکہ اختتامی کلماتِ تشکر کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد کلیم اللہ نے پیش کیے۔ انہوں نے مہمانِ خصوصی، پرنسپل، فیکلٹی اراکین، ریسرچ اسکالرز، طلبہ اور پروگرام کی کامیابی میں تعاون کرنے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔توسیعی خطبے کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ طلبہ کی تکثیریت کو تسلیم کرتے ہوئے شمولیت، مساوات، باہمی تعاون اور معاون تعلیمی ماحول کو فروغ دینا استاد تعلیم کے معیار اور مؤثریت کو بہتر بنانے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

Continue Reading

Bihar

بہار میں شفاف امتحانات کیلئے ہو گی کمیٹی کی تشکیل، کالجوں میں ہوگی ’پولیس دیدی‘ کی تعیناتی، وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کیا اعلان

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے اعلان کیا کہ رکشا بندھن کے دن سے ریاست کے اسکولوں اور کالجوں میں طالبات کی حفاظت کے لیے ’پولیس دیدی‘ تعینات کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ بہن بیٹیوں کی حفاظت اور ان کے عزت و احترام کو یقینی بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ خواتین کی سلامتی کے پیش نظر ہم نے ’پولیس دیدی‘ کو پانچ ہزار اسکوٹی اور موٹر سائیکلیں فراہم کی ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار کو محفوظ اور خوشحال ریاست بنانے کے عزم کے ساتھ ریاستی حکومت مسلسل کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کئی اہم اعلانات بھی کیے۔ انہوں نے کہا کہ امتحانات کے حوالے سے طلبہ کا اعتماد سب سے زیادہ اہم ہے۔
بہار میں امتحانات کو منظم، شفاف، غیر جانب دار اور جدید بنانے کے لیے ہائی کورٹ کے ایک جج کی سربراہی میں ریاستی سطح پر امتحانی اصلاحات کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ اسی طرح تعلیم کے معیار کو مزید مستحکم کرنے کے لیے بھی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ریاست میں قائم 551 سرسوتی ودیا نکیتنوں میں آئی آئی ٹی، جے ای ای اور نیٹ سمیت مختلف اعلیٰ تعلیمی اداروں کے داخلہ امتحانات کی تیاری کے لیے مفت کوچنگ کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کسان ہمارے صوبے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان کی خوشحالی ہی ریاست اور ملک کی ترقی کی بنیاد ہے۔
سمراٹ چودھری نے کہا کہ بہار کو محفوظ اور خوشحال ریاست بنانے کے عزم کے ساتھ ریاستی حکومت مسلسل کام کر رہی ہے۔ بہن بیٹیوں کی حفاظت اور ان کے عزت و احترام کو یقینی بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ خواتین کی سلامتی کے لیے ہم نے ’پولیس دیدی‘ کو پانچ ہزار اسکوٹی اور موٹر سائیکلیں فراہم کی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 17 اگست کو ’ودیارتھی سَہیوگ پورٹل‘ کا آغاز کیا جائے گا۔ اس کے ذریعے ریاست بھر کے اسکولوں، کالجوں اور کوچنگ سمیت دیگر تعلیمی اداروں میں طلبہ کی شکایات اور پریشانیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔ پورٹل پر طلبہ کی جانب سے درج کرائی گئی شکایات کا زیادہ سے زیادہ 30 دن کے اندر نپٹارہ کیا جائے گا۔ ہماری حکومت شکایات کے ازالے کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔
بہار میں نوجوان پالیسی بنائی جائے گی: ریاستی حکومت نے 2030 تک ایک کروڑ نوجوانوں کو سرکاری ملازمت اور روزگار فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ نوجوانوں کی ہمہ جہت ترقی کے لیے بہار یوتھ پالیسی تیار کی جائے گی اور اس کی نگرانی ریاستی یوتھ کمیشن کرے گا۔بہار کی مالامال اور روحانی وراثت—نالندہ، بودھ گیا، وکرم شیلا، راج گیر اور ویشالی—کو کاروباری مواقع، ورثہ گائیڈ، ثقافتی سیاحت اور اسٹارٹ اپس سے جوڑتے ہوئے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

 

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network