uttar pradesh
یوم تصفیہ پر شکایتوں کا ازالہ،ماں کے نام ایک درخت مہم کے تحت لگائے گئے پودے
رام پور: سمادھن دیوس سے پہلے ضلع مجسٹریٹ اجے کمار دویدی اور پولیس سپرنٹنڈنٹ سومیندر کمار مینا نے ماں کے نام پر ایک درخت مہم کے تحت تحصیل صدر کے احاطے میں پودے لگائے۔ اس موقع پر انہوں نے تحصیل دیوس میں شرکت کرنے والے لوگوں میں پودے تقسیم کیے اور ماحولیاتی تحفظ کا پیغام دیا۔
ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنی ماں کے احترام میں کم از کم ایک پودا لگائے اور اس کی دیکھ بھال اور حفاظت کو یقینی بنائے جب تک وہ درخت نہ بن جائے۔اس کے بعد تحصیل صدر آڈیٹوریم میں ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کی موجودگی میں مشترکہ سمپورن سمادھان دیوس کا انعقاد کیا گیا۔ ضلع مجسٹریٹ نے شکایت کنندگان کی شکایات اور مطالبات کو سنجیدگی سے سنا اور متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ ان کے فوری اور معیاری حل کو یقینی بنائیں۔
سمپورن سمادھان دیوس کے دوران مختلف محکموں سے متعلق 32 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 7 کا موقع پر ہی ازالہ کیا گیا۔ شکایات میں بنیادی طور پر ریونیو، پولیس، بجلی، بلاک ڈیولپمنٹ، غیر قانونی تجاوزات، راشن کارڈ، آیوشمان بھارت کارڈ، میونسپل کارپوریشن، اور ہاؤسنگ سے متعلق موصول ہوئی ہیں۔
اس دوران ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ نے ذاتی طور پر کھود کی رہنے والی نشا اور جگت پور کی رہنے والی شوریہ کو لاعلاج بیماریوں کے علاج کے لیے آیوشمان بھارت کارڈ پیش کیا۔امداد دیوس پرطبی امداد کے خواہاں شکایت کنندگان کی درخواستوں کے بارے میں ضلع مجسٹریٹ نے ضلع سپلائی افسر کو ہدایت دی کہ وہ اہلیت کی تصدیق کریں اور ترجیحی بنیادوں پر انتیودیا راشن کارڈ جاری کرنے کے عمل کو تیز کریں۔ انہوں نے چیف میڈیکل آفیسر کو ہدایت دی کہ وہ آیوشمان بھارت اسکیم سے متعلق تمام ضروری رسمی کارروائیوں کو فوری طور پر مکمل کریں تاکہ اہل استفادہ کنندگان کے بروقت، معیاری اور مفت علاج کو یقینی بنایا جا سکے۔راشن کارڈس پر یونٹس کی تعداد بڑھانے کے سلسلے میں موصول ہونے والی درخواستوں کے بارے میں ضلع مجسٹریٹ نے ضلع سپلائی افسر کو اہلیت کی بنیاد پر ضروری کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔
محکمہ ریونیو سے تعلق رکھنے والی سرکاری اراضی پر ناجائز تجاوزات کی شکایت موصول ہونے پر ضلع مجسٹریٹ نے فوری طور پر متعلقہ عہدیداروں اور اسٹیشن ہاؤس آفیسر کو انچارج نامزد کیا اور انہیں تجاوزات ہٹانے کے لیے کارروائی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ حکومت کی منشا کے مطابق ہر شکایت کو غیر جانبدارانہ، شفاف اور مستقل طور پر حل کیا جانا چاہیے۔عہدیداروں کو شکایات کے حل میں رسمی کارروائیوں سے گریز کرنا چاہئے۔
اور اگر ضروری ہو تو ذاتی طور پر سائٹ کا دورہ کریں اور سائٹ پر تحقیقات کریں۔ شکایت کنندہ سے رائے لینے کے بعد ہی مقدمات کو حل کیا جانا چاہیے۔پولیس سپرنٹنڈنٹ نے ہدایت کی کہ محکمہ ریونیو اور پولیس کی مشترکہ ٹیم زمین کے تنازعات، خواتین کو ہراساں کرنے، ناجائز تجاوزات اور امن و امان سے متعلق شکایات پر فوری اور موثر کارروائی کو یقینی بنائے۔اسی طرح تحصیل شاہ بادمیں چیف ڈویلپمنٹ آفیسر گلاب چندر کی صدارت میں سمپورن سمادھان دیوس کا انعقاد کیا گیا جس میں 11 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 02 کا موقع پر ہی ازالہ کیا گیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (فنانس اینڈ ریونیو) آنند کمار سنگھ کی صدارت میں تحصیل ملک میں ایک سمپورن سمدھن دیوس کا انعقاد کیا گیا، جہاں 27 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 6 کا موقع پر ہی ازالہ کیا گیا۔ تحصیل ٹانڈہ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ایڈمنسٹریشن) ڈاکٹر نتن مدن کی صدارت میں سمپورن سمادھان دیوس کا انعقاد کیا گیا جس میں 19 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 04 شکایات کا موقع پر ہی ازالہ کیا گیا۔مزید تحصیل سوار میں سب ڈویژنل مجسٹریٹ سوار کی صدارت میں سمپورن سمادھان دیوس کا انعقاد کیا گیا جس میں 05 شکایات موصول ہوئیں اور 01 شکایت کا موقع پر ہی ازالہ کیا گیا۔ تحصیل بلاس پور میں سب ڈویژنل مجسٹریٹ بلاس پور کی صدارت میں سمپورن سمادھان دیوس کا انعقاد کیا گیا جس میں کل 14 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 02 شکایات کا موقع پر ہی ازالہ کیا گیا۔
uttar pradesh
ڈا کٹر یونس غازی ؔکے قطعات مرقع نگاری کا اعلیٰ نمو نہ :پروفیسر فاروق بخشی
uttar pradesh
سہارنپور پہنچاجمعیۃ علماء ہند کا وفد
دیوبند:سہارنپور کی تاریخی کلکٹریٹ مسجد کے اندوہناک انہدام کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال پر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی بہت فکر مند ہیں۔ ان کی خصوصی ہدایت پر گزشتہ روز جمعیۃ علماء اتر پردیش کے صوبائی وفد نے دورہ کیا تھا۔ آج جمعیۃ علماء ہند کا اعلیٰ سطحی مرکزی وفد ناظم عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں سہارنپور پہنچا اور مسجد کے معاملے میں قانونی اور سماجی صورتِ حال کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔
مرکزی وفد نے اہلِ شہر، مقدمے سے وابستہ قانونی ماہرین، بااثر سیاسی شخصیات اور جمعیۃ علماء کے مقامی ذمہ داران سے تفصیلی ملاقات کی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر سنجیدہ مشاورت کی۔ وفد نے سابق رکن پارلیمنٹ حاجی فضل الرحمن، موجودہ رکن پارلیمنٹ عمران مسعود، اراضی سے وابستہ مرحوم یعقوب خان کے پوتے فیروز خان، شاہ ہارون خان، ایڈوکیٹ نوشاد اور مقدمے کے فریق ایڈوکیٹ تنویر وغیرہ سے خصوصی تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام قانونی دستاویزات اور شواہد یکجا کر لیے گئے ہیں، جنہیں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی خدمت میں پیش کیا جائے گا اور ان کی رہنمائی و مشورے سے اگلا قدم اٹھایا جائے گا۔
انہوں نے گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسجد کے انہدام کا طریقہ کار اور کارروائی میں دکھائی گئی غیر معمولی عجلت اہلِ شہر اور انصاف پسند حلقوں کے لیے سخت بے چینی کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ فریق کو اپنے دفاع اور آئینی حقوق کے استعمال کا موقع دیے بغیر یکایک بلڈوزر چلا دیا جائے یہ قابل قبول نہیں ہوسکتا۔
عدالت سے رجوع کا حق محض کوئی رسمی رعایت نہیں بلکہ دستورِ ہند کی روح اور آئینی انصاف کا بنیادی تقاضا ہے؛ کسی بھی انتظامی کارروائی کو اس انداز میں انجام نہیں دیا جانا چاہیے کہ متاثرہ فریق کے لیے اعلیٰ عدالت سے رجوع کا راستہ ہی عملاً بند ہو کر رہ جائے۔مولانا حکیم الدین قاسمی نے ملک میں قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور عبادت گاہوں سمیت ہر شہری کے حقوق کا تحفظ جمہوری نظام کی اولین ذمہ داری ہے۔سہارنپور کے اس دورے میں مرکزی وفد کی سربراہی ناظمِ عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے کی۔
، جب کہ ہمراہ وفد مولانا محمد قاسم نوری صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی، مولانا علی حسن مظاہری صدر جمعیۃ علماء ہریانہ، پنجاب و ہماچل پردیش، مولانا عظیم اللہ صدیقی سکریٹری ، مولانا محمد یوسف قاسمی اور حافظ ابوبکر ابن مولانا حکیم الدین قاسمی شریک تھے۔ اس موقع پر جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور کے ذمہ داران بھی شانہ بشانہ رہے، جن میں مولانا گلفام مظاہری ضلع صدر، مولانا سرتاج احمد قاسمی جنرل سکریٹری، مولانا شمشیر قاسمی نائب صدر، مولانا اطہر حقانی صدر شہر، مولانا فرید مظاہری کنوینر سدبھاونا منچ، مولانا حارث، قاری شوقین الحسنی، مولانا عبداللہ شاہ، مولانا عبدالعلیم اور مولانا الطاف رشیدی سمیت کثیر تعداد میں مقامی عمائدین و اراکین موجود تھے۔
uttar pradesh
سہارنپور مسجد معاملہ: کانگریس اورایس پی لیڈران نظربند
دیوبند:سہارنپور کلکٹریٹ احاطہ میں واقع مسجد کو شہید کئے جانے کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔مسجد مسماری کا یہ معاملہ اب پورے ملک میں موضوع بحث بنا ہوا ہے ۔اسی درمیان سماجوادی پارٹی اور کانگریس پارٹی کے وفود کے سہارنپور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے دونوں پارٹیوں کے کئی لیڈران کو ان کے گھروں میں نظر بند کردیا ہے ۔
لیڈران کے گھروں کے باہر پولیس فورس تعینات کردی گئی ہے ۔اور انہیں اپنے گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔پولیس وانتظامیہ کی اس کارروائی سے سماجوادی پارٹی اور کانگریس پارٹی کے لیڈران میں سخت ناراضگی ہے ۔واضح ہوکہ مسجد مسماری سے متعلق سیاسی پارٹیوں کے وفد سہارنپور پہنچکر متاثرہ افراد اور مقامی لیڈران سے ملاقات کرنا چاہتے تھے سماجوادی پارٹی کا 22؍ رکنی وفد سہارنپور کے کمشنر ڈاکٹر روپیش کمار سے ملاقات کے لئے جانے والا تھا لیکن انتظامیہ نے ان تمام لیڈران وعہدیداران کو رات کے کسی وقت نظر بند کردیا ۔پارٹی لیڈران نے پولیس وانتظامیہ کے اس اقدام کو جمہوریت کا قتل بتاتے ہوئے سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ کارروائی آئین کے خلاف ہے ۔
بتادیں کہ سماجوادی پارٹی کے قائد اکھلیش یادو کی ہدایت پر مجوزہ وفد کو پیر کے روز کمشنر ڈاکٹر روپیش کمار سے ملاقات کرنی تھی ۔اس سلسلہ میں کمشنر کو تحریر ی طور پر مطلع کیا گیا تھا ۔اس وفد میں لال بہاری یادو ،سماجوادی پارٹی کے ضلع صدر چودھری عبدالواحد ،شہر صدر حاجی نواب انصاری ء،ممبر پارلیمنٹ ہریندر ملک ،ایم پی اقراء حسن ،صوبائی جنرل سکریٹری ،چودھری رودرسین ،سابق ایم پی حاجی فضل الرحمن ،ایم ایل اے آشو ملک ،عمر علی خان ،اتل پردھان ،رام اورتار سینی ،ایم ایل سی کرن پال کشیپ ،سابق ایم ایل اے معاویہ علی ،سماجوادی پچھڑے طبقہ سیل کے قومی صدر راہل بھارتی ،سابق وزیر مملکت مانگے رام کشیپ ،سابق وزیر ونود تیجان ،صوبائی مجلس عاملہ کے رکن فیصل سلمانی ،سماجوادی لیڈر شایان مسعود ،میئر ابھیشیک ٹنکواروڑہ ،مظفر نگر کے ضلع صدر ضیا چودھری ،سماجوادی پارٹی اقلیتی سیل کے ضلع صدر اسامہ گاڑا اور اسمبلی حلقہ کے صدر کاشف علوی شامل تھے لیکن وفد کے سہارنپور پہنچنے سے قبل ہی متعدد لیڈران کو ان کے گھروں میں نظر بند کردیا گیا ۔آشو ملک نے کہا کہ ہم رکنے والے نہیں ہیں ،قانون کے دائرہ میں رہ کر لڑائی لڑیں گے اور اپنے اعتراف وشکایات درج کرائیں گے ۔مظفر نگر کے ایم پی ہریندر ملک نے کہا کہ حکومت وانتظامیہ کی تاناشاہی نہیں چلنے دی جائیگی ۔انہوںنے کہا کہ چند لوگ ہی کسی طرح یہاں تک پہنچ پائے ہیں جس میں ایم پی اقراء حسن بھی شامل ہیں انہوں نے کہا کہ وہ کمشنر سے ملاقات کرکے میمورنڈم دیں گے ۔
-
بہار10 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
