Connect with us

دیش

جموں و کشمیر کے حقوق اور شناخت کو بحال کرےمرکز : شیو سینا

Published

on

سری نگر:شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) نے وادی کشمیر سے مرکزی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگ اب محض یقین دہانیوں سے مطمئن نہیں رہیں گے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ نئی دہلی کو اپنی پالیسی اور ارادے دونوں کو واضح طور پر بیان کرنا چاہیے اور خطے کے آئینی اور جمہوری حقوق کو مزید تاخیر کے بغیر بحال کرنا چاہیے۔
پارٹی کے تین روزہ کشمیر دورے کے دوسرے دن سری نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، شیو سینا (یو بی ٹی) جموں و کشمیر یونٹ کے صدر منیش ساہنی نے کہا، “عوام اور دہلی کے درمیان فاصلے کو کم کرنا چاہیے، اور جموں و کشمیر کو اپنا مکمل وقار اور حقوق دوبارہ حاصل کرنا چاہیے۔”انہوں نے جموں و کشمیر کو فوری طور پر مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا اور جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے پر زور دیا۔ ساہنی نے کہا کہ منتخب حکومت کے اختیارات کو کم کرنا جمہوریت کی روح کے خلاف ہے اور عوام کی آواز کو کمزور کرتا ہے۔ساہنی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر کو آئینی تحفظ کے فریم ورک کے تحت لایا جائے جیسا کہ کئی شمال مشرقی اور سرحدی ریاستوں کو آرٹیکل 371 کے تحت دیے گئے تحفظات کی طرح ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شمال مشرقی اور دیگر سرحدی ریاستوں کو ان کے منفرد جغرافیائی اور سماجی حالات کو دیکھتے ہوئے خصوصی تحفظات دیئے جا سکتے ہیں، تو جموں و کشمیر ایک سرحدی خطہ ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف سنگین چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔ منصفانہ نقطہ نظر.انہوں نے مزید کہا کہ مقامی باشندوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط آئینی اور انتظامی ڈھانچہ ضروری ہے، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ مقامی نوجوانوں کا زمین، وسائل اور روزگار کے مواقع پر پہلا حق ہو۔ساہنی نے مرکز پر لیفٹیننٹ گورنر سسٹم کے ذریعے فیصلہ سازی کو مرکزی بنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کے جمہوری مینڈیٹ کے خلاف ہے۔ انہوں نے حکومت ہند پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے ایک واضح اور وقتی روڈ میپ جاری کرے۔
بحالی کا کام ہاؤسنگ کالونیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیےکشمیری پنڈتوں کی واپسی کے معاملے پر پارٹی نے کہا کہ بحالی کا عمل صرف ہاؤسنگ کالونیوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ شیو سینا (یو بی ٹی) نے برقرار رکھا کہ بے گھر کشمیری پنڈت خاندانوں کی وادی میں واپسی کے لیے سلامتی، وقار اور سماجی قبولیت کو یقینی بنانا چاہیے، جس سے وہ اپنے اصل سماجی اور ثقافتی ماحول سے دوبارہ رابطہ قائم کر سکیں۔—شیو سینا (یو بی ٹی) کی توسیعسری نگر میں منعقدہ پروگرام کے دوران، مختلف اضلاع سے کئی نوجوانوں اور سماجی کارکنوں نے پارٹی کے نظریے پر یقین کا اظہار کرتے ہوئے شیو سینا (UBT) میں شمولیت اختیار کی۔ پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی حمایت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ لوگ اب ایسی قیادت کی طرف دیکھ رہے ہیں جو ان کے حقوق اور خواہشات کی بھرپور وکالت کر سکے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دیش

طلبا کو بارش سے بچانے کیلئے دیپکے نے ٹینٹ لگانے کی مانگی اجازت

Published

on

نئی دہلی:نیٹ پیپر لیک معاملے اور دیگر بدعنوانیوں کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی ) کے جنتر منتر پر مظاہرہ کا بیسواں دن ہے۔ اس دوران دہلی میں بارش بھی ہورہی ہے ، بتایا جاتا ہے کہ سی جے پی کے بانی دیپکے نے پولیس والوں کے سامنے ہاتھ جوڑے کہ انھیں ٹینٹ لگانے کی اجازت دے، کیونکہ طلبا بارش میں بھیگ رہے ہیں۔ انھوں نے ایک ویڈیو پر پولیس میں ترپال لگانے کی کوشش کرنے والے طلبا کے ساتھ پولیس پر بدسلوکی کا بھی الزام لگایا، انھوں نے لکھا ہے کہ خاتون طلبا کو پولیس والوں نے دھکا دیا۔
غورطلب ہے کہ جنتر منتر کے مظاہرے میں معروف سماجی خدمت گار وانگچک بھی بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ان کے یہ بھوک ہڑتال کا بارہ واں دن ہے۔ سی جے پی امتحانات میں بدعنوانیوں کے خلاف وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ مانگ رہی ہے۔ اس مظاہرے میں کئی نامی گرامی سوشل ایکٹوسٹ بھی شامل ہیں، وانگچک 28 جون سے بھوک ہڑتال کررہے ہیں ان کا وزن تیزی سے گرتا جارہا ہے۔

Continue Reading

دیش

سناتن کو بچانے کیلئے شنکراچاریہ اور اکھلیش ساتھ ساتھ

Published

on

لکھنؤ:سناتن دھرم کو ادھرمیوں سے بچانے کے لئے شنکراچاریہ اومکتیشورانند اور اکھلیش یادو میدان میں آگئے ہیں۔سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے جمعرات کو جیوتر مٹھ کے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد انہوں نے رام مندر میں مبینہ عطیہ چوری، گائے کے تحفظ، سناتن دھرم اور امن و امان جیسے مسائل پر بی جے پی حکومت کو گھیرا۔ شنکراچاریہ نے بھی گائے کے تحفظ اور رام مندر سے وابستہ واقعات پر تشویش کا اظہار کیا۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ انہیں ’پوجیہ‘ شنکراچاریہ کے درشن اور آشیرواد کا شرف حاصل ہوا۔
سابق وزیراعلیٰ اترپردیش اکھلیش یادو نے بتایا کہ دونوں کے درمیان سناتن پر آنے والے بحران اور ’دھرم‘ کو ’ادھرمیوں‘ کے چنگل سے آزاد کرانے کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ شنکراچاریہ ’گؤماتا‘ کی حالت زار کو لے کر انتہائی فکر مند ہیں اور گائے کے تحفظ پر سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مندر کے احاطے میں جن ملازمین کو کم ادائیگی کی گئی تھی، ان سب کے کال ڈیٹیل ریکارڈ (سی ڈی آر) کی جانچ کرائی جانی چاہیے۔ 99.9 فیصد لوگ بی جے پی کے نکلیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے لیڈران کے خلاف مسلسل مقدمات درج کیے جاتے ہیں، لیکن اپوزیشن کی شکایات پر ایف آئی آر تک درج نہیں ہوتی۔
رام مندر معاملے کی تحقیقات کرنے والی ایس آئی ٹی پر سوال اٹھاتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ پوری تحقیقات محض ’لیپا پوتی‘ ہے۔ ایس آئی ٹی کی غیر جانبداری پر بھی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں اور اس کے ایک رکن پر دھوکہ دہی کا معاملہ درج ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ اس پورے واقعے کو اکھلیش یادو نے دہلی اور لکھنؤ کی لڑائی قرار دیا۔
اکھلیش یادو نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی اپنے سیاسی مفادات کے مطابق نظریات بدلتی ہے۔ بی جے پی کے لیے مذہب نہیں بلکہ دولت زیادہ اہم ہے۔ ان کے مطابق رام مندر معاملے میں ’مہاپاپ‘ (عظیم گناہ) ہوا ہے اور اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ بی جے پی ایسی سیاسی روایت قائم کر رہی ہے جس میں اپوزیشن کے لیڈران کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
، یہ جمہوریت کے لیے ٹھیک نہیں ہے اور مستقبل میں بی جے پی بھی اپوزیشن میں ہوگی۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ صرف ’سانچہ‘ ہی نہیں بلکہ پورا ’ڈھانچہ‘ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ملک کا ’سناتن‘ معاشرہ موجودہ حالات سے دکھی ہے اور حکومت کی پالیسیوں کے باعث عوام مہنگائی اور دیگر مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
اکھلیش یادو سے ملاقات کے دوران شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند نے ’گؤماتا‘ کے تحفظ اور رام مندر سے منسلک مسائل پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ رام مندر عطیات چوری پر شنکراچاریہ نے کہا کہ ’’اس پورے معاملے میں بڑے لوگ قصوروار ہیں… جس طرح سے بے ضابطگی سامنے آئی، اس کے بعد مذہبی رہنماؤں کو شامل کر کے حکومت کی نگرانی میں ٹرسٹ تشکیل دیا جانا چاہیے… ٹرسٹ کو تحلیل کر کے چاروں شنکراچاریوں کو اس میں شامل کیا جائے۔ اس کے علاوہ ایودھیا کے سادھو سنت بھی ٹرسٹ میں شامل ہوں۔‘‘
شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشور آنند نے کہا کہ ’’ٹرسٹ میں انتظامی افسران کی ضرورت نہیں ہے اور یہ رویہ بھی اچھا نہیں ہے۔‘‘ خزانچی گووند دیوگیری کو ہدف تنقید بناتے ہوئے شنکراچاریہ نے کہا کہ ’’اصل قصوروار تو وہی ہے، کیونکہ وہ خزانچی ہے اور ٹرسٹ کا پورا حساب کتاب ان کے پاس ہے، خزانچی گووند دیو گیری پر بھی کارروائی ہونی چاہیے۔‘‘ چمپت رائے کے حوالے سے شنکراچاریہ نے کہا کہ سب سے بڑا قصوروار وہی ہے۔ اب وہ کیا بولے گا؟ چمپت رائے اصل گنہگار ہے۔

Continue Reading

دیش

پانچ کلو وزن ہواکم،وانگچک کے بھوک ہڑتال کا ساتواں دن

Published

on

نئی دہلی:جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا دھرنا جاری ہے۔ ان کے اندولن کے ساتھ معروف سماجی خدمات گار سونم وانگچک بھی شریک ہوچکے ہیں آج ان کے بھوک ہڑتال کا ساتواں دن ہے۔ جس میں ان کا پانچ کلو وزن کم ہوگیا ہے۔ اس دوران سی جے پی نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبہ کو تیز کردیا ہے۔ واضح ہو کہ جنتر منتر پر طلبا نیٹ ، یوجی سمیت مقابلہ جاتی امتحانات میں بدعنوانی کولیکر مظاہرہ کررہے ہیں۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network