اتر پردیش
ای رجسٹری اور دفاتر کی منتقلی کے خلاف دستاویز نویسوں کا احتجاج
(پی این این)
دیوبند:سہارنپور میں ای رجسٹری نظام کے نفاذ اور صدر دوم و صدر سوم رجسٹری دفاتر کو فتح پور جٹ منتقل کیے جانے کے خلاف دستاویز نویس سنگھ (ڈاکومنٹ رائٹرز ایسوسی ایشن) کا احتجاج تیسرے روز بھی جاری رہا۔ احتجاج کے باعث رجسٹری محکمہ میں تالہ بندی برقرار رہی اور تمام رجسٹری کے کام مکمل طور پر بند رہے۔
جس سے رجسٹری کرانے کے لیے آنے والے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں مایوس ہو کر واپس لوٹنا پڑا۔ ایسوسی ایشن کے صدر لقمان احمد کی قیادت میں جاری دھرنے میں تنظیمی عہدیداران اور بڑی تعداد میں دستاویز نویس شریک ہوئے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ای رجسٹری نظام کے نفاذ سے برسوں سے اس شعبے سے وابستہ دستاویز نویسوں کا روزگار خطرے میں پڑ جائے گا اور سیکڑوں خاندانوں کی معاش متاثر ہوگی۔ناحتجاجی شرکاء نے صدر دوم اور صدر سوم رجسٹری دفاتر کو فتح پور جٹ منتقل کرنے کی بھی مخالفت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے عام شہریوں کو آمدورفت میں غیر ضروری دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام رجسٹری دفاتر کو کلکٹریٹ احاطے میں ہی چلایا جائے، جہاں عمارت کی تعمیر اور دفاتر کے قیام کے لیے مناسب جگہ دستیاب ہے۔ دستاویز نویس لکشمی پانڈے نے اپنے بیان میں کہا کہ رجسٹری دفاتر کی منتقلی اور ای رجسٹری نظام سے نہ صرف دستاویز نویس متاثر ہوں گے بلکہ عام شہریوں کو بھی متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو فیصلہ نافذ کرنے سے قبل زمینی حقائق اور عوامی سہولت کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ ایسوسی ایشن کے صدر لقمان احمد نے کہا کہ دستاویز نویس کئی دہائیوں سے عوام اور رجسٹری محکمہ کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ رہے ہیں۔ اگر ای رجسٹری نظام کو موجودہ شکل میں نافذ کیا گیا تو سینکڑوں افراد بے روزگار ہو جائیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ضلع کوآرڈینیٹر راکیش کمار سینی نے کہا کہ رجسٹری کے کام بند ہونے سے گزشتہ تین روز کے دوران کروڑوں روپے کے کاروباری لین دین متاثر ہوئے ہیں۔
اگر دفاتر کی منتقلی اور موجودہ پالیسی پر نظر ثانی نہ کی گئی تو آنے والے دنوں میں نقصان مزید بڑھ سکتا ہے، جس کا اثر عوام اور سرکاری محصولات دونوں پر پڑے گا۔ دھرنے میں جنرل سکریٹری نواب سنگھ چوہان، نائب صدر چودھری اْوپیندر سنگھ، خزانچی اشوک، ضلع کوآرڈینیٹر راکیش کمار سینی، ضلع صدر پرمود کمار سین سمیت بڑی تعداد میں دستاویز نویس موجود رہے۔ ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے، احتجاج اور تالہ بندی کا سلسلہ جاری رہے گا۔
اتر پردیش
ڈاکٹر شگوفہ انگریزی ادب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے سرفراز ،علمی حلقوں میں خوشی کی لہر
آگرہ:ڈاکٹر شگوفہ کو ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر یونیورسٹی (DBRAU)، آگرہ کی جانب سے انگریزی ادب کے شعبے میں فلسفۂ ڈاکٹری (Ph.D.) کی سند تفویض کی گئ ۔ ان کی تحقیق کا عنوان تھا: “خالد حسینی کے ناولوں میں انسانی تعلقات: صدمہ خیز حالات کا ایک جائزہ”۔ یہ تحقیق شعبۂ انگریزی، بی۔ڈی۔کے۔ایم۔وی کی پروفیسر ڈاکٹر پونم رانی گپتا کی نگرانی میں مکمل ہوئی۔ڈاکٹر شگوفہ نے کئی سالوں کی محنت، لگن اور علمی کاوشوں کے بعد اپنی تحقیق کامیابی کے ساتھ مکمل کی۔ انہوں نے اپنی نگراں پروفیسر ڈاکٹر پونم رانی گپتا کا خصوصی شکریہ ادا کیا جن کی قیمتی رہنمائی، حوصلہ افزائی اور مسلسل تعاون اس تحقیقی سفر میں ان کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوا۔پی۔ایچ۔ڈی مکمل کرنا ڈاکٹر شگوفہ کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا کیونکہ وہ ازدواجی زندگی اور مادری ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اپنی تحقیق بھی جاری رکھے ہوئے تھیں۔ گھریلو ذمہ داریوں، بچے کی پرورش اور تعلیمی مصروفیات کے درمیان توازن قائم رکھنا آسان نہ تھا، لیکن انہوں نے ثابت قدمی، عزم اور مسلسل محنت کے ذریعے اپنے خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔ اپنی کامیابی کا سہرا انہوں نے اپنے والدین کو دیا اور ان کا خصوصی شکریہ ادا کیا، بالخصوص اپنی والدہ کا، جنہوں نے تحقیق اور تعلیمی کام کے دوران ان کے بیٹے کی دیکھ بھال کی۔ انہوں نے اپنے والد کا بھی شکریہ ادا کیا جن کی دعائیں اور حوصلہ افزائی ہمیشہ ان کے ساتھ رہی۔ ڈاکٹر شگوفہ نے اپنے شوہر کے تعاون اور سمجھ بوجھ کو بھی سراہا، جس کی مدد سے وہ اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ اس موقعے پر سبھی نے ان کو مبارک باد پیش کی – انہوں نے اپنے بیٹے کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے پورے سفر میں مسلسل حوصلہ اور تحریک کا ذریعہ رہا ہے ۔ڈاکٹر شگوفہ نے اپنی پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری اپنی والدہ کے نام منسوب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کامیابی ان کے والدہ کی قربانیوں، محبت اور غیر متزلزل حمایت کے بغیر ممکن نہ تھی۔“میری ہر کامیابی کے پیچھے میری والدہ کا ہاتھ ہے، جن کی محبت اور قربانیوں نے اس خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔”اس موقعے پر سبھی دوست احباب کے ساتھ قریش برادری کے لوگوں نے ان کو مبارک باد دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لئے دعائیں دی –
اتر پردیش
اے ایم یو کے مختلف شعبوں اور اداروں میں بین الاقوامی یوم یوگ کی مناسبت سے یوگ تقریبات کا اہتمام
(پی این این)
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مختلف شعبوں، مراکز، اسکولوں اور اقامتی ہالوں میں بین الاقوامی یومِ یوگ 2026 کی مناسبت سے یوگ تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ جے این میڈیکل کالج کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن نے پروفیسر عظمیٰ ارم کی صدارت میں دیہی صحت تربیتی مرکز، جواںمیں یوگ پروگرام منعقد کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد یاسر زبیر نے جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت کے فروغ میں یوگ کے کردار پر روشنی ڈالی، جبکہ محمد دانش نے مختلف آسنوں، پرانیام اور دیگر آسنوں کا عملی مظاہرہ کیا ۔ پروگرام میں سینئر ریزیڈنٹس، پوسٹ گریجویٹ طلبہ، انٹرنز، ایم ایس ڈبلیو کے طلبہ اور عملے کے اراکین شامل ہوئے۔
فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کے شعبہ نسواں و قبالت نے ’’زچگی سے متعلق طبّی خدمات میں یوگ کا انضمام: ایک نگہداشت ماڈل ‘‘ کے موضوع پر خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا۔ پروفیسر سید طارق مرتضیٰ نے اپنے خطاب میں ماؤوں کی صحت، خصوصاً دورانِ حمل اور بعد از زچگی یوگ کے فوائد بیان کیے۔ شعبہ فزیکل ایجوکیشن کے پوسٹ گریجویٹ اسکالر اوصاف احمد نے یوگ کے مختلف آسنوں کا عملی مظاہرہ پیش کیا۔ صدر شعبہ پروفیسر صبوحی مصطفیٰ نے خواتین کی صحت کی نگہداشت میں شواہد پر مبنی تکمیلی طریق ہائے علاج کی اہمیت بیان کی۔
شعبہ سنسکرت نے طلبہ کی زندگی میں یوگ کی افادیت موضوع پر ہندی میں مضمون نویسی مقابلہ منعقد کیا۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے صدر شعبہ پروفیسر ساریکا وارشنے نے انسانی زندگی میں یوگ کی اہمیت اور طلبہ کے لیے اس کی افادیت کو اجاگر کیا۔ مقابلے میں مختلف شعبوں کے 28 طلبہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر ظفر افتخار، ڈاکٹر کرشن گوپال اور ڈاکٹر عائشہ صدیقہ بھی موجود تھے۔سید حامد سینئر سیکنڈری اسکول (بوائز) میں یوگ کے فوائد سے متعلق بیداری پیدا کرنے کے لیے ایک یوگ سیشن، ’’قدیم بنیادوں سے عالمی تحریک تک‘‘ موضوع پر مضمون نویسی مقابلہ اور ایک کوئز مقابلہ منعقد کیا گیا۔ قائم مقام پرنسپل مسٹر صباح الدین نے صحت مند ذہن اور تناؤ سے پاک زندگی کی تشکیل میں یوگ کی اہمیت پر زور دیا۔ ڈاکٹر نوشاد نجیب، مسز زینب اے وسیم اور مسز عائشہ عمران نے پروگراموں کو مربوط کیا۔
آر ایم پی ایس اے ایم یو سٹی اسکول کے طلبہ نے شعبہ فزیکل ایجوکیشن کی جانب سے ’’صحت مند بڑھاپے کے لیے یوگ‘‘ موضوع پر منعقدہ پوسٹر پرزنٹیشن مقابلے میں حصہ لیا۔ اسکول کی نمائندگی کرتے ہوئے دانش، لکی کشیپ اور محمد صفوان نے تخلیقی پوسٹروں کے ذریعے صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ میں یوگ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ پرنسپل ڈاکٹر محمد فیاض الدین نے طلبہ کی کاوشوں اور اسپورٹس ٹیچر سید شاہ رخ حسین کی رہنمائی کو سراہا۔بیگم سلطان جہاں ہال میں یوگ بیداری ورکشاپ منعقد کی گئی۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے نان ریزیڈنٹ اسپورٹس وارڈن سید شاہ رخ حسین نے جسمانی تندرستی، ذہنی یکسوئی، جذباتی خوش حالی اور تناؤ کے بندوبست میں یوگ کے فوائد بیان کیے۔
انہوں نے محمد رہبر کے تعاون سے مختلف یوگ آسنوں اور سانس کی مشقوں کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔ ورکشاپ میں وارڈن، عملے کے ارکان، ان کے اہل خانہ اور طلبہ نے شرکت کی۔ آخر میں نان ریزیڈنٹ وارڈن ڈاکٹر افشاں ناز نے شکریہ کی تجویز پیش کی۔
وقار الملک ہال میں اجتماعی یوگ مظاہرے اور عملی مشق کا اہتمام کیا گیا۔ یہ سیشن ڈاکٹر نوشاد نجیب نے امیت کمار کے تعاون سے منعقد کیا۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پرووسٹ پروفیسر نوشاد علی پی ایم نے صحت مند بڑھاپے اور مجموعی صحت کے فروغ میں یوگ کے کردار پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر ڈاکٹر فیضان احمد، ڈاکٹر عسکر حسین، ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن، منظور احمد اور طلبہ و عملے کے اراکین موجود رہے۔
uttar pradesh
ایس بی آئی کسانوں کو قرض سے متعلق اسکیموں کے بارے میں معلومات دی
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار7 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
دلی این سی آر10 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
