Connect with us

دلی این سی آر

سینٹ ا سٹیفن کالج میں نیا ڈریس کوڈ، ہر وقت شناختی کارڈرکھنا ضروری

Published

on

نئی دہلی :دہلی یونیورسٹی کے سینٹ سٹیفن کالج نے موجودہ تعلیمی سیشن کے لیے ایک نیا ڈریس کوڈ قائم کیا ہے۔ اس کوڈ کے تحت طلبہ کو کلاس رومز اور کیمپس کے دیگر حصوں میں شارٹس پہننے سے منع کیا گیا ہے۔ 26 جولائی کو جاری کیا گیا اور پرنسپل پروفیسر سوسن الیاس کے دستخط شدہ نوٹس، “کیمپس کے ضوابط اور رہنما خطوط” کے عنوان سے لکھا گیا ہے کہ تمام جونیئر کالج کے طلباء کو کیمپس کے ان قوانین کی سختی سے پابندی کرنی چاہیے۔ڈریس کوڈ کلاس رومز، ٹیوٹوریلز اور لیبارٹریز، چیپل، اسمبلی ہال، لائبریری اور ڈائننگ ہال میں شارٹس پہننے سے منع کرتا ہے۔ نوٹس میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا ہے کہ کالج کا پورا کیمپس دھواں سے پاک زون ہے۔ اس اصول کی خلاف ورزی پر سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ طلباء سے بھی تاکید کی جاتی ہے کہ وہ فراہم کردہ کوڑے دان کا استعمال کرتے ہوئے کیمپس میں صفائی برقرار رکھیں۔ نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے ساتھ کالج کا درست شناختی کارڈ ضرور رکھیں۔ انہیں کھانے کے لیے ڈائننگ ہال میں داخل ہونے سے پہلے اپنا شناختی کارڈ دکھانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اس سرکلر نے طلباء میں حیرانی پیدا کردی ہے اور سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے۔ بہت سے لوگ تعلیمی جگہوں پر ڈریس کوڈ کے ضوابط کی ضرورت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے سینٹ سٹیفن کالج کے پرنسپل پروفیسر سوسن الیاس سے رابطہ کیا اور ڈریس کوڈ کے پیچھے دلیل پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا۔ تاہم، اس رپورٹ کو لکھنے کے وقت اس نے کالز یا پیغامات کا جواب نہیں دیا۔ کالج نے ابھی تک نوٹس پر کوئی عوامی وضاحت جاری نہیں کی ہے۔
اس سے قبل، 30 اپریل کو، دہلی یونیورسٹی کی ایگزیکٹو کونسل نے مختلف شعبوں میں اسسٹنٹ پروفیسروں کے لیے براہ راست بھرتی کے عمل کے دوران سینٹ اسٹیفن کالج کے ذریعہ اختیار کردہ شارٹ لسٹنگ کے معیار میں مبینہ خلاف ورزیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لیا تھا۔ جب کونسل کے اجلاس کے دوران شارٹ لسٹنگ کے قائم کردہ معیار سے انحراف کا مسئلہ اٹھایا گیا تو کونسل نے فیصلہ کیا کہ کالج کو منتخب امیدواروں کو تقرری کے خطوط جاری کرنے سے روک دیا جائے۔ کونسل نے کالج کو یہ بھی مشورہ دیا کہ اس کے ذریعہ اختیار کردہ شارٹ لسٹنگ کے معیارات یونیورسٹی کے ضوابط کے مطابق نہیں تھے اور اس میں خامیاں تھیں۔معاملے کی تحقیقات کے لیے ایگزیکٹو کونسل کی طرف سے تشکیل دی گئی کمیٹی کی صدارت ایگزیکٹو کونسل میں چانسلر کے نامزد کردہ پروفیسر اندرا موہن کپاہی نے کی۔ دیگر میں امان کمار، ڈاکٹر مونیکا اروڑہ، اور ڈاکٹر ایل ایس چودھری شامل تھے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

دہلی کی بسوں میں خواتین کے مفت سفر کا نیا سرکلرجاری

Published

on

خواتین کے لیے یکم اگست سے دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ڈی ٹی سی) کی بسوں میں مفت سفر کرنے کے لیے گلابی سہیلی کارڈ لازمی کر دیا گیا ہے۔ ڈی ٹی سی نے کہا ہے کہ دہلی میں خواتین کے لیے یکم اگست سے پنک سہیلی کارڈ کے بغیر بس سروس مفت نہیں ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ خواتین یکم اگست سے اس کارڈ کے بغیر مفت بس سروس کا فائدہ نہیں اٹھا سکیں گی۔حکومت موجودہ پیپر پنک ٹکٹ سسٹم کو مرحلہ وار ختم کر رہی ہے۔تازہ ترین ڈی ٹی سی سرکلر کے مطابق، کاغذی گلابی ٹکٹ اب صرف 31 جولائی تک جاری کیے جائیں گے۔ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ یکم اگست 2026 سے صرف گلابی سہیلی کارڈ والی خواتین ہی مفت سفر کی اہل ہوں گی۔ خواتین کو ڈی ٹی سی اور دہلی انٹیگریٹڈ ملٹی ماڈل ٹرانزٹ سسٹم (ڈی آئی ایم ٹی ایس) کلسٹر بسوں میں داخل ہونے پر کارڈ کو ٹیپ کرنے کی ضرورت ہوگی۔سرکلر کے مطابق سمارٹ کارڈ کے بغیر سفر کرنے والی خواتین کو 31 جولائی کے بعد گلابی ٹکٹ جاری نہیں کیا جائے گا اور انہیں ٹکٹ خریدنا ہوگا۔ سہیلی پنک اسمارٹ کارڈ اسکیم کے تحت، حکومت دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ڈی ٹی سی) اور کلسٹر بسوں میں خواتین اور ٹرانس جینڈر لوگوں کو مفت سفر فراہم کرتی ہے۔دہلی میں 1.4 ملین سے زیادہ گلابی سہیلی کارڈ جاری کیے گئے ہیں۔ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ دہلی کے وزیر ٹرانسپورٹ پنکج سنگھ نے یہ جانکاری دی۔ ان کے مطابق، دہلی بھر میں تقریباً 73 تقسیمی مراکز اس وقت کارڈ جاری کر رہے ہیں، جن میں روزانہ تقریباً 11,000 کارڈ جاری کیے جاتے ہیں۔’گلابی سہیلی اسمارٹ کارڈ، جو خواتین کو سرکاری بسوں میں مفت سفر کی پیشکش کرتا ہے، انہیں کنڈکٹر سے بار بار بات چیت کیے بغیر سفر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ اصل میں یکم جولائی سے شروع ہونے والے پنک ٹکٹ کے بجائے صرف پنک اسمارٹ کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے دہلی بسوں میں سفر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، لیکن تاریخ ملتوی کر دی گئی۔ اب، 31 جولائی کو پنک ٹکٹ کے ذریعے سفر کرنے کا آخری دن قرار دیا گیا ہے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

نوجوانوں میں دینی بیداری پیدا کریں مسلمان: مفتی مکرم

Published

on

 

(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میںمسلمانوں سے اپیل کی کہ اپنے دین اور ایمان کی حفاظت کریں اور نوجوانوں میں دینی بیداری پیدا کریں تاکہ وہ گمراہ نہ ہو سکیں۔ انہوں نے احمد آباد سیریل بم دھماکوں کے معاملے میں گجرات ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ کے فیصلے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر متوقع اور انتہائی مایوس کن قرار دیا انہوں نے کہا کہ فیصلہ سے ظاہر ہے کہ ملزمین کی اپیلوں پر غور نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں ملزمین کی طرف سے اپیلوں کی پیروی کرنے کے لیے فاضل وکلا کی بڑی ٹیم موجود تھی لیکن جو فیصلہ آیا وہ ناقابل یقین ہے اور چونکا دینے والا ہے ۔ مفتی مکرم نے کہا اس فیصلے نے انصاف پسند ہر شہری کو شدید غم میں مبتلا کر دیا ہے ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ میں انصاف ملے گا ۔ پہلے ایسا کئی مرتبہ ہو چکا ہے کہ نچلی عدالتوں کے فیصلے سپریم کورٹ کے سامنے ٹک نہیں سکے انشاء اللہ اس مقدمے میں بھی ایسا ہی ہوگا ۔
مفتی مکرم نے چھتیس گڑھ حکومت کی طرف سے مدارس کے خلاف کاروائی کی مذمت کی انہوں نے چھتیس گڑھ وقف بورڈ کی بھی مذمت کی جس نے مدرسہ کے تعلیمی نظام میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیراعلی کو خط لکھا ہے وقف بورڈ کا استدلال ہے کہ مدارس میں جدید تعلیم کے لیے خاطر خواہ انتظامات نہ ہونے سے طلبہ کی مجموعی ترقی متاثر ہوتی ہے مفتی مکرم نے کہا کہ اسکولوں میں پڑھائے جانے والا نصاب الگ ہوتا ہے اور مدارس کا نصاب الگ ہوتا ہے اسکولوں کی تعلیم بھی مفید ہے اور مدرسہ کی تعلیم بھی مفید ہے اکثر و بیشتر مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم کو بھی بقدر ضرورت شامل کیا جا رہا ہے لہذا اس پر اعتراض کرنا بالکل غلط ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چھتیس گڑھ وقف بورڈ نے سرکاری ایما پر مدرسہ کے تعلیمی نظام میں تبدیلی کے لیے وزیر اعلی کو خط لکھا ہے اس میں کوئی دنیاوی فائدہ مد نظر ہوگا ہمارا مطالبہ ہے کہ مدرسہ کی تعلیم کو کہیں بھی بند نہ کیا جائے مدرسہ ایجوکیشن کو آئین کی تائید حاصل ہے یہ اقلیتی طبقہ کو دین سے محروم کرنے کی سازش ہے اور سرکاری اسکول بھی بہت کم ہیں۔مفتی مکرم نے امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی معاہدہ ختم ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ۔انہوں نے اپیل کی کہ جنگ بندی معاہدہ ختم نہ کیا جائے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

نوجوانوں میں دینی بیداری پیدا کریں مسلمان: مفتی مکرم

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میںمسلمانوں سے اپیل کی کہ اپنے دین اور ایمان کی حفاظت کریں اور نوجوانوں میں دینی بیداری پیدا کریں تاکہ وہ گمراہ نہ ہو سکیں۔ انہوں نے احمد آباد سیریل بم دھماکوں کے معاملے میں گجرات ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ کے فیصلے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر متوقع اور انتہائی مایوس کن قرار دیا انہوں نے کہا کہ فیصلہ سے ظاہر ہے کہ ملزمین کی اپیلوں پر غور نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں ملزمین کی طرف سے اپیلوں کی پیروی کرنے کے لیے فاضل وکلا کی بڑی ٹیم موجود تھی لیکن جو فیصلہ آیا وہ ناقابل یقین ہے اور چونکا دینے والا ہے ۔ مفتی مکرم نے کہا اس فیصلے نے انصاف پسند ہر شہری کو شدید غم میں مبتلا کر دیا ہے ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ میں انصاف ملے گا ۔ پہلے ایسا کئی مرتبہ ہو چکا ہے کہ نچلی عدالتوں کے فیصلے سپریم کورٹ کے سامنے ٹک نہیں سکے انشاء اللہ اس مقدمے میں بھی ایسا ہی ہوگا ۔
مفتی مکرم نے چھتیس گڑھ حکومت کی طرف سے مدارس کے خلاف کاروائی کی مذمت کی انہوں نے چھتیس گڑھ وقف بورڈ کی بھی مذمت کی جس نے مدرسہ کے تعلیمی نظام میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیراعلی کو خط لکھا ہے وقف بورڈ کا استدلال ہے کہ مدارس میں جدید تعلیم کے لیے خاطر خواہ انتظامات نہ ہونے سے طلبہ کی مجموعی ترقی متاثر ہوتی ہے مفتی مکرم نے کہا کہ اسکولوں میں پڑھائے جانے والا نصاب الگ ہوتا ہے اور مدارس کا نصاب الگ ہوتا ہے اسکولوں کی تعلیم بھی مفید ہے اور مدرسہ کی تعلیم بھی مفید ہے اکثر و بیشتر مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم کو بھی بقدر ضرورت شامل کیا جا رہا ہے لہذا اس پر اعتراض کرنا بالکل غلط ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چھتیس گڑھ وقف بورڈ نے سرکاری ایما پر مدرسہ کے تعلیمی نظام میں تبدیلی کے لیے وزیر اعلی کو خط لکھا ہے اس میں کوئی دنیاوی فائدہ مد نظر ہوگا ہمارا مطالبہ ہے کہ مدرسہ کی تعلیم کو کہیں بھی بند نہ کیا جائے مدرسہ ایجوکیشن کو آئین کی تائید حاصل ہے یہ اقلیتی طبقہ کو دین سے محروم کرنے کی سازش ہے اور سرکاری اسکول بھی بہت کم ہیں۔مفتی مکرم نے امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی معاہدہ ختم ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ۔انہوں نے اپیل کی کہ جنگ بندی معاہدہ ختم نہ کیا جائے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network