بہار
تہوار کے پیش نظر امن کمیٹی کی میٹنگ منعقد
(پی این این)
ارریہ: ہولی کے تہوار کے حوالے سے ضلع سطح امن کمیٹی کااجلاس ضلع مجسٹریٹ ارریہ مسٹر ونود دوہن اور پولس سپرنٹنڈنٹ ارریہ مسٹر جتیندر کمار کی مشترکہ صدارت میں کلکٹریٹ کے پرمان آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔ اجلاس میں معزز چیئرمین ضلع کونسل جناب آفتاب عظیم پپو سمیت دیگر امن کمیٹی کے اراکین اور معزز عوامی نمائندوں نے شرکت کی۔ پرامن، ہم آہنگی اور محفوظ ہولی تہوار کو یقینی بنانے کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔
ضلع مجسٹریٹ نے سب ڈویژنل افسر اور سب ڈویژنل پولیس افسر کو ہدایت دی کہ ہولی کے دوران امن کو خراب کرنے والے شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ انہیں یہ بھی ہدایت دی گئی کہ وہ ہولیکا دہن کے دوران خصوصی چوکسی اختیار کریں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعات کو روکنے کے لیے ممکنہ طور پر حساس علاقوں کی نگرانی کریں۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ تمام تھانوں کے سربراہان اپنے اپنے علاقوں میں سوشل میڈیا گروپس کی کڑی نگرانی کریں گے تاکہ بروقت افواہوں کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہولی کے دوران ڈی جے پر مکمل پابندی ہوگی اور اگر موٹر سائیکلوں پر اوور لوڈنگ یا ٹرپل لوڈنگ پائی گئی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔
اجلاس میں مقامی سطح پر رابطہ برقرار رکھنے اور کسی بھی ناپسندیدہ سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر ضلعی انتظامیہ کو فراہم کرنے کی درخواست کی گئی۔ اجلاس میں امن کمیٹی کے اراکین نے بھی اپنی تجاویز پیش کیں اور ڈی جے پر مکمل پابندی کے نفاذ، غیر قانونی شراب کے خلاف خصوصی مہم چلانے اور پولیس انتظامیہ کی جانب سے باقاعدہ گشت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ تہوار کو پرامن طریقے سے منایا جا سکے۔ اس موقع پر ایڈیشنل کلکٹر، سب ڈویژنل آفیسر فوربس گنج اور ارریہ، سب ڈویژنل پولیس آفیسر، سول سرجن، ضلع پبلک ریلیشن آفیسر کے علاوہ دیگر متعلقہ افسران اور امن کمیٹی کے ارکان موجود تھے۔
بہار
ایران کی اصول پسند قیادت کے ظالمانہ قتل قابل مذمت:امیرِ شریعت
(پی این این)
پٹنہ:امیرِ شریعت بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال،مولانا احمد ولی فیصل رحمانی سجادہ نشین خانقاہِ رحمانی مونگیر، نے ایران میں پیش آنے والے حالیہ المناک واقعات میں شیخ آیت اللہ علی خامنہ ای اور متعدد اہم ایرانی قائدین و ذمہ داران کے جاں بحق ہونے پر گہرے رنج و غم، شدید صدمہ اور امتِ مسلمہ کے ساتھ قلبی یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔امیرِ شریعت نے اس واقعہ کو ایک سنگین ظلم، بین الاقوامی ضمیر کے لیے چیلنج، اور انسانی جان کی حرمت پر کھلا حملہ قرار دیتے ہوئے نہایت سخت اور واضح الفاظ میں اس کی مذمت کی۔
انہوں نے کہاکہ آج امتِ مسلمہ جس کرب اور اضطراب سے گزر رہی ہے وہ محض ایک سیاسی واقعہ کا ردِعمل نہیں بلکہ ایک گہرا روحانی اور اجتماعی زخم ہے، جب کسی مسلم قیادت کو اس طرح نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری امت کے احساسات اور وقار کو مجروح کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق انسانی جان کی حرمت بنیادی اصول ہے، اور کسی بھی ملک یا قیادت کے خلاف اس نوعیت کی کارروائیاں دنیا کو مزید بے یقینی، انتقام اور عدمِ استحکام کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔امیرِ شریعت نے مرحوم شیخ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شخصیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ عالمی سطح پر ایک مضبوط، جرأت مند، بااثر اور اصولی آواز کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ انہوں نے اپنی طویل قیادت کے دوران استقامت، خود اعتمادی اور امت کے اجتماعی شعور کو ابھارنے کی کوشش کی۔ اختلافاتِ مسلک کے باوجود انہوں نے عالمی سطح پر مسلم مسائل، خصوصاً مظلوم اقوام کے حق میں آواز بلند کی، جس کی بازگشت مسلم دنیا میں سنی جاتی تھی۔ ان کا یوں اچانک اٹھ جانا بلاشبہ ایک بڑا خلا پیدا کرتا ہے جسے پر کرنا آسان نہیں ہوگا۔
امیرِ شریعت نے امت کے درد کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت صرف تعزیت کا نہیں بلکہ غور و فکر کا بھی ہے۔ ظلم کا جواب انتشار سے نہیں بلکہ اتحاد سے دیا جاتا ہے۔ جذبات کی شدت کو حکمت کے دائرے میں رکھ کر عمل درامد ہونا ہی اہلِ ایمان کی شان ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی اخوت کا تقاضا ہے کہ اہلِ قبلہ باہمی احترام اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، کیونکہ ایسے مواقع پر داخلی اختلافات کو ہوا دینا امت کو مزید کمزور کرتا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ طاقت کے استعمال کے بجائے انصاف، شفافیت اور مکالمہ کا راستہ اختیار کرے۔ اگر عالمی طاقتیں اپنی ذمہ داریوں کو محسوس نہ کریں تو اس نوعیت کے واقعات پورے خطے کو عدمِ استحکام کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ انسانی جانوں کا تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہی پائیدار امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔حضرت امیرِ شریعت نے ایران کے عوام، متاثرہ خاندانوں اور پوری مسلم دنیا کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے سانحات میں سب سے اہم چیز باہمی تعاون، صبر اور اجتماعی نظم ہے۔ انہوں نے مساجد، مدارس اور اسلامی اداروں سے اپیل کی کہ وہ دعاؤں، اصلاحی بیانات اور وحدتِ امت کے پیغامات کے ذریعے عوام کو مثبت اور تعمیری راستے کی طرف رہنمائی کریں۔
اختتام میں امیرِ شریعت نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق قائدین پر اپنی رحمت نازل فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبر اور سکون عطا فرمائے، ایران کے عوام کو استحکام اور سلامتی نصیب فرمائے، اور امتِ مسلمہ کو اتحاد، بصیرت، حکمت اور ثابت قدمی عطا فرمائے تاکہ وہ ظلم کے مقابلے میں اخلاقی قوت اور اجتماعی شعور کے ساتھ کھڑی ہو سکے۔
بہار
چھپرہ میں ماک ڈرل کاانعقاد، لوگوں میں مچی افراتفری
(پی این این)
چھپرہ :بہار کے چھپرہ صدر اسپتال،ضلع پریشد دفتر،کٹہری باغ میں واقع اگرنی ہومس کیمپس،پرساد پٹرول پمپ اور پربھوناتھ نگرمیں واقع چلڈرن پارک میں اچانک ایک ساتھ سائرن اور ہوٹر کی آواز سن کر مقامی باشندوں میں افراتفری مچ گئی۔کچھ دیر کے لیے لوگ بے چین ہو گئے۔مگر جیسے ہی معلوم ہوا کہ یہ ماک ڈرل ہے تب لوگوں نے راحت کی سانس لی اور پورے منظر کو اپنے ا پنے موبائل میں قید کرنے لگے۔موقع تھا ضلع میں ممکنہ زلزلہ جیسی قدرتی آفت سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے ماک ڈرل منعقد کرنے کا۔
یہ مشق ضلع انتظامیہ کی قیادت میں این ڈی ایم اے کی ہدایات پر انجام دی گئی۔جس میں این ڈی آر ایف اورایس ڈی آر ایف کی ٹیموں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ماک ڈرل صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہی۔اس دوران 3.8 شدت کے فرضی زلزلے کا منظرنامہ تیار کیا گیا اور ہنگامی حالات میں بچاؤ اور راحت رسانی کی کارروائیوں کا حقیقی وقت میں عملی مظاہرہ پیش کیا گیا۔ماک ڈرل کے دوران ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچیں اور ملبہ ہٹانے،پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ نکالنے،ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے اور ایمبولینس کے ذریعے زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کی کارروائی انجام دی۔کٹہری باغ میں واقع اگرنی ہومس کیمپس میں مشق کے دوران گرین لینڈ پبلک اسکول کے طلبہ کے لیے آفات سے بچاؤ کے موضوع پر خصوصی ماک ڈرل بھی منعقد کی گئی۔
اس موقع پراین ڈی آر ایف اورایس ڈی آر ایف کی ٹیموں نے زلزلے اور آگ جیسی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے عملی طریقوں کا مظاہرہ کیا۔ ریسکیو ٹیم نے دکھایا کہ کسی حادثے کی صورت میں اونچی عمارتوں سے لوگوں کو کس طرح محفوظ طریقے سے باہر نکالا جاتا ہے۔ماہرین نے طلبہ کو تفصیل سے بتایا کہ زلزلے کے دوران کیا کرنا چاہیے اور کن امور سے گریز ضروری ہے۔ انہیں ہدایت دی گئی کہ کسی بھی ہنگامی حالت میں گھبرانے کے بجائے صبر و حوصلے سے کام لیں اور سب سے پہلے اپنی جان کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ اس سلسلے میں محفوظ مقامات کی طرف منتقلی، لفٹ کے استعمال سے گریز، مضبوط میز یا ڈیسک کے نیچے پناہ لینے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر شہزاد عالم نے کہا کہ آفات جیسی صورت حال میں اسکولی طلبہ معاشرے کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں اور بیداری و امدادی سرگرمیوں میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تربیتی مشقیں بچوں میں اعتماد پیدا کرتی ہیں اور انہیں ذمہ دار شہری بننے کی ترغیب دیتی ہیں۔اگرنی ہومس کیمپسمیں منعقدہ مشق کے دوران ضلع کوآپریٹو افسر سدھیر کمار سنگھ،جے پی یو کے رجسٹرار پروفیسر وشوامتر پانڈے،اجے کمار، ابھینیک کمار سنگھ،راج کمار مشرا،دلیپ کمار، ریڈ کراس سوسائٹی کے ڈاکٹر شہزاد عالم کے علاوہ گرین لینڈ پبلک اسکول کی طلبہ شریا کماری،مدیحہ ندیم،صبا شاہین،شاہین شہنواز،غوث رضا،دلشاد رضا،شاد،کماری سونی اور ایوب انصاری سمیت دیگر افراد موجود تھے۔
بہار
سیلاب کے باعث بہار کی 2.5لاکھ ایکڑاراضی ہوگئی تباہ
14ندیوں کے قہر سے کسانوں کو 3500کروڑروپے کاہورہاہے نقصان
(پی این این)
پٹنہ :بہار کے جوعلاقے سونا پیداکرسکتے ہیں وہاں سے کسانوں کوکچھ نہیں مل پارہاہے ۔ ریاست کی 14 ندیوں کے ساتھ ساتھ 50نالوں کی دھاروں نے 2.5لاکھ ایکڑزمین کو پوری طرح ڈوبودیاہے جس کے باعث یہاں گنے کی کھیتی نہیں ہورہی ہے ۔اس سیلاب زدہ علاقے کی وجہ سے کسانوں کو سالانہ تقریباً 3500 کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
ان میں وہ ندیاں بھی شامل ہیں جو نیپال سے براہ راست بہار میں داخل ہوتے ہیں۔ تقریباً 300 مقامات سے ندیوں کاپانی شمالی بہار میں داخل ہوتے ہیں، جو پھر چھوٹی چھوٹی ندیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے کئی نہریں اور ندیاں بھی بڑے علاقوں میں پانی پھیلا رہی ہیں۔اس کے علاوہ،چانروں، سائفنوں، پلوں کے نیچے کے علاقوں، سلائس گیٹس، اور نکاسی آب کی نالیوں میں رکاوٹیں بھی کئی علاقوں میں پانی کے پھیلاؤ میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔
حال ہی میں جب ریاستی حکومت نے اس مسئلے کا جائزہ لیا تو یہ بات سامنے آئی کہ گنے کی پیداوار کرنے والے تقریباً 42 فیصد علاقے اس وقت غیر کاشت شدہ ہیں۔ تقریباً 2.57 لاکھ ایکڑ اراضی کو پانی بھرنے کا سامنا ہے، جس سے کاشتکاروں کو ان کی خواہش کے باوجود گنے کی کاشت سے نہیں ہورہا ہے۔ اس طرح گنے کے کاشتکاروں کو دوہری پریشانی کا سامنا ہے۔ ایک طرف وہ گنے کی کاشت نہیں کر پا رہے جس سے مالی نقصان ہو رہا ہے۔ دوسری طرف ان کے کھیت ناقابل استعمال ہوتے جا رہے ہیں۔
جب یہ مسئلہ ریاستی حکومت کی توجہ میں آیا تو محکمہ آبی وسائل اور شوگر کین انڈسٹری ڈپارٹمنٹ کی سطح پر ایک جامع جائزہ لیا گیا۔ محکمہ آبی وسائل کے پرنسپل سکریٹری سنتوش کمار مل کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ میں اس علاقے کو آبی ذخائر سے پاک کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جائزے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اگر اس 42 فیصد زیر آب علاقے کو مکمل طور پر آبی ذخائر سے آزاد کر دیا جائے۔ حکومت نے ایسیندیوں اور نالوں کی دوبارہ نشاندہی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو گنے کے علاقے کو زیر آب کر رہے ہیں۔ اس کے بعد انہیں بچانے کے لیے ایکشن پلان بنایا جائے گا۔
کئی دریاؤں میں پشتے نہ ہونے کی وجہ سے ان کا پانی سیلاب کے دوران پھیل جاتا ہے اور چوروں میں پانی جمع ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ چوروں سے نکلنے والے نالوں، دھاروں اور چھوٹی ندیوں میں گاد جمع ہونے، ان پر تجاوزات اور نہروں پر بنائے گئے ڈھانچے سے نکاسی کا ہموار نہ ہونے کی وجہ سے بڑے علاقے میں پانی جمع ہونے کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر، چمپارن میں دریائے مسان اور دریائے سکرہنا پر کوئی پشتے نہیں ہیں۔ اسی طرح اور بھی بہت سے چھوٹے دریا ہیں جو بغیر پشتے کے ہیں۔ گوپال گنج، سمستی پور، بیگوسرائے اضلاع میں نالے، ندیاں اور چھوٹی ندیاں گاد کی وجہ سے اپنے آس پاس کے ایک بڑے علاقے میں پانی پھیلا رہی ہیں۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار9 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
بہار3 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر1 year agoکجریوال کاپجاری اور گرنتھی سمان اسکیم کا اعلان
