دلی این سی آر
بی جے پی کی سرکار میں دہلی میں بیٹیاں غیر محفوظ:آتشی
(پی این این)
نئی دہلی:دہلی میں 9سالہ معصوم بچی کے ساتھ درندگی اور بے رحمانہ قتل کے واقعے نے پوری دہلی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ بی جے پی نے دہلی کے قانون و نظم کو برباد کر دیا ہے۔ بی جے پی کی چار انجن والی حکومت میں بھی ہماری بیٹیاں محفوظ نہیں ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور ان کی چار انجن والی حکومت کو جواب دینا ہوگا۔ دہلی کی بیٹیوں کو انصاف چاہیے اور سوالوں کے جواب بھی۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے ایکس پر ان خیالات کا اظہار کیا۔
دوسری طرف، لیڈر آف اپوزیشن آتشی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا کو خط لکھ کر مجرموں کو سخت سزا دینے اور دہلی میں امن و امان کی صورت حال بہتر کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔آتشی نے کہا کہ دہلی ملک کی راجدھانی ہے، یہاں ایک 9 سالہ معصوم بچی کے ساتھ پہلے زیادتی کی گئی اور پھر اسے بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ یہ واقعہ نہ صرف دہلی بلکہ پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ یہ شرم کی بات ہے کہ ملک کی راجدھانی میں ایسے سانحات پیش آ رہے ہیں۔ بی جے پی کو جواب دینا ہوگا کہ جب دہلی میں اس کی چار انجن کی حکومت ہے، مرکز، دہلی پولیس، وزیراعلیٰ اور لیفٹیننٹ گورنر سب بی جے پی کے ہیں، تو پھر ہماری بیٹیوں کی حفاظت کیوں نہیں ہو رہی؟ یہ بی جے پی کی مکمل ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جیسے ہی کوئی انتخاب آتا ہے، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ہر الیکشن میں مہم چلاتے نظر آتے ہیں۔ لیکن جب ایک 9 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کا دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آتا ہے، تو امت شاہ غائب ہو جاتے ہیں۔ دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا ہر روز کسی نہ کسی میڈیا ایونٹ میں دکھائی دیتی ہیں، لیکن آج جب ہماری ایک بیٹی کے ساتھ یہ درندگی ہوئی ہے، تو وہ بھی غائب ہیں۔ بی جے پی اپنی ذمہ داری سے بھاگ نہیں سکتی، بیٹیوں کو تحفظ دینا ان کی ذمہ داری ہے۔آتشی نے کہا کہ ایسے درندوں کے خلاف فوری اور سخت ترین کارروائی ہونی چاہیے، تاکہ آئندہ کوئی ایسی درندگی کرنے سے پہلے سو بار سوچے۔ آج ایسے واقعات اس لیے ہو رہے ہیں کیونکہ مجرموں کو لگتا ہے کہ دہلی پولیس انہیں نہیں پکڑے گی، کوئی کارروائی نہیں ہوگی، اور نہ ہی انہیں سزا دی جائے گی۔ یہ حکومت کی مکمل ناکامی ہے جس کی وجہ سے مجرموں کے حوصلے بلند ہیں اور وہ ایسی بربریت انجام دے رہے ہیں۔
ایک پوسٹ میں آتشی نے سوال کیا کہ دہلی میں 9سال کی بچی کے ریپ اور قتل کا ذمہ دار کون ہے؟ بگڑتی ہوئی قانون و نظم کے لیے کون ذمہ دار ہے؟ بی جے پی کی چار انجن والی حکومت ہونے کے باوجود ہماری بیٹیاں غیر محفوظ کیوں ہیں؟ وزیراعلیٰ ریکھا گپتا کہاں ہیں؟ اور ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ کہاں ہیں؟
دلی این سی آر
گرمی نے دہلی کی سیاحت کوکیا متاثر ، لال قلعہ اور قطب مینار پر سیاحوں کی آمد میں کمی
(پی این این)
نئی دہلی :دارالحکومت دہلی میں بڑھتی گرمی کی وجہ سے سیاحتی مقامات میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سیاح بھی کم تعداد میں یہاں کا رخ کر رہے ہیں۔ لال قلعہ، قطب مینار، صفدر جنگ کا مقبرہ، اور جنتر منتر سمیت کئی یادگاروں کو سیاحوں کی تعداد میں کمی کا سامنا ہے۔ مزید برآں، چڑیا گھر میں زائرین کی تعداد میں تقریباً 60 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ قطب مینار ملکی اور غیر ملکی سیاحوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا لیکن بڑھتی ہوئی گرمی نے یہ تعداد آدھی کر دی ہے۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے مطابق جب قطب مینار پر روزانہ سات سے آٹھ ہزار زائرین آتے تھے، اب یہ تعداد کم ہو کر 3500 سے چار ہزار رہ گئی ہے۔صرف 200 کے قریب سیاح صفدر جنگ کے مقبرے کی سیر کر رہے ہیں۔ موسم گرما سے پہلے روزانہ دیکھنے والوں کی تعداد 500 سے 600 تک ہوتی تھی۔روہنی سے یادگار دیکھنے آنے والے آدرش جھا نے بتایا کہ انہوں نے بہت پہلے دوستوں کے ساتھ سیر کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن موقع صرف اتوار کو ہی ملا۔ تاہم شدید گرمی کے باعث وہ جلد گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔
یہ مقامات عام طور پر صبح سے شام تک سیاحوں سے کھچا کھچ بھرے رہتے ہیں لیکن ان دنوں دوپہر کے وقت کم ہی لوگ نظر آئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیاح شام کے وقت تاریخی یادگاروں کی سیر کو ترجیح دیتے ہیں۔چڑیا گھر میں سیاحوں کی تعداد میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ ویک اینڈ پر تقریباً 2000 زائرین آ رہے ہیں۔ موسم گرما کے آغاز سے پہلے، اختتام ہفتہ پر یہ تعداد 10,000 سے 12,000 کے درمیان تھی۔ دریں اثنا، ہفتے کے دنوں میں، یہ تعداد 1,000 سے 1,500 کے درمیان گر گئی ہے۔
غور طلب ہے کہ دہلی این سی آر میں ان دنوں گرمی اپنے عروج پر ہے۔ بھاشا کی ایک رپورٹ کے مطابق، منگل کو کچھ علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ طوفان اور بارش کے لیے یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے، کیونکہ دارالحکومت میں موسم کی گرم ترین رات ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق کئی مراکز پر کم از کم درجہ حرارت معمول سے 4.6 سے 5.4 ڈگری سیلسیس زیادہ ریکارڈ کیا گیا جو کہ گرم رات کی نشاندہی کرتا ہے۔
محکمہ موسمیات (IMD) کے مطابق گرم رات اس وقت تصور کی جاتی ہے جب زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس یا اس سے زیادہ ہو اور کم سے کم درجہ حرارت معمول سے 4.5 سے 6.4 ڈگری سیلسیس زیادہ رہے۔ مرکز وار اعداد و شمار کے مطابق، صفدرجنگ میں کم سے کم درجہ حرارت 28.4 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 4.6 ڈگری زیادہ تھا۔
پالم میں 27.4 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے 2.5 ڈگری زیادہ تھا۔ لودھی روڈ پر درجہ حرارت 26.6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 3.6 ڈگری زیادہ ہے، جبکہ رج میں 26.2 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 1.3 ڈگری زیادہ ہے۔ آیا نگر میں 29.1 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 5.4 ڈگری زیادہ ہے۔ماہرین موسمیات کے مطابق منگل کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 39 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ طوفانی گردش کی وجہ سے گرج چمک اور بارش کی بھی پیش گوئی کی گئی ہے۔ دریں اثنا، دہلی میں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 196 پر ریکارڈ کیا گیا، جو اعتدال پسند زمرے میں آتا ہے۔
دلی این سی آر
جامعہ ملیہ میں’کلیم الدیں احمد کی نگارشات: ایک بازدید’کے عنوان سے سمینار کا انعقاد
(پی این این)
نئی دہلی : قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہمی اشتراک سے ‘کلیم الدیں احمد کی نگارشات: ایک بازدید’ کے عنوان سے سی آئی ٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کانفرنس ہال میں یک روزہ سمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں کلیم الدین احمد کی شخصیت و افکار پر نہایت مفید و معنی خیز خطبات و مقالات پیش کیے گئے ۔
اس سمینار کے افتتاحی اجلاس کی صدارت بزرگ ناقد و دانشور پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کی۔ انھوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ کلیم الدین احمد کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے دور کی یک رخی اور ایک ہی ڈگر پر چلنے والی اردو تنقید میں تجزیہ و تفکر کی ایک نئی راہ نکالی۔ انھوں نے اردو شاعری اور تنقید پر جو کچھ لکھا وہ ہمارے ذہنوں کو روشن کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کلیم الدین احمد کے افکار و نظریات پر بعد میں جس طرح غور و فکر ہونا چاہیے تھا، وہ نہیں ہوا۔ میں کونسل اور شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کو اس سمینار کے انعقاد کے لیے خصوصی مبارکباد پیش کرتا ہوں، کہ آج کا یہ سمینار کلیم الدین احمد کے فکر و فن کی ایسی جہتیں سامنے لائے گا جو اب تک اجاگر نہیں کی گئی ہیں۔
اس سے قبل قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے تمام مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ کلیم الدین احمد ایک قاموسی شخصیت کے حامل تھے جنھیں اردو کے ساتھ دیگر کئی علوم و فنون اور زبانوں پر دسترس حاصل تھی۔ انھوں نے روایتی تنقیدی نظریات پر دلائل اور تحقیق کی روشنی میں چوٹ کی اور ان کے کچھ تیکھے جملے بہت مشہور ہوئے جن کا ان کے معاصرین نے نوٹس بھی لیا اور ان سے اختلاف بھی کیا گیا مگر اس کے باوجود سبھوں نے ان کی بلند و بالا علمی و ادبی قد و قامت کو تسلیم بھی کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ضرورت ہے کہ نئی نسل کو ایسے عظیم ادیب و ناقد کی ہمہ جہت خدمات سے روشناس کروایا جائے۔ آج کا سمینار اسی سلسلے کی اہم پیش رفت ہے۔ مجھے توقع ہے کہ اس سمینار کے مقالات و خطبات سے کلیم الدین احمد کی تفہیم کے نئے زاویے روشن ہوں گے۔
شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر کوثر مظہری نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے اس سمینار کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور کہا کہ کلیم الدین احمد کی شخصیت و نگارشات پر دہلی میں اپنی نوعیت کا یہ منفرد سمینار ہے جس میں ان کی پوری شخصیت ، نگارشات و افکار کا بھرپور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کلیم الدین احمد کی خدمات ایسی ہمہ گیر ہیں کہ ان کے منظم مطالعے اور جائزے کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے ۔ قومی اردو کونسل اور شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اشتراک سے منعقدہ یہ سمینار اسی سلسلے کی کاوش ہے جسے دراز ہونا چاہیے اور ان پر مزید ڈسکورس ہونا چاہیے ۔
دلی این سی آر
شدید گرمی کے باعث نوئیڈا میں اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
(پی این این)
بدھ نگر:نوئیڈا اور آس پاس کے علاقوں میں بڑھتی ہوئی گرمی نے اسکول کے معمولات کو بدل دیا ہے۔ گوتم بدھ نگر کے ضلع مجسٹریٹ نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے تمام اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی کا حکم جاری کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے اور ہیٹ ویوز کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ چھوٹے بچے ہیٹ اسٹروک کا زیادہ شکار ہوتے ہیں اس لیے انتظامیہ نے یہ احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں۔حکم نامے کے مطابق ضلع کے تمام اسکول اب صبح 7:30 سے دوپہر 12:30 تک چلیں گے۔ یہ نیا شیڈول 27 اپریل 2026 سے نافذ العمل ہو گیا ہے اور اگلے اطلاع تک جاری رہے گا۔ اس کا واضح مقصد بچوں کو دوپہر کی سخت دھوپ اور خطرناک گرمی سے بچانا ہے۔ صبح کا درجہ حرارت نسبتاً کم ہوتا ہے، جس کی وجہ سے بچوں کا سکول جانا محفوظ ہوتا ہے۔
یہ حکم صرف سرکاری اسکولوں تک محدود نہیں ہے۔ یہ اصول ضلع کے تمام اسکولوں پر لاگو ہوگا، خواہ وہ پرائیویٹ ہوں یا کسی بھی بورڈ سے منسلک ہوں۔ اس میں سی بی ایس ای، آئی سی ایس ای، آئی بی، اور یو پی بورڈ سے وابستہ تمام ادارے شامل ہیں۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اس حکم کی تعمیل ہر اسکول کے لیے لازمی ہے۔اگرچہ شمالی ہندوستان میں موسم گرما کے دوران لو (گرم اور خشک ہوائیں) عام ہیں، لیکن اس بار صورتحال زیادہ سنگین دکھائی دے رہی ہے۔ محکمہ موسمیات مسلسل خبردار کر رہا ہے کہ دوپہر کے وقت باہر نکلنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت حال میں اسکولوں جیسی جگہیں، جہاں بچوں کی ایک بڑی تعداد ایک ساتھ موجود ہوتی ہے، خاص طور پر غیر محفوظ سمجھی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے انتظامیہ نے اوقات میں تبدیلی کرکے خطرے کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
دہلی کے اسکولوں میں گرمی سے نمٹنے کے لیے کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ایک ‘واٹر بیل’ سسٹم نافذ کیا گیا ہے، جو بچوں کو ہر 45 سے 60 منٹ میں پانی پینے کی یاد دلاتا ہے۔ مزید برآں، کھلی فضا میں اسمبلیوں اور بیرونی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اسکولوں کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان قوانین کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے ایک نوڈل افسر مقرر کریں۔اس شدید گرمی میں، صرف اسکول کے اوقات تبدیل کرنا کافی نہیں ہے۔ بچوں کو خود بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں، جیسے زیادہ پانی پینا، ہلکے کپڑے پہننا، اور سورج کی طویل نمائش سے گریز کرنا۔ اسکول اس بات پر بھی زور دے رہے ہیں کہ بچے پانی کی کمی سے بچیں اور فوری طور پر کسی بیماری کی اطلاع دیں۔انتظامیہ نے موسم کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ گرمی مزید بڑھی تو مزید سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم، اگر موسم میں نرمی آتی ہے، تو اسکول کے اوقات معمول پر آ سکتے ہیں۔ ابھی کے لیے، بچوں کی صحت اور حفاظت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار5 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
بہار11 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ1 year agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
