Connect with us

uttar pradesh

جیتنے کی صلاحیت رکھنے والے امیدواروں کوہی دی جائے گی ترجیح ،بی جے پی صدر نتن نبین کی سابق ریاستی صدور اور این ڈی اے کے اتحادی رہنماؤں سے ملاقات، اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کا لیا جائزہ

Published

on

(پی این این)
لکھنؤ: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نبین نے اتوار کے روز اپنے دورہِ اتر پردیش کے دوران پارٹی کے سابق صوبائی صدور اور نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی حلیف جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ الگ الگ میٹنگیں کیں اور آنے والے اسمبلی انتخابات کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔
آج صبح منعقدہ میٹنگ میں مسٹر نوین نے بی جے پی کے سابق صوبائی صدور سے ملاقات کی اور تنظیمی تجربات، تنظیمی مضبوطی اور سال 2027 کے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں پر تفصیلی غور و خوض کیا۔ میٹنگ میں سینئر لیڈروں نے اپنے تجربات شیئر کیے، جن پر قومی صدر نے سنجیدگی سے گفتگو کی۔
اس کے بعد مسٹر نتن نبین نے این ڈی اے کی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ کی۔ اس اہم میٹنگ میں راشٹریہ لوک دل سے ترلوک تیاگی، نشان پارٹی سے سنجے نشان، سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس بی ایس پی) سے اوم پرکاش راج بھر اور اپنا دل (ایس) سے آشیش پٹیل شامل ہوئے۔
میٹنگ کے دوران اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں، جنہیں قومی صدر نے غور سے سنا۔ ذرائع کے مطابق، مسٹر نتن نبین نے واضح کیا کہ سال 2027 کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی اور اتحاد کی جانب سے صرف جیتنے کی صلاحیت رکھنے والے امیدواروں کو ہی ترجیح دی جائے گی۔
بی جے پی قیادت کا ماننا ہے کہ 2027 کے انتخابات کے پیش نظر تنظیم کو بوتھ کی سطح تک مزید مضبوط کیا جائے گا اور این ڈی اے کی تمام اتحادی جماعتوں کے ساتھ بہتر تال میل قائم کر کے انتخابی حکمت عملی کو حتمی شکل دی جائے گی۔ قابل ذکر ہے کہ قومی صدر کا یہ دورہ اسی وسیع انتخابی تیاری کا ایک اہم حصہ مانا جا رہا ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

uttar pradesh

ہاشمی کالج آف لاء، امروہہ میں طلبہ کے لیے الوداعی تقریب کا اہتمام، طلبہ و طالبات نے اپنی رنگا رنگ ثقافتی اور ادبی پرکارکردگی سے جیت لئے عوام کے دل

Published

on

(پی این این)
امروہہ:حکیم مہتاب الدین ہاشمی کالج آف لاء، امروہہ میں ایل ایل بی اور بی اے ایل ایل بی کے آخری سال کے طلبہ کے لیے ایک الوداعی پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔ طلباء نے اپنی رنگا رنگ ثقافتی اور ادبی پرفارمنس سے سب کے دل موہ لیے۔ الوداعی تقریب نے جہاں اپنے ہم جماعتوں اور اساتذہ سے جذباتی جدائی کا اظہار کیا، وہیں ان کے چہروں سے مستقبل میں نئی راہوں پر آگے بڑھنےکا جوش بھی جھلک رہا تھا۔
تقریب کے مہمان خصوصی کپل کمار چکارا ایڈوکیٹ صدر بار ایسوسی ایشن امروہہ تھے جبکہ ارشد بھارتی ایڈوکیٹ سیکرٹری بار ایسوسی ایشن امروہہ نے بطور مہمان زی وقار شرکت کی۔ سراج الدین ہاشمی، منیجر، ہاشمی لاء کالج، امروہہ، اور برہان الدین ہاشمی، منیجنگ ڈائریکٹر، ہاشمی لاء کالج، امروہہ بھی موجود تھے طالب علم معصوم سیفی نے خوبصورت نظم پیش کی جبکہ لوینہ نے شاعری کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ زویا کی غزل کو بھی سامعین نے خوب پسند کیا اور ان کی شاندار پرفارمنس نے پروگرام کی رونق میں اضافہ کیا۔ طلباء کی پرفارمنس کو آڈیٹوریم میں موجود اساتذہ، مہمانوں اور ساتھی طلباء نے خوب سراہا۔
الوداعی تقریب میں طلبہ نے ’’یادوں کے دریچے سے‘‘ کے موضوع پر جذباتی تقریر کی۔ اس نے اپنے کالج کے سالوں کی یادیں، اپنے اساتذہ کی رہنمائی، اور اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ گزارے لمحات شیئر کیے۔ اس کی جذباتی کارکردگی نے ایک گہرا جذباتی ماحول لایا، اور بہت سے طلباء اپنے کالج کے دنوں کی یادوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مہمان ذی وقارارشد بھارتی ایڈوکیٹ سکریٹری،ضلع بار ایسوسی ایشن، امروہہ نے آخری سال کے طلباء کے روشن مستقبل کی خواہش کی۔ انہوں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ مسلسل محنت، لگن اور ایمانداری کے ساتھ اپنے کیریئر کو آگے بڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کا شعبہ ذمہ داری اورسماجی خدمت سےوابستہ ہےاس لیے طلباء اپنے علم اور ہنر کو معاشرے اور نظام عدل کو مضبوط بنانےکےلیےاستعمال کریں۔
مہمان خصوصی کپل کمار چکارا ایڈوکیٹ صدر ضلع بار ایسوسی ایشن امروہہ نے بھی طلباء سے خطاب کیا اور ان کے روشن مستقبل کی خواہش کی۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد طلباء کے پاس بہت سے مواقع ہوتے ہیں لیکن کامیابی کے لیے مسلسل مطالعہ،محنت، نظم و ضبط اور اپنےمقاصدکےلیےلگن کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نےطلباء کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں ایمانداری اور محنت کو ترجیح دیں۔
ہاشمی لاء کالج امروہہ کے منیجر ڈاکٹر سراج الدین ہاشمی نے پروگرام کے کامیاب انعقاد پر تمام مہمانوں، اساتذہ اور طلباء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خصوصی طور پر مہمان خصوصی کپل کمار چکارا ایڈوکیٹ اور مہمان ذی وقار ارشد بھارتی ایڈوکیٹ کا شکریہ ادا کیا اور طلباء کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ کالج کے لیے فخر کی بات ہے کہ یہاں پر تعلیم حاصل کرنے والے طلباء قانون کے میدان میں بہترین کارکردگی دکھانے کی تیاری کر رہے ہیں مجھےامید ہےکہ یہ طلبا ہمیشہ حق اورانصاف کےلیےکوشاں رہکرہمیں بھی سرخرو کریں گیں انہوں نےطلباء کواس بات کی ترغیب دی کہ وہ اپنےاساتذہ سےسیکھےگئےعلم اوراقدارکواپنائیں اوراپنےادارےکی شان میں اضافہ کریں۔
الوداعی پارٹی کے دوران آخری سال کے طلباء نے اپنے تجربات اور کالج میں اپنے وقت کی یادیں شیئر کیں۔ بہت سے طلباء نے کہا کہ کالج میں ان کا وقت ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ رہے گا۔ ان کے اساتذہ کی رہنمائی، دوستوں کے ساتھ گزارے گئے لمحات اور مختلف علمی و ثقافتی سرگرمیوں کی یادیں ہمیشہ ان کےساتھ رہیں گی۔تقریب میں طلباء کی پیشکش اور جذباتی تقاریرنےواضح کیا کہ یہ تقریب محض الوداعی نہیں بلکہ طلباء کے لیے ایک نئی زندگی اور پیشہ ورانہ سفر کے آغاز کی علامت بھی ہے۔کالج کی فیکلٹی اور سٹاف نے تقریب کے انعقاد میں نمایاں کردار ادا کیا۔ برہان چڈھا اور نبیہہ نے تقریب کی نظامت کی۔ دانش، زید، واریشہ، ہرشیتا، بلوا اور منتاشا نے بھی ایونٹ کی کامیابی میں اہم کردارادا کیا۔ کالج کے استاد شہزاد صدیقی نے اس پورے پروگرام کےلیےسرپرست کے طور پر خدمات انجام دیں اوراس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا برہان الدین ہاشمی، منیجنگ ڈائریکٹر،ہاشمی لاء کالج، امروہہ نے سبھی کا شکریہ ادا کیا اس موقع پرکالج کی پرنسپل ڈاکٹررانا پروین،اساتذہ ڈاکٹرمحمد طارق، محمد افتخار علی، ڈاکٹر محمد ہارون، فرحت منصوری اورڈاکٹرمحمد طارق خان سمیت کالج کےدیگراساتذہ اورعملہ موجود رہا ۔

 

Continue Reading

uttar pradesh

کسانوں، نوجوانوں اور گنے کے مسائل پرجینت چودھری نے اپوزیشن کو گھیرا

Published

on

(پی این این)
دیوبند:راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کی جانب سے جمعرات کو رام پور منیہاران علاقے میں واقع گوچر کرشی انٹر کالج کے میدان میں ’سوامیمان ریلی‘ کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی میں پارٹی کے قومی صدر اور مرکزی وزیر جینت چودھری اپنی اہلیہ چارو چودھری اور بیٹی سائرہ کے ہمراہ پہنچے۔ ان کے پہنچتے ہی کارکنوں میں زبردست جوش و خروش دیکھنے کو ملا اور حامیوں نے نعرے لگا کر ان کا پْرجوش استقبال کیا۔
ریلی کے مقام پر تقریباً 7 سے 8 ہزار افراد کی بھیڑ موجود رہی، جبکہ آس پاس کے اضلاع سے بھی کارکنوں اور حامیوں کے پہنچنے کا سلسلہ جاری رہا۔ شدید گرمی اور تیز دھوپ کے پیش نظر منتظمین کی جانب سے رالی کے مقام پر بڑا پنڈال لگایا گیا تھا، جسے مکمل طور پر ڈھانپ دیا گیا تھا۔ گرمی سے راحت کے لیے پنڈال میں مسٹ فین بھی لگائے گئے تھے۔اپنے خطاب میں جینت چودھری نے نوجوانوں، کسانوں اور گنے سے متعلق مختلف مسائل پر تفصیلی گفتگو کی اور اپوزیشن کو بھی کئی معاملات پر نشانہ بنایا۔ انہوں نے نوجوانوں سے مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کسی کو اپنا دشمن نہیں بنانا چاہیے۔جینت چودھری نے ہریانہ کے سابق فوجی اور شوریہ چکر یافتہ جے سنگھ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی کا اصول تھا کہ ان کے قول، عمل یا کسی بھی کام سے کسی کو تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران پاکستان کے کئی ٹینک تباہ کرنے والے اس بہادر فوجی کی یہ سوچ انہیں بہت متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ان کی زندگی سے مثبت سوچ اور دوسروں کے احترام کا سبق حاصل کریں۔جینت چودھری نے کہا کہ اگر آنے والی نسل کے نوجوانوں کو زراعت میں خاطر خواہ ترقی کے امکانات نظر نہیں آتے تو ان میں اسٹارٹ اپ شروع کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔ نوجوانوں کے ہاتھ میں ہنر اور اچھی تعلیم ہونا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر کی حیثیت سے ان کی کوشش ہے کہ نوجوانوں کے لیے روزگار اور ترقی کے نئے راستے کھولے جائیں۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے نوجوانوں کو زراعت کے ساتھ نئے شعبوں سے جوڑنا ہوگا۔ جینت چودھری کے مطابق گزشتہ سال ملک میں ڈی پی آئی ٹی کے تحت رجسٹرڈ تقریباً 55 ہزار نئے اسٹارٹ اپ شروع ہوئے۔
انہوں نے ریلی میں موجود کاروباری افراد اور صنعت کاروں کو پلیٹ فارم فراہم کرنے کی کوشش کا بھی ذکر کیا۔گنے کے مسئلے پر اپوزیشن کو گھیرتے ہوئے جینت چودھری نے کہا کہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے کئی مرتبہ ایسی باتیں کہی جاتی ہیں جن سے اضافی ووٹ حاصل کیے جاسکیں، لیکن گنے کے مسئلے پر بات کرنے کے لیے اپوزیشن تیار نہیں ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ شاید انہیں اب بھی رس گلا نظر آرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر اپوزیشن کو خط لکھیں گے اور اگر اتفاقِ رائے پیدا ہوا تو لکھنؤ میں رس گلے کا پیکٹ بھی بھیجیں گے۔ جینت چودھری نے واضح کیا کہ پیداوار کرنے والے کسان کے مفادات کی قیمت پر صارف کو بہانہ نہیں بنایا جاسکتا۔
کسانوں کے مفادات کو محفوظ رکھتے ہوئے ایک متوازن پالیسی بنانا ضروری ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا ذکر کرتے ہوئے جینت چودھری نے کہا کہ یوگی آدتیہ ناتھ نظام کے خلاف کھڑے ہونے والوں کے لیے سخت ہیں، لیکن کسانوں کے لیے ان کا دل نرم ہے۔ جینت چودھری کے سہارنپور دورے اور سوامی مان ریلی میں بڑی تعداد میں کارکنوں کی شرکت کو مغربی اترپردیش میں آر ایل ڈی کی سیاسی سرگرمیوں کے اعتبار سے اہم قرار دیا جارہا ہے۔ ریلی میں کسانوں، نوجوانوں اور زرعی مسائل کے ساتھ ساتھ روزگار، صنعت اور کھیل سے متعلق امکانات کو بھی سیاسی ایجنڈے کا حصہ بنایا گیا۔

Continue Reading

uttar pradesh

بچوں کی تعلیم اور تربیت میں اردو اور اردو کے اخبار کا اہم کردار :پروفیسر صغیر افراہیم

Published

on

میرٹھ:بچہ اگر گھر کے ماحول میں ہے تو اس کے ماحول کو خوشگوار کرنے میں اردو کا اہم رول ہے۔ گھر کا ماحول اگراردو کا بن جائے تو یہ ایک تہذیب کو بڑھاوادینا ہوگا۔ اردو کا اخبار منگانا بھی ضروری ہے۔ بچوں کی تعلیم اور تربیت میں اردو اور اردو کے اخبار کا اہم کردار ہوتا ہے۔ والدین بھی اردو کے لیے مایوس نہیں ہو تے۔ وہ بھی اسکول کے پرنسپل سے آکر نہیں کہتے کہ ہمارا بچہ اردو میں کمزور کیوں ہے۔ اسکول والوں پر بھی ہم اعتراض نہیں کرسکتے۔ وہ اردو کے لیے جتنا کررہے ہیں ٹھیک ہے۔ کیو نکہ اگر ہم سنجیدہ نہیں ہیں تو اسکول والوں کو بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بچوں کے والدین اردو کے لیے فکر مند نہیں ہوتے۔ ہمارے بچے مسجد میں قرآن کا ترجمہ، انگریزی میں پڑھتے ہیں مگر اردو میں انہیں دلچسپی نہیں ہے۔ ہمیں قوم کے درد کو محسوس کرنا ہوگا۔ ملک کی آزادی سے قبل بے شمار اردو میڈیم اسکول تھے مگر اب غا ئب ہیں۔یہ الفاظ تھے معروف ادیب و ناقد پروفیسر صغیر افراہیم کے جو شعبہئ اردو اور ایوسا کے اشتراک سے منعقد پروگرام بعنوان”اردو کی پرائمری تعلیم: صورت حال اور امکانات“ میں اپنی صدارتی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغاز سعید احمد سہارنپوری نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔پروگرام کی سرپرستی معروف ناقد و افسانہ نگار اور صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی اور صدارت کے فرائض معروف ادیب وناقدپروفیسر صغیر افراہیم نے انجام دیے۔ مہمان خصوصی کے بطور محمد طیب] پرنسپل جے ایس جونئر ہائی اسکول، غازی پور[اورمہمان اعزازی کے بطورمرزا منہاج الدین، وسیم احمد، محمد عمران اور جاوید علی ]اسسٹنٹ ٹیچر[نے شر کت فرمائی۔ مقرر کے بطور ایو ساکی صدر پروفیسر ریشما پروین بھی موجود رہیں۔استقبالیہ کلمات سیدہ مریم الٰہی، نظامت عرفان عارف]جموں [ اور شکریے کی رسم ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے ادا کی۔
ایو ساکے سیکریٹری ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے کہا کہ اردو کی پرائمری تعلیم آج کا ایک اہم موضوع ہے جو عصر حاضر میں،مدرسوں، اسکولوں اور زبان کی ترقی سے جڑا ہوا ہے۔پرا ئمری سطح پر اردو تعلیم کے سامنے آج بہت سے مسائل اور میلانات ہیں۔ان مسائل کے ساتھ بہت سی تبدیلیاں بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں۔بہت سے مسائل جیسے اردو اساتذہ کی کمی، جدید اردو کی پرائمری کتب کا نہ ہونا، روزگار سے اردو کا جُڑا نہ ہونا وغیرہ ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ کچھ سہولیات بھی ہیں مثلاً خوبصورت ڈیزائن اور تصاویر کے ساتھ اردو کی پرائمری کتب منظر عام پر آ رہی ہے۔ ذاتی مدارس اور اسکولوں میں دینی تعلیم اور اردو زبان کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری نے موضوع کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ آج کے پروگرام کا موضوع بڑا اہم اور منفرد ہے۔ تعلیم کا بنیادی کام پرا ئمری کے اساتذہ کرتے ہیں۔ میری خود کی ابتدا پرائمری اسکول سے ہوئی۔ میں نے پرائمری ادارہ میں 150 روپے کی تنخواہ پر خود کام کیا ہے۔ ہم اعلیٰ تعلیم والوں کا پرائمری تعلیم والوں سے کوئی رابطہ نہیں ہے جو ایک بڑی کمی ہے۔ اردو کے درخت کی جڑے سینچنا ہوں تو پرائمری تعلیم پر زور دینا ہوگا۔ آج بہت سے مسائل ہیں جو اردو کے فروغ میں رکا وٹ بنے ہوئے ہیں۔ آج کل اردو میں اعلیٰ تعلیم والے کم ہیں۔ اردو زبان کا مقصد دلوں کو ملانا ہے۔ دیگر زبانوں کی طرح اردو بھی روز گار دیتی ہے۔سر کاری اورپرائیویٹ اسکولوں میں اردو کی بقا کے لیے ہم سب کو غور کرنا چاہئے۔
اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے محمد طیب نے کہا کہ اردو کی کمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اردو کا استاد ہونے کے باوجود اردو کا اخبار تک نہیں منگاتے اور نہ ہی اردو کی نشست و دیگر پروگراموں کا انعقاد کرتے ہیں۔ میں ایسے اردو اساتذہ سے درخوا ست کرتا ہوں جو اردو کی روزی روٹی سے جڑے ہوئے ہیں انہیں اردو سکھانا، پڑھا نا اور اردو کے فروغ کے لیے کام کرنا چاہئے۔وسیم احمد نے کہا کہ جو ہمارا نصاب ہے اس میں اردو کو خاص طور سے شامل کر کے اردو پڑھوانے کی کوشش کریں۔ ہماری درسی کتابیں آسانی سے مہیا نہیں ہوتیں۔اردو کو گھر گھر تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم اردو کی جگہ دوسری زبانیں پڑھاتے ہیں یا دوسرے کام کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں اردو نصاب کی بھی کمی ہے جس کو پورا کرنا ضروری ہے۔
مرزا منہاج الدین نے کہا کہ آج اردو کے بہت سے اساتذہ کی بھی اردو کمزور ہے۔ہم اردو کے نام پر نوکری کرتے ہیں لیکن ہم سے دوسرے کام لیے جاتے ہیں اور اردو ٹیچرس کا رجحان بھی اردو ٹیچنگ میں نہیں ہے اور نا ہی وہ قوم کے بچوں کے لیے فکر مند ہیں۔ اسکول کے ذمہ داروں کو بھی اردو کی پرائمری تعلیم سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ اس لیے اردو کے طلبہ آگے چل کر اردو مضمون چھوڑ دیتے ہیں اور دوسرے مضا مین کو فوقیت دینے لگتے ہیں۔ہمیں اس مرحلے پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنا ہوگا۔
پروفیسر ریشما پروین نے کہا کہ لکھنؤ کے بہت سے لوگ دوسرے ممالک میں ہیں جو اردو کی پرائمری تعلیم پر زور دے رہے ہیں اور اپنی زبان کو مضبوط کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ہم میں سے کچھ لوگ ابھی بھی ہیں جو اردو کے لیے خاصی قربانی دے سکتے ہیں۔ ہمارے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اردو کا فروغ کیسے ہو۔لکھنؤ میں اردو کے بہت سے پروگرام ہو تے رہتے ہیں اور اردو کے اساتذہ کی تنخواہ بھی خود دیتے ہیں۔پروگرام میں معروف شاعر سید بایاب الدین نایاب نے یوم اساتذہ کے تعلق سے ایک خو بصورت نظم پیش کی۔پروگرام سے ڈاکٹر ارشد اکرام،سعودی عرب،ڈاکٹر وصی اعظم انصاری، ڈاکٹرآصف علی، ڈاکٹرشاداب علیم ڈاکٹر الکا وششٹھ،محمد شمشاد اور دیگر طلبہ و طالبات جڑے رہے۔
Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network