محاسبہ
موقع جسے جدھر سے ملا وار کردیا
محسابہ:سید فیصل علی
کیاہندوستان میں جمہوریت کو ایک مخصوص فکرونظر رکھنے والوں نے یرغمال بنا لیا ہے۔ کیا ملک کا دیرینہ سنسکار واقدار فسطائی قوتوں کے نرغے میں ہے۔ کیا آر ایس ایس بی جے پی کے پارلیمنٹ میں مشن 360کے تحت ملک کو نیا پیرہن دینے کی تیاری ہے۔ کیا ان سب کے لئے ووٹوں کی کانٹ چھانٹ اور ایس آئی آر کو رول ہندوستانی جمہوریت کے لئے خطرہ بن گیا ہے۔ ایسے کئی سوال ہر سیکولر ذہن میں تشویش کی لہریں پیدا کررہی ہیں۔ خاص کر ایس آئی آرکا منظرنامہ ایک خوف پیدا کررہا ہے۔ ووٹ دینا ایک شہری کا بنیادی حق ہے۔ اگر ایک ہندوستانی شہری محض کاغذی خانہ پری کی کمی کی وجہ سے حق رائے دہی سے محروم ہوجائے تو پھر اسے ایک سانحہ عظیم ہی کہا جائے گا۔ ووٹر لسٹ سے محروم شخص کا ووٹنگ پاور کے بغیر ملک میں سکونت بھی ایک داغ سے کم نہیں ہے۔ جو اس کی حب الوطنی پر مسلسل ضرب پہنچا رہا ہے۔ سوال تو یہ ہے کیا حق رائے دہی سے محروم شخص ملک کی دوسری سہولیات سے محروم تو ہوسکتا ہے لیکن کیا وہ ایس آئی آر میں نام نہیں ہونے سے دوسرے درجے کا شہری بن کر رہنا گوارہ کرے گا۔ ووٹ کی طاقت سے ملک کی ترقی کو سمت ملتی ہے۔ ووٹ کی طاقت حکومت کو زیر زبر کرتی ہے مگر وہی شہری جب ووٹ کی قوت سے محروم ہوتا ہے تو پھر اس کی حب الوطنی بے بسی کے شکنجے میں نظر آتی ہے۔ یہ وہ المناک منظرنامہ ہے جو آج ووٹ سے محروم لاکھوں افراد جھیل رہے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخص جس کا نام ووٹر لسٹ سے غائب ہے کیا اسے ملک بدر ہونا چاہئے ، سوال تو یہ بھی ہے کہ آخر ایسے افراد جائیں گے کہاں جنھیں ایس آئی آر کا عمل نگل چکا ہے۔ حق رائے دہی یعنی ووٹ کا اختیار ایک مہذب شہری کو باوقار ہی نہیں بناتا بلکہ اسے ملک کی خدمت کا حصہ دار بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ملک میں وقتا فوقتا ووٹر لسٹ کی جانچ کی جانی چاہئے اس میں کانٹ چھانٹ ہونی چاہئے لیکن اس کانٹ چھانٹ کے تحت کسی کا ووٹ کا حق چھین لینا اور اسے دنیا کے سامنے بے وقعت قرار دینا ایک ایسا ظلم ہے جس کا کفارہ بھی ادا نہیں کیا جاسکتا۔
ایس آئی آر پر سوال ایک سال سے کھڑا ہوتا رہا ہے مگر اس کے جواب کے بجائے الیکشن کمیشن اپنی دھن میں لگا ہوا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ 19ریاستوں اور مرکزکے زیر انتظام ریاستوں میں بھی ایس آئی آر کا عمل جاری ہے۔ ایس آئی آر کے ذریعہ اب تک چھ کروڑ ووٹروں کے نام فہرست سے ہٹائے جاچکے ہیں۔ ایسے میں یہ اذیت ناک مرحلہ ہے کہ کیا واقعی اتنی بڑی تعداد میں لوگ ووٹ دینے کے اہل ہیں ہی نہیں۔ یعنی وہ ملک کے شہری ہی نہیں۔اتنی بڑی تعداد میں لوگ دستاویز نہیں حاصل کرنے کی وجہ سے اپنی ووٹ دینے کی اہلیت کو ثابت نہیں کرپائے۔ سب سے بڑا تشویش کا موضوع تو یہ ہے کہ جن لوگوں کے نام فہرست سے باہر کئے گئے ہیں ان کا مستقبل کیا ہوگا، کیا وہ ہندوستان میں رہنے کے حقدار ہیں۔ کیا ووٹنگ کے وہ حقدار ہیں۔ اگر نہیں ہیں تو ان کے دوسرے بنیادی حقوق کا کیا ہوگا۔ یہ سوال اس لئے بھی اذیت ناک ہے کہ مغربی بنگال اور بہار میں گزشتہ دنوں ہوئے اسمبلی انتخابات کے بعد جو منظرنامہ ابھرا ہے لاکھوں افراد ووٹ سے محروم کئے گئے ہیں اور اسی محرومیت کی وجہ سے نئی سرکار وجود میں آئی ہے ،خاص کر بنگال میں 27لاکھ ووٹرس کو ٹریبیونل میں بھی نہیں سنی گئی،کیا یہ نئی جمہوریت کا چہرہ ہے۔ مغربی بنگال اور بہار میں گزشتہ دنوں ہوئے اسمبلی انتخابات کے بعد یہ اجاگر ہوا کہ دونوں ریاستوں میں ترمیم شدہ ووٹر لسٹ کے اعدادوشمار کو اب سماجی سیکورٹی سے منسلک منصوبوں میں شامل کیا جائے گا۔ اس سے بھی یہ شک گہرا ہوجاتا ہے کہ ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے افراد اب سرکاری منصوبوں کی سہولت سے بھی محروم رہیں گے۔
غورطلب ہے کہ سب سے پہلے بہار میں گزشتہ سال اسمبلی انتخابات سے قبل ایس آئی آر کا عمل شروع ہوا تھا۔ اس پر بڑا شور شرابہ ہوا تھا، کہ اتنی جلد بازی میں ایسا کیوں کیا جارہا ہے۔ الیکشن سے ٹھیک قبل اس عمل کو شروع کرنا شک وشبہ پیدا کرتا ہے۔ اس کے بعد شہریت کے اسناد کولیکر بھی معاملہ ہنگامہ خیز رہا۔ ہنگاموں کا یہ سلسلہ صرف بہار تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ اترپردیش ہوتے ہوئے مغربی بنگال تک پہنچ گیا۔ بہار کے ایس آئی آر میں تقریبا 65لاکھ افراد ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے، دوسرے مرحلے میں اترپردیش ، مغربی بنگال، راجستھان، چھتیس گڑھ، تمل ناڈو، کیرلہ ، پڈوچیری ، انڈمان اور نکوبار کے علاوہ گجرات ، مدھیہ پردیش اور گوا میں بھی دس فیصد سے زائد افراد ووٹر لسٹ سے نکال باہر کئے گئے۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ ووٹردینے سے محروم ان افراد کو اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لئے آگے کیا موقع ملے گا۔ یا پھر وہ ہمیشہ کے لئے ووٹ دینے سے محروم ہوجائیں گے۔ ان کی شہریت بے وقعت ہوجائے گی۔ اس میں دو رائے نہیں ہے کہ ووٹر لسٹ کی وقتا فوقتا ترمیم ضروری ہے۔ جو مرچکے ہیں ان کا نام ہٹانا ضروری ہے۔ لیکن افسوسناک امر تو یہ ہے کہ آج بھی کچھ ریاستوں میں ایس آئی آر کا عمل پورا ہوا ہے اور تقریبا چھ کروڑ لوگ ووٹ دینے کی طاقت سے محروم ہوچکے ہیں۔ تو پھر ملک بھر میں ایسے لوگوں کی تعداد کتنی ہوگی ،اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ان کی شہریت برقرار رہے گی کہ نہیں رہے گی، کیونکہ کسی ملک کا شہری حق رائے دہی کا اختیار رکھتا ہے۔ کروڑوں افراد جو آج ووٹر لسٹ سے نکالے گیے ہیں ان کا مستقبل کیا ہوگا یہ ایک اذیت ناک سوال ہے۔ حالانکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت کا جو مخالف ہے ان کے نام ہی بڑے منصوبہ بند طریقے سے کاٹے گئے ہیں۔ ان کے ووٹ کو بے وقعت بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ بہرحال ایک محتاط اندازے کے مطابق ایس آئی آر سے ملک میں تقریبا دس کروڑ افراد کے ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونے کا خدشہ جتایا جارہا ہے۔بہرحال ووٹر لسٹ سے باہر کئے گئے لوگوں کی شہریت پر ایسی تلوار لٹکی ہے جو کسی وقت بھی ٹوٹ سکتی ہے۔ ایسے مظلوم افراد کا مستقبل اندھیرے میں ہے۔ ایسے میں یہ تعین کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ کہ انھیں پھر موقع ملنا چاہئے تاکہ کوئی معمولی دستاویز کی کمی کی وجہ سے ووٹر لسٹ سے خارج نہ ہو۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جمہوریت صحیح معنیٰ میں تبھی زندہ رہتی ہے جب وہاں کے شہریوں کے ووٹنگ کے حقوق محفوظ ہوں اور یہ شہری غیر جانبداری اور شفافیت سے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرسکیں۔ سیاست کے نئے کھیل سے کروڑوں افراد متاثر ہورہے ہیں۔ اس میں باشعور افراد کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان مظلوم افراد کی مدد کریں جو دستاویز مہیا نہیں کرنے کی وجہ سے یا کسی مجبوری کی وجہ سے ایس آئی آر سے ان کا نام غائب ہے،جو سیکڑوں سال سے ہندوستان کی دھرتی پر مقیم ہیں مگر بھگوا سیاست کا ایسا بول بالا ہے کہ حق بات کہنا بھی جرم بن گیا ہے اور باطل پر خموشی مجبوری بن گئی ہے۔ بقول نعمان شوق
جمہوریت کے بیچ پھنسا اقلیت کا دل
موقع جسے جدھر سے ملا وار کردیا
محاسبہ
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
محسابہ:سید فیصل علی
تقریبا100دنوں تک جنگی تباہ کاری مچانے کے بعد بالآخر امریکہ نے ہاتھ کھڑے کردیئے۔ 18جون کو ایران کی شرطوں پر ٹرمپ نے جنگ بندی معاہدہ کرلیا۔ حالانکہ اس معاہدہ کو سبوتاز کرنے کے لئے اسرائیل ہنوز لبنان پر بمباری کررہا ہے۔ جس کی دنیا مذمت کررہی ہے۔ ایران کی 14نکاتی شرطوں میں ایک اہم شرط یہ تھی کہ جب تک اسرائیل لبنان پر حملہ بند نہیں کرے گا یہ معاہدہ بے اثر رہے گا۔ چنانچہ ٹرمپ اسرائیل کی شہ زوری کو ختم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ مگر اسرائیل کی فتنہ گری جاری ہے۔ حالانکہ ٹرمپ نے بھی کھل کر اس بات کا اعتراف کرلیا ہے کہ ایران کو شکست دینا ممکن نہیں ہے۔ انھوں نے اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو کو حملہ روکنے کے لئے یہاں تک کہہ دیا کہ اسرائیل کا وجود امریکہ کے دم سے ہے۔ اگر امریکہ اسرائیل کے ساتھ نہیں رہے گا تو وہ دو گھنٹے بھی جنگ میں ٹک نہیں پائے گا۔ ٹرمپ کے اس اعتراف نے جہاں اسرائیل کی طاقت کی قلعی کھول دی ہے وہیں سو دنوں تک امریکہ سے برسرپیکار رہنے والے ایران کی طاقت بھی دنیا پر آشکار ہوچکی ہے۔اور ایک صفر پاور ایران نے ایک سپر پاور امریکہ پر سبقت لے کر دنیا کو حیران کردیا ہے۔ گرچہ ایران نے اس جنگ میں بہت کچھ گنوابھی دیا ہے۔اس کے بڑے بڑے لیڈر، کمانڈر، سیکڑوں بچوں سمیت ہزاروں لوگ وطن پر نچھاور ہوچکے ہیں، اور یہی قربانی ایران کی طاقت بن چکی ہے۔ عوام جب خود حکومت کے پشت پر کھڑے ہوں تو وہ ملک ہارنے کے باوجود دنیا میں سرخرو ہوتا ہے۔
ایران کی قوت کا ہی نتیجہ ہے کہ ٹرمپ نے جی 7کے پریس کانفرنس میں کھلے دل سے اعتراف کیا ہے کہ اگر ہم معاہدہ نہیں کرتے تو دنیا مزید اقتصادی مصیبت کا شکار ہوجاتی ۔ آبنائے ہرمز بند ہونے سے لاکھوں ڈالر یومیہ کا خسارہ ہورہا تھا، اس خسارے کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔ جو لگاتار لبنان پر حملہ کرکے ایران کو مشتعل کررہا ہے۔ تاریخ کا عجیب وغریب منظرنامہ ہے کہ چند ماہ قبل تک ایران دنیا میں ایک دہشت گرد ملک کے طور پر جانا جاتا تھا، اب وہی ایران مظلوم کے طور پر یاد کیا جارہا ہے۔ اور اسرائیل دنیا کے لئے خطرہ بنتا جارہا ہے۔ امریکہ کے نائب صدر کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایسا ملک بن گیا ہے جسے دنیا کا کوئی بھی ملک پسند نہیں کررہا ہے۔ اور یہ حقیقت بھی ہے کہ اسرائیل کے جنگی جنون سے دنیا کے ممالک اس سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ اور یہ بھی قدرت کا عجیب کرشمہ ہے کہ پہلی بار امریکہ نے اسرائیل کو اس کی طاقت کو آئینہ دکھا کر خود کو جنگ سے الگ کرلیا ہے۔ کیونکہ اسے احساس ہوچکا ہے کہ اس کی بمباری ایران کی میزائیلوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے ایران کو دبایا نہیں جاسکتا۔ اس کی میزائیلیں اسرائیل کو تباہ وبرباد کردیں گی۔ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹرمپ نے یہ جنگ بندی صرف اسرائیل کی بقا کے لئے کی ہے۔
ایران امریکہ ڈیل کے بعد مشرق وسطیٰ میں نئی صبح کا آغاز ہوچکا ہے دنیا سکون کی سانس لے رہی ہے۔ مگر اس جنگ نے دنیا کے آگے دنیا کے سپر پاور کی قلعی کھول دی ہے۔ ایران اور اسرائیل بمباری سے چور ایران کی جرأت کو سلام۔ کہ جس طرح اس نے ٹرمپ اور نتن یاہو کو میزائلوں سے جواب دیا ، کہ ٹرمپ کو اعتراف کرنا کہ اسرائیل امریکہ مل کر بھی ایران کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ انھوں نے یوروپین ممالک سے بھی مدد کی گہار لگائی۔ ناٹو ملکوں سے بھی ساتھ دینے کو کہا مگر ایران کی قوت اور ہمت کو دیکھتے ہوئے کسی نے ٹرمپ کا ساتھ نہیں دیا۔ اس جنگ میں صرف امریکہ کا نقصان ہورہا تھا جس سے امریکی عوام بھی برہم تھے۔ خاص بات تو یہ ہے کہ اس جنگ نے یہ بھی واضح کردیا کہ ایران جسے دنیا ملاؤں کا ملک کہتی تھی ، جہالت ، معاشی بدحالی کا مسکن کہا جارہا تھا، خواتین کی بے بسی کا ملک قرار دیا جارہا تھا، اور کہا جارہا تھا کہ وہ ملک ہے جہاں عورت قیدی کی طرح رہتی ہے ، لیکن اس جنگ نے ثابت کردیا کہ ایران تعلیمی ،ثقافتی اور فوجی اعتبار سے بہت آگے ہے۔ ایران دنیا میں خواتین کی تعلیم میں ساتویں نمبر پر پہنچ چکا ہے۔ سائنس کے میدان میں تو کمال کا منظرنامہ ہے۔ میزائل کا جو دھواں دھار استعمال ایران نے اس جنگ میں کیا ہے اس میں خواتین کا رول سب سے زیادہ اہم ہے۔ ایران کی سائنسدانوں خواتین کا شمار آج دنیا کی بہترین سائنسداں میں ہورہا ہے۔
علاوہ ایران کی قیادت اور فوجی طاقت کا اندازہ بھی دنیا نے لگا لیا کہ کس طرح اس نے سپر پاور کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا اورٹرمپ کو کہنا پڑا کہ اگر ہم جنگ بندی نہیں کرتے تو دنیا سنگین معاشی بدحالی کا شکارہوجاتی ۔ تیل کے ذخائر میں صرف 4ہفتے کا تیل رہ گیا تھا۔ لیکن اس جنگ کا محرک تو اسرائل تھا جو آج بھی اپنے جنون میں مبتلا ہے۔ حالانکہ ٹرمپ اس سے کہہ چکے ہیں کہ تم پاگل ہوچکے ہو، اگر میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے۔ تمہاری وجہ سے دنیا اسرائل سے نفرت کررہی ہے۔ اس جنگ میں کس کا زیادہ نقصان ہوا ، کس نے کیا کھویا ، کیا پایا ، ہم اس کے تجزئے میں نہیں جائیں گے۔ ہم صرف یہ کہیں گے کہ ایک صفر پاور کے آگے ، سپرپاور جس طرح سر نگوں ہوا وہ قدرت کا درس آمیز منظرنامہ ہے۔ ایران سب کچھ کھو کر بھی بہت کچھ حاصل کرچکا ہے۔ اس نے اپنی شرطوں پر جنگ بندی قبول کی ہے۔ امریکہ اب ایران کو 28لاکھ کروڑ کا ہرجانا دے گا۔آبنائے ہرمز 60دنوں تک فری رہے گا۔ اس کے بعد ایران گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کرے گا، گویا ایران کی معیشت کو رفتار دینے والی نئی راہ کھل چکی ہے۔ جس طرح یہ معاہدہ ہوا ہے اس میں ایران کی اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ فوجی ترقی کی بھی سربلندی ہوئی ہے۔
بہرحال 100دنوں کی اس جنگ میں ایران بہت کچھ گنوانے کے باوجود سرخرو ہے۔ جبکہ ٹرمپ اورنتن یاہو نے ہزاروں کروڑ گنوانے کے بعد کیا حاصل کیا ہے یہ فکر کا موضوع ہے۔ ایران نے وقار کی اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کو بے وقار کردیا ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ ایران جو ہندوستان کا قدیم ترین دوست رہا ہے،کشمیر کے سوال پر ہندوستان کا ہمنوا رہا ہے۔ اس تناظر میں پی ایم کی خاموشی سے کئی سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہادت اور سیکڑوں بچوں کی اموات کے باوجود پی ایم مودی کی خاموشی سے بہرحال سوال تو اٹھتاہی ہے کہ جس ٹرمپ سے دوستی کا دم مودی بھرتے ہیں وہ مسلسل ہندوستان کی تذلیل کررہا ہے اور خود ہمارے وزیر اعظم کا مضحکہ اڑا رہا ہے۔ ٹرمپ نے ہندپاک جنگ کے دوران سیز فائر کا اعلان کیا۔ مودی خاموش رہے۔
ٹرمپ نے ہندوستان کو جہنم کا دروازہ قرار دیا پھر بھی خاموش رہے۔ ٹرمپ نے روس ہند تعلقات پر انگلی اٹھائی پھر بھی خاموشی ۔ ٹیرف لگا کر تجارت کو کمزور کرنا چاہا پھر بھی خاموشی، جانے کتنی بار ٹرمپ نے ہندستان کی تذلیل کی یہاں تک کہہ دیا کہ ہم چاہیں تو مودی کا کیریئر برباد کردیں پھر بھی خاموشی،۔ اور حد تو تب ہوگئی جب امریکہ نے تین ہندوستانی جہاز رانوں کو ہلاک کردیا ، اس پر شرمندگی کے بجائے دھمکیاں دیتا رہا ، پھر بھی خاموشی ۔کاش ہمارے وزیر اعظم ایران سے درس لیتے جو زخموں سے چور چور ہونے کے باوجود امریکہ اسرائیل سے لوہالیتا رہا اور انھیں واپس لوٹنے پر مجبور کردیا۔ بقول شاعر
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
محاسبہ
بنے ہیں اہل ہوس، مدعی بھی منصف بھی
ملک کی جمہوریت کا چوتھا ستون میڈیا نے جس طرح اپنے فرائض اور حق گوئی سے منہ موڑا ہے اس سے ہندوستان کے اقدار اور سنسکار اور وکاس کا ایسا خسارہ ہوا ہے جس کی بھرپائی نہیں ہوسکتی، میڈیا جو کبھی ظالم کے خلاف اک صدائے احتجاج بن کر کھڑا ہوتا تھا جس کے دم سے سرکار بھی ہل جاتی تھی وہی میڈیا ظلم پر نہ صرف خموش ہے بلکہ ظالم قوتوں کا ہمنوا بن چکا ہے، سرکار سے سوال پوچھنے کے بجائے اس کی ہاں میں ہاں ملا رہا ہے نتیجہ یہ ہے کہ صرف میڈیا کی اس زہریلی روش سے ملک میں نفرت کی ایسی لہر چل پڑی ہے جو کب تھمے گی کچھ نہیں کہا جاسکتا، اور وقت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ایوان عدل جو کبھی انصاف کے مندر کہے جاتے تھے اب وہ بھی انصاف دینے میں تساہلی یا تاخیر سے کام لے رہے ہیں جس سے ظالم کا حوصلہ بڑ ھ رہا ہے۔ ملک میں ایک مخصوص طبقہ کے خلاف نفرت کی لہر بڑھتی ہی جارہی ہے عمر خالد ، شرجیل امام کو پانچ برسوں سے ضمانت عرضی التوا میں پڑی ہوئی ہے جس سے اقلیتی طبقہ میں ایک بددلی کا عالم ہے تو دہلی فساد میں زہریلی تقریر کرنے والے کپل شرما کو کلین چٹ دے دی گئی۔ یہ آج عدل وقانون کا عبرتناک منظرنامہ ہے حد تو یہ ہے کہ بے روزگاری سے پریشان نوجوانوں کو دلجوعی کے بجائے انھیں کاکروچ یا پیرا سائٹ سے تعبیر کرنے والی عدالت پر سے اب عوام کا اعتماد بھی متزلزل ہورہا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ راتوں رات ملک کے نئے ماحول کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کا وجود عمل میں آچکا ہے اور جس طرح دہلی میں جنتر منتر پر بے روزگار نوجوانوں اور طلبا نے صدائے احتجاج بلند کیا ہے وہ آنے والے دور میں حکومت وقت کے سامنے ایک چیلنج سے کم نہیں جس کے آگے میڈیا سے لیکر ملک کے آئینی ادارے بھی سرنگوں ہوچکے ہیں۔آج ملک کا دلسوز منظرنامہ یہ ہے کہ جس طرح گودی میڈیا ملک کی خبروں میں نفرت بھررہا ہے وکاس وترقی کے بجائے مذہبی جنون کا نقارہ بجارہا ہے تو دوسری طرف عدلیہ بھی حکومت کی جوابدہی طے کرنے اور فرقہ پرست قوتوں پر قدغن لگانے سے گریزاں ہے نتیجہ یہ ہے کہ ہندوستانی میڈیا دنیا میں 150ویں نمبر میں 145ویں نمبر پر ہے تو دوسری جانب ہندوستان کی عدلیہ پر بداعتمادی کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ دنوں لندن گئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ بلاشبہ سی جے آئی کی توہین ملک کی توہین کے مترادف ہے مگر سوال تو یہ ہے کہ ایسی نوبت کیوں آئی۔ سوال تو یہ ہے کہہ کیا عدل وقانون کے مندر بھی ایک مخصوص فکرونظر سے متاثر ہوچکا ہے ابھی گزشتہ دنوں پانچ نئے جج سپریم کورٹ میں لائے گئے ہیں مگر ان کی تقرری پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ اگر ان کے ماضی کو دیکھا جائے تو سبھی کسی نہ کسی طور پر حکومت وقت کے ہم نوا رہے ہیں کیا وہ سپریم کورٹ جاکر عدل وقانون کے سرپرست رہیں گے ، یہ بڑا سوال ہے۔
مگر ان تمام تر کشاکش کے باوجود امید کی کرنیں معدوم نہیں ہوئی ہیں عدلیہ کے بعض فیصلے آج بھی ہندوستانی اقدار وسنسکار کے تحفظ اور عدل وقانون کی برتری کی مثال بنے ہوئے ہیں اور آج کے عدالتی نظام پر بھی سوال کھڑا کررہے ہیں ، اسی سپریم کورٹ میں ایک جج نے UAPAقانون کو ملک کے وکاس کی راہ کے لئے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
گزشتہ دنوں مدراس ہائی کورٹ نے عدالتی نظام پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے جو فیصلہ دیا ہے وہ ایک نظیر ہے جس میں دس برسوں سے التوا میں پڑے ایک اہم مقدمے میں ڈی ایم کے کے ایک ہارے ہوئے امیدوار کے حق میں فیصلہ دیا ہے، ڈی ایم کے امیدوار جو صرف 151ووٹوں سے اے ڈی آئی ایم کے امیدوار سے ہار گیا تھا تب سے یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں تھا جو بعد مدراس ہائی کورٹ منتقل ہوگیا تھا جس میں یہ ثابت ہوگیا کہ الیکشن کمیشن کی وجہ سے ہارا ہوا امیدوار فاتح قرار دیا گیا ۔ حالانکہ جیتا ہوا امیدوار مدراس اسمبلی میں اپنی کارکردگی کی مدت بھی پوری کرچکا ہے اور اب پنشن بھی لے رہا ہے۔ عدالت نے تساہلی کے لئے نظام عدل کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اب حکم دیا ہے کہ ایم ایل اے فہرست میں ڈی ایم کے امیدوار کا نام درج کیا جائے اور ایک سابق ایم ایل اے کی جو سہولیات ہیں وہ دی جائیں اور آئی ڈی ایم کے سابق ممبر اسمبلی کا پنشن روک کر ڈی ایم کے امیدوار کو جاری کیا جائے۔
ادھر یوپی میں بلڈوزر کارروائی پر بھی سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کیا اور اسے عدل وقانون کے منافی قرار دیا۔ مگر ان تمام برہمی کے باوجود یوپی میں ایک خاص طبقہ کے خلاف فتنہ سازی اور بلڈوزر کارروائی کا دور دورہ ہے، مدرسے ، درگاہیں، قبرستان ، مساجد سب بلڈوزر کے نشانے پر ہیں۔ چنانچہ الہ آباد ہائی کورٹ نے سخت رویہ اپناتے ہوئے کہا کہ یہاں کی پولیس آئین اور جمہوریت کے تئیں وفادار نہیں ہے بلکہ سرکار کی وفادارہے۔ امن وشانتی کے نام پر بے گناہوں کو حراست میں لے رہی ہے۔
ابھی حال ہی میں الہ آباد ہائی کورٹ کا ایک ایسا تاریخی فیصلہ آیا ہے جس سے نہ صرف ہندوستانی جمہوریت اور مظلومین کی آنکھوں میں امید کی کرن پیدا کردی ہے بلکہ ایوان اقتدار وعدل وقانون کے آگے بھی سوال کھڑا کردیا ہے۔غورطلب ہے کہ پریاگ راج کے منصور احمد کو پولیس نے آٹھ دنوں تک غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا تھا اور پھر جب رہائی نہ ملی تو معاملہ ہائی کورٹ میں پہنچا تو عدالت نے امن وشانتی کے نام پر پولیس کے اس فرعونی حرکت پر زبردست پھٹکار لگائی ، اس نے کہا کہ کسی بھی جمہوریت ملک میں ایک شہری کی ذاتی آزادی سب سے اوپر ہوتی ہے ، منصور احمد کو 8دنوں تک غیر قانونی حراست میں رکھنا ایک سنگین جرم ہے عدالت نے اترپردیش سرکار کو 6ہفتے کے اندر دو لاکھ روپے مظلوم کو معاوضہ دینے کا حکم دیا ۔ عدالت نے معاوضہ کی یہ رقم ذمہ دار افسر کی تنخواہ سے کاٹے جانے کا حکم دیا ساتھ ہی ساتھ محکماتی کارروائی کا بھی حکم دیا ۔ عدالت کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک شخص کا نہیں بلکہ قانون، نظم ونسق اور ایک شہری کے اختیار اور ذمہ داری سے جڑا ہوا ہے ہندوستان کا آئین واضح طور پر کہتا ہے کہ کسی بھی شخص کو قانونی عمل کے بغیر اس کی آزادی کو ضرب نہیں پہنچایا جاسکتا ایک شہری کے بنیادی حقوق میں اس کی آزادی بھی شامل ہے ۔ ظاہر ہے کہ منصور احمد کو آٹھ دنوں تک جس طرح حراست میں رکھا گیا ، بے وجہ تکلیف پہنچائی گئی اسے عدالت نے قانون کے نام پر ایک ضرب قرار دیا۔ اور یہ بڑی بات ہے کہ عدالت نے اتنا سخت رویہ اختیار کیا اور پولیس محکمہ پر ہی کارروائی کا حکم دیا۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے اس تاریخی فیصلے نے بلاشبہ انصاف کا پرچم بلند کردیا ہے ، مگر سوال تو یہ بھی ہے کہ جس طبقہ کے ایک فرد کے خلاف یہ فیصلہ آیا ہے وہ طبقہ تو ایک دہائی سے معتوب زمانہ ہے، کیا منصور احمد کے معاملے میں عدالت کے فیصلے کا احترام کیا جائے گا ، کیونکہ ابھی گزشتہ ہفتے سنبھل میں نماز کو لیکر پولیس محکمہ نے اپنا فرعونی رویہ اختیار کرتے ہوئے سڑک پر نماز پڑھنے پر کارروائی کا اعلان کیا تھا جس پر ایک جج نے انتظامیہ اور پولیس کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگ جو نظم ونسق سنبھال نہیں سکتے انھیں مستعفی ہوجانا چاہئے۔ جج نے کہا تھا کہ سڑک پر نماز کی ادائیگی سے نظم ونسق کو کوئی خطرہ نہیں ہے، یہ پولیس کا کام ہے کہ وہ اسے سنبھالے مگر افسوس حق گوئی کی پاداش میں جج صاحب کا روسٹر ہی تبدیل کردیا گیا ، اب وہ دیوانی مقدمات دیکھ رہے ہیں ، بہرحال الہ آباد ہائی کورٹ کے جج کی جرأت کو سلام ، جنھوں نے عدل و انصاف کا پرچم سربلند رکھا اور اترپردیش کی پولیس محکمہ ودیگر ایجنسیوں کو بھی واضح پیغام دیا کہ شہریوں کے حقوق واختیارات کسی بھی طاقت ، کسی بھی حکومت سے بالا تر ہیں۔ بقول غالب
بنے ہیں اہل ہوس، مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں
محاسبہ
اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا
ملک ایسی خطرناک صورتحال سے دوچار ہے۔ اب لگتاہے کہ جمہوریت ، سیکولرزم اور قانون کا سرپرست سمجھے جانے والا عدلیہ بھی حکومت نوازوں کی فہرست میں شامل ہوچکا ہے۔ حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والے جو حکومت وقت کی نظر میں باغی ہیں وہ عدلیہ کی نگاہ میں بھی قابل تعزیر سمجھے جارہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ملک کے تمام آئینی ادارے اب حکومت کے مطیع وفرمانبردار ہوگئے ہیں۔ لیکن ستم تو یہ ہے کہ جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہی ایسی زبان استعمال کرنے لگے تو سمجھا جاسکتا ہے کہ ایسے دور میں انصاف مل سکے گا؟۔ کیا ایسے دور میں عدالت سے عدل کی توقع کی جاسکتی ہے؟۔
واضح ہو کہ گزشتہ دنوں ایک معاملے میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس قدر بھڑک گئے کہ انھوں نے اس ملک کے نوجوانوں کو کاکروچ سےتعبیر کردیا ۔ موصوف نے کہا کہ یہ بے روزگار نوجوان آگے چل کر میڈیا ، سوشل میڈیا اور آرٹی آئی کا رکن بن جاتے ہیں۔ پھر نظام پر حملہ کرنے لگتے ہیں۔ سماج میں ایسے پیراسائڈس موجود ہیں جو نظام پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس کا بے روزگار نوجوانوں پربڑااثر ہوااور اتنے تلخ تبصرہ کو نئی نسل نے ایسا دل پرلیا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کاکروچ جنتا پارٹی وجود میں آگئی۔ صرف پانچ دنوں کے اندر انسٹا گرام میں اس کے ایک کروڑ اسی لاکھ فالوورس ہوگئے۔ 4لاکھ سے زائد افراد اس پلیٹ فارم سے باقاعدہ منسلک ہوگئے۔ ان میں 70فیصد فالوورس 19سال سے لیکر 25سال کے درمیان ہیں۔ بے روزگار نوجوانوں پر کاکروچ کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعدجو ردعمل ہوا وہ کروڑوں فالووزکی ناراضگی کا ایک نیا منظرنامہ ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ چوٹالہ کی پارٹی کے ایم ایل اے ارون چوٹالہ اور مؤسے ایم ایل اے عباس انصاری نے باقاعدہ کاکروچ جنتا پارٹی سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ رویش کمار، ابھیسار شرما ، سوربھ شکلا اور اجیت انجم جیسے ایماندار صحافی بھی اب پوری طرح سے CTPکاسوشل میڈیا پلیٹ فارم کی حمایت کررہے ہیں۔ حالانکہ اس کے بانی ابھیجیت نے کہا ہے کہ ابھی ہم حالات کاجائزہ لے رہے ہیں کہ اسے پارٹی بنایا جاسکتا ہے یا نہیں کیونکہ جس طرح نوجوانوں نے ساتھ دیا ہے وہ یقینا ملک کے حالات سے متاثر ہونے کا ردعمل ہے۔ سوال تو یہ ہیکہ کیا عدلیہ بھی نئی نسل کی نظر میں اپنا اعتبار کھو چکی ہے۔ کہ اب اس کے تبصروں اور فیصلوں پر کھلے عام تنقید کی جارہی ہے۔ وقت کا یہ بھی بڑا المیہ ہے کہ سپریم کورٹ میں عمرخالد ، شرجیل امام جو برسوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں ان کی ضمانت نہیں ہورہی ہے۔ اور اس ضمانت پر خود سپریم کورٹ نے خود اپنے ہی فیصلے پر تلخ تبصرہ کیاہے جو عدلیہ کی معتبریت اور کارکردگی پر سوال کھڑا کرتاہے۔
غورطلب ہے کہ 18مئی کو عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہیں دیئے جانے پر سپریم کورٹ نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ منشیات اور دہشت گردی معاملے میں اندرا بی کو تین رکنی بنچ نے ضمانت تو دے دی مگر دو رکنی بنچ نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے کے معاملے میں اس اصول پر عمل نہیں کیا۔ اپنے سخت تبصرے مین جسٹس ناگ رتنا اور جسٹس بھوئیاں کی بنچ نے شرجیل امام کو ضمانت نہ دینے والی دوسری بنچ کے فیصلے پر سخت اختلاف بھی کیا۔ جسٹس بھوئیاں نے کہا کہ چھوٹی بنچ بڑی بنچ کی وضع کردہ قانون کی پابند ہوتی ہے۔ مگر یہاں ایسا نہیں ہوا۔ سوال تو یہ ہے کہ کیا سپریم کورٹ بھی دو خانوں میں بنٹا ہوا ہے۔ ایک حکومت کے ابروئے ہدایت کا مطیع وفرمانبردار ہے تو دوسرا قانون کی تابعداری کا دعویٰ کررہا ہے۔
غورطلب ہے کہ آئین کی دفعہ 21ملک کے شہریوں کو ان کے سب سے اہم حقوق فراہم کرتا ہے۔ اور پروقار زندگی اور ذاتی آزادی کا بھی اختیار دے رہا ہے۔ اس کے تحفظ کے لئے سپریم کورٹ نے وقتافوقتا کئی اہم فیصلے کئے ہیں۔ مگر بعض معاملے ایسے ہورہے ہیں جن پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔ سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کے معاملے میں عدالتی کارروائی پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان دونوں پر الزام ہے کہ شہریت ترمیمی قانون یعنی سی اے اے اور این آر سی کے خلاف 2020میں دہلی میں ہوئے فساد کو بھڑکانے کی انہوںنے سازش کی تھی۔ اس سال جنوری میں سپریم کورٹ نے اسی فسا د معاملے میں پانچ ملزمین کو ضمانت تو دے دی لیکن عمر خالد اور شرجیل امام کی عرضی یہ کہتے ہوئے خارج کردی گئی کہ دونوں کا رول الگ الگ ہے۔ لیکن 18مئی کو سپریم کورٹ کے تلخ تبصرے سے خود عدل وقانون پر سوال کھڑا ہوگیا ہے۔
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے اس تبصرے کے باوجود دہلی کی ایک عدالت نے عمر خالد کی ضمانت عرضی پھر خارج کردی حالانکہ جسٹس ناگ رتنا اور جسٹس بھوئیاں کی بنچ نے جو تلخ تبصرہ کیا ہے وہ قانونی فکرونظر سے زیادہ آئین سے منسلک سوال ہے۔ آئین وقانون کی نظر میں ذاتی آزادی سب سے اوپر ہے۔ اور یواے پی اے جیسے سخت قانون اس پر حاوی نہیں ہوسکتے۔ بلاشبہ قومی سیکورٹی سے جڑے سنگین معاملات میں اضافی فکرونظر کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن آئین کے ذریعہ دیے گئے بنیادی حقوق کوبھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ آج ملک کی مختلف عدالتوں میں ساڑھے پانچ کروڑ سے زیادہ کیسزالتوا میں ہیں۔ خود سپریم کور ٹ میں 93ہزار سے زیادہ کیسز ہیں۔ایسے حالات میں 2021میں نجیب معاملے میں بے حد اہم فیصلہ ہوتا ہے کہ اگر مقدمہ حد درجہ تاخیر ہورہی ہیں۔اور ملزم طویل عرصے سے جیل میں ہے تو اسے ضمانت دی جاسکتی ہے۔ عمر خالد اور شرجیل امام کے معاملے میں سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ نجیب معاملے کا فیصلہ مثال ہے۔ اور اسے سپریم کورٹ کی بڑی بنچ میں ہی چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ بہرحال آج ملک عجیب وغریب بحران سے دو چار ہے۔ جن میں معیشت کی زبوں حالی کے ساتھ نوجوانوں میں بھی بے چینی پیداہورہی ہے ۔ ایسے میں کاکروچ جنتا پارٹی کا انسٹاگرام پر وجود میں آنا اور صرف پانچ دنوں میں کروڑوں کا فالوورس کا پہنچ جانا نئی نسل کی بے چینی کا اظہاریہ ہے۔ گرچہ اس پر حکومت کی جانب سے پابندی لگا دی گئی ہے۔ مگر اس کے باوجود کاکروچ جنتا پارٹی کی حمایت کا سلسلہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ کیا یہ حمایت کسی نئے انقلاب کا اشارہ ہے۔ بقول شاعر
مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا
اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار7 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر10 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
