Connect with us

Bihar

ڈی ایم اور ایس پی نے سرحدی علاقوں میں حفاظتی انتظامات کا لیاجائزہ

Published

on

ارریہ: ضلع مجسٹریٹ ارریہ مسٹر ونود دہان اور پولیس سپرنٹنڈنٹ ارریہ مسٹر جتیندر کمار نے امن و امان اور عوامی مسائل کا معائنہ کرنے کے لیے پیر کو مانک پور، کوشیکاپور اور بھوانی پور کے سرحدی علاقوں کا مشترکہ طور پر دورہ کیا۔
میٹنگ کے دوران، ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ نے مقامی عوامی نمائندوں، دیہاتیوں، اور سرکردہ شہریوں کے ساتھ خطے کے سیکورٹی نظام، عوامی مسائل، اور سماجی ہم آہنگی کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بات چیت کی۔ میٹنگ کے دوران ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ نے عوام سے باہمی بھائی چارہ، سماجی ہم آہنگی اور پرامن ماحول کو برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ امن و امان اور تمام شہریوں کی حفاظت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
انہوں نے رہائشیوں پر زور دیا کہ وہ افواہوں کو نظر انداز کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی یا مسئلے کی اطلاع فوری طور پر انتظامیہ اور پولیس کو دیں۔ مشترکہ معائنہ کے دوران، ضلع مجسٹریٹ نے مقامی باشندوں سے براہ راست بات چیت کی، ان کے خدشات اور تجاویز کو غور سے سنا، اور متعلقہ افسران کو ضروری کارروائی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
دورے کے دوران، ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بھوانی پور کے پرائمری اسکول کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے مڈ ڈے میل (ایم ڈی ایم) کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے سکول میں کھانے پینے والے بچوں سے ملاقات کی، ان سے پڑھائی اور کھانے کے معیار کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے سکول کے کچن کا معائنہ کرنے کے بعد صفائی ستھرائی، کھانے کے معیار اور مقررہ معیار کے مطابق انتظامات کرنے کی ہدایات دیں۔
معائنہ کے دوران دونوں افسران نے مقامی دیہاتیوں سے بھی ملاقات کی اور ان کی توقعات کے بارے میں دریافت کیا اور انہیں یقین دلایا کہ انتظامیہ حساس اور عوامی مفاد سے متعلق ہر مسئلے کو حل کرنے کے لیے تیار ہے۔ علاقے کے لوگ اس بات چیت سے بہت خوش نظر آئے۔ اس موقع پر متعلقہ انتظامی اور پولیس افسران بھی موجود تھے۔

Bihar

پانچ سو تیتیس سیڑھیاں چڑھ کر ڈی ایم نے شراونی میلے کی تیاریوں کا لیا جائزہ

Published

on

بہار شریف:زائرین کی سہولت و حفاظت کے لیے پبلک ایڈریس سسٹم، کنٹرول روم، میڈیکل ٹیم اور ضرورت کے مطابق آفت مِتروں کی تعیناتی کی ہدایت دی۔ مندر احاطے کے آس پاس تجاوزات ہٹا کر پارکنگ اور زائرین کی سہولیات کی ترقی اور راستے میں مناسب روشنی کا انتظام یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
سدھناتھ مندر، جرا سندھ اکھاڑہ اور بیلویدار آبی ذخیرہ علاقے کا معائنہ کر کے ضروری ہدایات دیں۔ زیرِ زمین پانی کے تحفظ کو فروغ دینے کے لیے نجی اور سرکاری بورویلز کو گراؤنڈ واٹر ریچارج ایکویفر کے طور پر تیار کرنے کی کارروائی منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی۔
نالندہ شراونی میلہ-2026 کے کامیاب، محفوظ اور منظم انعقاد کے لیے ضلع افسر، نالندہ محترمہ ادیتا سنگھ نے آج راجگیر کے کنڈ علاقے اور ویوہار گری پہاڑ کا جامع فیلڈ معائنہ کیا۔ معائنہ کے دوران انہوں نے خود 533 سیڑھیاں چڑھ کر مختلف انتظامات کا جائزہ لیا اور متعلقہ افسران کو ضروری ہدایات دیں۔معائنہ کے دوران مقامی عوامی نمائندوں اور متعلقہ افسران نے ضلع افسر کو ویپول گری، سورن گری، ویوہار گری اور رتن گری پہاڑی سلسلوں کی دینی، تاریخی اور سیاحتی اہمیت کی تفصیلی معلومات دیں۔
ساتھ ہی بمبیسار ٹریکنگ ٹریک کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا، جو راجگیر کے اہم سیاحتی اور ٹریکنگ مقامات میں سے ایک ہے۔

ضلع افسر نے پہاڑی علاقے کی نباتات و حیوانات “فلورا اینڈ فیول” کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں۔ ویوہار گری پہاڑ پر چڑھائی کے دوران انہوں نے راجگیر اسٹیڈیم، پولیس ٹریننگ انسٹیٹیوٹ، اسپورٹس اکیڈمی سمیت آس پاس کے قدرتی اور ترقی پذیر مقامات کا مشاہدہ کیا۔

مقامی عوامی نمائندوں نے شراونی میلے کے دوران راستے میں کافی روشنی سمیت دیگر بنیادی سہولیات کا مطالبہ رکھا۔ اس پر ضلع افسر نے زائرین کی سہولت و حفاظت کو سب سے اوپر ترجیح دیتے ہوئے پورے راستے میں مناسب روشنی کا انتظام یقینی بنانے کی ہدایت دی۔

انہوں نے ہدایت دی کہ میلے کے دوران زائرین کو ضروری معلومات اور ہدایات فراہم کرنے کے لیے پبلک ایڈریس سسٹم کا مناسب انتظام کیا جائے۔ ساتھ ہی زائرین کی رہنمائی، ہم آہنگی اور ہنگامی صورتحال کے مؤثر انتظام کے لیے کنٹرول روم قائم کیا جائے اور کسی بھی اچانک طبی ضرورت کے لیے کافی میڈیکل ٹیم اور صحت کی سہولیات دستیاب کرائی جائیں۔ ضرورت پڑنے پر آفت مِتروں کی خدمات لینے کی بھی ہدایت دی۔

معائنہ کے دوران ضلع افسر نے ویوہار گری پہاڑ پر واقع تاریخی سدھناتھ مندر کا بھی دورہ کیا۔ مقامی سطح پر انہیں آگاہ کیا گیا کہ مہا بھارت کے دور میں یہ مندر مگدھ کے بادشاہ جرا سندھ نے قائم کروایا تھا۔

اس کے بعد انہوں نے ویوہار گری پہاڑ کے بیلویدار علاقے کا معائنہ کیا، جہاں بارش کا پانی ذخیرہ ہوتا ہے۔ ضلع افسر نے محکمہ جنگلات کے افسران کو آبی ذخیرہ کی گنجائش بڑھانے کے مقصد سے تالاب کو تقریباً 6 فٹ اور گہرا کرنے کی ہدایت دی۔

معائنہ کے دوران انہوں نے جرا سندھ اکھاڑہ کے علاقے کا بھی جائزہ لیا۔ وہاں سے نظر آنے والے دلکش منظر کا مشاہدہ کرتے ہوئے انہوں نے مندر احاطے کے آس پاس تجاوزات ہٹا کر اس زمین کو پارکنگ اور زائرین کی دیگر ضروری سہولیات کی ترقی کے لیے استعمال کرنے کی ہدایت دی، تاکہ زائرین کو بہتر تجربہ اور سہولیات میسر آسکیں۔

ڈی ایف او “DFO” کے ساتھ گفتگو کے دوران ضلع افسر نے زیرِ زمین پانی کے تحفظ اور فروغ کے مقصد سے نجی اور سرکاری بورویلز کو گراؤنڈ واٹر ریچارج ایکویفر کے طور پر استعمال کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ انہیں بتایا گیا کہ اس طرح کا کامیاب تجربہ وینوون علاقے میں کیا جا چکا ہے۔ ضلع افسر نے اس سلسلے میں عملی کارروائی منصوبہ تیار کر کے زیرِ زمین پانی کی سطح بڑھانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔

ضلع افسر نے کہا کہ شراونی میلے میں آنے والے زائرین کی حفاظت، سہولت اور آسان آمد و رفت یقینی بنانا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور تمام محکمے باہمی تعاون کے ساتھ وقت پر ضروری تیاریاں مکمل کریں۔

معائنہ کے دوران مقامی عوامی نمائندوں اور معزز شہریوں نے ضلع افسر کے ساتھ دورہ کیا اور علاقے کی دینی، تاریخی اور سیاحتی اہمیت سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس موقع پر کونسلر شری شرون کمار، شری شیام نارائن پرساد، شری شیام بھارتی، شری گولو جی اور شری آزاد کمار موجود تھے۔ انہوں نے مختلف مقامات کے بارے میں تفصیل سے بتایا اور شراونی میلے کے کامیاب انعقاد کے لیے ضروری تجاویز بھی دیں۔

انتظامیہ کی طرف سے نالندہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ شری بھارت سونی، سب ڈویژنل افسر، راجگیر، اسپیشل ڈیوٹی افسر، ضلع پلاننگ افسر اور دیگر متعلقہ افراد موجود تھے۔

Continue Reading

Bihar

تیج پرتاپ یادو جیل سے رہا

Published

on

پٹنہ:(پی این این) بہار کے سابق وزیر اور جن شکتی جنتا دل (جے جے ڈی) کے قومی صدر تیج پرتاپ یادو پٹنہ کی بیور جیل سے باہر آ گئے ہیں۔ انہیں نیٹ پیپر لیک معاملے سے متعلق طلبہ تحریک کے ایک کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔بہار بند کے دوران ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے طلبہ کو پولیس پر حملے کے لیے اکسایا۔ عدالت نے انہیں عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو کے بڑے بیٹے تیج پرتاپ نے اپنی گرفتاری کو سیاسی سازش قرار دیا تھا۔
واضح رہے کہ دہلی میں مظاہرین کے ساتھ مرکزی حکومت کی رضامندی کے بعد بہار حکومت نے بھی نیٹ پیپر لیک تحریک سے متعلق درج مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔تیج پرتاپ یادو کو منگل کی شام بیور جیل سے رہا کر دیا گیا۔ جیل سے باہر آتے ہی ان کے حامیوں میں جوش و خروش بڑھ گیا۔ بیور جیل کے باہر بڑی تعداد میں موجود جے جے ڈی کارکنوں نے ان کا استقبال کیا۔ اس کے بعد تیج پرتاپ یادو گاڑی میں سوار ہو کر وہاں سے روانہ ہوگئے۔تیج پرتاپ یادو کو پٹنہ پولیس نے 25 جولائی کو حراست میں لیا تھا۔ ان کے خلاف گاندھی میدان تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ گزشتہ ہفتہ کو بہار بند کے دوران انہوں نے رام غلام چوک پر احتجاج کر رہے طلبہ و طالبات کے درمیان مظاہرہ کیا تھا۔
ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے مظاہرین کو پولیس پر حملے کے لیے اکسایا۔

Continue Reading

Bihar

ہم بہارکونہیں بننے دیں گے ’پولیس گردی‘ کی ریاست،آپ کو بچانے نہیں آئیں گےسمراٹ چودھری،تمام پروٹوکول کی پابندی کریں پولیس افسران ، تیجسوی یادو کاقانونی نظام اور پولیس کارروائی پر سخت برہمی کا اظہار

Published

on

(پی این این)
پٹنہ: بہار کی سمراٹ چودھری حکومت نے نیٹ امتحان کے مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس پر ریاستی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے کہا کہ حکومت نے ان کی تنبیہ اور دباؤ کے بعد ہی یہ قدم اٹھایا ہے۔
اسی کے ساتھ تیجسوی یادو نے ان افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا، جن کے حکم پر اے کے-47 سے فائرنگ کی اجازت دی گئی تھی۔ پٹنہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران افسران پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’سمراٹ چودھری آپ کو بچانے نہیں آئیں گے۔‘‘
تیجسوی یادو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیوان میں طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر اے کے-47 استعمال کرنے والے کانسٹیبل کو محض معطل کر دینا کافی نہیں ہے۔ اس پورے واقعے کی عدالتی نگرانی میں غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ اے کے-47 کے استعمال کا حکم کس نے دیا تھا اور اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب مظاہرین کے خلاف مبینہ طور پر اے کے-47 کا استعمال کیا گیا ہے۔ تیجسوی یادو نے مطالبہ کیا کہ وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری واضح کریں کہ طلبہ مظاہرین کے خلاف اے کے-47 استعمال کرنے کا حکم کس نے دیا تھا، نیز پولیس نے متعدد طلبہ کے خلاف اقدامِ قتل کے مقدمات کس بنیاد پر درج کیے۔
تیجسوی یادو نے کہا، “جب ہم نے آپ کو الٹی میٹم دیا تو آپ (وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری) نے گرفتار طلبہ کی رہائی کا حکم جاری کیا۔ جب ہم نے آپ کو خبردار کیا تو آپ نے مقدمات واپس لینے کا اعلان بھی کر دیا، لیکن وہ افسران جو قصوروار ہیں، جن کی وجہ سے گولیاں چلیں اور جن کے حکم پر فائرنگ ہوئی، ان کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟ آپ نے گرفتاریاں تو کیں، مگر اس معاملے کی تحقیقات کا کیا نتیجہ نکلا؟”تیجسوی یادو نے مزید کہا کہ وہ آج بھی سمراٹ چودھری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ کسی ایک سپاہی کو قربانی کا بکرا نہ بنایا جائے، کیونکہ ایک سپاہی اتنا بااختیار نہیں ہوتا کہ وہ اپنی مرضی سے اے کے-47 سے کسی 15 سالہ بچے کے سینے پر گولی چلا دے۔ آخر یہ سب کس کے حکم پر ہوا؟ اس معاملے کی عدالتی نگرانی میں غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی، وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
اس کے بعد تیجسوی یادو نے کہا کہ وہ متعلقہ افسران کو بھی خبردار کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “سمراٹ چودھری کب آئیں گے اور کب چلے جائیں گے، کسی کو معلوم نہیں، لیکن وہ ان افسران کو بچانے نہیں آئیں گے۔ بہتر یہی ہے کہ افسران آئین، قواعد و ضوابط اور اپنے سرکاری پروٹوکول کی پابندی کریں۔”تیجسوی یادو نے مزید کہا کہ اب بہار میں مجرموں اور بدعنوان عناصر کو سرپرستی دینے کا سلسلہ نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہا، “بہار جے پرکاش نارائن، کرپوری ٹھاکر اور لالو پرساد یادو کی سرزمین ہے۔ ہم اس دھرتی کو پولیس گردی کی ریاست نہیں بننے دیں گے۔‘‘
قابلِ ذکر ہے کہ ضلع سیوان میں طلبہ کے احتجاج کے دوران ابھیشیک کمار نامی ایک پولیس اہلکار اے کے-47 سے فائرنگ کرتے ہوئے نظر آیا تھا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شدید ہنگامہ برپا ہو گیا تھا، جس کے بعد کارروائی کرتے ہوئے ابھیشیک کمار کو معطل کر دیا گیا تھا۔

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network