دیش
اے سی ایف سی کی ایک خوبصورت شام سنجے مصرا شوق کے نام
پونے :پونے کی مشہور اَدَبی تنظیم اے سی ایف سی (اسلم چشتی فرینڈ سرکل پونے) نے اَدَبی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے گزشتہ شب (Yknot – your content space) وائی ناٹ یور کنٹینٹ اِسپیس – این آئی بی ایم روڈ پونے میں عصرِ حاضر کے ممتاز شاعِر و ادیب سنجے مصرا شوق کے اعزاز میں ایک با وَقَار مُشاعرے کا اہتمام کیا ساتھ ہی ساتھ (ACFC) یوٹیوب چینل بھی لانچ کیا گیا جس میں پونہ شہر کے ممتاز اہلِ قلم، دانشور،شعراء اور اَدَب نواز سامعین نے بڑی تعداد میں شرکت کی یہ تقریب نہ صرف ایک مشاعرے کی حیثیت رکھتی تھی بلکہ اُردو ادب کی ترویج و اشاعت کے لیے ایک اہم اَدَبی اجتماع ثابت ہوئی – اس مشاعرے کی صدارت مشہور سماجی کارکن اقبال انصاری نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض عامر مسعود بہرائچی نے نہایت سلیقے اور روانی کے ساتھ انجام دیے -اس مشاعرے میں شرکت کرنے والے شعرائے کرام کے اسمائے گرامی ہیں سنجے مصرا شوق ، ساگر ترپاٹھی ، مولانا شبیہ احسن کاظمی ،حسام الدین شعلہ، اسلم چشتی ، ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر، ضیاء باغپتی ،عامر مسعود بہرائچی، خوشبو رامپوری ، ڈاکٹر شیلجا دوبے ، پوجا کرشنا ، شِروتی بھٹاچاریہ ،کوثر جہاں کوثر ،ڈاکٹر طوبیٰ چودھری ،شوبھا لِنڈے اور عبداللہ انصاری – اس تقریب کے چیف گیسٹ جاوید انصاری (مالیگاؤں) تھے جب کہ اسپیشل گیسٹ سنجے مصرا شوق( لکھنؤ) تھے – مہمانان اور شعرائے کرام کا استقبال پھولوں اور شال سے کیا گیا اس کے بعد سنجے مصرا شوق کی اَدَبی خدمات، ان کے منفرد شعری اُسلوب اور اُردو ادب کے لیے ان کی گراں قدر کوششوں پر روشنی ڈالی گئی – اس مشاعرے کی خاص بات یہ تھی پونہ کے معتبر شعراء کے ساتھ ساتھ نوجوان شعراء بھی شریک ہوئے ہر شاعر نے اپنے کلام کے ذریعے سامعین کو متاثر کیا – مگر سنجے مصرا شوق کا کلام سننے کے لیے خصوصی جوش و خروش پایا گیا – سامعین نہایت باوقار سنجیدہ اور ادب فہم تھے جنہوں نے ہر عمدہ شعر پر بھرپور داد دے کر محفل کو زندہ و تابندہ رکھا اس طرح پوری فضاء شعری لطافت، فکری گہرائی اور تہذیبی شائستگی سے معمور نظر آئی – چیف گیسٹ جاوید انصاری ( مالیگاؤں) نے اپنے خطاب میں کہا سنجے مصرا شوق عہدِ حاضر کے ان اہم ادبی ناموں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے اُردو شاعری کو نئی جہت عطا کی انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اُردو زبان و اَدَب کی ترقّی کے لیے اس نوعیت کی محفلیں بے حد ضروری ہیں – اسپیشل گیسٹ سنجے مصرا شوق ( لکھنؤ) نے اپنے خطاب میں اے سی ایف سی کی ادبی روایت کو اُردو تہذیب کا قیمتی سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مَیں اس اعزاز کے لیے ممنون و مشکور ہوں – صدرِ مُشاعرہ اقبال انصاری نے اپنے خطاب میں کہا اَدَب انسانی معاشرے کی فکری و اخلاقی تربیت کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے انہوں نے نوجوان نسل کو اُردو زبان سے وابستہ رہنے اور مطالعے کی عادت اپنانے کی تلقین کی ان کا خطاب علمی نکات، ادبی مثالوں اور فکری بصیرت سے بھرپور تھا جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا – اور جب ناظم مشاعرہ نے آخر میں اس عہد کے اہم شاعر سنجے مصرا شوق کو کلام سنانے کی دعوت دی تالیوں کی گونج میں وہ مائک پر آئے اور اپنا کلام سنایا اور سامعین سے خوب خوب داد حاصل کی – مشاعرے کے اختتام پر اسلم چشتی نے تمام مہمانانِ ذی وقار اطہر قریشی، وقار احمد شیخ، اے آر ڈی خطیب، مسرور تمنّا ، شعرائے کرام، اور با ذوق سامعین کا شکریہ ادا کیا انہوں نے اس کامیاب مشاعرے کے انعقاد میں تعاون کرنے والے تمام افراد کی خدمات کو سراہا دعاؤں کے ساتھ یہ یادگار کامیاب مشاعرہ رات ساڑھے گیارہ بجے (11:30) اختتام کو پہنچا مگر حاضرین کے دلوں میں اس مشاعرے میں پڑھے گئے اشعار کی خوشبو دیر تک باقی رہے گی –
انٹر نیشنل
امریکہ کے بعدبرطانیہ میں بھی بھاگوت کی پرزور مخالفت
لندن:امریکہ کے بعد برطانیہ کی راجدھانی لندن کے میئر صادق خان کو سول سوسائٹی کے 20 تنظیموں نے مکتوب بھیج کر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے پروگرام کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔
مکتوب میں آر ایس ایس کو ایک تانا شاہ اور ملٹری فکر والی تنظیم بتایا گیا ہے۔ اور ایسا ہی ایک خط برطانیہ کے وزارت خارجہ کو بھی بھیجا گیا ہے۔ غورطلب ہے کہ گزشتہ ہفتہ امریکہ میں کئی ہندو تنظیموں نے آر ایس ایس سربراہ کے ’یونیورسل ون نیس سیلیبریشن ‘پروگرام کی مخالفت کی تھی ، مظاہرہ کیا تھا۔
موہن بھاگوت کا یہ پروگرام نیویارک شہر کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں منعقد ہوا تھا۔ لندن کی سوسائٹی کے تنظیموں نے مکتوب میں میئر کو گریٹر لندن اتھارٹی سے اپیل کرنے کو کہا کہ وہ موہن بھاگوت کو برطانیہ دورے کے درمیان آر ایس ایس کے ذریعہ منعقد پروگراموں کا بائیکاٹ کرے۔ موہن بھاگوت ہفتہ کے اختتام میں برطانیہ میں ہندنژاد طبقات کے لئے منعقد ایک پروگرام کو خطاب کریں گے۔
ان تنظیموں نے میئر صادق خان سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ وہ آر ایس ایس کے پروگرام کیلئے جگہ کی اجازت نہ دیں۔ آرا یس ایس کے سو سال پورے ہونے کے موقع پر چلائے جارہے انٹرنیشنل آئوٹ ریچ پروگرام کے تحت بھاگوت کا دورہ امریکہ اور کینڈا میں ہوچکا ہے۔ دا انڈیپنڈنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق انھوں نے آر ایس ایس کو ایک تاناہی اور ملٹری فکر والی تنظیم قرار دیا ہے۔ جس سے یوروپین فاسی واد سے تحریک ملی تھی۔ اور تنظیم نے افسران سے یہ بھی کہا ہے کہ برطانیہ کے الگ الگ ثقافت والے سماج کی تحفظ کےلئے بھی نظم کیا جائے۔ اس مکتوب میں ہندوزفار ہیومن رائٹرس ، یوکے انڈین مسلم کونسل ، انڈیا لیبر سالیڈیٹری اور ساوتھ ایشیا سالیڈیٹری جیسی تنظیموں نے دستخط کئے ہیں۔ مکتوب میں خاص طبقات کی سیکورٹی کے لئے میٹروپولٹن پولیس کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بھی جانکاری مانگی گئی ہے۔
دیش
ٹی ایم سی کے 22 باغیوں کی رکنیت پر لٹکی تلوار
نئی دہلی:ترنمول کانگریس کے 22 باغی ممبران پارلیمنٹ جو این سی پی میں چلے گئے ہیں، ان کی رکنیت پر تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے انھیں نوٹس جاری کردیا ہے کہ وہ 22 ستمبر تک جواب دیں کہ کیسے وہ این سی پی آئی میں گئے۔ غورطلب ہے کہ ٹی ایم سی کے لیڈر ابھشیک بنرجی نے اپنی عرضی میں ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو غیر قانونی طور پر ایک گمنام جماعت این سی پی آئی میں چلے گئے ہیں۔ واضح ہو کہ گزشتہ 18 جون 2026 کو ٹی ایم سی کے جنرل سکریٹری اور ایم پی ابھشیک بنرجی نے اوم برلا سے ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کے خلاف آئین کی دسویں شیڈیول کے تحت نااہل قرار دیتے ہوئے ان کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اسپیکر اوم برلا نے ان 20 این سی پی آئی ممبران پارلیمنٹ کو ٹی ایم سی اس عرضی کا جواب دینے کے لئے 22 ستمبر تک کا وقت دیا ہے۔
غورطلب ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخاب کے نتیجے آنے کے بعد 14 جون ٹی ایم سی کے 20 ارکان پارلیمنٹ نے بغاوت کردی تھی اور نیشنلسٹ سٹیزن پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی ) کا دامن تھام لیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے این ڈی اے کو حمایت دینے کا اعلان کردیا تھا، مگر اب ان کی رکنیت پر آئینی سوال کھڑا ہوگیا ہے۔ ان باغی ارکان کی قیادت پارٹی کے سینئر رہنماؤں سدپ بندیوپادھیائے اور کاکولی گھوش دستیدار کر رہے ہیں۔ ان ارکان نے انتخابی شکست کے بعد پارٹی میں پیدا ہونے والی اندرونی کشمکش کے دوران جون میں پارٹی سے الگ راہ اختیار کی تھی۔دسویں شیڈول یعنی پارٹی بدلنے سے متعلق قانون سے بچنے کے لیے، باغی گروپ نے، جو ٹی ایم سی کے 28 لوک سبھا ارکان میں سے دو تہائی سے زیادہ ارکان پر مشتمل ہے، تریپورہ میں قائم نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں انضمام کا اعلان کیا تھا۔
اس دوران اسپیکر اوم برلا نے 20 باغی ارکان کے لیے ایوان میں الگ نشستوں کی منظوری دے دی ہے، تاہم ان کے انضمام کی ابھی توثیق نہیں کی ہے۔ ابھشیک بنرجی نے اسپیکر اوم برلا سے باغی ارکان کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر کارروائی تیز کرنے اور ٹی ایم سی کے باقی 8 وفادار ارکان کے لیے نشستوں کے انتظام میں تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
بنرجی نے اس معاملے میں سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔ سماعت کے دوران لوک سبھا اسپیکر اور ایوان کے سکریٹری جنرل کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا تھا کہ اسپیکر نے دسویں شیڈول کے تحت ٹی ایم سی کی جانب سے دائر نااہلی کی درخواستوں پر 20 ارکان کو پہلے ہی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔بہرحال باغیوں میں حجان کی کیفیت ہے جبکہ ممتا بنرجی خیمہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔اطلاع یہ بھی ہے کہ یوسف پٹھان سمیت چار ممبران پارلیمنٹ ممتا بنرجی کے رابطہ میں ہیں۔
دیش
بی سی آئی کو قانون کے طلبا کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں
نئی دہلی:سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) قانون کے طلبہ کو ان کے کالج یا یونیورسٹی کے اندر کیے گئے کسی طرز عمل پر سزا نہیں دے سکتی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ بی سی آئی کے پاس قانون کی تعلیم حاصل کر رہے طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون کے طلبہ کے طرز عمل اور ان کے نظم و ضبط سے متعلق فیصلہ ان کی یونیورسٹی یا تعلیمی ادارہ ہی کر سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ بی سی آئی نے چیف جسٹس کی کانووکیشن تقریب میں شرکت کی مخالفت کرنے والے نلسار کے طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے جو خطوط بھیجے تھے، وہ اس کے دائرہ اختیار سے باہر تھے۔یہ عرضی نالسار کے سابق طلبہ مہر سود اور ابھشیک تیواری نے دائر کی تھی۔ عرضی میں بی سی آئی کے چیئرمین منن کمار مشرا کے 13 اگست کے اس سرکلر کو چیلنج کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے نالسار کے طلبہ کے کسی بھی بار کونسل میں وکیل کی حیثیت سے رجسٹریشن پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم مخالفت کے بعد منن مشرا نے یہ سرکلر واپس لے لیا تھا۔
دراصل نالسار کے طلبہ نے چیف جسٹس سوریہ کانت کے ہاتھوں کانووکیشن تقریب میں ڈگری حاصل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد منن کمار مشرا نے یہ سرکلر جاری کیا تھا۔
-
بہار10 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
