Connect with us

Bihar

نئے سال سے تمام گاڑیوں کی آمدورفت کیلئے بحال ہوجائے گا وکرم شیلا پل،وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کیا اعلان

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کہا کہ وکرم شیلا پل پر نئے سال سے تمام گاڑیوں کی آمدورفت پہلے کی طرح شروع ہو جائے گی۔ گنگا کے پانی کی سطح مسلسل کم ہو رہی ہے۔ یکم اکتوبر سے بیلی برج کو کھولنے کا کام شروع کیا جائے گا۔ 31 دسمبر تک مستقل سلیب ڈالنے کا کام مکمل کر لیا جائے گا۔پل پر آمدورفت متاثر ہونے کے بعد دریائی راستے سے ٹریفک کی بحالی کی جائے گی۔ اس کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جہازوں اور کشتیوں کے ذریعے حفاظتی انتظامات کیے جائیں گے۔
وزیرِ اعلیٰ نے یہ اطلاع پولی ٹیکنک کالج میدان میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران دی۔ وزیرِ اعلیٰ مرکزی وزیرِ زراعت شیوراج سنگھ چوہان کے ساتھ سیلاب سے ہوئی تباہی کا جائزہ لینے بھاگلپور پہنچے تھے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق کام 30 نومبر تک مکمل کر لیا جانا تھا، لیکن گنگا کے پانی کی سطح میں غیر متوقع اضافے کے باعث شیڈول میں تبدیلی کرنی پڑی۔ پل کا سلیب گرنے کے بعد بی آر او کی مدد سے بیلی برج تعمیر کرکے آمدورفت بحال کی گئی تھی۔
قابلِ ذکر ہے کہ جب بیلی برج کھول کر پل کی بحالی کا کام شروع کیا جائے گا، اس وقت تہواروں کا موسم یعنی درگا پوجا، دیوالی اور چھٹھ اپنے عروج پر ہوگا۔ ایسے میں لوگوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔واضح ہو کہ 4 مئی کی نصف شب بھاگلپور کی جانب کا ایک سلیب ٹوٹ کر دریا میں جا گرا تھا، جس کے باعث پل پر آمدورفت مکمل طور پر متاثر ہو گئی تھی۔ پل کے ستون نمبر 133 کے قریب تقریباً 25 میٹر لمبا سلیب ٹوٹ کر گنگا میں گر گیا تھا، جس کی وجہ سے کئی دنوں تک بہار کے لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، حادثے کی پیشگی اطلاع مل جانے کے باعث پل پر آمدورفت روک دی گئی تھی، جس سے کسی بھی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
شمالی بہار کو جنوبی بہار سے جوڑنے والا وکرم شیلا پل سال 2001 میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس پل کی لمبائی تقریباً 4.7 کلومیٹر ہے اور یہ دریائے گنگا پر تعمیر کیے گئے بڑے پلوں میں شمار ہوتا ہے۔بہار کو جوڑنے والے اس پل کا نام دنیا بھر میں معروف وکرم شیلا یونیورسٹی کے نام پر رکھا گیا ہے۔
یہ پل کٹیہار، ارریہ، کشن گنج، پورنیہ سمیت کئی اضلاع کو بھاگلپور اور جنوبی بہار سے جوڑتا ہے۔ اس پل کو بہار کی لائف لائن کہا جاتا ہے، کیونکہ آمدورفت کے ساتھ ساتھ تجارت کے نقطۂ نظر سے بھی اس کی بہت اہمیت ہے۔پل میں پہلے ہی دراڑیں پڑنے کی اطلاع محکمہ کو دے دی گئی تھی، لیکن بروقت مرمت کا کام نہیں کرایا جا سکا اور پل کا ایک حصہ منہدم ہو گیا۔ پل کا حصہ گرنے کے بعد پورے ملک میں اس معاملے پر زبردست سیاسی بحث چھڑ گئی تھی۔

 

 

Bihar

وزیر کے سامنے ہی پارٹی پر سوال، ٹکٹ کے بدلے پیسے لینے کا الزام،امبیڈکر ہاسٹل میں ایل جے پی کارکن نے کھولا محاذ، مائیک کو لے کر وزیر سے ہوئی کھینچا تانی کی ویڈیو وائرل

Published

on

(پی این این)
گیا جی : پولیس لائن واقع امبیڈکر ہاسٹل کے معائنے کے دوران لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے ایک کارکن نے وزیر سنجے پاسوان کے سامنے ہی پارٹی تنظیم اور ٹکٹ کی تقسیم کو لے کر سوالات اٹھا دیے۔ کارکن نے پرانے اور زمینی سطح پر کام کرنے والے کارکنوں کو نظر انداز کئے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں کارکنوں کو متوقع عزت نہیں مل رہی ہے۔ ٹکٹ کی تقسیم میں پیسے لئے جانے کا بھی اس نے سنگین الزام لگایا۔ کارکن کے مسلسل اپنی بات رکھنے کے دوران مائیک لینے کو لے کر وزیر اور اس کے درمیان ہوئی کھینچا تانی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔
کارکن نے الزام لگایا کہ پارٹی دلتوں اور محروم طبقات کی آواز اٹھانے کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن انتخابات میں ٹکٹ دینے کے وقت زمینی سطح پر کام کرنے والے کارکنوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس نے پارٹی میں کارکنوں کی شمولیت اور انہیں تنظیم میں آگے بڑھانے کے نظام پر بھی سوال اٹھائے۔ پروگرام کے دوران کھلے طور پر تنظیم کے خلاف ناراضگی سامنے آنے کے بعد موقع پر موجود لوگوں میں بھی یہ معاملہ بحث کا موضوع بن گیا۔
وائرل ویڈیو میں کارکن مائیک لے کر اپنی بات رکھتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ اسی دوران وزیر سنجے پاسوان مائیک لینے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے بعد دونوں کے درمیان کچھ دیر تک کھینچا تانی ہوتی دکھائی دیتی ہے۔
کارکن وزیر کی طرف انگلی اٹھا کر اپنی بات رکھتا ہوا بھی نظر آتا ہے۔ تاہم، وائرل ویڈیو کے مکمل پس منظر اور پورے واقعہ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ ہاسٹل کے معائنے کے دوران طلبہ کے مسائل کے ساتھ ہی پارٹی کارکن کی تنظیمی ناراضگی سامنے آنے سے پروگرام کا سیاسی پہلو بھی موضوعِ بحث بن گیا۔

 

Continue Reading

Bihar

گیاجی:دون ایکسپریس سے 45 زندہ کچھوے برآمد، اسمگلر فرار

Published

on

(پی این این)
گیا جی: گیا جنکشن پر آر پی ایف کی تلاشی مہم کے دوران رشی کیش-ہاوڑہ دون ایکسپریس سے 45 زندہ کچھوے برآمد کئے گئے۔ کچھووں کو دو جھولوں اور ایک پیٹھو بیگ میں بھر کر سلیپر کوچ ایس-08 کے باتھ روم کے قریب لاوارث حالت میں رکھا گیا تھا۔ آر پی ایف کی ٹیم کے پہنچنے سے قبل ہی اسمگلنگ میں ملوث شخص موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
آر پی ایف انسپکٹر انچارج بنارسی یادو کی ہدایت پر ٹیم نے پلیٹ فارم نمبر تین پر کھڑی ٹرین نمبر 13010 ڈاؤن دون ایکسپریس کی تلاشی شروع کی۔ اسی دوران ایس-08 کوچ کے باتھ روم کے باہر مشتبہ حالت میں رکھے تین بیگ نظر آئے۔ بیگوں کی تلاشی لینے پر ان کے اندر بڑی تعداد میں زندہ کچھوے برآمد ہوئے۔ آر پی ایف نے تمام 45 کچھووں کو بحفاظت اپنے قبضے میں لے کر پوسٹ پہنچایا۔
انسپکٹر انچارج نے بتایا کہ کچھوا وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ 1972 کی شیڈول-1 کے تحت اعلیٰ ترین تحفظ حاصل جنگلی جانوروں میں شامل ہے۔ برآمد کئے گئے تمام کچھووں کو ضروری کارروائی کے لئے گیا وائلڈ لائف محکمہ کے حوالے کردیا گیا ہے۔ اسمگلنگ میں ملوث افراد کی شناخت ابھی نہیں ہوسکی ہے اور آر پی ایف معاملے کی چھان بین میں مصروف ہے۔

Continue Reading

Bihar

کانگریس کمیٹی نے ارریہ کے مختلف مسائل کے حل کیلئے ضلع مجسٹریٹ کوسونپا میمورنڈم

Published

on

(پی این این)
ارریہ:گزشتہ کل کانگریس کمیٹی ارریہ کے صدر شری معصوم رضا نے شہر کے مختلف مسائل کے حل کے لئے ضلع مجسٹریٹ کو ایک میمورینڈم سونپا، جس میں مختلف مسائل کی تفصیلات قلمبند کرتے ہوئے لکھا گیا ہےکہ ارریہ شہر میں عام اور خاص لوگوں کو یومیہ سخت جام لگنے اور ٹرافک پولس نہ ہونے کی وجہ سے عام شہریوں کو آمد ورفت میں بڑی دقت اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اسی طرح شہر کی بہت سی سڑکیں خستہ حال ہونے کے سبب اور مولانا ابوالکلام آزاد چوک زیرو مائل میں اووربرج اور سگنل نہ ہونے سے ہمہ وقت حادثے کا خطرہ بنا رہتا ہے، بلکہ زیرو مائل میں اوربرج کی تعمیر اور سگنل نہ ہونے سے درجنوں حادثے رونما ہوچکے ہیں، اس لئے مفاد عامہ میں آپ سے مطالبہ ہے کہ شہر کی مین سڑک پر سگنل نصب کیا جائے یا ٹرافک نظام کو بحال کیا جائے۔
میمورینڈ ممیںکہا گیا ہے کہ زیرومائل شہر کا ایک انتہائی اہم اور مصروف چوراہا ہے، جہاں جام اور سڑک حادثات مسلسل ہو رہے ہیں۔ اس مسئلے کو مستقل طور پر حل کرنے کے لئے زیرومائل پر اوور برج/فلائی اوور کی تعمیر کے لیے ضروری اقدامات کئے جائیں اور جب تک اووربرج کی تعمیر ممکن نہ ہو، جدید ٹریفک لائٹس، سگنلز اور ایک مناسب ٹریفک کنٹرول نظام (سسٹم )کو فوری طور پر نافذ کیا جائے، اس کے علاوہ زیرومائل کی ترقی اور خوبصورتی کے حصے کے طور پر ابوالکلام صاحب کے توران گیٹ کی تنصیب کے لئے بھی ضروری اقدامات کیے جائیں! زیرومائل سے چاندنی چوک تک سڑک پر طویل ٹریفک جام اکثر نظر آتا ہے۔ اس سڑک پر صدر اسپتال کے علاوہ کئی نجی ہاسپیٹل اور تعلیمی ادارے ہیں، ایک پو لوگوں کی بھیڑ اور دوسرے تجاوزات اس پر ستم ٹرافک کا نظام بحال نہ ہونے سےسبب ایمبولینسز اور نازک مریضوں کو بروقت اسپتال پہنچنے اور پڑ نے طلبہ اور طالبات کو اسکول پہنچنے میںبڑے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو کہ انتہائی سنگین مسئلہ ہے۔اس لئے اس روڈ پر تجاوزات کی چھان بین کی جائے اور ٹریفک جام کے مسئلے کے مستقل حل کو یقینی بنانے کے لیے ضروری کارروائی، ٹریفک کنٹرول اور دیگر ضروری اقدامات کئے جائیں۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network