Connect with us

Bihar

’ایک نامور عالم دین اور بے مثال خطیب تھےحضرت مولانا سید سلمان حسینی ’،امار ت شرعیہ میں منعقد تعزیتی نشست سے ناظم امارت شرعیہ ودیگر ذمہ دارن کا اظہار تعزیت

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف:افسوس کہ ملک کےایک عظیم اسلامی اسکالر اردو و عربی کے بے مثال خطیب ومقرر ادیب وانشاء پرداز اور درجنون کتابوں کے مصنف و محقق حضرت مولانا سید سلمان الحسینی ندوی صاحب ۲۹؍جون کی شب اس دار فانی سے رخصت ہوکر اپنے مالک حقیقی سے جاملے ،انا للہ وانا الیہ راجعون ‘‘ ۔
ان کے سانحہ ارتحال پر امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال کے امیر شریعت شریعت حضرت مولانا سید احمدولی فیصل رحمانی مدظلہ نے گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے اپنے تعزیتی پیغام میں فرمایا کہ اس قحط الرجال میں مولانا جیسے صاحب فہم وفراست عالم دین کا اٹھ جانا ایک بڑا علمی سانحہ ہے ،انہیں خانقاہ رحمانی مونگیر سے بے پناہ محبت وعقیدت تھی اور اس نسبت سے وہ یہاں برابر تشریف بھی لاتے تھے ،بلاشبہ ان کے وصال سے ایک بڑا خلا ء پید اہو ا ہے ۔
حضرت مولانا کے وصا ل پر امارت شرعیہ میں ایک تعزیتی نشست منعقد ہوئی جس میں ناظم امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے دلی رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ مولانا کا تعلق سادات حسینی کے ایک معزز علمی خانوادے سے تھا،یہ وہ خاندان ہے جس نے صدیوں علم دین کی شمع روشن کی ،اسی خانوادے کے آ پ چشم وچراغ تھے ،آپ کے اندر ملت کا درد تھا ،اسی لئے مسلمانوں کے دلوں پر دستک دیکر ان کے ایمانی جذبہ کو ابھارتے تھے ، آ پ کا امارت شرعیہ اور یہاں کے اکابر سے قلبی لگاؤ تھا ،اس تعلق کی بنیاد پر بھی یہاں اکثر تشریف لاتے تھے ،افسوس کے ایسے صاحب کردار عالم دین کا ہمارے درمیان سے اٹھا جانا ایک بڑا حادثہ ہے۔
امارت شرعیہ کے صدر قاضی شریعت مولانا مفتی محمد انظار عالم قاسمی صاحب نے کہا کہ مولانا کی شخصیت میں بڑی جامعیت تھی ،خاندانی شرافت وجاہت اور علم وفضل میں اپنی مثال آپ تھے ،اس شخصیت اور جامعیت کے لوگ جلد پید انہیں ہوتے۔
امارت شرعیہ کے نائب ناظم مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نے کہا کہ مولانا حق وصداقت کے علمبردار اور صاف گوئی وبیباکی میں عدیم المثال تھے ،مجھے ان کے ساتھ عرصہ تک کام کرنے کا موقع ملا ،اس درمیان میں نے محسوس کیا کہ ان کے اندر خرد نوازی تھی ،ان کے اندر کاموں کوانجام دینےاور دوسروںسےکا م لینے کا ملکہ تھا ،بہارمیں انجمن شباب الاسلام کے پلیٹ فارم سے متعدد اصلاحی پروگرام ہوئے اوراس حقیر سے یہ خدمت لیا کرتے تھے ،مولانا میر ے بڑے محسن بھی تھے جس کی بہت سی یادیں سینے میں محفوظ ہیں۔
امارت شرعیہ کے نائب ناظم مولانا مفتی محمد سہر اب ندوی نے کہا کہ مولانا میرے شفیق استاذ تھے میں نے ان سے متعدد کتابیں پڑھیں ،ان کے پڑھانے کا انداز نہایت ہی عمدہ تھا،اللہ تعالیٰ نے مولانا کو زبان وبیان میں بے پناہ ملکہ عطاء فرمایا تھا جس سے امت کو فائدہ پہونچتا تھا،مولانا مفتی احتکام الحق صاحب قائم مقام مفتی امارت شرعیہ نے کہا کہ مولانا کی اردو و عربی تقریروں میں روانی بھی ہوتی اور برجستگی بھی ،قرآنی آیات سے باتوں کو مدلل فرماتے جس سے سامعین پرخوشگوار اثرات پڑتے ،مولانا سہیل اختر قاسمی نائب قاضی شریعت امارت شرعیہ نے کہا کہ مولانا اردو اور عربی دونوں زبانوں پر یکساں قدرت رکھتے تھے جس سے ان کی زبان دانی کا اندازہ ہوتا ہے ،مولانا احمدحسین صاحب مدنی نے کہا کہ مولانا سے چند ملاقاتیں رہی ہیں جس سے اندازہ ہوا کہ مولانا کے دل کے اندر ملت کا درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہو ا تھا ،مولانا رضوان احمد ندوی صاحب معاون ناظم امارت شرعیہ نے کہا کہ مولانا میر ے ایک شفیق مربی اور رہنماتھے ،وہ بہت ہی اچھوتے انداز میں درس دیا کرتے تھے ،جس سے طلبہ طمانینت محسوس کرتے،انہوں نے یہ بھی کہا کہ مولانا دراصل تحریکی مزاج رکھنے والے عالم دین تھے ،انجمن شباب الاسلام اور مدرسہ سید احمد شہید ملیح آباد کے قیام کا مقصد مسلمانوں کی اسلامی انداز میں تربیت دیانا تھا ، مولانا قمر انیس قاسمی صاحب معاون ناظم امارت شرعیہ نے کہا کہ مولانا ایک بڑے عالم دین ایک بڑے خطیب اورنا مور محقق تھے ،نششت کا آغاز مولانا اسعداللہ قاسمی صاحب کی تلا وت کلام پاک سے ہوا ،مولانا محمد انظار عالم قاسمی صاحب صدر قاضی شریعت کی دعاپر یہ مجلس اختتام پذیر ہوئی،اس نششت میں جناب احسان الحق صاحب ،جناب عرفان الحسن صاحب ،مولانا مجیب الرحمن قاسمی صاحب ،جناب محمد امتیاز صاحب ،مولانا محمد صابر حسین قاسمی صاحب ،مولانا مفتی محمد عقیل اختر قاسمی صاحب ،مولانا ارشد رحمانی صاحب ،مولانا منت اللہ حید ری صاحب ،مولانا مجاہد الاسلام قاسمی صاحب ،مولانا محمد شارق رحمانی صاحب ،مولانا مجاہد الاسلام مظاہری صاحب ،ایڈووکیٹ ہارون رشید صاحب ،جناب خبیب احمد صاحب ،مولانا محمد شہنواز عالم مظاہری صاحب ،مولانا خالد سیف اللہ قاسمی صاحب وغیرھم نے شرکت کی ۔

Bihar

بہار شریف کی ترقی اور عوامی فلاح کے امور پرمناصدیقی نے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے کی ملاقات

Published

on

(پی این این)
بہار شریف:پٹنہ میں واقع 7، سرکلر روڈ پر منا صدیقی نے معز سابق وزیر اعلیٰ و راجیہ سبھا رکن جناب نتیش کمار جی سے خلوص پر مبنی شائستگی ملاقات کر کے ان سے برکت اور رہنمائی حاصل کی۔
اس موقع پر بہار شریف کی مجموعی ترقی، علاقے کے بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی، تعلیم، صحت اور عوامی فلاح سے جڑے مختلف اہم موضوعات پر تفصیل سے گفتگو ہوئی۔منا صدیقی نے کہا کہ جناب نتیش کمار کی قیادت میں بہار نے سُشاسن، سماجی انصاف، سڑک، پل، تعلیم، صحت، خواتین کی بااختیاری اور بنیادی ترقی کے شعبے میں تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
ان کی قیادت میں بدلا ہوا بہار آج پورے ملک میں ترقی اور سُشاسن کی ایک مثال کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے بہار شریف کے ترقیاتی کاموں کو مزید رفتار دینے کی درخواست کی، جس پر جناب نتیش کمار نے مثبت خیالات کا اظہار کرتے ہوئے علاقے کی جامع ترقی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات کے دوران منا صدیقی نے جناب نتیش کمار کی بہترین صحت اور طویل عمر کی دعا کرتے ہوئے ان کی رہنمائی میں بہار کی مسلسل ترقی کی امید ظاہر کی۔اس موقع پر محمد جمیل شاہ، ریاض الحق، سید ذاکر حسین، مصباح الحسن، اقبال خان عرف مالا اور سید ابو زیا بھی موجود تھے۔

 

 

Continue Reading

Bihar

’ جدید طبی سہولیات کی توسیع بہار حکومت کی اولین ترجیح‘،سمستی پور میں جدید ترین’اسمریتی آئی وی ایف اینڈ فرٹیلٹی سینٹر‘کا افتتاح، بے اولاد جوڑوں کو مقامی سطح پر ماہرین کے ذریعے فراہم ہوگی جدید علاج کی سہولت

Published

on

(پی این این)
سیتامڑھی:سمستی پور کے شعبۂ صحت کے لیے اتوار کا دن ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔ موہن پور روڈ واقع اسمریتی آئی وی ایف اینڈ فرٹیلٹی سینٹر کا شاندار افتتاح بہار کے نائب وزیر اعلیٰ وجے کمار چودھری نے فیتہ کاٹ کر اور چراغ روشن کرکے کیا۔اس موقع پر نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جدید طبی سہولیات کی توسیع بہار حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور ریاست میں معیاری طبی خدمات کی دستیابی کے باعث لوگوں کو علاج کے لیے بڑے شہروں کا رخ کرنے کی ضرورت مسلسل کم ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں نجی اداروں کی مثبت شراکت ریاست کے طبی نظام کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔ حکومت کا مقصد یہ ہے کہ جدید طبی سہولیات ضلع اور سب ڈویژن کی سطح تک پہنچائی جائیں تاکہ عام شہریوں کو بروقت اور معیاری علاج میسر آ سکے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سینٹر کے آغاز سے نہ صرف سمستی پور بلکہ پورے شمالی بہار کے بے اولاد جوڑوں کو آئی وی ایف اور فرٹیلٹی سے متعلق جدید ترین طبی خدمات اپنے ہی علاقے میں دستیاب ہوں گی۔
انہوں نے ادارے کی ڈائریکٹر ڈاکٹر اسمریتی سپرش کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ماں باپ بننے کی خوشی ہر خاندان کا خواب ہوتی ہے، اور جدید ٹیکنالوجی و ماہر ڈاکٹروں کی خدمات کے ذریعے یہ ادارہ ان جوڑوں کی زندگی میں نئی امید پیدا کرے گا جو برسوں سے اولاد کی نعمت کے منتظر ہیں۔تقریب کے دوران مہمانوں نے سینٹر کی جدید لیبارٹریوں، اعلیٰ معیار کے طبی آلات اور ماہرین پر مشتمل طبی نظام کا معائنہ کیا اور اس کی بھرپور ستائش کی۔
مقررین نے کہا کہ اس ادارے کے قیام سے سمستی پور صحت کے شعبے میں نئی شناخت حاصل کرے گا اور اطراف کے اضلاع کے مریض بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
افتتاحی تقریب میں ایم ایل اے مہیشور ہزاری، آلوک کمار مہتا، اشومیدھ دیوی، راجیش کمار سنگھ، بیرندر کمار، رنوِجے ساہو، اجے کمار، راج کمار رائے، منجریک مرنال، ترون کمار، ضلع پریشد کی صدر خوشبو کماری اور سمستی پور کی میئر انیتا رام سمیت متعدد عوامی نمائندے شریک ہوئے۔ انتظامی افسران میں ضلع مجسٹریٹ روشن کشواہا، پولیس سپرنٹنڈنٹ اروند پرتاپ سنگھ، ڈپٹی ڈیولپمنٹ کمشنر سورج پرتاپ سنگھ اور سول سرجن ڈاکٹر راجیو کمار بھی موجود تھے۔ تمام مقررین نے اس ادارے کو ضلع کے صحتی ڈھانچے کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا۔
راجیو روشن اور ڈاکٹر اسمریتی سپرش نے نائب وزیر اعلیٰ سمیت تمام معزز مہمانوں کو گلدستے پیش کرکے ان کا خیر مقدم کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹروں، سماجی کارکنوں، دانشوروں، معزز شہریوں اور مقامی لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔اسمریتی آئی وی ایف اینڈ فرٹیلٹی سینٹر کے آغاز کے ساتھ ہی سمستی پور میں جدید تولیدی طب (IVF) کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔ اب شمالی بہار کے ہزاروں بے اولاد جوڑوں کو ماہرانہ مشورے اور جدید علاج کے لیے بڑے شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا، بلکہ انہیں اپنے ہی علاقے میں عالمی معیار کی طبی سہولیات میسر ہوں گی۔

Continue Reading

Bihar

دوسرے مہجور شمسی ایوارڈ کی تقریب کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
ڈالٹن گنج:ڈالٹن گنج کی مشہور ادبی تنظیم ادارۂ فکر و ادب کے زیر اہتمام شہر کے ہوٹل ریلیکس اِن کے وسیع ہال میں حضرت مہجور شمسی ایوارڈ‌ کی تقریب منعقد ہوئ۔ جس میں 2026 میں میٹرک اور انٹر کے امتیازی نمبرات سے کامیابہونے والے طلبا و طالبات کے درمیان ایوارڈ و سند تقسیم کیا گیا۔ اس تقریب کی صدارت ڈاکٹر مظفر بلخی نے کی جب کہ نقابت کا فریضہ ایڈوکیٹ منور الزماں خاں نے انجام دیا۔اس موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سےشہر کے سماجی کارکن گیان چند پانڈے،سابق فوجی دامودر مشرا، شہر قاضی و امام مدینہ مسجد سیدالشاہ رضی احمد،‌ ڈاکٹر ارشد جمال اور ڈاکٹر مسرور احمد خاں کو گلدستہ دے کر ان کا پر تپاک استقبال کیا گیا۔
بعد ازاں تقریب کا باضاطہ آغاز مفتی محمد رضوان احمد کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔اس کے بعد نسیم احمد مسٹر نے تقریب منعقد کرنے کے غرض وغایت پر روشنی ڈالی۔ سکریٹری ارشد قمر نے مہجور شمسی کی شخصیت اور فن پر مختصر خاکہ پیش کیا۔ارشد جمال گڈو نے اس پروگرام کے اسپانسر ونود مدن سنہا کا پیغام پڑھا جوآج کے طلبا و طالبات کے نام تھا۔ بعد ازاں نسیم ریاضی اور عدنان کاشف نے مہجور شمسی کا کلام پیش کیا۔
اس پر وقار تقریب کے موقع پر 2026میں شہر کے مختلف اسکولوں سے پاس ہونے والے میٹرک اور انٹر کے تینوں فیکلٹی میں سب سے زیادہ نمبر لانے والے تین تین طلبا و طالبات کو مومنٹو اور توصیفی سند ،جب کہ باقی دیگر طلبا و طالبات کومیڈل اور سند دے کر حوصلہ افزائ کی گئ۔ دونوں کٹیگری میں مجموعی طور پر 62 طلباو طالبات نے شرکت کی۔ ان میں عبدالحسین لقب(میٹرک)،ہارون رشید انصاری(انٹر سائنس)، محمد مبشر عالم(انٹر کامرس)اور عارفہ فردوس (انٹر آرٹس) نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔
پروگرام کے درمیان میں مہمان اعزازی نے بھی اپنی اپنی بات کہی۔ڈاکٹر ارشد جمال نے کہاکہ ہمیں بے حد خوشی ہے کہ اب اس نوعیت کے پروگرام شہر میں منعقد ہو رہے ہیں جو بچوں میں نئ فکر اور نیا حوصلہ بخشے گا۔ رضی احمد نے کہا کہ مجھے اس شہر میں اس قسم کی تقریب میں شامل ہونے کا پہلا موقع ہے میں ان کے بہتر مستقبل کی تمنا کرتا ہوں ۔ دامودر مشرا نے اپنی بات میں کہا کہ میں بھی ان کے بہتر کل کی کامنا کرتا ہوں ۔یہ ان کا پہلا پڑاؤ ہے انہیں بہت دور جانا ہے۔میں اس جگہ آ کر بہت خوشی محسوس کر رہا ہوں ۔ گیان چند پانڈے نے بھی حوصلہ اور استقامت کی بات کی۔تقریب کے صدر مظفر بلخی نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ مہجور شمسی کے نام سے یہ پروگرام شروع کر ایک کامیاب پیش رفت کی گئ ہے۔میں چاہتا ہوں کہ یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے۔
اخیر میں نوشاد خاں کے اظہار تشکر کے ساتھ تقریب کا اختتام ہوا۔ اس تقریب کے موقع پر عمائدین شہر کے علاوہ معزز شخصیات ،کالج اسکول کے اساتذہ اور دانشور حضرات شریک تھے۔ جن حضرات نے تقریب کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں پیش پیش رہے ان میں ادارہ فکر و ادب کے عہد داران و اراکین میں ارشد قمر، ارشد جمال، منورالزماں، اصغر امام، نوشاد خاں، عدنان کاشف نسیم احمد مسٹر کا اہم رول رہا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network